نقطہ نظر

باغی

ابن تاج خان

جب کبھی میں اصلاح احوال کے متعلق سوچتا ہوں، تو مجھے وہ باغی شخص ہمیشہ مسکراتا ہوا نظر آتا ھے، اس نے جاتے جاتے مسکراتے ہوئے مجھے نصیحت کی تھی،

 "قائدین اور ان کے چیلوں کی اصلاح کی فکر چھوڑ دو، کچھ کام کے آدمی بن جاؤ، لیکن خود کے ارد گرد بھکتی کا حصار نہ ڈالنا”

اس سے میری ملاقات دارالحکومت میں ہوئی تھی مسلم محلے کی تنگ گلیوں میں، کہیں اس کا مکان تھا، اکثر چائے کی دوکان پر اس سے ملاقات ہوجاتی، اس کی عمر ڈھلنے لگی تھی، ایک دفعہ ہم کچھ دوست چائے کے دوران مسلم مسائل پر گفتگو کر رہے تھے،  اور اپنے قائدین کی خوبیوں اور خامیوں کا تذکرہ چھڑ گیا،  تبھی اس نے گرج دار آواز میں کہا، اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا،

” نہیں نہیں! تم خامیاں نہیں شمار کرسکتے، یہی تو ہمارے مائی باپ ھیں، اگر یہ نہ ہوں تو مسلم قوم کب کی تباہ و برباد ہوچکی ہوتی، اگر تم اپنا بھلا چاھتے ہو تو صرف خوبیوں پر اکتفا کرو، خبردار اگر خامیوں کوتاہیوں کا لفظ بھی زبان پر لائے، باغی کہے جاؤگے باغی”

اتنا کہہ کر اس نے مٹی کے چائے والے برتن کو ڈسٹبن میں زور سے پٹکا اور اٹھ گیا۔

ہم سب سکتے میں ایک دوسرے کا منھ دیکھتے رہ گئے۔ مجھے تجسس ہوا آخر یہ بندہ ھے کون، ذرا اس کی کچھ کھوج بین ہو،

ایک دن دو دن ایک ھفتے دو ھفتے یہاں تک کہ پورا ایک مہینہ گزر گیا، وہ مجھے دوبارہ نہ ملا،  میں اس واقعے کو تقریبا بھولنے ہی والا تھا، تبھی ایک شام ایک دوسری چائے کی دوکان پر اس سے ملاقات ہوگئی، میں نے سلام عرض کیا، اس نے مسکرا کر جواب دیا، اور پوچھنے لگا۔

"آپ کون؟ کیا ہم پہلے سے متعارف ھیں”

"جی نہیں، لیکن میں آپ کو تقریبا ایک ماہ سے تلاش کر رہا ہو” میں نے یہ کہتے ہوئے پچھلے واقعے کو گوش گزار کیا

اس بات پر وہ کچھ دیر سر جھکائے بیٹھا کچھ سوچتا رہا، پھر کہنے لگا ” سب بے کار کی باتیں ھیں، اب کچھ نہیں ہوسکتا” پھر تاکیدا کہنے لگا ” ھاں ھاں میں سچ کہتا ہوں اب کچھ نہیں ہوسکتا، جب تک برہمنیت زدہ پیشوا ہمارے سروں پر سوار رہینگے یہ امت کٹتی رہے گی، دوڑ دھوپ کرکے مرتبہ حاصل کرنے والے اور وراثت میں پانے والے کبھی برابر نہیں ہوسکتے”

اتنی بات کہنے کے بعد وہ میری طرف متوجہ ہوا اور مجھ سے میرے رجحانات کے متعلق پوچھنے لگا، جب میں نے اپنا بیک گراؤنڈ بتایا تو مسکرا کر مصافحہ کیا اور کہنے لگا، ” یہ طویل بحث ھے،  کبھی غریب خانہ پر تشریف لائیں، پھر بات ہوگی”

میں نے وقت اور پتہ لیا اور اپنی رہائش پر واپس لوٹ آیا

سنیچر بعد نماز مغرب، میں منزل مقصود کو جا پہونچا، چائے شائے کے بعد گفتگو شروع ہوئی، کہنے لگا،

"آپ کبھی کامیاب نہ ہوپائیں گے، لاکھوں مریدوں کے جلو میں رہنے والے انا پرست قائدین کبھی کسی کی پرواہ نہیں کرتے، وہ بس خود کی سنتے ھیں، آپ لاکھ کوشش کرلیں، آپ کی ذرہ برابر پرواہ نہ کی جائے گی، اگر آپ اپنی بات پہونچانے میں کامیاب بھی ہوگئے تو آپ سے رتبہ پوچھا جائے گا، آپ کے کارنامے سننے کی خواہش کی جائے، بھلا ایک عام انسان بنا وسائل کتنے کام کر سکتا ھے، لہذا آپ کا ٹھٹا اڑا کر باہر کردیا جائے، عمر گزری ھے اسی دشت کی سیاحی میں دوست۔”

میں آخری جملے پر ٹھٹکا اور ذاتی زندگی کے بارے میں جاننا چاھا، پہلے تو وہ ٹالتا رہا پھر میری ضد پر مجبور کہنے لگاـ

"میں اسی شہر کے نواحی حصے میں پیدا ہوا، بابا کسان تھے، پڑھنے کی عمر ہوئی تو بے بضاعتی کے سبب بابا نے مدرسے میں داخل کرادیا، حفظ مکمل کیا اور عربی درجات میں اعلی نمبرات حاصل کئے، جب کچھ شدبد ہوئی تو مستقبل کے متعلق سوچنے لگا، لیکن ابھی فراغت باقی تھی، فراغت کے بعد عصری تعلیم کے لئے یونیورسٹی کا رخ کیا، دیگر طالب علموں کے ساتھ وقت گزرا ان کے احوال سے باخبر ہوا، سب سے زیادہ مجھے تکلیف اس بات سے ہوئی کہ وہ اسلام کے متعلق کچھ نہیں جانتے تھے، بعضوں کو تو کلمہ تک یاد نہ تھا، مزید اس پر ان کی اسلام مخالف حرکتیں مجھے رنجیدہ کرتی رہیں، میں ان کے ساتھ رہتا اور سمجھانے کی کوشش کرتا، وہ کچھ سمجھتے کچھ کا مضحکہ اڑاتے، یوں ہی مہینے اور سال گزر گئے۔

ان حالت نے مجھے قوم کی اس حالت پر علم کی ثنویت پر سوچنے کے لئے مجبور کیا، اور اسی کے ساتھ ملک کے حالات روز بروز دیگر گو ہوتے رہے، مذہبی قائدین جن پر سیاسی قائدین انحصار کرتے ھیں، اپنی روحانیت کے پس پردہ اپنی ناکامی چھپاتے رہے، دنگے فسادات، مسلموں کے قتل عام، اور قائدین کی چپی جذبات کو بر انگیختہ کردیتیں، لیکن ایک غریب گھرانے کا فرد ہونے کے ناطے چپ رہتا،  لیکن وہ دن بھی آیا جب میں چپ نہ رہ سکا، اندر کی بے چینی حقیقت بن کر سامنے آگئی، مسجد کے انہدام کا وقت تھا، جلوس جلسے بہت ہوئے لیکن مصلحت کی بھوک نے سارے حوصلے پست کردئےـ

ایک روز میں امت کی بیحالی کا دکھڑا لئے قائد امت کے دربار میں حاضر ہوا، اور دست بستہ عرض کیا "حضور ، کچھ تو منصوبہ بندی کریئے، آخر کب تک ہم یوں ہی بے یار ومددگار کٹتے مرتے رہینگے، کب تک عصمتیں نیلام ہوتی رہینگی، کب تک ہم وقت کی مار جھیلتے رہیں گے؟

قائد امت نے مجھ سے میرا تعارف پوچھا اور دست شفقت سر پر رکھا، اور عرض کیا، تنِظیم میں شامل ہوجاؤ، یہی اس امت کا علاج ھے کہ سب ایک دوسرے سے جڑے رہیں، اور مصیبت کے وقت ایک دوسرے کی تکلیفوں میں ھمدرد رہیں۔ "

میں قائد امت سے متاثر تنظیم کا حصہ بن گیا، دن رات محنت اور لگن سے کام کرتا رہا، تقریبا ۱۵ سال کا عرصہ بیت گیا، لیکن میں اب بھی ایک کارکن ہی رہا، قائد امت کے خاندان کے دیگر افراد میرے بعد تنظیم میں شامل ہوتے، اور چونکہ وہ خاندانی اور بھروسے مند لوگ تھے، اس لئے ان کو عہدے اور منصب ملتے رہے، لیکن میں نے یہ سوچ کر صبر کیا، کام تو ہورہا ھے، جو بھی ہو۔

اس دوران میں اپنے منصوبے بھی پیش کرتا کہ کیا ہونا چاھئے اور کیا نہیں، لیکن میری بات نہ مان کر خاندانی مشورے پر زیادہ عمل ہوتا، وقت بیتتا گیا اور مسلمانوں کے حالات بد سے بد تر ہوتے رہےـ ان حالات کے پیش نظر میں سوچنے پر مجبور ہوا کہ ہمارے یہاں کمی کہاں پیش آرہی ھے، خلاء کہاں ھے، چونکہ میں نے دینی و عصری دونوں تعلیم حاصل کی تھی اس لئے بہت جلد سراغ مل گیا،

میں نے دیکھا کہ حکومتی عہدوں پر بہت کم مسلمان ھیں اور جو ھیں بھی تو وہ دنیادار لوگ ھیں جنہیں دوسرے مسلمانوں سے کوئی مطلب نہیں الا ماشاء اللہ، رہا معاملہ سیاست کا تو اس میں قومی بلبوتے پر کھڑا ہونا کار دارد، پھر یہ کیسے ممکن ہو کہ دیندار طبقہ وہاں تک پہونچے، اسی سلسلے میں میں علم کی ثنویت پر سوچنے لگا، آخر کیا وجہ ھے کہ صدی گزرنے کے بعد بھی یہ ثنویت ختم نہیں ہوتی، اور اس کو ختم کرنے سے کون سا پہاڑ ٹوٹ جائے گا، میں نے اس سلسلے میں قائد امت سے بات کی انہوں نے غور کرنے کا کہہ کر سنی ان سنی کردی، سال گزرا میں نے پھر حضرت کے گوش گزار کیا لیکن حضرت نے توجہ نہ دی، اس سلسلے میں میری ہلکی بحث بھی ہوگئی، اگلے دن جب میں آفس پہونچا تو حضرت کے قریبی اور ان کے خاندانی افراد کی نگاہیں چبھتی ہوئی محسوس ہوئیں، لیکن میں نے توجہ نہیں دیا، جب یہ سلسلہ دراز ہوا تو میں نے تنگ آکر مسلمانوں کی پسماندگی اور قائدین کی بے حسی پر ایک مضمون اخبار میں شائع کرادیا۔

تنظیم میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی،  اور سب لوگ مجھے نفرت بھری نظروں سے دیکھنے لگے، جب یہ سلسلہ دراز ہوا تو میں نے عام کارکنوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ھے، ہمارا استعمال ہورہا بس، اس پر کچھ مخبرین نے یہ الزام دھر دیا کہ یہ تنظیم میں پھوٹ ڈال رہا ھے، اگلے دن مجھے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا،  میں دل گرفتہ لوٹ آیا، اور مسلمانوں کے زوال کے اسباب تلاش کرنے لگا، اور تعلیمی بیداری کے لئے لوگوں میں کام کرنے لگا، اس سلسلے میں مضامین اور تقریریں کرنی پڑتیں، ان مضامین میں میں اپنے بیتے دنوں کے تجربے بھی لکھ دیتا، کہ تعلیمی بیداری میں مانع ہماری قیادت ہی ھے۔

اب میرے خلاف پروپیگنڈوں کی بھرمار ہونے لگی، قائد امت تو خاموش رہے لیکن ان کے خاندانی افراد نے مجھ پر طرح طرح کے خرد برد کے الزامات دئے،  اب تو تو میں میں کا دور تھا میں آزاد تھا، لیکن میری ایک عمر اس کام میں برباد ہوئی تھی، تلخ تجربات ملے تھے، لہذا میں نے سارے کچے چٹھے کھولے، تو تنظیم کے افراد نے میرے پیچھے اپنے بھکتوں کو لگادیا، یہاں تک کہ اس شہر میں میرا جینا مشکل ہوگیا، طرح طرح کی گالیاں سننے کو ملتیں، کل تک جو میرے کام کے معترف تھے، آج فرمان حضرت سے متاثر مجھ سے بد ظن ہوچکے تھے، لہذا میں نے وہاں سے اپنا بوریا بستر لپیٹا اور آبائی وطن لوٹ آیا، اب میرے مضامین اور تقریروں کو بغاوت اور جعل سازی سے تعبیر کیا جاتا ھے”

میں نہایت دل چسپی سے یہ سب سنتا رہا تھا، آخر میں میں نے سوال کیا

"تو کیا آپ قوم کی ترقی سے نا امید ہوچکے ھیں،”

کہنے لگا ” نہیں! میں نا امید نہیں ہوں، نامیدی کفر ھے چھوٹے بھائی، اب تو امید کی کرنیں پھوٹ رہیں ھیں نوجوان نسل اس آبائی اور موروثی وبا سے باہر نکل رہی ھے اور پاکھنڈی قائدین سے سوال پوچھ رہی ھے، یوں ھے تو کیوں ھے؟ ان شاء اللہ اگلی نسل کامیاب ہوگی۔

میں نے پوچھا ” کیا آپ کے نزدیک قائدین مخلص نہیں ھیں؟”

کہنے لگے ” بالکل نہیں، وہ مخلص ھیں، لیکن قائدین کے لئے اقبال نے جو وصف بیان کئے ھیں وہ مکمل کسی میں نہیں پائے جاتے، سخن دلنواز اور جاں پرسوز تو ہر ایک رکھتا ھے لیکن نگہ کسی کی بلند نہیں کوئی بھی دور اندیش نہیں، اور اگر کوئی ہوتا بھی ھے تو قیادت ملنے سے پہلے ہی خاندانی سیادت بچانے کے لئے اسے باہر کردیا جاتا ھے”

میں نے پوچھا ” یہ آپ کیسے کہہ سکتے ھیں کہ وہ دور اندیش نہیں ھیں؟”

کہنے لگا ” کیا یہی ان کی دور اندیشی ھے کہ مسلم پرسنل لاء کے لئے ابھی تک ڈھنگ کا مسلم وکیل نہ لا سکے اور غیر مسلم سے جہاد کروا رہے ھیں؟” کیا یہی دور اندیشی ھے کہ اپنوں کے مرنے پر خاموش اور غیروں کے مرنے پر کینڈل مارچ نکال رہے” کیا یہی دور اندیشی ھے کہ قوم کی بے حالی میں تنظیموں کے خاندانی ٹکڑے ہورہے ھیں؟ اور کیا یہی دور اندیشی ھے کہ ایک سیاسی سانپ کو مسلسل دودھ پلایا جارہا ھے، ایسی دور اندیشیوں کی ایک لمبی فہرست ھے دوست۔

میں نے کہا "بس بس، آپ نے بھی کچھ کیا ھے؟

پہلے تو وہ ھنسا پھر کہنے لگا ” بغاوت کی ھے بغاوت، یہی ایک گناہ ھے جس نے میرے تمام کارناموں کو مٹی میں ملا دیا، ھاں میں فخر سے کہتا ہوں کہ میں باغی ہوں، ہر اس نظام کا باغی جو موروثیت اور برہمنیت کو بقا فراہم کرتی ھے، جہاں نا اھل بیٹا اھل افراد کے مقابلے میں کرسی کا زیادہ حقدار ہو، ھاں مجھے فخر ھے کہ میں باغی ہوں اس موروثی پاپائیت کا جس نے کتنے ہی ہنر مندوں کو قوم کی رہنمائی سے روک دیا، کتنے ہی درد مندوں کو امت کی مسیحائی سے دور کردیا، ھاں میں باغی ہوں، اور یقینا تم جلد ہی دیکھو گے کہ ہر تعلیم یافتہ جو سوجھ بوجھ رکھتا ہوگا اس نظام جبر کا باغی ہوگا۔ میں نئی صبح سے نا امید نہیں ہوں، لیکن یہ صبح بہتوں کے خون کی پیاسی ھے۔

یہ جملے ادا کرتے ہوئے وہ جذبات میں آچکا تھا، اس کی آواز بھرا گئی تھی، آنکھیں بہنے لگیں تھیں، میں یہ سوچتے ہوئے وہاں سے اٹھ گیا،کہ ہر مصیبت کا مارا، جس نے اپنی عمر امت کی ترقی کے لئے وقف کردیا ہو اور اس موروثی نظام جبر نے اس کی تمام کوششوں کا صلہ یوں دیا ہو وہ اندر سے ٹوٹنے کے بعد کیسے جیتا ہوگا!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close