نقطہ نظر

اللہ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے

حفیظ نعمانی

17 اکتوبر جسے برسوں سے مسلم یونیورسٹی کے سابق طلباء سرسید ڈے کے طور پر مناتے ہیں اور کئی برس سے لکھنؤ میں وہ سب سے زیادہ اہمیت حاصل کرتا جارہا ہے اسی تقریب میں اس سال کانگریس کے ایک ممتاز لیڈر غلام نبی آزاد مہمان خصوصی تھے۔ جنہوں نے بہت کچھ کہنے کے دوران یہ بھی کہہ دیا کہ ایک زمانہ میں کانگریس کے اُمیدواروں کی 95  فیصدی درخواستوں میں اپنے حلقہ میں تقریر کرنے کیلئے غلام نبی آزاد کا پروگرام رکھنے کا مطالبہ ہوتا تھا اب وہ گھٹ کر 20  فیصدی رہ گیا ہے۔

ان کی تقریر کے اس جملہ پر ممتاز صحافی افتخار گیلانی نے ہندوستانی مسلمانوں کو 15  ویں صدی کے آخر میں اسپین کے مسلمانوں کی طرح تاریخ کا ایک ورق بن جانے کی طرف جاتا ہوا محسوس کیا ہے۔ افتخار گیلانی ایک منجھے ہوئے اور ذی علم صحافی ہیں۔ ہم ان کی بات سے اختلاف کے بارے میں تو سوچ بھی نہیں سکتے کیونکہ ہم ان کی ہر تحریر کو تلاش کرکے پڑھتے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لیکن ہم نے جو کچھ دیکھا ور محسوس کیا ہے وہ گیلانی صاحب کے جواب کے طور پر نہیں بلکہ آزاد صاحب کے سوچنے اور بیان کرنے سے متعلق ہے اس کے بارے میں کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

غلام نبی آزاد کو جو 95  فیصدی ہندو ووٹ کے لئے اپنے حلقہ میں بلانا چاہتے تھے وہ اُمیدوار وہ تھے جنہیں اپنے حلقہ کے مسلم ووٹروں کی ضرورت ہوتی تھی۔ اندرا گاندھی، سنجے گاندھی اور کانگریس کے دوسرے لیڈروں کو جب یہ محسوس ہوا کہ ہندو ووٹ ان سے کٹ رہا ہے تو سب نے اپنے اپنے مزاج کے مطابق ہندوئوں کو خوش کرنے کیلئے مسلمانوں سے دوری اختیار کرنا شروع کی۔ اگر یہ بتایا جائے کہ کب کیا ہوا تو اس کے لئے کتاب چاہئے۔ حاصل یہ ہے کہ کانگریس نے ہر وہ کام کیا جس سے ہندو اس کے قریب رہیں اور مسلمان جاتے ہیں تو جائیں۔ اور یہ اس کا ہی نتیجہ ہے کہ اترپردیش میں 425  سیٹوں میں صرف سات کانگریس کے پاس ہیں بہار میں 200  سے زیادہ سیٹوں میں 25  ہیں جو لالو یادو کی دین ہیں اور بنگال میں نام کے لئے بھی نہیں ہیں جبکہ یہ تینوں ریاستیں وہ تھیں جہاں مسلمان حکومت بناتے اور بگاڑتے تھے۔ اب آزاد صاحب بتائیں کہ جب مسلمان ووٹ دیتا ہی نہیں تو انہیں کس کے لئے بلائیں؟ اور انہوں نے جو 20  فیصدی کہا ہے وہ بھی شاعری ہے ورنہ کوئی نہیں بلاتا۔

افتخار صاحب نے کانگریس کے صدر راہل گاندھی کے بدلتے ہوئے روپ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے گجرات میں یہ ہدایت دی تھی کہ مسلمان کا نام نہ لیں نہ انہیں سامنے لائیں۔ یہ بات راز نہیں ہے سب کے علم میں ہے لیکن یہ بھی تو علم میں ہے کہ مقابلہ جس آدمی سے تھا وہ الیکشن کے آخری دَور میں یہ بھی کہنے لگا تھا کہ اگر کانگریس جیتی تو احمد پٹیل کو وزیراعلیٰ بنایا جائے گا یعنی وہ احمد پٹیل جنہیں اگر کوئی جانتا نہ ہو تو راجو پٹیل یا کندن پٹیل بھی کہا جائے تو حیرت نہیں ہوگی اسے صرف ان کے نام کی وجہ سے محمود غزنوی بنا دیا تھا اور مزید یہ کہ پاکستان پوری کوشش کررہا ہے۔

اگر راہل گاندھی مندروں میں جارہے ہیں یا مسلمانوں سے کہیں کہیں کنارہ کررہے ہیں تو یہ اتنا نقصان دہ نہیں ہے جتنا ان کے باپ نے مسجد کا تالا کھلواکر وہیں شِلانیاس کیا اور جب میرٹھ کے مسلمانوں نے اپنا حق اور اپنی پارٹی سمجھ کر اس لئے احتجاج کیا کہ انہوں نے کانگریس کے کہنے سے ہی بارہ بنکی کی محسنہ قدوائی کو ووٹ دیئے تھے تو ویر بہادر جیسے سفاک اور مشہور مسلم دشمن وزیراعلیٰ کو بلاکر میرٹھ کے مسلمانوں کو ایسا سبق سکھایا کہ اگر ساری کانگریس مسجدوں میں سجدہ بھی کرلے تو میرٹھ کے مسلمان اسے ووٹ نہیں دیں گے۔ اور اس حقیقت سے کون ناواقف ہے کہ بابری مسجد کی شہادت نرسمہارائو کی شیطان پرستی ہے۔ اس کے برعکس راہل گاندھی نے مسلم دانشوروں کی ایک میٹنگ میں تسلیم تو کیا کہ کانگریس مسلمانوں کی بھی پارٹی ہے اور کرناٹک میں جو کیا سنا ہے اس میں غلام نبی آزاد کا بھی حصہ تھا۔ اور جنتادل سیکولر میں تو مسلمان بھرے پڑے ہیں جنہوں نے 39  سیٹیں دلادیں۔

یہ بات تو گیلانی صاحب ہم سے زیادہ جانتے ہوں گے کہ بی جے پی کو مسلمانوں کے ووٹ لینا نہیں ہیں لیکن 70  برس شعور کی عمر میں جو دیکھا اور سمجھا ہے اس کی بناء پر یقین ہے کہ غرور اور اس منصوبہ بندی کی عمر انشاء اللہ زیادہ نہیں ہوگی۔ ہندو ایک لفظ ضرور ہے لیکن اسلام کی طرح ایک مذہب نہیں ہے۔ آزادی کے بعد مسلمانوں کا جو قتل عام ہوا وہ ردّعمل تھا اس کا جس کے بارے میں راجہ جسونت سنگھ نے اپنی کتاب جناح میں لکھا ہے:

’’بہت سے اشراف 20  ویں صدی تک اپنی نفسیاتی اور تہذیبی بقاء کیلئے اپنے عجمی یا اسلامی ماضی کی یادوں کو سینے سے لگائے بیٹھے تھے اور دلیل یہ تھی کہ ان کے آباء و اجداد حکومت کرنے کیلئے ہندوستان آئے تھے اور اقتدار اُن کے خون میں شامل ہے یہ ان کا پیدائشی حق ہے یہ حق انہیں جائز یا ناجائز طور پر حاصل ہونا چاہئے۔‘‘

اور یہ بات آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی ہے کہ ہمارے باپ دادا نے جس ملک پر آٹھ سو برس حکومت کی ہے اس پر حکومت ہم ہی کریں گے اور ہندو کیا جانے حکومت کیسے کی جاتی ہے؟ یہ سب بے عمل بے دین اور جاہل مسلمانوں کے دماغوں میں بسا دیا تھا اور جب یہ دیکھا کہ ہندوستان پر حکومت ممکن ہی نہیں تو پھر جو بھی ملے اس پر ہی اپنا پرچم لہرا دیا جائے۔ اور اسے آخری درجہ کی جہالت اور حماقت نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے کہ مولانا ابوالکلام آزاد جیسا دانشور اور مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی اور مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی اور ان جیسے درجنوں عالم دین مفسر قرآن مفتیان کرام سب سمجھاتے رہ گئے لیکن اس جناح کو قائد اعظم بنا لیا جو فقہ کی کسی بھی چھلنی میں چھانا جائے تو مسلمان نہیں نکلے گا اور جس کی بیٹی دنیا اور نواسے ہندوستانی حکومت سے کہہ رہے ہیں کہ نانا کی جائیداد مسلم فقہ کے اعتبار سے نہ دی جائے ہم مسلمان نہیں خوجہ بورے ہیں۔ اس نام کے مسلمان کو امام بنا لیا اور شاعروں نے جو خراج پیش کیا اسے کفر کہا جائے یا تبر ّا  یہ فیصلہ مسلمان کریں۔ یہ مردود قطعہ 70  برس سے دماغ میں جما ہوا ہے آپ بھی سن لیں۔

