تاریخ ہندنقطہ نظر

بدترین آزادی سے بہترین غلامی تھی

سلیمان سعود رشیدی

 تاریخ  عالم میں بیسویں صدی اہمیت کی حامل  ہے، جس کے وسط  میں دنیا کے نقشے پر بڑ ی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب برطانوی سامراج کا سورج غروب ہو رہا تھا تو اُس نے جاتے جاتے بہت سے خطوں کی وحدتوں کو پارہ پارہ کیا۔ برطانوی سامراج کے زوال اور ہندوستان سے اُس کے اخراج میں عالمی حالات کے ساتھ ساتھ اس خطے کی تحریکِ آزادی کا بنیادی کردار ہے،اور پھر یہی تحریک  ۱۴  اور ۱۵ اگست کے درمیانی شب  ایک ایسی نوید لیکر آئ کہ ۱۵ اگست کا سور ج آزادی کے ساتھ طلوع ہوا، لیکن کیا ہندوستان واقعی 15 اگست 1947 کو آزاد ہوا تھا یا یہ آزادی دل کو بہلانے کا کوئی خیال ہے جس نے گزشتہ ۷  دہائیوں سے ہمیں جھوٹی ریت کے مکان کا مکین  بنایا ہوا ہے. کیا ہم واقعی آزاد ہیں یا کوئی ایسی طاقت ہے جو آزادی کے خواب دکھا کر آج بھی ہمیں غلامی میں رکھی ہوئ ہے، جو ہماری ہوکر بھی ہماری نہیں ے. جو اپنی ہوتے ہوئے بھی پرائی ہے اور جو سڑکوں پر لہو بہاکر ہمیں آزادی کا خواب دیکھا رہی ہے. اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو پھر ایک نہتے کومارنے عبادت گاہوں سے  آواز لگاکر بھیڑ کیوں جمع کی گئ، اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو پھرنجیب کےماں کے آنسو اب تک خشک کیوں نہیں، اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو پھرچلتی ٹرین سے معصوم کو کیوں پھینکا گیا، اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو پھرآسنسول کے باپ کو بے سہارا کیوں کیا گیا، اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو پھراکبر کاخون کیوں بہا، اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو پھربزرگ شخص کی داڑھی کیوں نوچی گی، اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو پھرآصفہ نربھیا اور اس جیسی معصوموں کے قاتلوں کو سزا کیوں نہیں، اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو پھرگوری لینکیش اور دیگر صحافیوں کو گولی کا تحفہ کیوں ملا، اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو پھرمعصوم وبے قصور اپنی جوانی سلاخوں کے پیچھے کیوں گذاررہے ہیں، اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو پھربم کی آوازسے شہروں کو گنچادینے والے پھر بم بنانے کے سامان کے ساتھ رسما گرفتار ہورہے ہیں، ؟

یہ کیسی آزادی ہے جو اپنے عوام کااپنے ہندو تو کے نظام کے بوجھ سے دبانے میں مصروف ہے، یہ کیسی آزادی ہے جس میں حکومت اپنا خزانہ بھرنے کے لئے عام آدمی کا گلابھی کاٹ رہی ہے، جس نے عام آدمی کا روٹی سے کفن تک مہنگا کردیا ہے، ، یہ کیسی آزادی جس میں غربت، فاقہ کشی، بے روزگاری، اقلیتوں کو دیش دروہی کا خطاب، گائے کے نام پر انسانیت کا قتل عام، پرتشدد بھیڑ کے ذریعہ ہر دن ٹپکتا لہو،، یہ کیسی آزادی جس میں رام راج کے خوف سے چرمراتی جمہوریت، ہندو تو کے ڈر سے مرتے اقلیتی طبقہ، آکسیجن کے بغیر مرتے بچے، ظالموں کا سیاسی کرسی پر قبضہ،نیز کیا کسی آزاد ملک میں ایسا ہونا ممکن ہے ؟کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سمیت متعدد  جج روبائے میڈیا انصاف کی مانگ کریں اور ان کی کوئی فریاد بھی سنی انسنی کردے،یہ کیسی آزادی جس میں امیر اور بھی زیادہ امیر ہورہا ہے تو غریب نان شبینہ کا بھی محتاج، یہ آزادی نہیں بدترین غلامی ہے،ہم غلاموں کے غلام بن چکے ہیں۔میں یہ بات باور کرانا چاہتاہوں کہ ہمیں جشن آزادی زیب نہیں دیتا کہ ہم آزاد نہیں ہیں بلکہ ہمیں ابھی مکمل آزادی کی جدوجہد کرنا ہے۔جہاں ہم اپنے عقیدے کا مطابق اپنے معاشی، عدالتی، سیاسی، تعلیمی معاملات، اپنا مستقبل اور اپنا حال قرآن وسنت کے سانچے میں ڈھال سکیں۔ جہاں ہر ایک کے لئے سلامتی ہو، امن ہوہر ایک کو انسانی حقوق ملیں ہر ایک کے لئے عبادت کی آزادی ہو۔ ،رزق حلال میسر ہو۔ عزت و آبرو کا جانومال کا تحفظ میسر ہو، ایسے حالات میں آزادی کا جشن منانے سے لاکھ درجہ بہتر ہے کہ جشن غلامی ہی منالیتے۔

