سیر و سیاحتنقطہ نظر

آنند کمار قانون کو نہیں مانتا، پر خوش ہے!

ڈاکٹر قمر تبریز

ہمارے ملک ہندوستان میں قانون پر قانون بنائے جا رہے ہیں۔ فی الحال مسلم خواتین کو بقول وزیر اعظم مودی ’ناانصافی‘ اور ’ظلم و استحصال‘ سے نجات دلانے کے لیے طلاق سے متعلق قانون بنایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ محرم کے بغیر عورتوں کو حج پر روانہ کرنے کے قدم کو بھی مودی صاحب گزشتہ 70 برسوں سے ہندوستانی مسلم خواتین کو ’غلامی سے نجات‘ دلانا مان رہے ہیں اور سارا کریڈٹ اپنے نام کر چکے ہیں۔اس سے پہلے کیرالہ کی ہادیہ کو ’لو جہاد‘ کی شکار خاتون کا درجہ دیا ہی جا چکا ہے۔ ’گئوکشی‘ نے کتنے معصوموں کی جان لے لی، یہ سب ہم دیکھ ہی چکے ہیں اور اب اس کے ذبیحہ پر پابندی لگانے والے قانون کو واپس لینے کی تیاری اس لیے ہو رہی ہے، کیوں کہ ملک بھر میں ہزاروں، لاکھوں کی تعداد میں گائیں مر رہی ہیں، خود جو لوگ اسے ’مقدس جانور‘ مانتے ہیں، ان کے کھیتوں کو بھی چرنے سے یہ گائیں پرہیز نہیں کرتیں۔ ایسے میں سوال یہی ہے کہ کیا صرف قانون بنا لینے بھر سے ہی ملک ٹھیک ہو جائے گا؟

ممبئی کا آٹو رکشہ ڈرائیور، آنند کمار اس کا جواب نفی میں دیتا ہے۔ آنند کی بات کو سننا اس لیے ضروری ہے، کیوں کہ تقریباً چالیس سال پہلے جب اس کے غریب ماں باپ آندھرا پردیش سے چل کر ممبئی روزی روٹی کی تلاش میں آئے تھے، تو قانون کے رکھوالوں نے اسے کبھی چین سے سونے نہیں دیا اور رشوت لینے کے باوجود ایک فٹ پاتھ سے دوسرے فٹ پاتھ پر دوڑاتے رہے۔ بعد میں اپنی محنت کی کمائی سے انھوں نے اتنے بڑے شہر میں ایک چھوٹی سی جھونپڑی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔ اسی جھونپڑی میں ایک دن آنند کمار پیدا ہوا اور ماں باپ سے قانون کی ناانصافیوں کے بارے میں سنتے اور اپنے آس پاس کے ماحول کو دیکھتے ہوئے بڑا ہوا۔ آج وہ 28 سال کا ہے لیکن قانون کو نہیں مانتا، اس لیے کہ اس کی نظروں میں قانون انصاف نہیں دلاتا، بلکہ نا انصافی کرتا ہے۔

