نقطہ نظر

’’ اور استاد نے آسمان کی بلندی تک پہنچا دیا‘‘

احمد تشنہ 

کسی بھی انسان کی زندگی میں استاد کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ استاد اپنی محنت شاقہ سے نہ صرف اپنے شاگرد کو بہتر تعلیم دیتا ہے بلکہ اس کی شخصیت کو نکھارنے میں اہم کردار بھی ادا کرتا ہے۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک کے سفر میں ہر شخص کی زندگی میں کئی اساتذہ آتے ہیں جن کے اندر علم کا سمندر موجود ہوتا ہے۔ اساتذہ اپنے اس علم کے سمندر سے شاگردوں کو سیراب کرتے ہوئے منزل بہ منزل اس کی ترقی کی راہیں آسان بنا دیتے ہیں۔ اس بات کی مزید وضاحت کے لئے سکندر اعظم کا یہ قول انتہائی کارآمد ہے  ’’میرے والدین نے مجھے زمین پر اتارا اور استاد نے آسمان کی بلندی تک پہنچا دیا‘‘۔ گویا کہ استاد کے اندر وہ قوت پنہاں ہوتی ہے جو اپنے شاگرد کو آسمان کی بلندی تک پرواز کی طاقت عطا کر دے۔ استاد کی اسی عظمت کو دیکھتے ہوئے مشفق استاد اور ہندوستان کے سابق صدر جمہوریۂ ہند آنجہانی ڈاکٹر سرو پلّی رادھا کرشنن نے اپنے ان شاگردوں کو 5 ستمبر کے دن ’یومِ اساتذہ‘ منانے کو کہا جنہوں نے استاد محترم (رادھا کرشنن) کے سامنے بطور اعزاز 5 ستمبر کو ’یوم پیدائش‘ جشن تقریب منعقد کرنے کی بات سامنے رکھی تھی۔

ڈاکٹر سرو پلّی رادھا کرشنن ایک غیر معمولی انسان تھے۔ انہوں نے تقریباً 40 سالوں تک تعلیم و تعلم کی ذمہ داری انجام دی۔ 5 ستمبر 1888 کو قصبہ تروتّانی (چنئی) میں پیدا ہونے والے رادھا کرشنن 1909 میں مدراس پریسیڈنسی کالج کے محکمہ فلسفہ میں لیکچرر مقرر ہوئے تھے اور اس کے بعد 1918 میں میسور یونیورسٹی میں پروفیسر بنائے گئے۔ لندن کے آکسفورڈ یونیورسٹی میں بھی وہ 1936 سے 1939 تک پروفیسر رہے۔ بعد ازاں انہوں نے 1939 سے 1948 تک بنارس ہندو یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی ذمہ داری نبھائی۔ اس درمیان انہوں نے محسوس کیا کہ اساتذہ کئی طرح کے مسائل اور پریشانیوں میں مبتلا ہوتے ہیں، اس کے باوجود وہ اپنی کاوشوں سے طالب علموں کے اندر وہ ہنر پیدا کرتے رہتے ہیں جس سے ان کی زندگی تو باوقار ہوتی ہی ہے، ساتھ ہی ساتھ ملک کی ترقی کا راستہ بھی ہموار ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ صدر جمہوریۂ ہند بننے کے بعد رادھا کرشنن کے شاگرد جب ان کی یومِ پیدائش منانا چاہتے تھے تو انہوں نے کہا کہ آج (یعنی 5 ستمبر) کے دن میری یومِ پیدائش نہ منا کر ’یومِ اساتذہ‘ منائو تاکہ ان کی عزت افزائی ہو۔

وہ دِن تھا اور آج کا دن ہے۔ ۔ ۔ ہر سال 5 ستمبر کو ’یومِ اساتذہ‘ منایا جاتا ہے۔ اسکولوں میں فنکشن ہوتے ہیں، بچے کلچرل پروگرام کرتے ہیں، صدر جمہوریۂ ہند کے ہاتھوں بہترین اساتذہ کو قومی ایوارڈ دیا جاتا ہے اور مختلف طرز کی تقاریب بھی منعقد ہوتی ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود بہت کچھ بدلا بدلا ہوا سا معلوم پڑتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ’استاد‘ اب صرف ایک لفظ رہ گیا ہے۔ استاد کو ملنے والی عزت، اس کا وقار اور مرتبہ، یہ سب پرانی باتیں ہو گئی ہیں۔ دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح ہمارا ملک بھی ترقی کی سیڑھیاں چڑھتا رہا، ہمارے ملک کے بچے ڈاکٹر، انجینئر اور سائنسداں بن کر دنیا میں ملک کا نام روشن کرتے رہے، لیکن جس نے انہیں اس مقام تک پہنچایا اس کے لئے ان کے اندر نہ کوئی خلوص کا جذبہ دیکھنے کو ملتا ہے اور نہ ہی کسی طرح کی اپنائیت کا احساس۔ شاگرد اور استاد کے درمیان کا پاکیزہ اور پائیدار رشتہ دھیرے دھیرے کب مطلبی اور ناپائیدار ہو گیا، کچھ پتہ ہی نہیں چلا۔ صورتحال کچھ اس طرح تبدیل ہو چکے ہیں کہ شاگرد اپنے استاد کے سامنے سگریٹ نوشی، نازیبا حرکات اور گالی گلوج کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی بات پر شاگردوں کے ذریعہ استاد کی پٹائی اور قتل کے واقعات بھی اکثر و بیشتر اخبارات اور نیوز چینل کی سرخیاں بنتی رہتی ہیں۔ آخر اس کا ذمہ دار کون ہے۔ ۔ ۔ شاگرد یا استاد؟