 سچ تو یہ ہے کہ15  اگست 1947 کے دن بھارت آزاد نہیں ہوا تھا صرف اقتدار کی منتقلی ہوی تھی پہلے جن قوانین کے دم پر انگریز ہم پر راج کرتے تھے آج انہی کے دم پر ہماری حکومت کرتی ہے، کیا ہم آج بھی واقعی آزاد ہیں اور کھلی آزاد ہوا میں سانس لے رہے ہیں؟ یہ ایک قابل غور سوال ہے، کیا صرف انگریزوں کی غلامی سے نجات پا لینے کو ہی آزادی کہتے ہیں؟ جن لوگوں کی جدوجہد نے ہمیں اس جہنم سے باہر نکالا جن انمول قربانی کی بدولت ہی ہم آج اپنے وجود کو قائم رکھے ہوئے ہیں کیا واقعی میں ہم ان کے تئیں سچی عقیدت پیش کرتے ہیں یا ان کو یاد کرنے کا ڈھونگ کرتے ہیں.ہم جتنا بھی چلا چلا کے یہ کہہ لیں کے ہم آزاد ہیں اور ملک ترقی کر رہا ہے، ہم ترقی کی جانب تیزی سے قدم بڑھا رہیں ہیں لیکن سچ وہی ہے جو ہم سب محسوس کر رہے ہیں صرف کہہ دینے سے یا ترقی کا ڈھول بجانے سے یہ سچ ہو جائے گا؟ نہرو، گاندھی، شاستری، سبھاش، آزاد کے ملک کی کیا حالت ہو گئی ہے؟ اگر ہمارے ملک کے کرتا دھرتا یہ سوچتے ہیں کہ ہمارے ملک میں تو سب ٹھیک چل رہا ہے اور تمام آزادی کا جشن منا رہے ہیں تو یہ سراسر غلط سوچتے ہیں اور بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔

   یہ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ ہم آزادی کے سات دہائی بعد بھی انگلیوں پر گنے جانے والے کارناموں کے علاوہ آزاد قوموں والا کوئی کارنامہ انجام نہیں دے پائے، بلکہ حقیقی معنوں میں اپنے آپ کو آزاد ہی نہیں کر پائے۔ اس تلخ حقیقت سے کوئی مفر نہیں ہے کہ آج کا ہندوستان وہ ہندوستان  نہیں ہے جس کے حصول کی خاطر ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دی تھیں، درحقیقت ہم آزادی کے مفہوم کو ہی فراموش کر بیٹھے ہیں۔ آزادی کا مطلب اپنے پائوں پر کھڑا ہونا، معاشی و ورفاعی استحکام حاصل کرکے اپنی آزادی کو دوسروں کی مداخلت سے محفوظ اور ملک کو ناقابل تسخیر بنانا اپنے نظام کو رائج کرنا، اپنی تہذیب و تشخیص کا رنگ جمانا، اپنی روایات و اقدار کو زندہ کرنا، اپنی قوم اور ملک کے مفاد میں پالیسیاں بنانا اور اپنے عوام کیلئے تمام ضروریات زندگی کی فراہمی کا اہتمام کرنا ہوتا ہے، اگر اس زاویے سے دیکھا جائے توسوائے ڈیجٹل میدان میں کچھ پیش رفت کے ہر طرف ہماری ناکامیاں آشکار ہیں۔ .

 عوام کے دکھوں میں کمی کے بجائے اضافہ ہورہا ہے، غریب نان شبینہ اور اپنے بچوں کی دواو علاج کے لئے اسی طرح دھکے کھارہا ہے، مہنگائی اور بے روزگاری روز افزوں ہے، عوام اندر اور باہر دونوں طرف سے عدم تحفظ کا شکار ہیں، امن و انصاف نا پید ہے، باہر سے غیر ملکی دشمن ہندوستانیوں  کی عزت نفس کو مجروح کررہا ہے تو اندر سے کئی بحران منہ کھولے کھڑے ہیں۔ آج پورے ملک کو چند سیاستدانوں  نےاپنے مفادات کے خاطر شدید بحران میں مبتلا کر رکھا، جمہوریت کا راگ الاپنے والے عوام کو سڑکوں پر لاکھڑا کیا ہے، ہندوستانی اس وقت حقیقتاً نہ جائے ماندن نہ پائے ر فتن ‘‘والی کیفیت سے دو چار ہے۔ اس صورت کے تدارک کیلئے کسی ٹھوس تدبیر و حکمت عملی کا کہیں کوئی وجود نہیں۔

