نقطہ نظر

اپریل فول منانا مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا

ندیم احمد انصاری

مزاح کرنا انسان کے لیے ضروری ہے، یہ ایک ایسی نعمت ہے جس کے ذریعے انسان بہت سے غموں کو بھلا کر تروتازہ محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے مزاح کرنا اسلام اور انسانی فطرت میں معیوب نہیں سمجھا گیا، البتہ مزاح کے طریقوں پر ضرور غور کرلینا چاہیے۔ اس لیے کہ بعض دفعہ ایک چیز، ایک انسان کے لیے لطف اندوزی کا باعث بنتی ہیلیکن دوسرے کے لیے وبال جان بن جاتی ہے۔ ایسے مذاق ومزاح کو ظاہر ہے انسانی فطرت خصوصاً دینِ اسلام، جو کہ عین فطرت ہے، ہرگز درست وجائز قرار نہیں دے سکتا۔

  آج ہمارا معاشرہ جہاں دیگر بہت سے امور میں مغرب کے نقشِ پا میں اپنی کامیابی کی منزل کا پتہ لگانے کی کوشش کررہا ہے، وہیں آداب واخلاق اور مزاح ومذاق میں بھی انھیں کی طرف للچائی نگاہوں سے دیکھ رہا ہے اور جیسا اسے یہ ’مغرب کے بت‘حکم دیتے ہیں، انھیں کی نقالی میں سرمایۂ افتخار محسوس کررہا ہے۔ مغرب کی اس اندھی تقلید نے ہمیں جہاں دیگر بہت سی ’مصیبتوں ‘ سے نوازا ہے، انھیں میں ’اپریل فول‘ منانے کی مشہور رسم بھی ہے۔ اس رسم کے مطابق معاشرے میں یکم اپریل کو کسی کو بے وقوف بنانا اور اس سے لوگوں کو ہنسانا بڑا کمال سمجھا جاتا ہے۔ اس کے لیے ہر ناروا عمل اس تاریخ میں جائز سمجھا جاتا ہے اور جو اس دن جتنے زیادہ لوگوں کو بے وقوف بنائے، اسے اتنا زیادہ ’اسمارٹ‘ تصور کیا جاتا ہے۔ جب کہ یہ گندہ مذاق بعض دفعہ بہت گھنائونی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ جو جھوٹی باتیں اپریل فول منانے والا کہتا ہے، اس سے بعض کمزور دل لوگوں کو بڑے صدمے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بعض لوگوں کی تو اس قبیح رسم نے جان تک لے لی۔ اس کے علاوہ بعض دفعہ خوش گوار تعلقات بھی اس رسم کے باعث تلخی کا شکار ہوتے دیکھے گئے ہیں، اس لیے ہمارے معاشرے کے لیے یہ ایک قابلِ ترک رسم ہے۔

جہاں تک ’اپریل فول‘ کی ابتدا کی بات ہے تو اس بارے میں متعدد آرا ہیں : بعض کا کہنا ہے کہ یہ 21مارچ کو دن ورات کے برابر ہونے کے وقت بسنت کے جشن کے ساتھ ایجاد ہوئی اور بعض کا خیال ہے کہ یہ بدعت قدیم زمانہ ہی سے ہے اور بت پرستوں کا تہوار ہے، فصل ربیع کی ابتدا میں معین تاریخ سے مرتبط ہونے کی وجہ سے، کیوں کہ یہ بت پرستوں کی بقایا رسومات میں سے ہے اور کہاجاتا ہے کہ بعض ملکوں میں شکار کے ابتدائی ایام میں شکار ناکام ہوتا تھا، چناں چہ یہ اپریل ماہ کے پہلے دن میں گڑھی جانے والی جھوٹی باتوں کے لیے ایک قاعدہ بن گیااور بعض نے اس جھوٹ کی اصلیت کے بارے میں اس طرح لکھا ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اپریل فول مناتے ہیں، جس کا حرفی یا لفظی معنی ’اپریل کا دھوکہ‘ ہے لیکن کتنے لوگ ہیں جو اس کے پس پردہ پوشیدہ راز کو جانتے ہیں ؟آج سے تقریباً ہزار سال پہلے جب مسلمان اسپین میں حکومت کرتے تھے وہ ایک ایسی طاقت تھے جس کا توڑنا ناممکن تھا اور مغرب کے نصاریٰ یہ تمنا کرتے تھے کہ دنیا سے اسلام کا خاتمہ کردیں اور وہ اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ ان لوگوں نے اسپین میں اسلام کی بڑھوتری کو روکنے اور اس کا خاتمہ کرنے کی بارہا کوششیں کیں لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد کفار نے اپنے جاسوسوں کو اسپین میں مسلمانوں کی ناقابل شکست قوت کے راز کا پتہ لگانے کے لیے بھیجا تو انھوں نے پایا کہ تقویٰ وپرہیزگاری کو لازم پکڑنا ہی اس کا سبب ہے۔

