مذہبی مضامیننقطہ نظر

اہل ایمان ظالموں اور جباروں کیلئے نرم چارہ نہیں ہوتے

عبدالعزیز

عام طور پر بزدلی کی کوکھ سے ظالم اور بدمعاش جنم لیتے ہیں ۔ جس معاشرہ میں بزدلی نہیں ہوتی۔ ظلم و جبر خواہ کسی پر ہو برداشت نہیں کیا جاتا۔ وہاں  ظالموں اور بدمعاشوں کی ہمت کسی پر جبر وظلم کرنے کی نہیں ہوتی، لہٰذا معاشرہ میں ایسے لوگ ہونے چاہئے جو ظلم و بدی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں ۔

 ’’انسان کی یہ اسپرٹ کہ وہ بدی کو کسی حال میں برداشت نہ کرے اور اسے دفع کرنے کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہوجائے، انسانی شرافت کی سب سے اعلیٰ اسپرٹ ہے۔ او ر عملی زندگی کی کامیابی کا راز بھی اسی اسپرٹ ہی میں مضمر ہے۔ جو شخص دوسروں کیلئے بدی کو برداشت کرتا ہے اس کی اخلاقی کمزوری اسے بالآخر اس پر بھی آمادہ کر دیتی ہے کہ وہ خود اپنے لئے بدی کو برداشت کرنے لگے۔ اور جب اس میں برداشت کا یہ مادہ پیدا ہوجاتا ہے تو پھر اس پر ذلت کا وہ درجہ آتا ہے جسے خدا نے اپنے غضب سے تعبیر کیا ہے۔ ضُربَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ وَ بَآؤُ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِo اس درجہ میں پہنچ کر آدمی کے اندر شرافت و انسانیت کا کوئی احساس باقی نہیں رہتا۔ وہ جسمانی و مادّی غلامی ہی نہیں بلکہ ذہنی و روحانی غلامی میں بھی مبتلا ہوجاتا ہے اور کمینگی کے ایسے گڑھے میں گرتا ہے جہاں سے اس کا نکلنا محال ہوجاتا ہے‘‘۔ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب قرآن مجید میں فرماتا ہے:

’’اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں ۔ برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے پھر جو کوئی معاف کردے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں ان کو ملامت نہیں کی جاسکتی، ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ۔ایسے لوگوں کیلئے درد ناک عذاب ہے، البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور در گزر کرے تو یہ بڑی اولوالعزمی کے کاموں میں سے‘‘۔ (الشوری: آیت 63تا 68)۔

’’یہ بھی اہل ایمان کی بہترین صفات میں سے ہے۔ وہ ظالموں اور جباروں کیلئے نرم چارہ نہیں ہوتے۔ ان کی نرم خوئی اور عفو و درگزر کی عادت کمزوری کی بنا پر نہیں ہوتی۔ انھیں بھکشوؤں اور راہبوں کی طرح مسکین بن کر رہنا نہیں سکھایا گیا ہے۔ ان کی شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ جب غالب ہوں تو مغلوب کے قصور معاف کردیں ، جب قادر ہوں تو بدلہ لینے سے در گزریں اور جب کسی زیر دست یا کمزور آدمی سے کوئی خطا سرزد ہوجائے تو اس سے چشم پوشی کر جائیں ، لیکن جب کوئی طاقت ور اپنی طاقت کے زعم میں ان پر دست درازی کرے تو ڈٹ کر کھڑے ہوجائیں اور اس کے دانت کھٹے کردیں ۔ مومن کبھی ظالم سے نہیں دبتا اور متکبر کے آگے نہیں جھکتا۔ اس قسم کے لوگوں کیلئے وہ لوہے کا چنا ہوتا ہے جسے چبانے کی کوشش کرنے والا اپنا ہی جبڑا توڑ لیتا ہے۔

  یہ پہلا اصولی قاعدہ ہے جسے بدلہ لینے میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ بدلے کی جائز حد یہ ہے کہ جتنی برائی کسی کے ساتھ کی گئی ہو اتنی ہی برائی وہ اس کے ساتھ کرے، اس سے زیادہ برائی کرنے کا وہ حق نہیں رکھتا۔

  یہ دوسرا قاعدہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زیادتی کرنے والے سے بدلے لے لینا اگر چہ جائز ہے لیکن جہاں معاف کر دینا اصلاح کا موجب ہوسکتاہو وہاں اصلاح کی خاطر بدلہ لینے کے بجائے معاف کر دینا زیادہ بہتر ہے۔ اور چونکہ یہ معافی انسان اپنے نفس پر جبر کرکے دیتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کا اجر ہمارے ذمہ ہے، کیونکہ تم نے بگڑے ہوئے لوگوں کی اصلاح کی خاطر یہ کڑوا گھونٹ پیا ہے۔

 اس تنبیہ میں بدلہ لینے کے متعلق ایک تیسرے قاعدے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی شخص کو دوسرے کے ظلم کا انتقام لیتے لیتے خود ظالم نہیں بن جانا چاہئے۔ ایک برائی کے بدلے میں اس سے بڑھ کر برائی کر گزرنا جائز نہیں ہے، مثلاً اگر کوئی شخص کسی کو ایک تھپڑ مارے تو وہ اسے ایک ہی تھپڑ مار سکتا ہے۔ لات گھونسوں کی اس پر بارش نہیں کرسکتا۔ اسی طرح گناہ کا بدلہ گناہ کی صورت میں لینا درست نہیں ہے۔ مثلاً کسی شخص کے بیٹے کو اگر کسی ظالم نے قتل کیا ہے تو اس کیلئے یہ جائز نہیں ہے کہ جاکر اس کے بیٹے کو قتل کر دے یا کسی شخص کی بہن یا بیٹی کو اگر کسی کمینہ انسان نے خراب کیا ہے تو اس کیلئے یہ حلال نہیں ہوجائے گا بلکہ کہ وہ اس کی بیٹی یا بہن سے زنا کرے۔

 واضح رہے کہ ان آیات میں اہل ایمان کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ اس وقت عملاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی زندگیوں میں موجود تھیں اور کفار مکہ اپنی آنکھوں سے ان کو دیکھ رہے تھے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے در اصل کفارِ مکہ کو یہ بتایا ہے کہ دنیا کی چند روزہ زندگی بسر کرنے کا جو سر و سامان پاکر تم آپے سے باہر ہوئے جاتے ہو، اصل دولت وہ نہیں ہے بلکہ اصل دولت یہ اخلاق اور اوصاف ہیں جو قرآن مجید کی رہنمائی قبول کرکے تمہارے ہی معاشرے کے ان مومنوں نے اپنے اندر پیدا کئے ہیں ‘‘۔ (تفہیم القرآن)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close