جبکہ اس کے برعکس ملک میں عیاشی و فحاشی اور بے حیائی و بے راہ روی کا کلچر اپنے عروج پر ہے، ، سرکاری محکموں کی کرپشن، دھاند لیوں اور رشوت خوری سے نجات دلانے والا کوئی نہیں، قومی آزادی و خود مختاری میں غیر ملکی مداخلت کے خاتمے کا سرکاری سطح پر کہیں کوئی عزم دکھائی نہیں دیتا۔ ان تلخ حقائق کے ہوتے ہوئے نظریہ جمہوریت  پر یقین اور تحریک آزادی کے مقاصد کا شعور رکھنے والا کون ساد ردمند ہندوستانی خوش ہوسکتا ہے اور یہ یقین کرسکتا ہے کہ ہم آزاد ہیں۔ یہ وہ آزادی ہے جس کے لئے ہندوستان کے  حصول کی جنگ لڑی گئی تھی۔

اب آخر میں میں بتاوں آزادی کس کو کہتے ہیں، آزاد سے مراد بے خوف مگر ہم پہ تو ہر وقت خوف کی تلواریں منڈلاتی ہیں، آزاد سے مراد خود مختار مگر  ہمارے سیاستداں تو کشکول تھامے غیر ملکی بنکوں کے سامنے ہروقت اپنی قوم کی حمیت کا سودا کرتے ہیں، آزاد سے مراد کسی کے تابع نہ ہونا لیکن ہم آج بھی ان جاگیرداروں، لٹیروں، ان ہی ظالم، بےحس، بےغیرت حکمرانوں کے تابع ہیں۔ اگر آپ میں سے کوئی بھی یہ کہدے کہ ہاں ہمیں اتنی آزادی ملی ہے جتنی ہم چاہتے تھے تو ضرور منایئے جشن آازدی۔

 لیکن ہم آزادنہیں ہیں۔ ۔۔!یہ کس آزادی کی بات کرتے ہیں جس ملک میں واٹرکولر سے لٹکاہوا گلاس  کوبھی زنجیروں میں جکڑکے رکھتے ہو اس  میں انسان   کیا خاک آزاد ہوں گے،جس ملک کے سیاستداں کی دولتوں میں دن دگنی رات چگنی ترقی ہوتی ہو ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ، جس ملک کے عدلیہ کا سسٹم تباہ وبرباد ہے میں کیسا کہوں کہ ہم آزاد ہیں، ہمارے نوجوانوں کی آزادی صرف تعلیم اداروں سے ڈگریاں لیکر دردر معاش کے تلاش میں کھومنے تک  محدود ہے،جس آزادی کی یہ بات کرتے ہیں وہ صرف دہشت گردوں کو حاصل ہے کیونکہ وہ جب جس کا دل چاہاقتل کردیتے ہیں اوربڑے دلیری کے ساتھ میڈیا پر آکر کہہ دیتے ہیں کہ ہاں قبول ہے اورہمارے سیاست داں فقد مذمت پہ ، مذمت کے نعرے لگادیتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔ہاٗے کونسی آزادی۔ ۔۔۔؟جس ملک کے ہرسمت میں ظلم وجبر کے بادل چھائے ہو تومیں کیسے خود کو آزاد کہوں؟ اور پھر میں کیسے جشن آزادی مناوں۔

دل ہو بھی چکا تکڑے تکڑے، حد ہو بھی چکی بربادی کی

کمزور کہاں تک جھیلیں گے اپنوں کے جفا غیروں کے ستم

مزید دکھائیں

2 تبصرے

  1. السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ محترم من
    بہت کمال
    بہت بہت عمدہ
    مضمون ہے
    مسعود صاحب اگر آپ کی اجازت ہو تو اس مضمون کو میں کاپی پیسٹ کرنا چاہتا ہوں
    اجازت مرحمت فرمائیں
    عاجر سید کریم الدین عادل حسامی نلگنڈہ

  2. السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ محترم من
    بہت کمال
    بہت بہت عمدہ
    مضمون ہے
    مسعود صاحب اگر آپ کی اجازت ہو تو

    میں یہ مضمون کو کاپی پیسٹ کر نا چاہتا ہوں
    اجازت مرحمت فرمائیں
    عاجر سید کریم الدین عادل حسامی نلگنڈہ

متعلقہ

Close