جب نصاریٰ نے مسلمانوں کی قوتوں کے راز کو جان لیاتو انھوں نے مسلمانوں کی اس قوت کو توڑنے کی حکمت عملی کے بارے میں غور کرنا شروع کردیا، اسی بنا پر انھوں نے اسپین میں سگریٹ اور شراب کو مفت بھیجنا شروع کیا۔ اس طریقۂ کار (tactics) نے مغرب کو اچھے نتائج دیے اور اسپین میں مسلمانوں، بالخصوص نوجوان نسل کا عقیدہ کمزور ہونے لگا اور اس کا نتیجہ یہ ظاہر ہوا کہ مغرب کے کیتھولک (catholic) نصاریٰ نے سارے اسپین کو اپنے ماتحت کرلیا اور ایک ایسے شہرسے مسلمانوں کی حکومت کا خاتمہ کردیا جہاں وہ آٹھ سو برس سے زیادہ مدت تک اقتدار میں رہ چکے تھے اور یکم اپریل کو مسلمانوں کا آخری قلعہ غرناطہ کا سقوط ہوا، اس لیے اس کو بطور ’’اپریل فول‘‘ (April Fool) دھوکے کا اپریل سمجھتے ہیں۔ اور اسی سال سے آج تک اس دن کو مناتے آرہے ہیں اور مسلمانوں کو بے وقوف سمجھتے ہیں۔ وہ حماقت وبے وقوفی کو صرف غرناطہ کی فوج کے ساتھ خاص نہیں مانتے بلکہ پوری امتِ اسلامیہ کو بے وقوف بناتے ہیں، اس کے باوجود ہم اس جشن میں شمولیت اختیار کریں تو یہ انتہائی جہالت کی بات ہیاور جب ہم اس خبیث فکر کے کھیل میں ان کی نقالی کریں تو یہ ایسی اندھی تقلید ہے جو ہم میں بعض کی ان کی پیروی کرنے میں بے وقوفی کو واضح کرتی ہے اور اگر ہم اس جشن کے اسباب کو جان لیتے تو کبھی بھی اپنی شکست کا جشن نہ مناتے۔ (کذبۃ ابریل: ۵-۴)یہ ’اپریل فول‘ کی وہ تاریخ ہے جس کو جاننے کے بعد کم از کم مسلمانوں کو تو اس کا سرے سے بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ اس ’جھوٹ‘ کو فروغ دینے والی رسم میں ہونے والے حادثات، جیسا کہ ہم نے ابتداء ً ذکر کیااس کے سوا ہیں۔

 مذکورہ بالا باتیں اس بے ہودہ رسم کو عقلاً بھی ناروا ٹھہراتی ہیں اور نقلاً بھی۔ شریعتِ اسلامی ایسی چیزوں کی ہرگز اجازت نہیں دیتی۔ بعض لوگوں کا یہ خیال یہ ہے کہ مزاح ومذاق کے طور پر جھوٹ بولنے میں کیا قباحت ہے؟ انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تک مسلمان، مذاق میں بھی جھوٹ بولنا نہ چھوڑدیں، اس وقت تک ان کا ایمان کامل نہیں ہوسکتا۔ (مسند احمد) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اس آدمی کے لیے ہلاکت ہے جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے۔ (ابوداود)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:سچائی اختیار کرو، اس لیے کہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے او رنیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، آدمی سچ بولتا ہے، اور سچ بولنے میں لگا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے، جھوٹ سے بچو، اس لیے کہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف لے جاتی ہے، آدمی جھوٹ بولتا ہے او رجھوٹ میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ (بخاری، مسلم) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایک بات کہو اور وہ تمھاری بات کو سچ سمجھ رہا ہو، جب کہ تم اس سے جھوٹ بول رہے ہو۔ (الادب المفرد) ان تمام تر تفصیلات سے واضح ہوگیا کہ ’اپریل فول‘ ہمارے معاشرہ کے لیے کس قدر مضر ہے، آئیے ہم اپنے معاشرے کو خرافات سے پاک کریں !

