نقطہ نظر

اے انسان! خود خودی کی کر پہچان

ابراہیم جمال بٹ

کسی بزرگ کا قول ہے کہ ’’اے انسان تو دنیا میں رہ کر، اپنی زندگی کے قیمتی لمحات گزارتے ہوئے، صرف یہ خیال کرتے رہنا کہ ’’تو جو کچھ ہے وہ نہیں ہے‘‘ بلکہ ’’تو وہ ہے جس کا تجھے خیال تک نہیں۔ ‘‘ہاں اگر تجھے اپنی پہچان حاصل ہو جائے تو ’’تیرے پاس وہ کچھ ہے جو کسی کے پاس نہیں۔ ‘‘

مذکورہ بالا قول ایک اشارہ ہے… ایک حقیقت ہے… کہ انسان کیا ہے اور کیا نہیں ہے… انسان کی حقیقت اگر خود انسان کو معلوم ہو جائے تو سچ مچ اسے وہ سب کچھ حاصل ہو سکتا ہے جو کسی کو بھی حاصل نہیں۔

انسان کیا ہے؟

انسان آب نطفہ سے پیدا کی ہوئی ایک مخلوق ہے، جسے اصل میں خاک کی پیداوار کہا جاتا ہے۔ ماں کے شکم میں نو مہینے گزارنے کے بعد جب انسان کے بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو اس کی ایک حقیقت بن جاتی ہے۔ جس شخص کی آج تک کوئی پہچان نہ تھی… آج اس کی پہچان بن جاتی ہے… جس بچے کا اس سے قبل کوئی نام نہیں تھا… پیدا ہونے کے بعد اس کا ایک اچھا سا نام رہتا ہے جس سے نہ صرف اسے اس دنیا میں پکارا جاتا ہے بلکہ دنیا کی رجسٹری میں اس کا نام درج ہو جاتا ہے۔ پھر اسی انسانی بچے کی پرورش ہوتی ہے… ماں باپ اپنا پیٹ کاٹ کر… انتھک محنت ومشقت کر کے… حتیٰ المقدور اس کی تعلیمی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں لگ جاتے ہیں … اس کے لئے ہر چیز کی فکر کرتے ہیں … خود کھائے یا نہ کھائے لیکن اپنے اس بچے کی بھوک دور کرنے کے لیے ہر دم فکر مند رہتے ہیں۔ اس طرح اس بچے کی نشوونما اور پرورش ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ اس انسان کی اصل ہے۔ جسے بعد میں یہی بچہ بڑا ہو کر بھول جاتا ہے… اسے بچپن کی کم ہی یادیں یاد رہتی ہیں … اسے اس بات کا خیال ہی کیا پتا بھی نہیں ہوتا کہ میرا وجود کیا تھا؟… اس دنیا میں آنے سے قبل میں کیا تھا… میں ماں کے گود میں ہی سوتا تھا اور اسی کے گود میں ہی کھاتا تھا… میں ماں باپ کے لیے ایک بڑا امتحان بنا ہوا تھا… اور آج ایک نوجوان ہوں۔ اس سب سے انسان فطری طور پر ہی ناواقف تھا۔ یہ انسان کی ایک حقیقت ہے جسے کبھی بلایا نہیں جا سکتا۔

انسان کیا نہیں ہے؟

کہتے ہیں کہ انسان کی اصل کچھ نہیں … بلکہ یہ جانور کی اولاد ہے۔ لہٰذا انسان کو اپنی مرضی کے مطابق ہی اپنی زندگی گزارنی چاہیے۔ وہ اس دنیا میں یونہی پیدا ہوا ہے اور ایک دن یونہی مٹی میں مل کر خاک ہو جائے گا… اس لیے اسے بھی اس دنیا میں یونہی زندگی گزارنی چاہیے۔ مزے کرنے چاہئے… کسی کا خیال کرے یا نہ کرے مگر اپنا خیال کر کے اپنی زندگی کو سنوارنا چاہیے تاکہ اس دنیا میں جو کچھ بھی ہے اس کی لذت سے لطف اندوز ہوا جائے۔ یہ ایک ایسی سوچ ہے جو انسان نے اس دنیا میں بنائی ہوئی ہے، جس کی دور دور تک کوئی حقیقت نہیں ہے۔

انسان کی اصل حقیقت

ایک مسلم ہونے کے ناطے ایک فطری انسان کی اگر اصل حقیقت معلوم کی جائے تو اس سے صاف دکھائی دیتا ہے کہ انسان خاک سے پیدا کی ہوئی ایک مخلوق کا نام ہے۔ جسے اس دنیا میں ایک ’’عبد‘‘ کی صورت میں بھیجا گیا ہے۔ اس کے بارے میں آیا ہے کہ’’ اے انسان وجن!تم کو نہیں پیدا کیا گیا صرف اپنی عبادت کے لیے‘‘۔ اس کے بارے میں کسی بزرگ نہ یہ بھی کہا ہے کہ ’’جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے خالق کو پہچانا ‘‘ یعنی انسان اپنے اندر اور باہر کو اچھی طرح سے جانچ اور سمجھ لے تو دنیا میں اسے اچھی طرح سے اس حقیقت سے پردہ اُٹھ جائے گا کہ اس کی اصل حقیقت کیا ہے۔

انسان کی اصل حقیقت ایک غلام کی سی ہے جو اس دنیا میں صرف اپنے مالک کی غلامی کے لیے خلق کیا گیا ہے۔ تاہم اسے یہ اختیار دیاگیا کہ وہ ایک کی غلامی اختیار کرے یا ان گنت من گھڑ معبودوں کی غلامی اختیار کرے۔ لیکن اس کی کامیابی کا راز صرف اور صرف اس بات میں مضمر ہے کہ وہ صرف ایک کی ہی غلامی اختیار کرے۔ کیوں کہ جب یہ حقیقت ہے کہ انسان ایک ’’معبود‘‘ کا ’’عبد‘‘ ہے تو کسی اور کی پرستش کیوں کرے؟ جب انسان کو معلوم ہے کہ پیدا کرنے والا بھی ایک اور مارنے والا بھی وہی ایک، تو دوسروں کی کیوں مانے۔ انسان کی حقیقت کا راز یہی ہے کہ وہ وہی راستہ اختیار کرے جس کا تعین اس کے اصل معبود نے کیا ہے… انسان کو چاہیے کہ وہ اسی کا مانے جس کے ایک اشارے سے وہ اس کے زندہ جسم سے روح نکال کر اسے بے کار ایک شئی بنا دے۔ غرض انسان کی اصل حقیقت یہی ہے کہ انسان بندہ ہے اور اس کا ایک معبود… انسان مخلوق ہے اور اس کا ایک خالق… انسان محدود سوچ کا حامل ہے اور اس پر ایک لامحدود طاقت کارفرما ہے۔ یہ انسان کی اصل حقیقت ہے جسے وہ سرموانحراف کر چکا ہے۔ جس کی وجہ سے اس کے پاس نہ تو انسانیت رہی اور نہ ہی وہ انسان جیسا اس دنیا میں موجود رہا … بلکہ وہ آج ’’جانور نما انسان‘‘ کی صورت اختیار کر چکا ہے… اس کی ہر خواہش انسانی فطرت کے برعکس ہے… اس کا ہر کام اپنے معبود کی مرضی کے مطابق نہیں … اس کا چلنا پھرنا، اس کا سونا جاگنا… سب کچھ اپنی فطرت کے خلاف ہے اور غیر فطری زندگی گزارنے کی پاداش میں آج انسان تباہ وبربادی کی طرف گامزن ہے۔

حقیقت پر چلنے کے ثمرات

حقیقت کو پانے اور اس پر عمل پیرا ہونے کے بعد انسان اولاً اس بڑی نعمت سے مستفید ہو جاتا ہے جو اس کی اس دنیا کے ساتھ ساتھ اس دنیا سے جانے کے بعد بھی کام آتی ہے اور وہ ہے ’’حقیقی بندۂ خدا‘‘  یعنی ’’ایمان ‘‘کی نعمت۔ اس نعمت کی بدولت انسان ناپاک سے پاک ہو جاتا ہے، ایک عام انسان سے خاص مقام حاصل کر کے ’’حقیقی بندۂ خدا‘‘ بن جاتا ہے۔ اس کے بعد یہی انسان جو کل تک کسی بھی عاقل وغیر عاقل شئی کے سامنے جھکتا تھا، اب صرف ایک کی غلامی کا قلادہ اپنی گردن میں ڈال کر صرف اسی کے آگے جھکتا ہے۔ جو جبین حقیر اور ناچیز چیزوں کے سامنے جھکتا تھا، وہ ایک ایسی طاقتور کا ہاتھ تھام لیتے ہیں جس کے آگے سب ہیچ ہیں، جو سب سے بڑا، سب سے عظیم بلکہ اس جیسا آج تک نہ کوئی تھا اور نہ اس کا ہمسر کوئی ہو سکتا ہے۔ اس لحاظ سے سوچا جائے تو انسان حقارت وذلت سے نکل کر عزت و وقار کا مقام حاصل کر لیتا ہے۔

اس کے بعد اس بندۂ خدا کی زندگی میں اصل خوبصورتی آجاتی ہے، اس کے ہر قول وفعل میں نکھار آجاتا ہے، اس میں امانت داری وپاکبازی کا جزبہ پیدا ہوتا ہے، اسے اپنی زندگی کا اصل اطمینان حاصل ہو جاتا ہے، اس میں اخلاقی حس بیدار ہو جاتا ہے، اس کا چلنا پھرنا نہ صرف اپنے آپ کے لیے بلکہ دوسروں کے لیے خیر کا باعث بن جاتا ہے، وہ اپنا ہی نہیں بلکہ دوسروں کی بھلائی کا بھی طالب ہو جاتا ہے، اسے ہر حیثیت سے اطمینان حاصل ہو جاتا ہے۔

دوسری طرف اس کی آخرت سنور جاتی ہے، اس کا ایک ایک قول وفعل اس کے لیے نجات کا باعث بن جاتاہے۔ اس کو ’’جنت‘‘ جیسا ایک ایسا لاثانی ولافانی قیام گاہ حاصل ہو جاتا ہے، جہاں کوئی غم وحزن نہیں، کوئی پریشانی نہیں، نہ کھانے پینے کی فکر، نہ سونے جاگنے کی فکر۔ جہاں عیش وعشرت کی کوئی حد نہیں۔ المختصر جہاں یہ انسان ’’حقیقی بندۂ خدا‘‘ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایسے باغوں میں سکونت پزیر ہو جائے گا، جنہیں اس نے کبھی دیکھا نہ ہو گا۔ ہر چیز انوکھی اور لازوال ہو گی۔

انسان فطری طور پر ایک تو عجلت پسند ہے اور دوسرا مفاد پرست۔ انسان کو خود اپنا خیال کرنا چاہیے، کہ وہ کیا ہے اور کیا نہیں، جوں ہی اصل لحقیقت کا علم حاصل ہو جائے تو انسان کو اپنی مفاد اور خوشنودیٔ رب کی بنیاد پر سب سے پہلے اسی حقیقیت سے وابستہ ہوجانا چاہے۔ تاکہ انسان اصل معنوں میں کامیاب وکامران ہو جائے۔

آج ہمارا حال کیا ہے اس پر اب ذراغور کیجئے، معلوم کیجئے کہ ہم کہاں ہیں ؟ کن غلط راستوں کی طرف جا رہے ہیں؟ ہمارے آگے پیچھے کیا کچھ ہو رہا ہے؟ کیسا معاشرہ ترتیب پا رہا ہے؟ کیسی زندگی جی رہے ہیں ؟ کیسے ماحول پنپ رہا ہے؟ کیسے اخلاق واطوار ہماری زندگی میں، ہمارے معاشرے کے لوگوں میں، ہمارے گھر میں، گھر میں بیٹھے اہل خانہ میں … اس سب پر غور کیا جائے تو حقیقت سامنے آجائے گی۔ پردہ کھسک کر اصل صورت سامنے پیش ہو گی، اپنا داغ خود ہی نظر آجائے گا… لیکن اس کے لیے ضرورت ہے کہ خود کو خود ہی پہچان دینا… اپنا جائزہ آپ لینا… اگر ہم آپ اپنا جائزہ لے کر آگے بڑھیں تو ہماری اصل صورت سامنے آئے گی… اصل صورت کے سامنے آنے سے ہمارا اندرون و بیرون سدھر جائے گا… ہمارا معاشرے تبدیلی کی طرف گامزن ہو جائے گا۔ لیکن ضرورت ہے خود کے جائزے کی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close