بدھ ازم کا زوال!

عتیق الرحمن

 حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے567برس قبل نیپال میں مہاراج شودھودھن شاکیو نے کولی مہاراج کی لڑکی سے شادی کی ۔ نام مایا تھا جو حاملہ ہوئی تو زچگی سے پیشتر اسے سسرال رخصت کیا گیا جبکہ وہ بیابان صحرامیں بھٹکتے ہوئے شدید بیمار ہونے کی وجہ سے وہیں راستے میں ٹھہرگئی ،اور وہیں راستے میں ہی اس نے بچہ کو جنم دیا جس کا نام سدھارتھ (جو بعد میں گوتم بدھ کے نام سے مشہور ہوا)رکھا گیا ۔ بلوغت کے بعد سدھارتھ کی شادی یشودھرانامی راج کماری سے شادی ہوئی۔ایک دن وہ گھر سے باہر نکلا تو اس نے راستے میں تین منظر دیکھے جس کے نتیجہ میں اس کی زندگی میں گیان کی طرف رغبت شروع ہوئی۔کہ ایک بوڑھا دیکھا جو ضعیف العمر تھا ،اور ایک دوسرابوڑھا دیکھا کہ وہ ضعیف العمر ہونے کے ساتھ بیمار بھی تھا اور تیسرے منظر میں لوگوں کو ایک میت کو کاندھوں پر اٹھاکر لیجاتے دیکھا اور اس کے بعد اس نے ایکبزرگ کو دیکھا جو خوشگوار و خوش سیرت و صورت نظر آیا جس کی زندگی میں اطمینان اور کفایت شعاری و قناعت پسندی کا رنگ نمایاں تھا۔شادی کے دس برس بعد اور اس منظرنامے کو ذہن میں رکھتے ہوئے شاہوں کی زندگی ترک کرنے کے ارادہ سے گھر سے نکل گیا اور اپنے چند شاگردوں کے ہمراہ جنگل و صحرائوں میں مراقبے ،مجاہدے اور ترک طعام و شراب کے ذریعہ راحت و سکون اور اطمینان حاصل کرنے میں مصروف رہا ۔مگرروحانیت حاصل ہونے کی بجائے اس کی صحت ڈھل گئی جس کے بعد اس نے ارادہ کیا کہ اس طرح سکون و راحت میسر نہیں آرہی تو کھانا پینا شروع کردیا ۔کچھ عرصہ بعد اسے خدا کا دیدار ہوا اور اس کے نتیجہ میں سالوں کی ترک آبادی و دنیا کی زندگی کے بعد واپس شہر آیا اور اپنے افکار و نظریات کی دعوت دینا شروع کردی۔

 بعض تاریخ دان کہتے ہیں کہ بد مت کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ وہ صرف اخلاقی افکار و نظریات پر مبنی ایک فلسفہ ہے جس میں عقائد و ایمانیات، جنت و جہنم ،جزا و سزا پر ایمان و ایقان کی دعوت کی بجائے اس میں استادو شاگرد ،و الدین و اولاد،آقاء و غلام سمیت معاشرتی طبقات کی رہنما ئی و بہتری کیلئے ہدایات صرف دی گئی ہیں ۔بد ھ مت میں پیروکاروں کو دوحصوں میں منقسم کیا گیا ایک درویشانہ گروہ اور دوسرا دنیاداروں کا گروہشامل ہیں ۔گوتم بدھ نے اپنے پیروکاروں کو جو تعلیمات دی ہیں گوکہ ان کا منبع و مصدر کائنات کے رب کی ہدایات کے عین مطابق نہ ہونے کی وجہ سے غیر معتدل و غیر فطری ہیں البتہ اس قدر ضرور ہے کہ اس کی تعلیمات کا بیشتر حصہ سماج میں اعلیٰ اخلاق کے فروغ کیلئے مختص ہے اور جن کو اوضح انداز میں اسلام نے پیش کردیاہے ۔بدھ مت میں ترک دنیا کی تعلیم دی گئی ہے، درویشوں کو بقدر حاجت بھیک مانگنے کی اجازت، برائی سے اجتناب اور اس کے فروغ سے احتراز، سچائی و حق گوئی کی تعلیم،ظلم و عدوان سے پرہیز، شراب نوشی، زنا، چوری اور حیوان کے قتل سے ممانعت جیسی ہدایات شامل ہیں اور جو ان کو اختیار کرلے گا اور موذی امراض کا شکار نہیں ہوگا، اور سرمنڈوانے کے ساتھ زرد لباس زیب تن کرے گا وہ ناصرف بدھ بھگشوتسلیم کیا جائے گا بلکہ اس کو گیان (روحانیت) و نروان حاصل ہوجائے گا۔

  یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سال گذرنے کے باوجود قہر خداوندی اور انتقام و ذلت کے نشانات آج بھی محفوظ ہیں کہ دنیا انسانیت اور بالخصوص مسلمان اس مقامات کا مشاہدہ کرتے وقت صرف ان کو تفریح و ترویح کے مکانات کی جگہ سمجھ کر وقت گزاری نہ کریں بلکہ خداوند و قدوس سے توبہ استغفار اور الحاح و زاری کرتے ہوئے پناہ مانگیں کہ قوم عاد،قوم شعیب ،قوم ثمود، قوم لوط، قوم نوح اور قوم موسیٰ سمیت یہود و نصاریٰ اور زردشت و آریا،ہندو و بدھ مذہب کے ظالموں کا سنن الٰہی سے اعراض و سرکشی کرنے پر جو قہر و جبر نازل ہواہے اس سے ہم مسلمانوں کو عافیت میں رکھے اور ہمیں اطمینان کے ساتھ اپنی عبادت و رضاکے حصول کے راستوں پر استقامت عنایت کرے۔اسی وجہ سے ترنول پریس کلب اسلام آباد کے عہدیدران کے ایک وفد نے ٹیکسلا کے گردو نواح میں واقع سرکپ،موہڑدھارو اور جولیاں دیگر مقامات کا اس نیت کے ساتھ دورہ کیا کہ مسلمانوں کو یہ بتایا جانا چاہئیے قہر و جبر اور ہدایت ربانی سے اعراض کرنے والوں کا انجام کیسا ہوتاہے جو بھی فطرت اور اس کے قوانین کا منحرف ہوجائے تو اللہ تعالیٰ نے مثل فرعون کی لاش کے ان کے آثارو نشانات کو بھی عقل مندوں کیلئے باعث عبرت بنادیا ہے۔

 اب جب بدھ ازم کی تاریخ مختصراً بیان کردی تو موجودہ حالات میں ان کے کردار پر بھی روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے ۔بدھ ازم کے پیروکارچین،جاپان،کوریا،سنگاپور، سیری لنکا،اور ہندوستان و برما و دیگر ممالک میں موجود ہیں ۔ایک امر مسلم ہے کہ جس مذہب کی بنیاد انسان کی ہوا و ہوس پر رکھی گئی ہوگی اور اس میں وحی و خدا کا تعلق منقطع ہوگا تو وہ نتیجۃً زمین میں فتنہ و فساد اور اس کی بربادی کا موجب ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ اس میں کچھ شک و شبہ نہیں ہے کہ بدھ مذہب میں سماجی اخلاق و اقدار کی تعلیم دی گئی ہے یہاں تک کے موذی و غیر موذی  جانوروں کے قتل سے منع کردیا گیا ہے۔ جو اس سے مجتنب ہوگا وہ اس مذہب کا پیروکار نہیں ہوسکتا چہ چائیکہ وہ انسانوں کو گاجر مولی کی طرح وحشیانہ انداز میں قتل کریں اور ان کو اپنے ہی ملک کی شہریت سے محروم کریں اور اسی پر اکتفا ء نہیں کیا جاتا کہ ان کے بچوں ، جوانوں اور بزرگوں کو قتل اور خواتین کی عصمت دری کرنے کے ساتھ ان کو برہنہ پا درختوں کے ساتھ باندھ کرتڑپا تڑپا کر قتل کیا جائے کہ جس کے تصور سے انسان تو انسان بدترین وحشی جانور بھی شرم و عار محسوس کریں کہ وہ بھی اپنے شکار کے ساتھ ایسا متحیرانہ سلوک نہیں کرتا۔تو کیا یہ ممکن ہے ایسے لوگوں کو گوتم بدھ کی تعلیمات کا پابند یا ان کا پیروکار تسلیم کیا جائے ۔ ہرگز نہیں کیوں کہ جس بزرگی،بیماری اور موت کے منظرنامہ کو سدھارتھ نے دیکھا تھا اور اس کے بعد جس بزرگ کے چہرئے کی تمتما ہٹ اور مسکراہٹ و خوشگواری کا اس نے مشاہدہ کیا وہ کسی صورت ظالم و جابر ، قاتل و سرکش، درندہ صفت انسانوں کو راحت و روحانیت حاصل نہیں ہوسکتی ۔اور یہی سب درندگی و سفاکیت کا بازار عرصہ دراز سے امریکہ و انڈیا اور غیر مسلموں کی شہہ پر برما میں نہتے مسلمانوں پر جاری و ساری ہے ۔چین و تھائی لینڈاور امن عام کا راگ الاپنے والا اقوام متحدہ سمیت یورپی  ممالک جو پڑوس میں موجود ہیں اور خود کو لبرل و لامذہب کہتے ہیں بھی ان انسانیت کے دشمنوں کے ظلم و جور پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں کیونکہ کلام الٰہی نے بجا فرمایا ہے کہ ’’یہود و نصاریٰ(کفار)کسی صورت تمہارے دوست نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ تم ان کی پیروی کرو‘‘