اے محمدؐ اور علیؓ کی چلتی پھرتی یادگار

تیرے رُخ پر پرتو شبیر و شبر آشکار

خالد و طارق کی سیرت کا تو زندہ شاہکار

تو سیاست کا بنی قانون کا پروردگار

اور اس کے پڑھنے والے اور اس پر جھومنے والے صرف وہی مٹھی بھر نہیں تھے جو چلے گئے بلکہ وہ کروڑوں بھی تھے جو ہندوستان میںتلوار کی دھار پر چل رہے ہیں اور آج بھی اسے قائد اعظم کہہ رہے ہیں۔

اب ہندوستان میں مسلمانوں پر جو بیت رہی ہے وہ صرف اس کی سزا ہے کہ انہوں نے اپنے ان دینی بزرگوں کو ووٹ نہ دے کر ذلیل کیا اور اس وقت کے 10  کروڑ مسلمانوں کا واحد لیڈر جناح کو ثابت کردیا۔ یہ وہ عالم تھے جن کے دروازہ پر کانگریس کا بڑے سے بڑا ہندو لیڈر تاریخ لینے کے لئے پڑا رہتا تھا اور آزادی کے بعد جن شیخ الاسلام مولانا مدنی کو پدم وبھوشن کا اعزاز کی خبر لے کر ڈی ایم آئے تھے (تو نہیں لیا تھا) ان کے ہی دارالعلوم میں بقرعید کے دو دن پہلے گایوں کی تلاش میں چھاپہ مارا گیا اور جس اشتہار میں چھپا تھا کہ بڑے جانوروں میں سات حصے ہوتے جیسے گائے بیل بھینس اور اونٹ تو وہ اشتہار ضبط کرلیا گیا تھا۔ یہ اس ولبھ پنت وزیراعلیٰ کے دَور میں ہوا جو حضرت مدنی سے تاریخیں لینے کیلئے خود دیوبند آکر تین تین دن پڑا رہتا تھا۔

ان 70  برسوں میں ہمارے پاس تو کئی فون آئے کہ ہم نے مولانا (منظور نعمانی) کی بات نہ مان کر جتنی بڑی غلطی کی ہے اتنی ہی سزا بھگت رہے ہیں۔ اور یہ بھی کہ ہمارے بچوں کے مقابلہ میں تمہارے بچے کہیں زیادہ اچھے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے بیانات ہیں جو بریلی میں ساتھ رہتے تھے۔ وہ کراچی چلے گئے اور ہم سب لکھنؤ آگئے۔

افتخار گیلانی صاحب نے مسلمانوں سے متبادل کے بارے میںمعلوم کیا ہے کہ کیا اس کا وقت نہیں آیا؟ ملک کے مسلم سیاسی دانشور کیا سوچتے ہیں یہ وہ بتائیں گے لیکن ایک عام آدمی کی حیثیت سے میری رائے یہ ہے کہ اویسی صاحب یا ڈاکٹر ایوب جیسا متبادل جھولے میں لئے گھومتے ہیں وہ تو نتیجہ میں بی جے پی کی دلا ّل ہے اور مسلمان اپنی دنیا الگ بنالیں اس کا تصور بھی جہالت ہے اب موجودہ روش کو سیکولر پارٹیوں کا دم چھلہ کہا جائے یا ملک کو تقسیم کراکے اپنا حصہ لینے کے بعد بھی گھر پر قبضہ برقرار رکھنے کی پاداش۔ مسلمانوں کے سامنے کوئی راستہ نہیںہے۔ اور اسے تو بقیہ ہندوستان سے کشمیر کے دانشور کہیں زیادہ جھیل رہے ہیں۔ اور جہاں ان 70  برسوں میں تین وزیراعظم بھی ہوئے پھر وزیراعلیٰ پر راضی ہوئے اور اب بی جے پی سے مل کر حکومت بناکر بھی دیکھ لیا پھر بھی پانچ جگہ بٹے ہوئے ہیں۔ اور اپنا ایک متبادل نہیں بنا پارہے تو ہم 20  کروڑ کیسے بنالیں لیکن لاتقظومن رحمۃ اللہ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close