تاریخ ہندخصوصینقطہ نظر

بھارت پاک آزادی کے ستر سال: کیا کھویا کیا پایا؟

بدقسمتی سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان نفرت کی جو دیوار کھڑی کر دی گئی ہے اس کے گرنے یا کم ہونے کے دور دور تک کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔

حسنین اشرف

1757ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے آغاز اور مغل سلطنت کے ایک ہزار سالہ دور حکومت کے زوال کے بعد 1857 سے ہندوستان پر برطانوی راج کا آغاز ہوا اور برطانوی حکومت نے آہستہ آہستہ پورے ہندوستان پر قبضہ جما لیا۔ 200 سال تک برطانوی حکومت کے دوران ہندوستانی مسلسل اپنی آزادی کی جنگ میں مصروف رہے۔ ہندوستان کی تاریخ بہت پرانی ہے اور اس مختصر مضمون میں اس کا احاطہ کرنا ناممکن ہے، اس کا مختصر سا تذکرہ کرنے کے بعد ہم اپنے اصلی مقصد کی طرف آتے ہیں۔

برطانوی راج کے دوران برطانیہ نے ہندوستان کے وسائل سے خوب استفادہ کیا اور ہندوستانیوں کی آزادی کے ساتھ ساتھ تمام ملکی وسائل اور بنیادی حقوق تک چھین لے گئے یہاں تک کہ ہندوستانی، تعلیم، صحت، معیشت، بنیادی انسانی حقوق اور ضروریات زندگی سے دور سے دور ہوتے گئے، اس تمام عرصے میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور دیگر تمام ہندوستانیوں کا صرف ایک ہی مقصد تھا، ’’انگریزوں کی غلامی سے نجات‘‘ اس مقصد کیلئے تمام ہندوستانیوں نے بلا تفریق مذہب و مسلک اور زبان و علاقے کے ملکر جدوجہد کی، اگرچہ متواتر بدلتے عالمی سیاسی حالات کے زیر اثر اس تحریک آزادی میں کئی اتار چڑھاؤ آئے لیکن اس تحریک سے پیچھے ہٹنے کا کوئی ہندوستانی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔

دوسری جنگ عظیم (1939 سے 1945) کے بعد برطانیہ کی معیشت زوال پذیر ہو گئی اور ہندوستان پر برطانوی راج کی گرفت کمزور ہو نا شروع ہو گئی اس وقت ہندوستان کے سیاسی قائدین جس میں کانگریس کے مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو اور مسلم لیگ کے رہنما قائداعظم محمد علی جناح اور دیگر کئی ہندوستانی رہنماؤں نے ہندوستان کی آزدی کے کیلئے انگریزوں سے فیصلہ کن معرکہ لڑنے کا فیصلہ کیا اور برطانوی حکومت بحالت مجبوری ہندوستان کو مکمل آزادی و خود مختاری دینے پر رضامند ہو گئی۔

اب اصل مسئلہ یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ انگریزوں کے ہندوستان سے جانے کے بعد ہندوستان کی حکومت کی باگ ڈور کون سنبھالے گا، یہ ایک ایسا پیچیدہ مسئلہ تھا جو بدقسمتی سے آج تک پاکستان اور ہندوستان کے درمیان وجہ تنازعہ بنا ہوا ہے، متحدہ ہندوستان کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا اور آج بھی کشمیر پر بھارت اور پاکستان کا دعویٰ، اسی طرح ہندوستان کی طرف سے ISI اور پاکستانی افواج پر کشمیر اور بھارت کے اندر مداخلت کے الزامات، اسی طرح پاکستان کی طرف سے افغانستان کے راستے بلوچستان میں بھارتی مداخلت اور ’’را‘‘ کی پاکستان کے اندردہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے جیسے بیانات زبان ذدعام ہیں، اس کے علاوہ سیاچن، سرکریک، سی پیک، بھارتی پنجاب میں خالصتان تحریک جیسے تنازعات کی وجہ سے بھارت اور پاکستان تقسیم ہندوستان سے لیکر آج تک ایک دوسرے کے خلاف برسرہیکار ہیں۔ ہندوستان پر برطانوی راج کے خاتمے اور ہندوستان اور پاکستان کی آزادی کے 70 سال بعد بھی بھارت اور پاکستان کی حکومتیں ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑی ہیں اور بدقسمتی سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان نفرت کی جو دیوار کھڑی کر دی گئی ہے اس کے گرنے یا کم ہونے کے دور دور تک کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔

آج جب دونوں ممالک اپنا اپنا 70واں جشن آزادی منانے جا رہے ہیں تو ہمیں انتہائی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے 70 سال بعد کیا کھویا اور کیا پایا؟ میں نے اپنے گزشتہ کالم ’’بعنوان‘‘ متحدہ ہندوستان یا ہندو پاکستان‘‘ میں تقسیم ہندوستان کے وقت انسانی جانوں کے ضیاع اور مہاجرین کی تباہ کاریوں کے اعداد و شمار پیش کیے تھے یہاں دہرانا مناسب نہیں۔ ہمیں صرف یہ دیکھنا چاہئے کہ ہم نے تاریخ کے اندر دوبارہ واپس جانا ہے یا آگے بڑھنا ہے؟ تقسیم ہندوستان کی کیا وجوہات تھیں؟ کون کون قصور وار تھا؟ میرے خیال میں یہ بحث اب فضول ہے۔

