اپنی مسجد سے مائک اُتروا لیجئے

حفیظ نعمانی

الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ کے حکم کے بعد 15 جنوری کے بعد سے کسی بھی مسجد میں لائوڈ اسپیکر سے نہ اذان دی جاسکے گی اور نہ جمعہ کا خطبہ دیا جاسکے گا۔ ہم ہندوستانیوں کا مزاج پتھر کی طرح سخت ہے۔ برسوں سے یہ حکم نافذ ہے کہ دس بجے رات کے بعد لائوڈ اسپیکر بند کردیئے جائیں گے لیکن کسی بھی عوامی تقریب شادی موڈن عقیقہ ختنہ اور منگنی جیسی تقریبات میں لائوڈ اسپیکر ضروری ہوگیا ہے۔ اور جو جتنا بڑا جاہل ہے اس کے گھر بجنے والے لائوڈ اسپیکر کی آواز اتنی ہی اونچی ہوتی ہے اور رات کو بارہ بجے تک شور مچاتا ہے۔

صوتی آلودگی بیشک ایک مسئلہ ہے لیکن وہ دوسرے سماجی جرائم کے مقابلہ میں اتنا مضر نہیں ہے۔ لیکن ملک میں ایک سیاسی طبقہ ایسا ہے جو برسوں سے اذان پر ناک بھوں چڑھاتا ہے۔ خود ہمارے ایک بہت قریبی دوست کی دُکان مسجد کے بالکل سامنے تھی ایک دن عصر کے وقت ہم بھی بیٹھے تھے، اتنے میں ہی مؤذن نے اذان دی ہم جو بات کررہے تھے اسے درمیان میں ہی روک دیا۔ ہمارے دوست نے کہا کہ ہم پاکستان کے جس علاقہ میں رہتے تھے وہاں کئی مسجدیں تھیں لیکن ہر مسجد میں جو بانگ دی جاتی تھی وہ ایک آدمی فصیل پر چڑھ کر دے دیا کرتا تھا لکھنؤ میںہر مسجد میں لائوڈ اسپیکر سے بانگ دی جاتی ہے۔ ہم نے کہا کہ جہاں تم تھے کیا تمہارے باپ یا دادا کے پاس کوئی کار تھی؟ اب تمہارے گھر میں دو کاریں ہیں وہ تمہیں بری نہیں لگتیں؟

تم جس زمانہ کی بات کررہے ہو ہم بھی لکھنؤ میں نہیں بریلی میں تھے اور جس محلہ میں رہتے تھے اس میں سب بڑے لوگ اور بہت بڑے لوگ تھے ان لوگوں کی ایک مسجد بھی تھی جس میں پانچ وقت اذان ہوتی تھی اور اس کی آواز ہم سب کے گھروں میں آجاتی تھی اس لئے کہ سڑک پر سوائے گھوڑے تانگے کے کوئی سواری نہیں تھی نہ بسیں تھیں نہ ٹرک تھے نہ ٹیمپو۔ تم اپنی دُکان کے سامنے دیکھو کہ ہر آدمی کو اس لئے زور سے بولنا پڑتا ہے کہ سڑک پر گذرنے والی سواریوں اور ہارن کے شور میں دوسرے کو آواز نہیں آتی۔

یہ بھی اتفاق ہے کہ ہمارا کسی مسجد کی انتظامی کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں رہا اور گھر کے سامنے جو مسجد ہے اس کے بارے میں یہ بھی نہیں معلوم کہ اس میں جو لائوڈ اسپیکر ہے اس کی قانونی اجازت لی گئی ہے یا یوں ہی لگا لیا ہے؟ ایک بات یہ ضرور ہے کہ صرف اذان میں اس کا استعمال ہوتا ہے اور ایک اذان تین منٹ یا کم میں ہوجاتی ہے۔ ہم جب اس مکان میں آئے تو رمضان شریف چل رہے تھے سحر کے وقت کے ختم ہونے سے پہلے ہلکی سی ایک آواز آئی کہ وقت ختم ہونے میں دس منٹ رہ گئے ہیں۔ اور پندرہ منٹ کے بعد اذان ہوگئی مسجد کے منتظمین اور نمازیوں سے تو بعد میں تعلق ہوا۔ ہم ایسی مساجد کے قریب بھی رہ کر آئے تھے کہ رمضان شریف میں مسجد کو اکھاڑا بنا لیا جاتا تھا۔ محلے کے جتنے گانے والے لڑکے ہوتے تھے سب کو چھوٹ تھی کہ وہ ایک گھنٹہ تک جتنا شور مچا سکتے ہیں مچائیں۔ اس کی تکلیف ہندو بھائیوں کو جس قدر بھی ہوتی ہو نماز پڑھنے والوں کو ان سے زیادہ ہوتی تھی۔