میں نے آنند کمار کے ساتھ اس کے آٹو رکشہ میں ممبئی کی سڑکوں پر چار گھنٹے گزارے۔ باندرہ ایسٹ سے لے کر جوہو چوپاٹی، سلمان خان اور امیتابھ بچن کے گھر سے لے کر ممبئی یونیورسٹی تک کی سڑکوں اور گلیوں سے گھماتا ہوا آنند کمار ہمیں ان قانونی نا انصافیوں کی باتیں بتاتا رہا اور پھر اچانک جب ایک پٹرول پمپ پر اس نے ضابطے کو توڑا، تو ہماری سمجھ میں آ گیا کہ اس نے جتنی بھی باتیں بتائی ہیں اس میں جھوٹ کا ذرا بھی شائبہ نہیں ہے۔ اس پٹرول پمپ پر تقریباً 50-60 آٹورکشہ والے گیس بھرانے کے لیے ایک دوسرے کے پیچھے قطار میں لگے ہوئے تھے۔ ظاہر ہے، یہ لائن پٹرول پمپ کے انٹری گیٹ پر لگی ہوئی تھی، باہر جانے کا دروازہ یعنی ایگزٹ گیٹ خالی تھا۔ منع کرنے کے باوجود آنند کمار نے ایگزٹ گیٹ سے اپنا آٹو رکشہ پٹرول پمپ کے اندر گھسا دیا۔ قطار میں لگے دوسرے آٹو والے آواز لگاتے رہے، لیکن اس نے کسی کی نہ سنی۔ اس وقت گیس کا پریشر کم تھا، اس لیے آٹو کی لائن بڑھتی جا رہی تھی۔ آنند کمار جیسے ہی وہاں پہنچا، گیس بھرنے والے نے اس سے کہا کہ وہ کہیں اور چلا جائے، کیوں کہ یہاں ابھی وقت لگے گا۔ وہ یہ بات شاید اس لیے بھی کہہ رہا تھا، کیوں کہ اس نے آنند کو ایگزٹ گیٹ سے اندر گھستے ہوئے دیکھا تھا۔ لیکن، آنند کمار کا جواب بالکل سیدھا تھا، ’’میں آگیا ہوں، اب پریشر بھی آ جائے گا، تم فکر مت کرو۔‘‘ اور واقعی میں ایسا ہی ہوا۔ پانچ منٹ کے اندر ہی گیس کا پریشر آ گیا اور آنند کمار نے اپنے آٹو میں گیس بھروا کر یہ ثابت کر دیا کہ اس کے اندر کتنی خود اعتمادی ہے۔ یہ میرے لیے چونکانے والی بات تھی، اس لیے میں نے آنند کمار پر سوالوں کی بوچھار کر دی۔اس کا جواب جاننے سے پہلے آپ کو یہ بتا دوں کہ آنند کمار سے میری ملاقات ہوئی کیسے۔

میں گزشتہ دنوں صحافیوں کی ایک کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے ممبئی گیا ہوا تھا۔ ممبئی کا چونکہ یہ میرا پہلا سفر تھا، اس لیے شہر کے مختلف مقامات کو دیکھنے کی تمنا دل میں انگڑائیاں لے رہی تھیں۔ لیکن، میرے ساتھ دقت یہ تھی کہ کانفرنس کا وقت صبح ساڑھے 9 بجے سے شام کے 6 بجے تک ہونے کی وجہ سے میں دن بھر کہیں آ جا نہیں سکتا تھا۔ ممبئی کا قیام بھی صرف چار دنوں تک کے لیے ہی تھا اور چاروں دن کانفرنس میں موجود رہنا ضروری تھا۔ لہٰذا، میں نے صبح پانچ بجے سے لے کر آٹھ بجے تک اور پھر شام کو 6 بجے سے لے کر رات کے 12 بجے تک شہر میں گھومنے کا من بنایا۔ ممبئی میں نیا ہونے کی وجہ سے وہاں کے راستوں سے بھی واقف نہیں تھا، لیکن ہوٹل کے جس کمرے میں مجھے ٹھہرایا گیا تھا، اسی کے بغل میں کیرالہ سے مشہور دستاویزی فلم ساز وی سسی کمار کے ٹھہرنے کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔ وہ ممبئی کے ٹیلی گراف سروِس (اب بی ایس این ایل) میں بطور میکینکل انجینئر 1973 سے 1985 تک کام کر چکے تھے، بعد میں ان کا ٹرانسفر کیرالہ ہوگیا تھا، جہاں سے اب وہ ریٹائر ہو چکے ہیں۔ میں نے ان سے دوستی کرلی اور اس طرح انھوں نے مجھے ممبئی کی سیر کرانے کا ذمہ اپنے سر لے لیا۔

ایک دن حسب معمول، جب ہم دونوں چھٹی منزل پر ہوٹل کے اپنے کمرے سے صبح پانچ بجے ممبئی کی سیر کرنے نیچے اترے، تو باہر سڑک پر سواری کا انتظار کرتے آنند کمار کو اپنے آٹو رکشہ کے ساتھ پایا۔ راستے میں اس سے بات کرتے ہوئے ہمیں پتہ چلا کہ اس کی بیوی مسلم ہے، جس سے اس کی ملاقات ممبئی کی انہی سڑکوں پر ہوئی تھی، اور جس کی محبت میں گرفتار ہوکر آخرکار ایک دن آنند کمار نے شادی کر لی اور اب اِن دونوں کے دو بچے ہیں۔ ’لو جہاد‘ کی بحث چھیڑ کر میں آنند کمار کی خوشیوں کو کم کرنا نہیں چاہتا تھا، لیکن ایک صحافی ہونے کے ناطے راستے بھر یہ ضرور ٹٹولنے کی کوشش کرتا رہا کہ ملک کے موجودہ حالات کے بارے میں وہ کیا سوچتا ہے۔ وہ جو کچھ مجھے بتا رہا تھا، اسے میں اپنے صحافتی پیمانے پر ٹیسٹ بھی کر رہا تھا اور اسی کی بنیاد پر میں آپ سے یہ کہہ رہا ہوں کہ آنند کی باتوں میں جھوٹ ذرا بھی شامل نہیں تھا، بلکہ وہ سچ بول رہا تھا۔