 جبکہ اسلام وہ دین فطرت اور دین برحق ہے کہ جس نے ناصرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں کے بھی خون ناحق بہانے کو حرام قرار دیا ہے اسی لئے تو 23سالہ دورنبویؐ میں کافروں کی جانب سے مسلط کردہ جنگوں یا معاہدہ توڑنے کی صورت میں واقع ہونے والی جنگوں میں تقریباً مارے جانے والوں کی تعداد ہزار سے بھی متجاوز نہیں کیونکہ اسلام نہ تو بچوں کو قتل کی اجازت دیتاہے،نہ خواتین کی، نہ بزرگوں کی اور نہ ہی جنگ میں حصہ لینے والوں کی ۔جبکہ دیگر اقوام و ملل کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے جب جب مسلمانوں پر جنگیں مسلط کی ہیں تب تب مسلمانوں کی نسل کشی کی خواہ فلسطین و بیت المقدس کے سلسلہ میں واقع صلیبی جنگوں سے قبل غاصبانہ قبضہ کی صورت میں ہو یا صلاح الدین ایوبی کے عہد کے خاتمے کے بعد، یا اندلس و بغداد میں سقوط خلافت کے سلسلہ میں مسلمانوں کا بدترین قتل عام کیا گیا اور اس سے قبل بھی اور مابعد بھی یہود و نصاری،زردشت و مجوس،ہندو ودیگر غیر مسلم قوموں نے اپنی اس وحشانی ریت کو دہرایا اور نا صرف دہرایا بلکہ اس پر فخر بھی کیا جو کہ انسانیت کے زوال کا پیش خیمہ ہے۔اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ کسی بھی قوم و ملت پر اس وقت تک عذاب نازل نہیں کیا جب تک وہاں خوشخبری دینے والااور ڈرانے والا نہ پہنچا ۔جب کوئی قوم ہدایت سے منہ موڑ کر سرکش بن جائے تو اس کیلئے عذاب الیم سے زیادہ کوئی انعام نہیں ہے۔جنگ قادسیہ کے موقع پر فارس کے جرنیل نے مسلمان سپہ سالار سے مطالبہ کیا کہ کوئی رسول بھیجا جائے میرے پاس تاکہ میں آپ کی آمد کے مقاصد سے آگہی حاصل کرسکوں تو اس وقت حضرت ربعی ابن عامرؓ رستم کے دربار میں بھیجے گئے رستم نے جب پوچھا کہ کس چیز نے تمہیں اپنے ملک عرب سے نکال کرہمارے ملک میں آنے پر مجبور کیا تو آپؓ نے جواب میں فرمایاجو سونے سے لکھنے کے قابل ہیــ’’اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھیجا ہے ،کہ لوگوں کو بندوں کی بندگی سے نکال کر خداواحد کی بندگی میں لائیں ، ادیان (مذاہب) کے ظلم و ستم سے نکال کر اسلام کے عدل میں لائیں اور دنیا کی تنگی سے نکال کر انسانیت کو دنیا کی وسعت میں لائیں ‘‘وہ دین جو رحمت و امن کا پیمبر ہے آج اسی کے پیروکار مظالم چکی میں پیسے جارہے ہیں اور خود کو امن کے علمبردار کہنے والا مغرب اور امن عالم کا راگ الاپنے والا عالمی اداہ اقوام متحدہ برما، فلسطین، کشمیر، چیچنیا، شام اور مغرب میں مسلمانوں پر جاری مظالم کا تماشہ دیکھ رہاہے۔

