نقطہ نظر

آر ایس ایس: احساس کمتری کا بہترین نمونہ

صادق رضامصباحی

یہ کیسی دوغلی پالیسی ہے کہ ایک طرف آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت، اڑیسہ میں کہتے ہیں کہ آرایس ایس ہندتواکی علم بردارہے، ہندتواانسانیت اور رواداری سے عبارت ہےاورہندومذہب تشدد اورعدم رواداری پریقین نہیں رکھتامگردوسری طرف ا ن کے چیلے پورےملک میں دہشت گردی پھیلاتے پھرتے ہیں ۔ واہ بھاگوت صاحب واہ۔ ’’اُلوبنانا‘‘کوئی آپ سے سیکھے۔ ایسالگتاہے کہ ’اُلوبنانے ‘‘ میں آپ نے تھیسس کر رکھی ہے۔ یہ بیان ایساہی ہے جیسے کوئی دن کی روشنی میں کہے ’ ذرا، دیکھو تو سہی، چاندنی کس طرح اپنی چادرپھیلائے ہوئےہے۔ ‘کون نہیں جانتاکہ آرایس ایس کس قدرشدت پسند،  دہشت گرداور امن وامان مخالف تنظیم ہے۔

اگرایسانہیں ہے تو پھر۱۹۴۸میں کانگریس نے اس پرپابندی کیوں عائدکی تھی۔ مسٹرکرم چندرگاندھی سے لے کرآج تک اس کی دہشت گردی کے ہزاروں واقعات شاہدہیں جویہ بتارہے ہیں کہ آرایس ایس کاانسانیت اوررواداری سے خداواسطے بیر ہے اوردہشت گردی اورعدم رواداری سے ازلی محبت۔ اس کاایک تازہ ترین نمونہ ’شیوسیناہندوستان‘ کا انتہائی شرانگیزاورفتنہ پرورمطالبہ ہے۔ یہ ذیلی تنظیم آر ایس ایس کی ہی ناجائزاولاہے اوردراجستھان سے تعلق رکھتی ہے۔ اس نے ۲۱؍دسمبرکو ایک ایسامطالبہ کردیا جس نے ہرامن پسندانسان کوسہما دیا ہوگا۔

اس تنظیم نے مطالبہ کیاہے کہ اجمیر شریف کی درگاہ کی جگہ پہلے ایک مندرتھا جسے ڈھا کر یہا ں درگاہ بنائی گئی ہے اس لیے درگاہ کو منہدم کردیا جائے۔ ’شیوسیناہندوستان‘ کے جنرل سکریٹری لاکھن سنگھ نے یہ مطالبہ ملک کے تمام ہندوئوں سے کیاہے اوران سے اس کے لیے ذہن سازی کرنے نیزمہم چلانے کی اپیل بھی کی ہے۔ پوری دنیاجانتی ہے کہ اجمیرشریف درگاہ قریب ۸سوبرسوں سے امن و امان کاپیغام دے رہی ہے۔ اس کی تاریخ شفاف آئینے کی طرح روشن ہے۔ پوری دنیا سے یہا ں زائرین کھنچے کھنچے چلے آتے ہیں اوراپنے من کی مرادیں پاتے ہیں ۔  اجمیرشریف میں کوئی دن ایسانہیں گزرتاکہ جس دن یہاں ہزاروں زائرین کی تعدادموجودنہ ہوتی ہو۔ یہ درگاہ شریف پوری دنیاکے مسلمانوں کے لیے مرکزعقیدت ہے۔  حتی کہ سیاسی پارٹیوں کے بڑے بڑے لیڈران بھی یہا ں حاضرہونااپنی سعادت تصورکرتے ہیں اورچادرپیش کرتے ہیں مگرپتہ نہیں آرایس ایس کی اس ناجائز اولاد ’شیوسینا ہندوستان‘کے جنرل سکریٹری کے سرمیں کیا سوداسماگیاکہ اس نے اسے منہدم کرنے کاہی مطالبہ کر ڈالا۔ اس سے پہلے تاج محل کے متعلق بھی اسی طرح کی شر انگیزی کی گئی تھی اوردہلی کی جامع مسجدکے تعلق سے بھی۔ آرایس ایس کی دہشت گردی کاعالم تویہ ہے کہ ملک میں جہاں جہاں بھی مساجد ہیں وہاں اسے اپنے بھگوان نظرآتےہیں اوریہ بھولے بھالے ہندوئوں کے دماغوں میں نفرت کے بیج بوتی پھرتی ہے۔  یہ سمجھتی ہے کہ وہ بڑااچھاکام کررہی ہے مگراس کے لیڈروں کوکون بتائے کہ وہ ملک کاستیاناس کررہے ہیں ۔  مسلمان اس ملک کااہم ترین حصہ ہیں بلکہ جزو لاینفک یعنی ایساحصہ کہ جسے ہندوستان سے جدا کیا ہی نہیں جاسکتامگرسوال یہ پیداہوتاہے کہ آرایس ایس مسلمانوں کے تعلق سے اس قدر شدت پسندی پرکیوں اترآئی ہے ؟