آٹو رکشہ چلاتے وقت آنند کے جسم پر یونیفارم نہیں تھا، بلکہ وہ ایک پھٹی ہوئی شرٹ اور پینٹ پہنے ہوئے تھا۔ میں نے جب اس سے پوچھا کہ پولس والے تمہارا چالان نہیں کاٹتے، تو اس نے جواب دیا، ’’ہمت نہیں ہے‘‘۔ تم اَنڈر ورلڈ کے آدمی تو لگتے نہیں، پھر وجہ؟ تب آنند کمار تفصیل سے بتاتے ہوئے کہتا ہے، ہمارے علاقے میں کچھ دنوں پہلے ایک ٹریفک پولس انسپکٹر آیا۔ ایک دن اس نے مجھے چوراہے پر ہاتھ دے کر روکا اور پوچھا یونیفارم کہاں ہے؟ میں نے کہا، صاحب غریب آدمی ہوں یونیفارم سلوانے کے پیسے نہیں ہیں۔ آپ میری شرٹ دیکھ لیجئے، یہ بھی پھٹی ہوئی ہے۔ محنت کرکے آٹو چلاتا ہوں، اسی سے گھر کا خرچ چلتا ہے۔ یونیفارم نہ ہونے کی وجہ سے پولس والوں کو بھی بار بار سو، پچاس دینے پڑتے ہیں۔ اب آپ ہی بتائیے، کہاں سے پیسے لاؤں؟ اگر پولس والے رشوت نہ لیتے تو اب تک میں یونیفارم سلوا چکا ہوتا۔ اب آپ ہی بتائیے کہ چوری کرکے یونیفارم سلواؤں یا پھر ایمانداری سے محنت کرکے۔ پولس انسپکٹر کو اس پر ترس آیا۔ اس نے آنند سے کہا کہ اس کے پاس کچھ پرانے کپڑے گھر پر پڑے ہوئے ہیں، وہ اسے پہننے کے لیے لاکر دے گا اور پھر آنند کمار کو چھوڑ دیا۔ آنند خوش تھا کہ چلو پولس کی وردی میں کوئی تو بھلا انسان ملا جو اس کی پریشانی کو سمجھتا ہے۔ اگلے دن چوراہے پر جب وہ پولس والا ملا، تو آنند سڑک کنارے آٹو کھڑا کرکے دوڑا ہوا اس کے پاس گیا، صاحب میرے لیے کپڑے لائے؟ پولس والا شرمندہ ہوا۔ بولا، آج بھول گیا کل لے آؤں گا۔ لیکن، مہینوں گزر گئے، پولس والے نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا، اس لیے آنند کمار بھی قانون سے بے خوف ہو گیا۔ اسی لیے وہ کہتا ہے کہ پولس والے کی ہمت نہیں ہے کہ اس کا چالان کاٹ دے۔ وہ ایک سوال اور کرتا ہے۔ اگر میں یونیفارم پہن لوں، تو کیا پولس والے رشوت لینا چھوڑ دیں گے؟ اس کا جواب سبھی جانتے ہیں۔ اسی لیے آنند کمار کہتا ہے کہ جب وردی کی کوئی عزت ہی نہیں ہے، تو پھر بغیر وردی کے چلے گا، جو چاہے سزا دے دو، تیار ہوں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

قمر تبریز

ڈاکٹر قمر تبریز کا تعلق سیتا مڑھی بہار سے ہے۔ آپ معروف صحافی اور قلم کار ہیں اور راشٹریہ سہارا، عالمی سہارا، چوتھی دنیا، اودھ نامہ اور روزنامہ میرا وطن سمیت مختلف اخبارات سے وابستہ رہ چکے ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close