 اور یہ امر کوئی خلاف توقع نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں کھلے الفاظ میں بیان کردیاہے کہ یہود و نصاری کبھی تم سے خوش نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ تم ان کی مکمل تابعدار نہ کرلو،اور اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا کہ یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بنائو۔سوئے اتفاق ہے کہ مسلمانان عالم دین متین پر عمل کرنے میں اور اس کی کماحقہ تفہیم و تدبیر حاصل کرنے میں ناکام و نامراد ہوچکے ہیں بوجوہ دنیا کی رنگا رنگی میں مصروف و مشغول ہوجانے کی وجہ سے ۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی تادیب کیلئے گاہے بگاہے امتحانات کا سامان فرمایا ہے ۔

مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ نے 1960میں برما میں دعوتی دورہ کے دوران ایک خطاب میں ارشاد فرمایا تھا کہ’’ اے برما کے مسلمانوں خبردار ہوجائو اللہ کے دین کی طرف لوٹ آئو،اللہ و رسول کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ اس کی نشرواشاعت کا انتظام کرو کیونکہ دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کا فقط یہی ایک راستہ ہے ۔اور معلوم ہونا چاہئے کہ آج برما لبرل ریاست ہے اور اس کو دین و مذہب سے کوئی سروکار نہیں لیکن اگر یہ ملک بدھ ازم کی ریاست بن گیا تو تم اس ملک میں غیر محفوظ ہوجائو گے تمہارا کاروبار اور مان و دولت اور عزت و عصمت سب کچھ چھن جائے گا اور اس وقت آپ کی مدد کرنے کو کوئی تیار نہ ہوگا ‘‘ یہ دعوت فکر دنیا کے طول و عرض میں پھیلے مسلمانوں کیلئے عبرت کا سامان محفوظ رکھتی ہے کہ دنیا میں کسی صورت ترقی و کامیابی اور عزت نہیں مل سکتی اور نہ ہی جان و مال محفوظ رہ سکتا ہے بجز اس کے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے عطاکردہ ہدایت کی معرفت حاصل کرنے کے ساتھ اس پر عمل بھی کریں اور اس کی دعوت پوری انسانیت کو دیں کہ یہی وحید راستہ ہے دنیا و آخرت میں نجات پانے کا۔



⋆ عتیق الرحمن

عتیق الرحمن

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

بیٹیاں بوجھ نہیں بلکہ رحمت ہیں!

بچوں کی نگہبانی و نگرانی کریں کہ ان کے ہاتھوں میں جدید ٹیکنالوجی کے آلات دینے کے بعد اس کا مزید اہتمام کریں کہ کہیں بچہ بری سوسائٹی و گروپ کا حصہ نہ بن جائے، تعلق و واسطہ قریبی عزیزوں اور دوستوں کے علاوہ قائم کرنے سے منع کیا جائے۔اجنبی افراد کی شیطانی نظروں سے حفاظت کے ٹھوس انتظامات کیے جائیں۔

ایک تبصرہ

  1. بدھ مت
    سیف الرحمان

    بدھ مت برصغیر پاک و ہند میں جنم لینے والا مذہب ہے۔ بنیادی طور پر بدھ مت ہندو مت کی تعلیمات کا رد عمل ہے۔ بدھ مت برابری، انسانی احترام، ذات پات سے بالاتر تصورات کاحامل ہے۔ بدھ مت کے بانی مہاتما گوتم بدھ تھے جو نیپال کے ایک علاقہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بنارس میں اس مذہب کی بنیاد رکھی۔ ان کی تعلیمات کا سب سے اہم فلسفہ عدم تشدد ہے۔ جبکہ بدھ مت کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ روح تغیر پذیر ہے۔ بدھ اپنے پیروکاروں کو سچائی، حلال روزی کمانے کی تعلیم دیتا ہے۔ بدھ مت کے دو بڑے فرقے ہنائنا اور مہائنا ہیں۔ بدھ مت کی عبادت گاہ کو پگوڈا کہتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں بدھ مت کے بعض پیروکار پرتشدد کارروائیو ں پر بھی اتر آئے ہیں جس کی مثالیں میانمار (برما) اور سری لنکا میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے