تصوفمذہبمذہبی مضامیننقطہ نظر

ایمان کے سورج

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

تا ریخ آدمیت کا جب ہم بغور مطا لعہ کر تے ہیں، تو ورق ورق پر انسان ایک دوسرے سے الجھا نظر آتا ہے۔ اپنے اقتدار شہرت اور بقا کے لیے دوسرے کو گا جر مو لی کی طرح کاٹتا نظر آتا ہے ۔ اپنی ذات کے تمام رشتوں کا تقدس  پامال کر تا نظر آتا ہے ۔ خو د کو برتر رکھنے کے لیے دوسروں کو اپنے پائوں تلے روندتا نظر آتا ہے۔ خو د کو اشرف المخلو قات اور دوسرو ں کو کیڑے مکو ڑے سمجھتا آیا ہے۔

خالقِ کائنات نے کر ئہ ارض کو مثالی اور امن کا گہوارہ بنا نے کے لیے ہر دور میں پیغمبروں نبیوں کو بھیجا۔ اِن نفوس قدسیہ نے اپنے اپنے دور میں اپنے علم ‘خدا کے پیغام ‘ ذات اورکردار نے گلشن حیات کی خوشبو اور مہک کو قائم دائم رکھا ہے ۔ کیونکہ حضرت انسان فطری طو رپر بے، چین بے صبرا اور جلد باز ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہی انسان خدا اور اُس کے نبیوں کے مقام کو بھو لتا چلا گیا۔ آخر ی نبی سرور کا ئنا ت ﷺ  کے بعد اب چونکہ خدا کا دین مکمل ہو چکا ہے، اِس لیے اب رسولوں کی آمد بھی بند ہو چکی ہے ۔ لیکن خا لقِ کائنات نے کا ئنات کے حسن اور امن کو قائم رکھنے کے لیے، ہر دور میں اپنے نیک بندوں کو کرہ ارض پر بھیجنے کا سلسلہ قائم رکھا۔

 ما دیت پرستی میں غرق انسان مذہب اور اخلا قیات کو دفن کر تا چلا آرہا ہے، لیکن اس متعفن معاشرے میں جہاں کہیں بھی ہمیں اہل حق ‘صوفیا ء کرام کا وجود نظر آتا ہے، تو خدا کے وجود کا احساس شدت سے ہو تا ہے۔ ہر دور کے مردہ با نجھ معا شرے میں یہی وہ طبقہ ہے، جس نے کر ہ ارض کے امن اور حسن کو قائم رکھا ہے۔

‘ زمین کے مختلف خطوں کا عطر یہ لوگ خدا کا عطیہ خا ص ہو تے ہیں ۔یہی وہ لو گ ہیں جو شہرت اقتدار اور خو د پرستی کو جو تے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ اِن اولیاء اللہ کو دیکھ کر عقل دانتوں میں انگلی لے لیتی ہے اور بوڑھا آسمان حیرت سے گنگ ہو جا تا ہے۔ رسالت کا سلسلہ ختم ہو امگر کار رسالت جا ری ہے اور روز قیا مت تک جا ری رہے گا۔نیکی بدی کا ٹکرائو تو اُسی دن سے ہی شروع ہو گیا، جب ابلیس نے حضرت آدم ؑ  کو خدا کے حکم کے باوجود سجدہ کر نے سے انکا ر کر دیا تھا اور خالقِ کائنات کی یہ نا فرمانی اُس کی کروڑوں سال کی عبا دت غرق کر گئی اور وہ راندہ درگاہ ٹھہرا۔ پھر قافلہ شب و روز بڑھا حضرت آدم ؑ کی اولاد بڑھتی چلی گئی، کیونکہ نیکی و شر انسان کے اندر رکھ دیا گیا ہے۔ اِن سے کچھ تو صراطِ مستقیم پر چلے جبکہ کچھ ابلیس اور اُس کے چیلوں کے بچھا ئے ہو ئے سنہرے جال میں الجھتے چلے گئے۔ کیونکہ خالقِ کائنات رحیم کریم ہو نے کے ساتھ ساتھ عادل بھی ہے اور ستر ما ئوں سے زیادہ شفیق بھی اور یہ بھی سچ ہے کہ خدا کی رحمت اُ س کے غضب پر حا وی رہتی ہے وہ رحیم کریم کس طرح یہ گوارہ کر تا کہ اُس کی مخلو ق کو ملعون ابلیس اور اُس کے چیلوں کے رحم و کرم پر چھو ڑ دیا جا ئے۔

  اُس رحیم کریم رب کعبہ نے ما دیت پر ستی میں غرق بھٹکی انسانیت کے لیے ہر دور ہر خطے میں انبیا ء بھیجے۔ خدا کے پیغام کے علمبرداراِن نفوس قدسیہ نے بھٹکے ہو ئوں کو خدا کی طرف بلا یا. گمراہی کے تاریک غا روں سے ایمان کے نور کی طرف بلا یا‘ وہ لوگ جنہوں نے اِن ایما نی چشموں سے اپنی روحوں اور باطن کے زنگوں کو دور کیا, خو دکو کثافت سے لطا فت میں ڈھا لا، اِن انبیاء روحانی رہبروں کی آوازوں سے اپنی سما عتوں کو روشن کیا۔ اِسطرح حضرت انسان کو اپنی بھو لی ہو ئی منزل یا دآجا تی پیغام حق کو اپنی ذات اور  روحوں میں اتار کر با رگا ہ حق میں لو ٹ آئے اور راہ نجات کی منزل کے مسافر بن گئے ۔

 خالق کائنات نے انسان اور کا ئنا ت کو تخلیق کر تے ہوئے  اِس کو کھلا نہیں چھو ڑ دیا بلکہ انسان کی تربیت اور تراش خراش کے لیے مردہ انسانیت کی بے جان رگوں میں جان ڈالنے کیلئے ‘جہالت گمراہی کے طو فانوں میں گرے انسانوں کو صراطِ مستقیم پر لانے کے لیے‘ انبیا ء علیہم السلام خلفائے راشدین صحابہ کرا م کو بھیجا۔ شمع رسالت کے یہ پروانے جو خاک نشین تھے، جو دنیا وی عزت و دولت شہرت کو اپنی ٹھو کروں پر رکھتے تھے، دلوں روحوں کو فتح کر نے والے یہ ایمان کے سورج جہاں بھی طلوع ہو ئے، وہاں پر اپنی ایمان افروز روشنی سے انسانوں کو اس کی اصل سے ہمکنار کر دیا۔ تزکیہ نفس کے ذریعے انسا ن کے اندر تمام زہریلے مادے نکال کر انسان میں محبت کی خوشبو بھر دی پھر جو بھی تر بیت یا فتہ اِن لوگوں کے پاس بیٹھا۔ وہ پھر انہی کا ہو کر رہ گیا ایمان کے سورج یہی وہ لوگ تھے، جو حقیقی فاتحین زمانہ تھے، جنہوں نے اپنے کردار کی روشنی اور محبت سے انسانوں کو اپنے گرد اکٹھا کیا، انہوں نے لوگوں کو تلوا ر کے بل بو تے پر نہیں بلکہ حسن کردار سے جیتا ہے ۔

 ظلم و جبر کفر و جہا لت کے تاریک اندھیروں میں بھٹکی ہو ئی انسانیت کو ایمان کی روشنی سے منور کرنے والے بر بادی تبا ہی ذلت کے آہنی شکنجوں میں کسی ہو ئی دست وپا انسانیت کو رہا ئی دینے والے آلودگی کے قفل کو اللہ ہو اورضرب لا الہ  سے تو ڑنے والے شمع ہدا یت دکھا نے والے, غصہ تکبر غرور نفرت و تعصب کے زخموں سے نڈھا ل انسانیت کے مسیحا ہی، ایمان کے سورج ہیں۔ یہی لوگ ایمان و کردار اور روشنی کے سفیر ہیں۔ یہی لوگ سرور کو نین  ﷺ  کے حقیقی جانشین اور اہل حق ہیں جن کے دم سے بزم حیات کا رنگ قائم و دائم ہے۔ تعصب نفرت سے آزاد روشنی کے یہی سورج بلا امتیاز مذہب سب میں ایما ن و کردار کا نو ربانٹتے ہیں۔ سب کو گلے سے لگا تے ہیں ۔ یہ تیری میری کے چکر میں نہیں پڑتے کر ہ ارض پر موجود اربوں انسانوں میں سے یہی وہ مقدس لو گ ہیں جنہیں اولیا اللہ کہا جا تا ہے، جو اِس کا ئنا ت میں صرف خالقِ کائنات کی ہی اطا عت کر تے ہیں۔ یہ خو د کو اِس طرح الٰہی رنگ میں ڈھا لتے ہیں، اِس طرح اندر با ہر کا تضاد دور کر تے ہیں کہ پھر اِس سے صرف خدا کے نور کی ہی شعاعیں پھوٹتی ہیں۔ اِن کو دیکھ کر خدا یا د آتا ہے اور پھر اللہ اِن سے محبت کر تا ہے ۔

خا لق کا ئنات پھر منا دی کر ا دیتا ہے اورکائنا ت کی مخفی قوتوں کو بتا دیتا ہے کہ یہ ہے میرا بند ہ اور میں اِس کا خدا یہ اپنے مالک کی ہر با ت مانتے ہیں اور پھر کائنات کا پالنہا ر اِن کی کو ئی درخواست رد نہیں کر تا یہی وہ ایمان کے سورج ہو تے ہیں جو خدا کے بر گزیدہ اشخاص اور مخلو ق کے پسندیدہ افراد بن جا تے ہیں اہل حق یہ وہ لو گ ہو تے ہیں، جو اپنی خوا ہش کو خالق کی مر ضی سے ہم آہنگ کرچکے ہو تے ہیں، جو بندگی کے مطلوب درجے پر براجمان ہو تے ہیں، جن کا وجود لوگوں کے لیے با عث رحمت ہو تا ہے، جنہیں دیکھ کر خدا یا د آجا ئے۔ جن سے مل کر زندگی خو شگوار طور پر بد ل جا ئے۔ جن کے قرب میں چند لمحے گزارنے پر دنیا کی ہو س ختم اور دین کی طلب بڑھ جا ئے۔ جن کی با توں سے خوشبو اور نو ر کے جھر نے پھو ٹتے ہوں، جن کا کردار گردو پیش کے لیے خدا کی نعمت لگے جن سے مخلوق آرا م پا ئے اور جو خو ف خداکا پیکر نظر آئیں۔

 یہی وہ لو گ ہیں جو خدا اور اُس کی مخلوق سے حقیقی پیا ر کر تے ہیں۔ یہ دلوں کو جو ڑنے والے ہو تے ہیں با دشاہ وقت اکثر اِن خاک نشینوں کے در پر دامن مراد پھیلا تے نظر آتے ہیں، لیکن  انہوں نے کبھی مڑ کر بھی قصر مر مر کی طرف نہیں دیکھا۔ ولی وہ نہیں جسے لوگ ولی مانیں بلکہ ولی وہ ہو تا ہے، جسے مالک کائنات اپنا دوست قرار دے۔ بہت بڑے اہل حق با یزید بسطامی ؒ کہا کر تے تھے مر نے کے بعد جب قبر میں منکر نکیر پو چھیں گے کہ بتا ئو تمہا را خدا کون ہے، تو میں صرف ایک با ت کہوں گا کہ پہلے میرے خدا سے پو چھو کہ وہ مجھے اپنا بند ہ قرار دیتا ہے کہ نہیں۔ میرے ربی اللہ کہہ دینے سے تو کچھ نہیں ہو گا۔ یہی ہیں وہ ایمان کے سورج جن کی روشنی سے قیا مت تک لوگ ایمان کی روشنی پا تے رہیں گے ۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close