نقطہ نظر

اویسی کے سیاسی کھیل کو سمجھنا ہوگا

بہار کے بعد اترپردیش میں اویسی اپنی موجودگی درج کراناچاہتے ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ وہ یہاں بی ایس پی کے ساتھ مل کر چناؤ لڑیں گے۔ ویسے ابھی تک بی ایس پی اور ایم آئی ایم کے سیاسی اتحادکا باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے۔ اس کی بھی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ اویسی کی جماعت کتنی سیٹوں پر چناؤ لڑے گی۔ یوپی کے الیکشن میں ابھی وقت ہے، اس لئے تفصیلات آنے کا انتظار کرنا ہوگا۔ مہاراشٹر اور بہار میں انہوں نے اپنے امیدوار مسلم اکثریتی علاقوں میں اتارے تھے۔ اس سے یہ اندازہ ضرور لگایا جاسکتا ہے کہ یوپی کے کن اسمبلی حلقوں میں وہ اپنے نمائندے اتارسکتے ہیں۔
اسدالدین اویسی کو کئی لوگ مسلمانوں کے ہمدرد رہنما کے طورپر دیکھتے ہیں۔ اس کی وجہ ان کا بے باکی سے بات کرنا اور ترکی بہ ترکی سوالوں کا جواب دینا ہے۔ وہ مسلمانوں کی نفسیات کو سامنے رکھ کر ان کے جذبات سے اچھی طرح کھیلنا چاہتے اورجانتے ہیں۔کچھ جذباتیت پسندمسلمانوں سے اِن کے بارے میںیہ کہتے سنا گیا ہے کہ اویسی اکیلے ایسے شخص ہیں جو ہندو وادیوں، سنگھ کے لوگوں کا انہیں کی زبان میں جواب دیتے ہیں۔ یہاں رک کر یہ سوچئے کہ سنگھ یا ہندووادی تنظیموں کے لوگ فرقہ واریت کی باتیں کیوں کرتے ہیں؟ کیوں وہ کوئی نہ کوئی ایسا شوشہ چھوڑتے رہتے ہیں جواقلیتوں خاص طورپر مسلمانوں کو برالگے۔ وہ اپنی زبان، تہذیب، تشخص اور وجود کو خطرے میں محسوس کرکے اس کی بقا کی جدوجہد میں لگے رہتے ہیں۔ اس سے آخر وہ حاصل کیا کرناچاہتے ہیں۔ ان کی چھوٹی سی بات مدا کیوں بن جاتی ہے؟ کیسے بن جاتی ہے؟ کون اسے طول دیتا ہے؟ مثلاً پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات سے پہلے موہن بھاگوت نے ایک پروگرام کے دوران مشورتاً یہ کہاتھا کہ نوجوانوں کو بھارت ماتا کی جے کہنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔اس پر پارلیمنٹ میں ظاہر کئے گئے رد عمل کے نتیجے میں کئی ہفتوں تک ملک میں گرما گرم بحث جاری رہی۔ایم آئی ایم کے ایک ممبراسمبلی کو مہاراشٹر اسمبلی سے معطل کیاگیا۔ غورکرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی بات پر رد عمل کا اظہار نہیں کیاگیا تووہ بات آگے نہیں چل سکی اور وہ ووٹوں کو اکٹھا کرنے میں ناکام رہے۔ لیکن جب انہیں کی زبان میں جواب دینے کی کوشش کی گئی، تب عوام خانوں میں بٹے ہوئے نظرآئے۔ اس تقسیم کا فائدہ سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے کیاگیا۔ فرقہ وارانہ بیانات، جذباتی باتوں اور جوشیلے نعروں کے پیچھے کی سیاست کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اویسی صاحب یا ان جیسے دوسرے حضرات کے جوابی بیانوں اور تقریروں کو پرکھاجانا چاہئے کہ آخروہ اس کے رد عمل سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
