نقطہ نظر

اگر ای وی ایم سے بین نہیں ہٹتا ہے تو…!

مشرف عالم ذوقی

ہم ایک ایسے ملک میں ہیں جہاں ہر دن جمہوریت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ ہر دوسرے دن آزادی کے احساس کو پامال کیا جارہا ہے۔ ہر لمحہ دہشت، نفرت، منافقت، جبر، بر بریت، جھوٹ، فریب، مکر کی ایک نئی تاریخ لکھی جارہی ہے۔ ہر دن انصاف کو دفن کیا جارہا ہے۔ ملک کی سالمیت، وقار، تھذیب اور صدیوں پرانی ملت کے رشتے تار تار ہو رہے ہیں ۔ پھول پور اور گورکھپور میں یوگی کو ہار ملتی ہے تو حکومت، آر ایس ایس، میڈیا اور یوگی مسلمانوں کے خلاف زہر پھیلانے کی ہر حد سے گزر جاتے ہیں ..سوال ہے، ہم کیوں دیکھیں ؟کیوں برداشت کریں؟

برداشت کرتے کرتے یہ منظر نامہ بھی سامنے ہے کہ ہر قدم پر یا تو ہمیں ہلاک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے یا ہمیں سر عام دہشت گرد ٹھہرانا شروع کر دیا گیا ہے. مسلم تنظیمیں اب بھی شرافت کا چولا پہنے اس انتظار میں ہیں کہ وقت تبدیل ہوگا .کیا واقعی ایسا ہوگا ؟ میڈیا چینلوں پر پھول پر اور گورکھپور کی شکست کے بعد یہاں تک کہا گیا کہ شیر کے منہ سے کتے چند بونٹیاں چھین لین تو شیر نہیں بن جائیں گے۔ کتے کون ہیں ؟ کانگریس؟ یا مسلمان ؟ کانگریس کو اب جا کر احساس ہوا کہ مسلمانوں سے ہمدردی کا رشتہ رکھنے کے جرم میں آر ایس ایس نے اپنی خوفناک بازی چل دی.

لیکن کانگریس نے بھی ہمدردی دکھانے کے سوا مسلمانوں کے لئے کیا کیا ؟ سیاست کی تازہ روشنی میں اس بات کا امکان کم ہے کہ کانگریس یا اپازیشن پارٹیاں اب آگے مسلمانوں کا نام بھی لینگی .لینگی اس وقت جب الیکشن کا بھوت سامنے ہوگا .تب سب کو ہندوستان کی دوسری بڑی اقلیت مسلمانوں کی یاد اے گی. مسلمانوں کی بد قسمتی ہے کہ انکے پاس بھی کویی راستہ نہیں .وہ کل بھی مہرے تھے. اب بھی مہرے ہیں .کل بھی کٹھ پتلی تھے، اب بھی ہیں …مسلمان کل بھی غیر مشروط طور پر اپنی وفاداریاں لٹاتے رہے .آگے بھی یہی کریں گے. ملت کی روٹیوں پر پلنے والے کبھی راستہ نہیں بنایں گے .کبھی متحد نہیں ہونگے.

آر ایس ایس سپریمو نے ابھی حال میں یہ بیان دیا کہ مسلمانوں اور اقلیتوں کے لئے انھیں اور پر تشدد راستہ اختیار کرنا ہوگا .کیا اب تک جو راستے اختیار کیے گئے، وہ کیا کم تھے ؟ آگے کیا ہوگا ؟ کیا خون کی ندیاں بہایی جاہیں گی ؟ اگلے الیکشن کی جیت کے لئے کیا یہی ایک راستہ رہ جاتا ہے ؟ یا کچھ بیحد بھیانک ہونے والا ہے .؟ سمبت پاترا ایک ٹی وی چینل پر مسلمانوں کو غدار کہتا ہے.ایک کمزور مسلمان آواز اٹھاتا ہے تو نیوز اینکر کہتا ہے کہ غدار کہنے سے کیا مسلمان غدار ہوجائیں گے؟ اب اس نیوز اینکر سے کون یہ سوال کرنے جائے کہ تمہیں اگر سور کا بچہ کہ کر پکارا جائے تو تم سور کے بچے تو نہیں ہو جاؤ گے…میڈیا نے ملک کی تھذیب سے اخلاقیات کو دفن کر دیا ہے .،منطق..دلیلیں فسطائی ذہنیت کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں . . ہندوستان کی 70سالہ جمہوریت میں بے ایمانی، دھوکہ، جاہلیت اور دہشت کا جو ننگا کھیل ان دنوں کھیلا جارہا ہے وہ اس سے پہلے کبھی نہیں کھیلا گیا۔ انصاف بک گیا، الیکشن کمشنر بک گئے، سوال یہ ہے کہ باقی کیا ہے ؟ محفوظ کیا ہے ؟ رواداری کی رسم کی ختم کردی گئی۔ صدا ٹوڈے کے پروگرام میں کلدیپ نیر نے بھروسہ دلایا کہ ہندو، مسلمانوں کے ساتھہیں۔