دراصل آرایس ایس کواگرچہ سوسال پورے ہونے کوہیں مگریہ خوداعتمادی سے محروم تنظیم ہے، اس کی نس نس میں احساس کمتری جاگزیں ہے اوراسی احساس کمتری کی بناپراس کے لیڈران اس طرح کے بیانات دیتے رہتے ہیں ۔ اس طرح کی بیان بازیوں اورمطالبات سے یہ محض اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں ۔ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ تاریخ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کررہے ہیں مگر ان عقل کے اندھوں کوکون سمجھائے کہ میاں !تاریخ، تاریخ ہے، یہ کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کرتی، یہ منفی کام کرنے والوں کواس طرح اٹھاکرپھینکتی ہے کہ اس کی ایک بھی ہڈی سلامت نہیں رہتی۔ یہ سچ ہے کہ آر ایس ایس کے سو سال پورے ہونے پریہ پورے ملک کوہندوراشٹرقراردے دے گی مگریہ احساس کمتری کے دلدل سے کبھی نکل نہیں پائے گی۔ حیرت ہے کہ اس کے دانشورکب تک اپنے بھولے بھالے عوام کو اُلو بناتے رہیں گےاوران کوجہالت کے اندھیروں میں دھکیلتے رہیں گے۔ کیاانہیں بھی یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ منفی اورتخریبی کام کرنے والے کبھی زندہ نہیں رہتے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ سوسال کی عمر کے قریب پہنچنے کے باوجودآرایس ایس اپنے اندرخود اعتمادی نہیں پیداکرٓسکی اورآج تک وہ اپنے بل پر جینا نہیں سیکھ سکی۔

اگرخوداعتمادی ہوتی تووہ اپنے دم پر اقتدارپرقبضہ کرتی، کبھی بھی شرانگیزی کرکے نفرت نہ پھیلاتی مگراس کے برخلاف اس نے مسلمانوں کے خلاف مہم چلائی۔ جاہل، بے شعور اور اندھے بہرے گونگے ہندئوں کوبہکایااورکرسی سے جونک کی طرح چمٹ گئی۔ انسان جب اپنے شعورکوپہنچتاہے تووہ احساس کمتری کوبہت پیچھے چھوڑآتاہے۔ بیس سال کاناتجربہ کارنوجوان بھی احساس برتری سے لبریزہوتاہے اوروہ کمتراحساس کواپنے پاس بھی نہیں پھٹکنے دیتامگریہ کیسی تنظیم ہے جواپنی سوسال کی عمرپوری کرنے والی ہے، بوڑھی ہوچکی ہے، تجربات سے لبالب بھری ہوئی ہے، وسائل سے بھرپورہےاوراس کی ’فتوحات‘کی ایک لمبی فہرست ہے مگراب بھی وہ احساس کمتری میں زندگی گزاررہی ہے۔ توکیااس کامطلب یہ ہے کہ آرایس ایس ۲۰؍سالہ ناتجربہ کارکھلنڈرے نوجوان سے بھی گئی گزری ہے ؟

اس کاجواب توآرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت ہی دے سکیں گے۔ انہیں یادرکھناچاہیے کہ منفی پروپیگنڈہ وہی کرتاہے جو اندر سے کمزورہوتاہے اس لیے یہ بات نوٹ کرلیجیے کہ وہ اندرسے کمزورہے اوربری طرح ’ٹوٹ پھوٹ‘کی شکاربھی، اس لیے وہ صرف مسلمانوں کے خلاف الٹی سیدھی بیان بازی کرکے اپنے مقاصدکی تکمیل کرنا چاہتی ہے۔ ملک میں جوکچھ بھی ہواہے اورہورہاہے یہ سب آرایس ایس کے احساس کمتری کے نمونے ہیں بلکہ انہیں بہترین نمونہ کہناچاہیے۔ آرایس ایس سربراہ کامذکورہ بیان بھی اسی احساس کمتری سے نکلنے کی کوشش ہے مگروہ نکل نہیں پارہے ہیں بلکہ الٹا اوندھے منہ احساس کمتری کی گندمیں لتھڑے پڑے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close