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ندیم احمد انصاری

ڈائریکٹر الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا اسلامی اسکالر و صحافی

ایک تبصرہ

  1. جب عیسائی افواج نے اسپین کو فتح کیا تو اس وقت اسپین کی زمین پر مسلمانوں کا اتناخون بہایا گیا کہ فاتح فوج کے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے تو ان کی ٹانگیں گھٹنوں تک مسلمانوں کے خون میں ڈوبی ہوتی تھیں. جب قابض افواج کو یقین ہوگیا کہ اب اسپین میں کوئی بھی مسلمان زندہ نہیں بچا ہے تو انہوں نے گرفتار مسلمان فرما روا کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنے خاندان کےساتھ واپس مراکش چلا جائے جہاں سے اس کے آباؤ اجداد آئے تھے ،قابض افواج غرناطہ سے کوئی بیس کلومیٹر دور ایک پہاڑی پر اسے چھوڑ کر واپس چلی گئی. جب عیسائی افواج مسلمان حکمرانوں کو اپنے ملک سے نکال چکیں تو حکومتی جاسوس گلی گلی گھومتے رہے کہ کوئی مسلمان نظر آئے تو اسے شہید کردیا جائے ، جو مسلمان زندہ بچ گئے وہ اپنے علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا بسے اور وہاں جا کر اپنے گلوں میں صلیبیں ڈال لیں اور عیسائی نام رکھ لئے، اب بظاہر اسپین میں کوئی مسلمان نظر نہیں آرہا تھا مگر اب بھی عیسائیوں کو یقین تھا کہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے کچھ چھپ کر اور اپنی شناخت چھپا کر زندہ ہیں اب مسلمانوں کو باہر نکالنے کی ترکیبیں سوچی جانے لگیں اور پھر ایک منصوبہ بنایا گیا ۔ پورے ملک میں اعلان ہوا کہ یکم اپریل کو تمام مسلمان غرناطہ میں اکٹھے ہوجائیں تاکہ انہیں ان کے ممالک بھیج دیا جائے جہاں وہ جانا چاہیں۔اب چونکہ ملک میں امن قائم ہوچکا تھا اور مسلمانوں کو خود ظاہر ہونے میں کوئی خوف محسوس نہ ہوا ، مارچ کے پورے مہینے اعلانات ہوتے رہے ، الحمراء کے نزدیک بڑے بڑے میدانوں میں خیمے نصب کردیئے گئے جہاز آکر بندرگاہ پر لنگرانداز ہوتے رہے ، مسلمانوں کو ہر طریقے سے یقین دلایا گیا کہ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا جب مسلمانوں کو یقین ہوگیا کہ اب ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا تو وہ سب غرناطہ میں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے اسی طرح حکومت نے تمام مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرلیا اور انکی بڑی خاطر مدارت کی۔ یہ کوئی پانچ سو برس پہلے یکم اپریل کا دن تھا جب تمام مسلمانوں کو بحری جہاز میں بٹھایا گیا مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑتے ہوئے تکلیف ہورہی تھی مگر اطمینان تھا کہ چلو جان تو بچ جائے گی جان چھوٹی سو لاکھوں پائے، دوسری طرف عیسائی حکمران اپنے محلات میں جشن منانے لگے ،جرنیلوں نے مسلمانوں کو الوداع کیا اور جہاز وہاں سے چلے دیئے ، ان مسلمانوں میں بوڑھے، جوان ، خواتین ، بچے اور کئی ایک مریض بھی تھے جب جہاز سمندر کے عین وسط میں پہنچے تو منصوبہ بندی کے تحت انہیں گہرے پانی میں ڈبو دیا گیا اور یوں وہ تمام مسلمان سمندرمیں ابدی نیند سوگئے۔ اس کے بعد اسپین میں خوب جشن منایا گیا کہ ہم نے کس طرح اپنے دشمنوں کو بیوقوف بنایا۔ پھر یہ دن اسپین کی سرحدوں سے نکل کر پورے یورپ میں فتح کا عظیم دن بن گیا اور اسے انگریزی میں First April Fool کا نام دے دیا گیا یعنی یکم اپریل کے بیوقوف ۔آج بھی عیسائی دنیا اس دن کی یاد بڑے اہتمام سے منائی جاتی ہے اور لوگوں کو جھوٹ بول کر بیوقوف بنایا جاتا ہے۔ اس رسم کے درج ذیل نقصانات ہیں
    1.۔ دشمنوں کی خوشی میں شرکت کرنا
    2.۔ نفاق میں ڈوب جاتا
    3.۔ جھوٹ بولنا اور ہلاکت پانا
    4.۔ اللہ کی ناراضگی پانا
    5.۔ مسلمان بہن بھائیوں کی تباہی و بربادی کی خوشی منانا
    6.۔ مسلمان بہن بھائیوں کو مصیبت میں ڈالنا
    7.۔ دنیا و آخرت میں تباہی ہی تباہی ہے۔

    أقول ما تسمعون وأستغفر الله لي ولكم ولسائر المسلمين فاستغفروه إنه هو الغفور الرحيم .

متعلقہ

Close