ساتھ ہیں تو نظر کیوں نہیں آتے؟ میڈیا میں کیوں نہیں آتے؟۔ حمایت کرنے والے غیر مسلموں کی تعداد دکھائی کیوں نہیں دیتی ؟کمزور ہیں ؟ سہمے ہوئے ہیں ؟ بے زبانی کے علاوہ چارہ نہیں ہے ..؟ یا سب کو ہندو راشٹر کی تجویز پسند آی ہے . یا سب کے سب خوفزدہ ہیں؟ رویش جیسے کتنے لوگ ہیں جو ہماری حمایت میں سامنے اہے ؟ کیا مٹھی بھر لوگوں کے ساتھ ہونے سے آر ایس ایس جیسی ذہنیت رکھنے والوں کو کویی فرق پڑیگا ؟

روس میں پوتن کی تاناشاہی عروج پر ہے .۔ چین میں ایک نیا قانون آگیا کہ شی پنگ اب تاحیات صدر رہیں گے۔ ممکن ہے آئندہ مودی حکومت اسی نقشے قدم پر چلنے کی کوشش کرے گی۔ کانگریس اور سونیا جیسے لوگوں کے لئے سیاست کے اس خوفناک کھیل کو سمجھنا مشکل ہے، آر ایس ایس اس راستے چل پڑی ہے جہاں ہندوتو کے قانون کو نافذ کرنے کے لئے اسے کویی دلیل کویی منطق گوارا نہیں .قانون بنانے یا پاس کرنے کے لئے اسے کسی اپازیشن کی کویی ضرورت نہیں . ملک اور ملک کی سالمیت کا جنازہ نکالنے کے لئے ابھی حال میں کانگریس اور اپوزیشن کی حمایت اور مخالفت کے بغیر پارلیمنٹ میں بل پاس کرالیا گیا۔ یہ پہلا جھٹکا یا بڑی وارننگ ہے کہ آگے ہم اسی نیی تاریخ کو دہرائیں گےاور کویی بھی ہمارا کچھ بگاڑ نہیں سکتا . آئندہ بغیر اپوزیشن کے ,ہندوتوکے نام پر, 2019کے آگے کی حکومت بھی پاس کرا لی جائے گی۔ الیکشن کمشنر سے لے کر خفیہ ایجنسی اور ملک کے تمام عہدوں پر آج آ رایس ایس کی حکومت ہے۔ ہمیں سماجوادی کانگریس یا بی ایس پی کے اتحاد سے خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ آپ وہ ایک ایسے کھیل کو آگے بڑھائیں گے یا اس سلسلے کو شروع کیا جاچکا ہے کہ چٹ بھی آر ایس ایس کی اور پٹ بھی …

یقین کے مبہم راستوں پر جلتی ہوئی ایک قندیل نظر آتی ہے.بیلٹ پیپر سے چناؤ. کانگریس اور اپازیشن کو بس یہی راستہ اختیار کرنا چاہیے ..یہ اندھیرے میں امید کی ایک کرن ہے کہ شاید کویی معجزہ ہو جائے۔ اگر ای وی ایم سے بین نہیں ہٹتا ہے تو کانگریس اور اپوزیشن کو چاہئے کہ 2019کے الیکشن کا بائیکاٹ کریں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مشرف عالم ذوقی

ڈاکٹر مشرف عالم ذوقی اردو کے معروف نقاد، ادیب اور فکشن نگار ہیں۔ موصوف کم و بیش تین درجن کتابوں کے مصنف ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close