معاشرہ اور ثقافتنقطہ نظر

انصاف کی حکمرانی ضروری! 

عالم نقوی

اب انصاف کی حکمرانی قائم ہوئے بغیر دنیا کو درپیش مسائل کا حل ممکن نہیں۔ بات وہی درست ہے جو جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے چند ماہ قبل اپنے  دو ٹی وی انٹر ویوز میں کہی تھی کہ’ انقلاب کے بغیر اب کچھ نہیں بدلنے والا۔ رائج نظام سڑ چکا ہے اس کی جگہ ایک نئے اور صحت مند انقلابی نظام کے آئے بغیر اب کچھ بھی ٹھیک نہیں ہونے والا۔ ‘ لیکن  نہ انہوں نے خود اپنے ان جملوں کی مزید وضاحت کی کہ ’انقلاب ‘ سے اُن کی مراد کیا  ہے اور سڑے گلے رائج نظام کو جس  ’صحت مند انقلابی نظام ‘ سے بدلا جائے گا وہ کیسا ہوگا اور  سب سے بڑھ کے یہ کہ وہ آئے گا کیسے اور اسے لائے گا کون ؟ تاہم اِس اِبہام اور عدم وضاحت کے باوجود اِتنی بات بہر حال خدا لگتی ہے کہ انصاف قائم ہوئے بغیر نہ دنیا سے  دہشت گردی ختم ہوگی ،نہ عظیم تباہی والے اندھے ہتھیاروں کی تجارت بند ہو گی  نہ دنیا میں کہیں امن بحال ہوسکے گا۔ دنیا جن فاسق و فاجر حکمرانوں کے شکنجے میں ہے ان کی اکثریت جھوٹی منافق، مفسد، مسرف اور ظالم ہے۔ یہ امن  کے قیام اور  انسانیت کی بحالی  کے نام پر  صرف اپنے ظالمانہ و مسرفانہ اقتدار کی بالادستی چاہتے ہیں اور بس۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں ؟ ہم یعنی عوام ،عام آدمی!ہم نہ اپنے حکمرانوں کو بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ کوئی انقلاب لا سکتے ہیں (بنام جمہوریت اس طرح کی جتنی باتیں کہی جاتی ہیں  وہ سب دانشورانہ منافقت اور فلسفیانہ جھوٹ کے زمرے میں آتی ہیں )کیونکہ انصاف والے انقلاب کے لیے  جس  اعلیٰ ترین  مؤمنانہ فراست  اور استقامت علی ا لحق کی حامل صالح ، منصف اور دلیر قیادت کی ضرورت ہے  ہم اس سے فی الحال محروم ہیں۔ تو پھر کیا کریں ؟ کیا ہاتھ پر ہاتھ دھرے آسمان سے قیادت کے اترنے کا انتظار کرتے رہیں ؟نہیں۔ اِس لیے کہ قیادت ویسے بھی آسمان سے نہیں اترا کرتی ،خود ہمارے ہی درمیان سے ابھرتی ہے لہٰذا  ہم وہ کریں جو ہم کر سکتے ہیں۔ جو ہمارے اختیار میں ہے۔ لوگوں کو معاف کرنے اور غصے کو ضبط کرنے کی عادت ڈالیں۔ انتقام کی نفسیات سے باہر نکلیں۔ برائی کا بدلہ بھلائی سے دینے کی کوشش کریں۔ قصاص میں زندگی ہے انتقام میں نہیں۔ لیکن قصاص  دلانا بھی عدالت کا کام ہے ہم قصاص کے لیے بھی قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے۔

 ’’ پناہ چاہتا ہوں میں  اللہ کی،  دھتکارے ہوئے شیطان  سے‘‘۔ ’’منکرین کہتے ہیں کہ کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہو چکے ہوں گے تو ہم پھر سے نکالے جائیں گے ( زندہ کیے جائیں گے ) ؟یہ خبریں ہمیں پہلے بھی دی جا چکی ہیں اور ہمارے باپ دادا کو بھی مگر یہ تو بس افسانے ہی افسانے ہیں جو اگلے وقتوں سے ہم سنتے چلے آرہے ہیں۔ (تو اے پیغمبر ) ان سے کہیے کہ ذرا زمین میں چل پھر کر تو دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہو چکا ہے !(تو اے نبی ) نہ آپ ان کے حال پر رنج کریں اور یہ جو چالیں چل رہے ہیں ان کی طرف سے دل تنگ بھی  نہ ہوں۔ وہ (منکرین حق  آپ سے) کہتے ہیں کہ اگرآپ سچے ہیں تو (عذاب کی یہ ) دھمکی کب پوری ہوگی ؟ تو ان سے کہیے کہ کیا عجب کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو اس کا ایک حصہ تمہارے قریب آہی لگا ہو !(النمل 67۔72)

 ہر مظلوم یہ چاہتا ہے کہ قیامت سے پہلے اس دنیا میں بھی اسے انصاف ضرور ملے تاکہ  دیکھنے والوں کو عبرت ہو۔ لیکن یہ سمجھنا کہ ظالم کو اس دنیا  میں سزا  بالکل ہی نہیں ملتی کفر کے مصداق ہے ورنہ یہ کیوں کہا جاتا کہ ذرا  روئے زمین پر چل پھر کر دیکھو تو کہ مجرموں  اور مجرم قوموں کا کیا انجام ہوا ہے ! ’’(اے نبی آپ ان سے )کہیے کہ ذرا زمین میں چلو پھرو  اور پھر دیکھو  کہ جھوٹوں (اور جھٹلانے والوں ) کا انجام کیا ہوتا ہے (الا نعام۔ 11)’’آپ ان سے کہیے کہ ذرا زمین میں چل پھر کے دیکھو تو کہ تم سے پہلے والوں کا کیا انجام ہوا ہے جن کی اکثریت مشرکین میں سے تھی (العنکبوت 42)البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا  میں سب کچھ ہماری مرضی اور ہماری خواہش کے تابع نہیں ہوتا نہ ایسا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے اللہ   جل سبحانہ نے آخرت کا دن ،انصاف کے  لیے ،کامل اور مکمل انصاف کے لیے جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا، مقرر کر رکھا ہے۔ دنیا میں ہمیں اصل فکر اس کی ہونی چاہیے کہ ہم اپنا شمار جھوٹ بولنے والوں ،خیانت کرنے والوں ،قطع رحمی کرنے والوں ،زمین پر فساد پھیلانے والوں ،وعدہ خلافی  اور عہد شکنی کرنے والوں ،اپنے ہی جیسے دوسرے انسانوں کی اذیت اور دل آزاری کا سبب بننے والوں اور ظلم کرنے والوں میں کسی بھی قیمت پر نہ ہونے دیں !

 کیا ہم ایسا کرتے ہیں ؟ کیا ہم ایسا کر رہے ہیں ؟

رہے مفسدین فی ا لا رض ،ظالمین ،مسرفین اور مترفین تو اللہ کا وعدہ ہے کہ ’’ کوئی نافرمان آبادی ایسی نہیں ہے جسے ہم قیامت سے پہلے برباد نہ کر دیں یا اس پر شدید عذاب نہ نازل کردیں کہ یہ بات کتاب میں لکھ دی گئی ہے ( سورہ  بنی  اسرائل۔ 58)‘‘  یہ اس کا اعلان ہے جس کا ذکر ان صحیح احادیث میں ہے جو سنن ابو داؤد ،اور سنن ابن ماجہ (4083)  وغیرہ  میں  ان الفاظ میں درج ہوئی ہیں کہ ’’اگر دنیا کی عمر میں ایک دن بھی باقی رہ جائے گا تو اللہ اس دن کو طویل کر  دے گا یہاں تک کہ وہ اہل بیت میں سے  میرے ہم نام کو لے آئے اور وہ دنیا کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دے گا جس طرح وہ اس وقت ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی  ‘‘

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close