اس حقیقت سے انکار قطعی ممکن نہیں ہے کہ دورِ جدید نے طالب علموں کو بے حس اور خود غرض بنا کر رکھ دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پڑھانے کے عوض استاد کو محض پیسے دے دینا ہی کافی ہے۔ استاد کے لئے قربانی دینے کی بات تو دور، وہ ان کا احترام کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔ ایک وقت تھا جب بچے راستوں میں استاد کو جاتا دیکھ کر خوفزدہ ہو جایا کرتے تھے، لیکن اب تو غلط حرکات پر کی جانے والی گرفت بھی انہیں گراں گزرتی ہے۔ سرپرست بھی اپنے بچوں کی غلطیوں کے باوجود اسکولوں میں استاد کے خلاف شکایتیں لے کر پہنچ جاتے ہیں جس سے بچے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں بچوں کے دل سے استاد کا خوف ختم ہو جاتا ہے اور وہ کسی طرح تعلیم تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن اخلاقی اقدار سے وہ کوسوں دور رہ جاتے ہیں۔

استاد اور شاگرد کے درمیان پیدا ہونے والی اس خلیج کا ذمہ دار صرف شاگردوں کو ہی نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ شاگرد سے کہیں زیادہ اس کے ذمہ دار استاد ہیں۔ دراصل استادی ایک مقدس پیشہ ہے اور آج کے استاد تو صرف پیسے کے پیچھے بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں، بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ بیشتر استاد حضرات یہ پیشہ اس لئے اختیار کرتے ہیں کیونکہ اس میں کافی پیسہ ہے۔ سرکار تعلیم میں بہتری کے لئے فنڈ مہیا کرتی رہی ہے لیکن اسکول ’درس گاہ‘ کی جگہ صرف ’سرکاری نوکری‘ بن کر رہ گئی ہے۔ لوگ پرائمری ٹیچر اس لئے بننا چاہتے ہیں تاکہ آرام کی زندگی بسر کی جا سکے۔ آج بی ایڈ کرنے والوں کی تعداد بھی صرف اس لئے بڑھ رہی ہے تاکہ مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ آج ایسے اساتذہ کی کمی نہیں ہے جو کبھی اسکول جاتے ہی نہیں اور تنخواہ انہیں ملتی رہتی ہے۔ جو اسکول جاتے ہیں ان کے پڑھانے کا انداز اور معلومات لائق افسوس ہیں۔ ایسے اساتذہ اگر بچوں سے عزت افزائی کی امید کرتے ہیں تو یہ محض خواب ہی ثابت ہوگا۔ ایسے اساتذہ کو مدارس کے اساتذہ سے سبق حاصل کرنا چاہئے جو بچوں کو انتہائی خلوص کے جذبہ کے ساتھ اور ذمہ دارانہ انداز میں تعلیم دیتے ہیں۔ انہیں اس بات کا افسوس ضرور ہوتا ہے کہ تنخواہ برائے نام ہے، لیکن کبھی وہ اپنے شاگردوں کے تئیں لاپروا نہیں ہوتے۔ یہی سبب ہے کہ مدارس کے طلبا اپنے اساتذہ کے لئے ہمیشہ سر تسلیم خم کئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی اگر کہیں ان کی ملاقات اپنے استاد سے ہوتی ہے تو ان کا اندازِ احترام لائق دید ہوتا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ اسکولوں اور کالجوں کے سبھی اساتذہ پیسے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ کچھ مستثنیٰ اساتذہ بھی ہیں جنہیں پڑھانے کا جنون ہے اور وہ اپنے شاگردوں کو آسمان میں ستارے کی مانند چمکتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے اساتذہ کی عزت صرف ان کے شاگرد ہی نہیں کرتے بلکہ ان کے ہم پیشہ، محلہ والے اور دوسرے متعلقین بھی کرتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ تعلیم و تعلّم کے شعبہ میں قدم رکھنے والے سبھی اساتذہ اس بات کو سمجھیں اور ’پیسہ بنانے‘ کی جگہ ’ہونہار شاگرد بنانے‘ پر دھیان دیں۔ ہو سکتا ہے ان کی کاوشوں کے سبب ہندوستان کو ایسا ڈاکٹر، فلاسفر، انجینئر یا سائنسداں مل جائے جو نہ صرف ملک کا نام روشن کرے بلکہ خود ان کو بھی ایک نئی پہچان دے۔ اساتذہ کو ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ بچوں کو پیار و محبت سے پڑھائیں۔ تعلیم کے دوران بچوں کی حوصلہ افزائی بھی انتہائی ضروری ہوتی ہے اس لئے اس کا خاص خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ بات بات پر بچوں کو ڈانٹنا یا گھر پر اس کی شکایت کرنا ان کی نظر میں آپ کی شبیہ کو خراب کر سکتا ہے۔ اساتذہ کو یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے جیسے ہی کسی استاد نے نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنسداں عبدالسلام کو آسمان کی بلندی تک پہنچایا تھا اور جب انہیں نوبل انعام ملا تھا تواسے اپنے استاد کے قدموں میں لا کر رکھ دیا اور ایک واقعہ کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’’کلاس روم میں اگر آپ نے میری ہمت افزائی کے طور پر ایک روپیہ نہ دیا ہوتا تو آج میں نوبل انعام کا حق دار نہ بنتا، میری نظر میں نوبل انعام کی اہمیت آپ کے ایک روپیہ سے بھی کم ہے‘‘۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

احمد تشنہ

مضمون نگار ’’مضامین نو رنگ‘‘ اور ’’یادیں یاد آتی ہیں‘‘ کے مصنف اور ’قومی آواز‘ میں ڈیسک ایڈیٹر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close