نقطہ نظر

بچہ مزدوری امینڈمنٹ بل – عوام میں چرچا عام کیوں نہیں؟

رویش کمار

19 جولائی کو راجیہ سبھا میں ایک بل پاس ہوا ہے، The Child Labour (Prohibition and Regulation)  Amendment بل 2016. جب بھی بچوں کی مزدوری سے متعلق قانون سازی کی بات ہوتی ہے، بہانے بہت سے یاد آنے لگتے ہیں. سن 1986 میں جب پارلیمنٹ نے قانون بنایا کہ 18 سال سے کم عمر کے بچوں سے مزدوری نہیں کرائی جا سکتی ہے تب بھی یہ سوال اٹھا تھا کہ غریب خاندانوں کے لئے مشکل ہو جائے گی. دوسری طرف یہ بھی کہنے والے لوگ ہوتے ہیں کہ ایسا کرنے سے بچپن چھن جاتا ہے. حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو پڑھنے کھانے کی سہولیات فراہم کرے اور ان سے مزدوری کرانے کی نوبت نہ آئے. سال 2012 میں بھی اس میں کچھ نرمی کی گئی اور 2016 میں کہا جا رہا ہے کہ اس قانون کو نرم بنا دیا گیا ہے. کیا واقعی ایسا ہوا ہے؟

بچہ مزدوری امینڈمنٹ بل، 14 سال سے کم عمر کے بچوں کو کسی بھی طرح کی صنعت یا نوکری میں رکھنے کے خلاف ہے. لیکن 14 سے 18 سال تک کے بچوں کو non-hazardous یعنی جن میں کوئی خطرہ نہ ہو، وہاں مزدوری کرنے کی اجازت ہے. یہ بچے اہل خانہ کے کاروبار جیسے راشن کی دکان وغیرہ میں کام کر سکتے ہیں لیکن کسی کیمیکل فیکٹری میں نہیں.

لیبر وزیر بنڈارو دتاتریہ نے اسے پیش کیا اور پاس ہو گیا. اس بل کو لوک سبھا میں پیش کیا جانا ہے. اس بل کے مطابق 14 سے 18 سال کے بچے کو کم عمر مانا گیا ہے. بچہ وہ ہے جس کی عمر 14 سال سے کم ہے. اس عمر کے بچے کو 2009 کے قانون کے مطابق مفت اور لازمی تعلیم دینے کی ذمہ داری حکومت کی ہے. نیا بل کہتا ہے کہ کوئی بھی بچہ کسی کام میں نہیں لگایا جائے گا. لیکن جب بچہ اپنے اہل خانہ یا اہل خانہ کے روزگار میں مدد کر رہا ہو، اسکول کے بعد کے وقت میں یا چھٹیوں میں اور روزگار خطرناک نہیں ہے تو یہ قانون لاگو نہیں ہو گا. اگر بچہ ٹی وی، فلم، اشتہارات وغیرہ میں آرٹسٹ کے طور پر کام کرتا ہے تو قانون لاگو نہیں ہو گا. اس بات کا یقین کرنا ضروری ہے کہ یہ سب کرتے ہوئے اسکول کی پڑھائی متاثر نہ ہو.

مرکزی لیبر وزیر بنڈارو دتاتریہ کا کہنا ہے کہ خاندانی کاروبار میں مالک مزدور کا تعلق نہیں ہوتا ہے. 14 سال کے نیچے کے بچوں کو ایک استثنا میں موقع دیا جا رہا ہے. والدین کے لئے وہ مستثنی ہیں. یہی نہیں خطرناک صنعتوں کی تعداد 83 سے کم کرکے 3 کر دی گئی ہے. اب صرف کان، اشتعال انگیز اشیاء اور دھماکہ خیز مواد کی صنعت کو ہی خطرناک مانا گیا ہے. زری، چوڑی مارکیٹ، کپڑے کی دکان یا فیکٹری میں بچے کام کر سکتے ہیں. نئے بل میں سزا کا قانون سخت کیا گیا ہے.

چائلڈ لیبر کے معاملات میں اب کم از کم 6 ماہ سے لے کر 2 سال تک کی سزا ہو گی. جرمانے کی رقم 20000 سے لے کر 50000 کر دی گئی ہے. اگر ماں باپ نے کام کی اجازت نہیں دی ہے تو انہیں سزا نہیں ملے گی. ماں باپ یا سرپرست ایک بار سے زیادہ جرم کرتے ہیں تو ان پر 10000 روپے کا جرمانہ لگ سکتا ہے.

جب کہ پارلیمانی کمیٹی نے کچھ اور ہی تجاویز دیئے تھے جن میں سے کئی اہم تجاویز کو بل میں شامل نہیں کیا گیا ہے. 13 دسمبر 2013 کو لیبر اور روزگار سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے اپنی چاليسویں رپورٹ میں کہا تھا …

بچوں کی طرف سے اسکول کے اوقات کے بعد اپنے اہل خانہ کی مدد کرنے کی شق بل سے نکال دینی چاہئے.

خطرے والے کام کی تعریف میں ان کام کو بھی شامل کیا جائے جو کم عمر کے تحفظ صحت اور اخلاقیات کو نقصان پہنچاتے ہیں.

کم عمر کو کسی بھی روزگار میں ملازم ہونے سے پہلے اپنی بنیادی تعلیم مکمل کرنی چاہئے.

ضلع مجسٹریٹ کے بجائے مقامی اراکین پارلیمنٹ کی قیادت والی نگراں اور معائنہ کمیٹیوں کو چائلڈ لیبر ایکٹ کے نفاذ کا جائزہ لینے کا کام سونپا جانا چاہئے.

بل کے سیکشن 17 میں شامل کر دیا گیا ہے کہ حکومت اپنے اختیارات اور کام ضلع مجسٹریٹ کو دے سکتی ہے. ضلع افسران یہ دیکھے گا کہ اس قانون کی شقیں ٹھیک  سے لاگو ہوتی ہیں یا نہیں. ضلع افسر چاہے تو اپنے ماتحت کو یہ پاور دے سکتا ہے. کیا یہ کافی ہے؟ 14 سال سے کم  عمر کے بچوں کو چائلڈ لیبر سے آزاد کیا گیا ہے. کیا 14 سال سے 18 سال کے کم عمر بچوں کو خطرناک صنعتوں سے آزاد کیا گیا ہے؟ خطرناک صنعتیں ہی نہیں ہوتیں، کئی جگہ صنعت خطرناک نہیں ہو سکتی ہے مگر کام کی نوعیت خطرناک ہو سکتی ہے. کیا اس کے بارے میں کوئی وضاحت ہے؟ چائلڈ لیبر دنیا بھر میں ایک اہم مسئلہ ہے. اس کے نام پر بچوں کے ساتھ کیا کیا نہیں ہوتا ہے اور ان سے کیا کیا نہیں کرایا جاتا ہے. بال مزدوری کا معاملہ کم اجرت میں زیادہ کام کرنے کا بھی ہے. یہ بچے کی اپنی مجبوری ہو سکتی ہے مگر اس سے زیادہ صنعتوں کے لئے ضروری ہو جاتا ہے. بچہ مزدوری کے خلاف وقتا فوقتا مہم چلتی رہتی ہے. اب ایک بل پاس ہوا ہے تو اسے لے کر جشن کیوں نہیں ہے؟ عوام میں بحث عام کیوں نہیں ہے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close