نقطہ نظر

اَڈانی بھی کسی اَمِت شاہ سے کم نہیں!

عالم نقوی

ٹائمز آف انڈیا اور ڈی این اے وغیرہ کے بعد اب اِکنامک اَینڈ پولیٹیکل ویکلی (ای پی ڈبلیو ) جیسی معتبر اقتصادی، سیاسی  اور تحقیقی میگزین نے بھی ’’جمہوری آمریت ‘‘ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں یہاں تک کہ اس کے ایڈیٹر، دانشور ایکٹی وسٹ صحافی’ پر نجوئے گوہا ٹھاکُرتا ‘ کو استعفیٰ دینے پر مجبور ہونا پڑا ہے جبکہ انہوں نے صرف پندرہ ماہ قبل ہی ای پی ڈبلیو کی ادارتی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں!

میگزین کے پروپرائٹر پبلشر ’سَمِیکشا ٹرسٹ ‘ نے  نہ صرف یہ کہ  چھے ماہ قبل میگزین میں شایع ایک  آرٹیکل نہایت متنازعہ طریقے سے اپنی ویب سائٹ سے ہٹائےجانے کے بعد  کسی بھی طرح کی صفائی دینے سے انکار کیا ہے بلکہ نہایت غیر ذمہ دارانہ طریقے سے ’پرنجوئے ٹھاکُرتا ‘پر  نااَہلی کا بھونڈا  الزام بھی  لگایا ہے ۔  ای پی ڈبلیو نے اپنے 14 جنوری 2017 کے اِشو میں (ص35 تا 40) اَڈانی گروپ کی  ایک ہزار کروڑ روپئے کی ٹیکس  چوری کے تعلق سے ایک تفصیلی رپورٹ شایع کی تھی۔ یہ تفتیشی  رپورٹ ای پی ڈبلیو کی ویب سائٹ پر 7 جنوری 2017 ہی کو اَپلوڈ ہو چکی تھی لیکن ’وائر ڈاٹ کام ‘ کی یکم اگست  2017 کی رپورٹ کے مطابق اب وہ ای پی ڈبلیو کی سائٹ پر نہیں ہے paranjoy.in/EPW) )رپورٹ کی تین رُکنی تحقیقی ٹیم کے ہیڈ پرنجوئے ٹھاکُرتا  کو بطور سزا ’اوپر والوں ‘ کی ہدایت پر استعفیٰ دینے پر مجبور کرنے کے لیے ان پر ناکارکردگی کے لچر الزام لگائے گئے ہیں۔

ای پی ڈبلیو کے  امرتیہ سین جیسے دانشور قارئین کے حلقے میں سخت غم و غصے اور تشویش کا ماحول ہے۔ حیرت اور اس سے زیادہ عبرت کا مقام یہ ہے کہ سمیکشا ٹرسٹ میں بھی رومیلا تھاپر اور دیپک نیر جیسے مؤرخ اور ماہرتعلیم شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اَڈانی گروپ پر  ڈائرکٹو ریٹ آف ریوینیو انٹلی جنس (ڈی آر آئی )کا الزام ہے کہ اس کمپنی نے ٹیکسوں کی چوری اور منی لانڈرنگ کے ذریعے ایک ہزار کروڑ روپئے کا گھوٹالہ کیا ہے ! ڈی آر آئی کے مطابق اڈانی گروپ نے برآمدی رعایتوں کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے  دنیا بھر میں پھیلی ہوئی مختلف کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی ہے لیکن این ڈی اے حکومت، سرکار کے مالی مفادات کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے میں حیرت انگیز طور پر آنا کانی کر رہی ہے۔ پرنجوئے ٹھاکرتا کی سربراہی میں ہونے والی  اس تفتیش و تحقیق میں ای پی ڈبلیو کے ایک اور کارکن صحافی اَدوَیتیہ راؤ پَلِیپُو نیز ایک آزادمحقق شِنزانی جین  بھی  شریک تھے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اَدوَیتیہ راؤ کو نہیں ہٹایا گیا ہے اور ساری آئی گئی ٹھاکرتا کے سر منڈھ دی  گئی ہے۔

ڈی آر آئی نے اڈانی گروپ کو جن بے ضابطگیوں میں ملوث پایا ہے اُن میں اِکسپورٹ پروموشن کی  سرکاری اسکیموں کا بڑے پیمانے پر، بے دریغ ہونے والا،  غلط اور ناجائز استعمال سر فہرست ہے۔ ٹھاکُرتا کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس سبھی الزامات کے ثبوت مع دستاویزات موجود ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ نام نہاد چھپن انچی سینے والی  موجودہ دلی حکومت تین سال سے مسلسل ایک ہی بات ثابت کرتی آرہی ہے کہ وہ اپنے تمام تر دعووں کے بر خلاف پڑوسی پاکستان سے بھی گئی گزری ہے جس کی عدالت عظمیٰ نے پناما پیپرس بدعنوانی، ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ معاملوں میں ملک کے وزیر اعظم کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا ہے جبکہ اڈانی گروپ کے ونود اڈانی (گوتم اڈانی کے بڑے بھائی )، امتابھ بچن اور ایشوریہ رائے بچن سمیت وطن عزیز کے بانوے(92) امیر کبیر لوگ، جن میں فلم اسٹار، سیاسی لیڈر اور بڑے  بڑے بزنس مین شامل ہیں، پناما پیپرس کی اس  کالی فہرست میں موجود  ہیں جنہوں نے بھاری ٹیکس چوری وغیرہ کے ذریعے  اپنے ملک کی دولت پناما وغیرہ کے بینکوں اور کمپنیوں میں جمع کر رکھی ہے !پناما پیپرس  کے افشا ہونے  کے بعد  ’ پردھان سیوک ‘ نے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی بنانے اور پورے معاملے کی تحقیق کے بعد ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے مجرموں کو قرار واقعی سزا  دینے کا وعدہ کیا تھا. لیکن اس کے بعد کیا ہوا ؟

نہیں معلوم !کیونکہ نہ کوئی خصوصی  اعلیٰ اختیاراتی  کمیٹی بنی۔ نہ کوئی تحقیقات  ہوئی۔نہ کسی کو سزا ہوئی۔ کم از کم میڈیا کو تو ایسے کسی واقعے کی ابھی تک کوئی بھنک نہیں ملی ہے۔ در اصل انہوں نے پرانی اسکیموں کو نیا نام دینے، ہر وہ کام کرنے جس کی وہ 2014 سے پہلے مخالفت کر رہے تھے، جھوٹ بولنے اور جھوٹے وعدوں کی جھڑی لگانے کے نئے ریکارڈ قائم کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کیا ہے۔ ہاں ایک کام اور وہ کر رہے ہیں :وہ ملک کو بتدریج پولیس اسٹیٹ میں بدل رہے ہیں  اورانہوں نے  اعلان کیے بغیر ملک میں  ایمرجنسی لگا رکھی ہے۔ ایک نیا  ریکارڈ اور وہ قائم کر رہے ہیں۔ اندرا گاندھی راجیو گاندھی اور سونیا گاندھی کے زمانے میں حقیقی طاقت اور اقتدار کا مرکز ایک ہی ہوا کرتا تھا آج طاقت کے مراکز ’چار ‘ ہیں !تین ظاہری اور ایک باطنی ! طاقت کے ظاہری مرکزوں کے نام ہیں نریندر مودی، ارون جیٹلی اور امت شاہ اور باطنی مرکز کا نام ہے : موہن بھاگوت ! یہ ’ایک میان میں چار تلواریں ‘ رکھنے جیسا ’ کارنامہ ‘ ہے جس کا نتیجہ با لآخر کیا ہوگا، یہ بتانے کی ضرورت نہیں !

ٹھیک ہے نام نہاد قومی میڈیا وہی کرتا جو’  زی نیوز‘،انڈیا ٹیوی  اور ’ٹائمس ناؤ‘جیسے بیشتر الکٹرانک نیوز چینل، ٹائمز آف انڈیا اور  ڈی این اے  جیسے اخبارات  کر رہے ہیں اور اب بد قسمتی سے اس کالی فہرست میں ای پی ڈبلیو بھی شامل ہو گیا ہے  لیکن ملک ابھی پوری طرح  بزدل، ڈرپوک، بانجھ اور نامرد نہیں ہوا ہے۔ ابھی ’اے ایل ٹی نیوز ‘،اسکرال ڈاٹ اِن، اور ’دی وائر ڈاٹ اِن  جیسےنیوز پورٹل، کسی حد تک انڈین ایکپریس اور دی ہندو جیسے اخبارات، رویش کمار  اور ونود دوا  جیسے بے خوف  اور حق گو اَینکر، اور ہرش مندر، تیستا سیتل واڈ، اجیت ساہی، اَپوروا نند جھا، رام پنیانی، متعدد ماہرین ِ قانون اور سابق ججوں  کے علاوہ کنہیا کمار جیسے نوجوان  اور وزیر اعظم کو خط لکھ کر اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے والے  وہ سیکڑوں  اعلیٰ سابق  فوجی افسران بھی ہیں جو فرقہ پرستی، نسل پرستی، عدم  برداشت اور ظلم کے خلاف لڑائی میں حق و انصاف کے پرچم بردار بنے کھڑے ہیں۔ جنہوں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ وہ وطن ِ عزیز کو نام نہاد بھکتی کے نام پر انسانوں اور انسانیت سے بغاوت کا اکھاڑا نہیں بننے دیں گے !

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

5 تبصرے

  1. بہت عمدہ، بے باک اور حقیقت پسندانہ تبصرہ!

    ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں!

  2. ایک میان میں چار تلوار، بہت خوب عالم صاحب

  3. بےباک اور غیر معمولی حقائق سے پر
    اللہ آپ کو لمبی عمر دے صحت و تندرستی کے ساتھ
    آپ جیسے حق گو صحافی کا سایہ تا دیر اردو صحافت پر قایم رہے آمین یا رب العالمین

متعلقہ

Close