سیمانچل بہار کا مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ یہاں کی 24سیٹوں پر اویسی صاحب نے اپنے امیدوار اتارنے کا اعلان کیا تھا لیکن ووٹوں کی ضرب تقسیم کے بعد ان کی جماعت نے صرف پانچ سیٹوں پر چناؤ لڑا تھا۔ جانکار یہ مان رہے تھے کہ اویسی کی جماعت آسام، مغربی بنگال، کیرالہ، تمل ناڈو، پونڈی چیری کے انتخابات میں حصہ لے گی ۔ یا کم از کم تین ریاستوں آسام، مغربی بنگال اور کیرالہ میں اویسی اپنے امیدوار اتاریں گے۔ ان ریاستوں میں مسلمان کسی بھی پارٹی کا کھیل بنانے یا بگاڑنے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آسام اسمبلی میں 126 سیٹیں ہیں، مسلم آبادی 34فیصد جس میں2001کی مردم شماری کے بعد 29.1فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ 34ضلعوں میں سے نواضلاع دھبری، گوپال پاڑا، بارپیٹا، ڈرانگ، کریم گنج، ہیلا کانڈی، موری گاؤں،مونگئی گاؤں، ناگاؤں میں مسلمانوں کی اچھی تعداد ہے۔ اسمبلی کی لگ بھگ آدھی سیٹیں مسلمان اپنے دم پر جیت سکتے ہیں۔ پچھلے چناؤ میں اے آئی یو ڈی ایف کے بدرالدین اجمل77سیٹوں پر نمائندے کھڑے کرکے 18سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ اس انتخاب میں بھی ان کا رول کنگ میکر کا رہنے کی امید تھی،جو سیکولر ووٹ کی تقسیم کی وجہ سے ماند پڑگئی۔ آسام میں مسلمانوں کا مسئلہ بنگلہ دیشی غیر بنگلہ دیشی کا ہے۔ اس کی وجہ سے انہیں تشدد کا شکار بنایا جاتا ہے اور آسام سے نکالے جانے کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ یہ مدعا اویسی صاحب کے سیاسی مزاج کے مطابق تھا پھرانہوں نے آسام کے انتخاب میں حصہ کیوں نہیں لیا؟
مغربی بنگال میں 294سیٹیں ہیں اورمسلم آبادی 28سے 30فیصد ہے جس میں 2001کے بعد 25فیصد کااضافہ ہوا ہے۔ یہاں 125سیٹیں مسلمانوں کے بغیر نہیں جیتی جاسکتیں۔ جبکہ 55سیٹوں پر ان کی اکثریت ہے۔ 2011کے چناؤ میں 125سیٹوں میں سے 94سیٹین کانگریس، ٹی ایم سی اتحاد کو ملی تھیں۔ یہاں مسلمانوں کی سیاست کا کوئی ابھار نہیں ہے۔ پہلے وہ لیفٹ یا پھر کانگریس کے ساتھ تھے، جب تک مسلمان لیفٹ کے ساتھ رہے انہیں کوئی اقتدار سے باہر نہیں کرسکا۔ ممتا لیفٹ کو مسلمانوں کی حمایت کی وجہ سے باہر کا راستہ دکھاسکیں۔ آزادی سے پہلے جن ریاستوں میں مسلمانوں کا بول بالا تھا، بنگال ان میں سے ایک ہے۔ خود ڈاکٹر امبیڈکر کو مسلمانوں نے اپنے کوٹے سے پارلیمنٹ بھیجا تھا۔ رہا سوال کیرالہ کا تو اس ریاست میں بھی مسلمانوں کی اچھی تعداد موجود ہے۔ کیرالہ میں اسمبلی کی 140سیٹیں ہیں۔مسلم آبادی27-28فیصد ہے۔جس میں2001کے بعد 12.8فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔کیرالہ کے 14اضلاع میں سے پانچ ملاپورم(70%) کوزی کوڈ (39%) کاس گوڑ (37%)کنور (29%)پلیکڑ (29%) میں مسلمانوں کی قابل ذکر تعداد موجود ہے۔ پچھلے انتخاب میں یوڈی ایف اور لیفٹ فرنٹ کے ایل ڈی ایف نے ان اضلاع میں برابر برابر سیٹیں جیتی تھیں۔ یہاں مسلم لیگ نے ہمیشہ کانگریس کی لیڈر شپ والے یوڈی ایف کی حمایت کی ہے۔ یہ اکیلی ایسی ریاست ہے جہاں مسلم لیگ نہ صرف موجود ہے بلکہ اقتدار میں شامل رہتی ہے۔ ملک کے حالات بدلنے کے بعد مسلم لیگ میں بھی آواز اٹھ رہی ہے کہ اسے کانگریس کے بجائے لیفٹ فرنٹ کی حمایت کرنی چاہئے۔ یوں تو مسلمان تمل ناڈو کے کئی اضلاع میں اچھی تعداد میں ہیں لیکن یہاں دو دراونڈپارٹیوں میں ہی اقتدار بدلتا رہتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ان پانچ ریاستوں میں پورا میدان خالی ہونے کے باوجود اویسی صاحب نے اپنی پارٹی کو الیکشن میں کیوں نہیں اتارا۔ کیاانہیں یہاں کے ووٹروں پر بھروسہ نہیں تھا یا پھر ان کے فائنانسر وپالیسی ساز حضرات ان ریاست میں الیکشن لڑنے کے حق میں نہیں تھے۔ یا پھر اسدالدین اویسی یہاں موجود مسلم سیاسی پارٹیوں کے مقابلے میں اپنی پارٹی کو اتارنا نہیں چاہتے تھے۔ اگریہ بات مان بھی لی جائے تو تمل ناڈو، بنگال اور پونڈی چیری میں مسلم پارٹی سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ سیاسی جانکاروں کا ماننا تھا کہ آسام میں بھاجپا کو سرکار بنانے کی امید تھی۔ اس نے وہاں آسام گن پریشد، بوڈو پیپلز فرنٹ کے ساتھ گٹھ بندھن کیاتھا۔ ضرورت پڑنے پر وہ آزاد ممبران کو اپنے ساتھ ملا سکتی تھی۔ ایسے میں اویسی کے یہاں چناؤ لڑنے سے بی جے پی کا کھیل خراب ہوسکتا تھا۔
بی جے پی کے اس صوبائی انتخاب میں کی گئی محنت کی کچھ جائز وجہ ہیں۔ اسے معلوم تھا کہ بنگال میں اسے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے لیکن وہ وہاں اپنی موجودگی درج کرانا چاہتی تھی۔ لیفٹ اور ممتا کے سامنے چنوتی بن کر ابھرنے کی بہ ظاہر کوشش بھی کی،جو ناکام رہی۔ اس دکھاوے میں وہ کامیاب ہوئی۔ ووٹروں کے درمیان اس کا ذکر ہونے لگا۔ اویسی کے بنگال جانے پر بی جے پی کے بجائے اویسی کی پارٹی چرچا میں ہوتی۔اسی طرح تمل ناڈو میں بی جے پی اپنے لئے زمین تیار چاہتی تھی اور کیرالہ میں یوڈی ایف اورلیفٹ فرنٹ کے ایل ڈی ایف سے ناراض لوگوں کیلئے نعم البدل تمل ناڈو میں وہ کانگریس کی جگہ لینے کی خواہش مند ہے۔ اویسی کی موجودگی میں اس کا یہ مقصد پورا نہیں ہوسکتا تھا۔
غورکرنے کی بات یہ ہے کہ اسدالدین اویسی یوپی انتخاب میں اپنے نمائندے کیوں اتارنا چاہتے ہیں۔ اترپردیش کی کئی جانی مانی سیاسی ہستیوں سے اس بارے میں پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یوپی میں بی جے پی اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک کہ یہاں کے مسلمانوں کے ووٹوں کو بے اثر نہ کردیا جائے۔ یعنی ان کے ووٹوں کو بانٹ دیاجائے۔ یہ بھی بتایاگیا کہ یہاں کے مسلمان بہت جذباتی ہیں۔ ان کی بہاریا دوسری ریاستوں کے ووٹروں کے مقابلے سیاسی سمجھ کم ہے۔ ہوسکتا ہے کچھ حد تک یہ بات صحیح ہو لیکن پوری طرح اس کو صحیح نہیں مانا جاسکتا کیوں کہ وقت آنے پر یوپی کے مسلمان وہی فیصلہ لیں گے جوان کے صوبے کے حق میں بہتر ہوگا۔ یوپی کے مسلمان بھی اب نقلی ہمدردی کو سمجھنے لگے ہیں۔ البتہ اویسی صاحب کو یہ جواب دینا ہی چاہئے کہ انہوں نے ان صوبائی انتخابات میں اپنے نمائندے کیوں نہیں اتارے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close