اب جس مسجد میں بغیر سرکاری اجازت کے لائوڈ اسپیکر چل رہا ہے اسے آج ہی بند کردیا جائے اور محلہ کے بااثر حضرات سے مدد لے کر اجازت لی جائے جس میں پانچ وقت اذان اور صرف جمعہ کا خطبہ اور نماز جس میں 30  منٹ لگیں۔ مسجد کے منتظمین کو اس کا خیال رکھنا چاہئے کہ اس معمولی سی خطا کی سزا پانچ سال ہے اور جرمانہ بھی ہمارے صوبہ کا جو سسٹم ہے اس میں یقین ہے کہ نہ کوئی بابا پکڑے جائیں گے اور نہ کسی مندر پر ہاتھ ڈالا جائے گا لیکن مسجد میں اگر لائوڈ اسپیکر ٹسٹ بھی ہورہا ہوگا تو وہ سب ہوجائے گا جس کے لئے یہ قانون بنایا ہے۔

یہ حکم بیشک عدالت کا حکم ہے لیکن عدالت نے از خود نہیں دیا ہے بلکہ ان کی خدمت میں درخواست دی ہے تب انہوں نے دیا ہے۔ ہمارا سابقہ عدالت سے نہیں ہوگا صوبہ کی حکومت اور انتظامیہ سے ہوگا جو مندر کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنے کی بھی جرأت نہیں کرسکتی کیونکہ وہ خود اس کے بیوی بچے اور پورا خاندان اس مندر کا پجاری ہے۔

25 سال پہلے بازار کھالہ کے تھانے کے اندر بھی ایک مندر تھا اور باہر سڑک کے کنارے ایک بابا نے فٹ پاتھ پر قبضہ کرکے ایک مندر بنا لیا تھا۔ اس کے بالکل سامنے ان دنوں اخبار کا دفتر تھا۔ ہم نے ہر دن دیکھا کہ بغیر میٹر کے بجلی کے تار سے کٹیا ڈال کر بابا بجلی لیتے تھے دن بھر مندر میں راڈ جلا کرتے تھے اور ٹیپ میں تار لگاکر بھجن لائوڈ اسپیکر پر پوری آواز سے بجائے جاتے تھے اور بابا اِدھر اُدھر اپنے کام کرتے پھرتے تھے۔ ایک دن جب کان پھٹنے لگے تو انہیں سمجھایا اور ہارن کا رُخ بدلوایا پورا تھانہ بغل میں موجود تھا ان میں نہ کسی کو فٹ پاتھ پر قبضہ نظر آتا تھا نہ چوری کی بجلی اور نہ لائوڈ اسپیکر کا شور شاید وہ جو اندر ایک کے بعد ایک غلط کام کرتے تھے ان گناہوں کو بابا کے بھجن سے پاک کرلیتے تھے۔ ہم بڑی محبت کے ساتھ مسلمانوں سے درخواست کریں گے کہ وہ صرف مسجد کو دیکھیں مندر کو نہ دیکھیں اور نہ یہ دیکھیں کہ بڑا منگل میں جہاں جہاں لائوڈ اسپیکر کے شور سے کان پھٹ رہے ہیں انہوں نے اجازت لی ہے یا نہیں؟



⋆ حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

حج سبسڈی

جب ہوائی سفر شروع ہوا تو مرکزی حج کمیٹی اور صوبائی حج کمیٹیاں بنائی گئیں صوبوں نے حج ہائوس بنائے اور ہر درخواست کے ساتھ تین سو روپئے وصول کئے جاتے ہیں جو کئی مہینے پہلے لے لئے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ عازمین حج سے پورا روپیہ مہینوں پہلے وصول کرلیا جاتا ہے جس کا سود ہی 30  کروڑ سے زیادہ ہوتا ہے۔ یعنی عازمین حج اور عام مسلمان جنہوں نے سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا وہ اس لئے تھا کہ حکومت کا روپیہ سود کی وجہ سے پاک نہیں رہتا۔ اور حج کمیٹیاں عازمین حج کے پاک روپئے کو بینک میں رکھ کر اور اس سے سود لے کر اسے ناپاک کردیتی ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے