نقطہ نظر

اندرکی بات

امتیازعلی شاکر

لاکھوں جعلی ہیرے سنبھال رکھنے سے بہترہے ایک اصل پتھر سینے سے لگائے رکھو،اللہ تعالیٰ ایک قیمتی ہیراعطافرمائے تواُس کی حفاظت کیلئے بھی چند پتھرکونے میں لگائے رکھو،قیمتی چیزوں کوچوروں ،ڈاکوئوں سے بہت بچاکے رکھناپڑتاہے وہی پتھرلٹیروں کے سرمیں لگیں گے تووہ بھاگنے پر مجبور ہو جائیں گے،جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ننھے پرندوں نے ہاتھی والوں پرپتھربرسائے تووہ تھیس نہس ہوگئے،اُن کانام نشان بھی باقی نہ رہا،اللہ سبحان تعالیٰ نے قرآن کریم کے اندر ارشاد فرمایا’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا،کیا ان کا داؤ غلط نہیں کیا؟ (گیا)،اور ان پر جھلڑ کے جھلڑ جانور(ابابیل) بھیجے،جو ان پر کھنکرکی پتھریاں پھینکتے تھے،تو ان کو ایسا کر دیا جیسے کھایا ہوا بھوسا‘‘(سورۃ الفیل )،حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شیطان کودوربھگانے کیلئے پتھرمارے تواللہ کریم کوآپ علیہ السلام کی ادااس قدر پسندآئی کے قیامت تک حاجی شیطان کوپتھرمارکرسنت ابراہیمی پوری کرتے رہیں گے.

ایک مقدس پتھر خانہ کعبہ کی دیوارمیں نصب ہے ،جس کانام حجراسودہے،اس مبارک پتھرکوقیامت تک مسلمان بوسہ دیتے رہیں گے، معلوم ہوا اللہ تعالیٰ کے حکم سے پتھر شیطان اوراُس کے پیروکاروں کوسبق سکھانے کے کام آتے ہیں ،بہت سارے مطلبی،منافق دوستوں ،ساتھیوں سے ایک دومخلص دوست ،ساتھی بہترہیں کہ منافق کسی بھی وقت دھوکہ دے سکتاہے،یہ بھی طے ہے کہ مطلب پرست مفادحاصل کرنے کے بعد دغادے گا،خاص طورپرجب کوئی بڑا مقصد حاصل کرنے کیلئے بڑی جماعت کولے کرچلناپڑے توقائدین لوگوں کوجماعت میں شامل کرتے وقت بہت سوچ سمجھ ،دانش مندی اور مخلص ساتھوں کی مشاورت سے فیصلے کرنے چاہئے،بیشک جناب محترم خادم حسین رضوی درست فرماتے ہیں کہ وہاں نوکروں کی کمی نہیں پھر بھی ہمیں یاد رکھناچاہئے کہ منافقین کیلئے آقاکریم ﷺ کے ہاں کوئی گنجائش نہیں ،اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا’’منافق اس بات سے ڈرتے ہیں کہ مسلمانوں پر کوئی ایسی سورۃ نازل ہو کہ انہیں بتا دے جو منافقوں کے دل میں ہے، کہہ دو ہنسی کیے جاؤ، جس بات سے تم ڈرتے ہو اللہ اسے ضرور ظاہر کر دے گا(سورۃ التوبہ ،آیت،64)اور تمہارے گرد و نواح کے بعض گنوار منافق ہیں ، اور بعض مدینہ والے بھی، نفاق پر اڑے ہوئے ہیں ، ہم انہیں جانتے ہیں ، ہم انہیں دوہری سزا دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے(سورۃ التوبہ ،آیت،101)

منافقین ہردورمیں موجودرہے ہیں آج بھی ہیں ،ضرورت اس امر کی ہے کہ منافقین کوبرقت پہچان کراپنی صفوں سے الگ کردیاجائے،تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ جن سیاسی ٹولوں کیخلاف الیکشن 2018ء لڑنے جارہی ہے وہ بے حدمکاراوربے اُصولے ہیں ،ان لوگوں کے پاس بہت سارے حربے ہیں جن کے ذریعے یہ ہرممکن کوشش جاری رکھیں گے کہ اہلسنت کے تمام قائدین ایک جگہ اکٹھے نہ ہوں ،خریدنے کی کوشش کریں گے،ڈرانے کی کوشش کریں گے،آپسی رابطوں کے ذرائع بندکریں گے،کوئی بات نہ بنی تواپنے لوگ شامل کرکے وقت آنے پراستعمال کریں گے،سزایافتہ گستاخ ملعونہ کوپھانسی لگاکراپنے آپ کوناموس رسالت مآب ﷺ کے پہردارثابت کرنے کی کوشش کریں ،ایسابھی ممکن ہے کہ کسی اپنے بندے یابندی سے سرعام جوتے کھاکراُسے اہلسنت کی نظر میں ہیرو بنادیں اوروہ کسی اہم موقع پرجاوید ہاشمی بن جائے،جس طرح قطرسے خط آئے اسی طرح سعودیہ سے فتوے لاکرلوگوں کے ایمان سے کھیلنے کی کوشش کرسکتے ہیں ،تیراورشیرالگ نہیں ہیں ،شکاری تھک جائے توشیرشکارسے حصہ دیتاہے جب شیرکی کوئی مجبوری ہوتوشکاری شکارکرکے شیرکے سامنے ڈال دیتاہے،اس سے پہلے کہ ناپاک لوگوں کے متعلق گفتگوکرتے کہیں اورنکل جائوں مختصرکہوں گاکہ موجودہ سیاست منافقت،مکاری،مفادپرستی،دھوکہ دہی،ناحق قتل وغارت،ناجائزمنافع خوری،وطن فروشی اورنجانے کون کون سی لعنتوں کے بل بوتے پرہورہی ہے.

اہلسنت جن قوتوں کیخلاف الیکشن2018ء لڑنے جارہی ہے ان کی سب سے پہلی کوشش یہ ہوگی کہ کسی نہ کسی طریقے سے اہلسنت کوالیکشن کی تیاری سے دور رکھاجائے،قائدین کے درمیان غلط فہمیاں پھیلانا،گرفتاریاں ،جیلیں ،خاندانی وابستگیاں استعمال کرنااورکچھ بھی کرسکتے ہیں ،الیکشن کی تیای بہت ضروری ہے ،تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ کا نعرہ توپوری دنیامیں پھیل چکاہے جبکہ انتخابی نشان ابھی تک سامنے نہیں آیا،وابستہ لوگوں کے علاہ عام لوگ ابھی اس بات سے بے خبر ہیں کہ تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ الیکشن 2018 ء میں حصہ لے رہی ہے،تیزترین آگاہی مہم کاآغازکرتے ہوئے فوری طورپرسیاسی منشورمنظرعام پرلایاجائے،انتخابی نشان کی ایسی پہچان کرائی جائے ک بچے بچے کی زبان پرجاری ہوجائے،راقم اپنی رائے کااظہارکررہاہے فیصلہ نہیں ،قیادت جومناسب سمجھے کرے ،ہم بھی غلام کی حیثیت میں ہروقت عاشقان رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہیں ، جناب محترم خادم حسین رضوی اکثرفرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے دربارمیں نوکروں کی کمی نہیں ،فرشتوں نے آجاناہے،گل وچ ہور اے،بیشک کریم آقاﷺ کے دربارمیں نوکروں کی کوئی کمی نہیں ،گل وچ ہوراے یعنی اندر کی بات،صحافی لوگ توپہلے ہی اندرکی بات باہرنکالنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں پرخادم حسین رضوی صاحب کامعاملہ کچھ اورہے.

اس لئے یہ سوال درویش وقت،مرشد حق جناب محترم المقام سیدعرفان احمدالمعروف نانگامست بابامعراجدین کی خدمت میں پیش کیے تاکہ درست رہنمائی حاصل ہو،مرشد سرکارنے فرمایاخادم حسین رضوی صاحب جس مقام کے بندے ہیں اُسے سمجھناعام لوگوں کے بس کی بات نہیں تواندر کی بات عام لوگوں کیسے سمجھ سکتے ہیں ، ہم ہرچیزدیکھ رہیں ابھی وقت نہیں ہے بتانے کا ،خادم صاحب فرماتے ہیں کہ فرشتوں نے آجاناہے،راقم نے مرشد سرکار سے سوال کیاکہ فرشتے کب اور کس مقام پرآئیں گے؟آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایاکیااتناکافی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نیکوں کی مدد فرماتاہے،اس بات سے کیافرق پڑتاہے کہ فرشتے آچکے ہیں یاآجاناہے،ہم بھی نبی کریم ﷺ کے نوکرہیں ،ہم نے خادم حسین رضوی کاکیس (مقدمہ)عظیم ترعدالت میں پیش کردیاہے،ناموس رسالت مآب ﷺ کے رکھوالے اللہ تعالیٰ سے جب ،جہاں اور جیسی مددمانگیں گے اللہ سبحان تعالیٰ مددفرمائے گا،دشمن جتنی چالیں چلے گاتمام میں ناکام ونامرادرہے گا،ناموس رسالت مآب ﷺ کیلئے جان قربان کرنے والے اللہ تعالیٰ کوبہت پسند ہیں ،غازی علم دین شہید ،غازی ملک ممتازقادری شہید سمیت تمام شہیدان ناموس رسالت مآب ﷺ کانام قیامت تک روشن رہے گا،اُن کے مزرات پرتلاوت قرآن مجید اوردورد و اسلام کے نذرانے جاری رہیں گے،جو شہیدان ناموس رسالت مآب ﷺ کے ساتھ کھلے عام یادل میں محبت کریں گے اللہ تعالیٰ،رسول اللہ ﷺایسے لوگوں پر رحمت فرمائیں گے،اُولیااللہ اُن کے ساتھ خصوصی شفقت فرماتے رہیں گے اورکل روزعشر پیارے آقاکریم ﷺ اُن کی شفاعت فرمائیں گے،مرشد سرکارکے فرمان کے مطابق اندر کی بات عام لوگوں کی سمجھ میں آنے والی نہیں ،پھر بھی آپ نے اتنابتادیاہے کہ جناب محترم خادم حسین رضوی صاحب اورتمام عاشقاان رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مددہمیشہ موجودرہی ہے ،آج بھی ہے اورآئندہ بھی رہے گی، جب مزید ضرورت ہوگی اللہ سبحان تعالیٰ مدد فرمائیں گے،گستاخان ،منافقین اوردشمنان اُمت محمدی ﷺپر اللہ کی لعنت برسے اوررب رحمٰن پیارے آقاکریم ﷺ کے وسیلے سے مجھے اورآپ کوسراط مستقیم عطافرمائے(آمین)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close