بھارت کی خوبصورتی، مہاتما گاندھی کا نظریہ ’’ہندو – مسلم اتحاد‘‘ گنگا جمنی تہزیب اور سیکولر ازم ہے۔ ہندوستان کے آئین میں آج بھی یہ چیز واضع طور پر موجود ہے اور اگر ہم نے دانشماندہ پالیسی اپنائی اور ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ جیسے نعروں کو اس کی روح کے مطابق اپنایا تو یہ سو فیصد ممکن ہے کہ مستقبل میں بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش ایشیاء کی سب سے بڑی قوت بن کر ابھریں۔ اس کے لیے صرف زبانی جمع خرچ نہیں بلکہ عمل اقدامات کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ پاکستان اور بھارت کو اپنے تمام تنازعات مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حل کرنا ہوں گے، اس میں بھارت کو ایک بڑے ملک اور بڑے بھائی کا کردار ادا کرنا ہو گا۔ لیکن جس طرح آج بھارت میں ’’اکھنڈ بھارت‘‘، ’’گھر واپسی‘‘ ہندو راشٹریہ یا ہندوتہ جیسی کچھ آوازیں آ رہی ہیں تو اگر یہ کام بزور بازو یا عددی اکثریت کی بنا پر کرنے کی کوشش کی گئی تو خدانخواستہ تقسیم در تقسیم کا یہ عمل ختم نہیں ہو گا بلکہ مزید بڑھے گا۔

آج دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے سائنسی ترقی اور میڈیا کے انقلاب نے دنیا کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ انسان آج بھی دوسرے انسانوں کو زیردست کرنے اور غلامی کے دور میں دھکیلنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ انسانی خون انتہائی ارزاں ہو چکا ہے اور آئے روز مذہب، زبان، علاقہ اور قومیت کے نام پر ایک انسان دوسرے انسان کو قتل کر رہا ہے، دولت، لالچ اور ذاتی مفادات، مذہب، انسانیت اور انسانی اقدار پر حاوی ہو چکے ہیں، کہیں دہشت گردی ہے تو کہیں اقتدار کا لالچ، کہیں مذہبی تعصب ہے تو کہیں قومیت پرستی، بقول شاعر مشرق:

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
۔ ۔ ۔

ڈھونڈنے والا ستاوں کی گزرگاہوں کا۔ ۔ !
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا

جس نے سوج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا۔ ۔ !

بھارت اور پاکستان کے اندرونی مسائل بے شمار ہیں، عالمی سیاست اور علاقائی سیاست کے الگ الگ تقاضے ہیں، لیکن ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم صدیوں اکھٹے رہے ہیں اور آئندہ بھی اسی خطے میں رہنا ہے اور آئندہ آنے والی نسلوں نے بھی یہیں جینا اور مرنا ہے، سیاست، سیاسی مفادات اور حکومت اپنی جگہ لیکن دونوں ممالک کی عوام ثقافتی، لسانی اور کئی دیگر اقدار کے لحاظ سے ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں، مثلاً بھارتی پنجاب اور پاکستانی پنجاب کی ثقافت ایک ہی ہے اس میں بہت زیادہ مما ثلت پائی جاتی ہے، اسی طرح پاکستان کے صوبہ سندھ اور بھارتی ریاست راجستھان کے لوگ ثقافتی اعتبار سے ایک دوسرے کے بہت زیادہ قریب ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں دوبئی، ابوظہبی میں تھا تو اکثر غیر ملکی پاکستانیوں کو ان کی زبان اور حلیے کی وجہ سے انڈین سمجھتے تھے، ہم کہتے تھے کہ ہم اردو بولتے ہیں لیکن وہ کہتے کہ یہ اردو نہیں ہندی ہے۔ امرتسر سے میرا ایک سکھ دوست تھا، جب میری اس سے پہلی ملاقات ہوئی تو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ میرے ہی گاؤں سے ہے، ہماری زبان سو فیصد ایک جیسی تھی۔ مجھے انتہائی خوشی اور حیرانی ہوئی، ساتھ ساتھ دکھ اور تکلیف بھی کہ ہمسائے میں ہونے کے باوجود ہمارے درمیان اتنا فاصلہ کیوں ہے۔ ہمیں آزادانہ ایک دوسرے سے ملنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

مختصر یہ کہ ہم لاکھ کوشش کریں لیکن آج بھی ہماری پہچان برصغیر، پانچ دریاؤں کی سرزمین (پنجاب) اور سندھی ثقافت اور دریائے سندھ ہے، اب ہم نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اچھے ہمسائیوں کی طرح رہیں، ماضی کی دشمنیاں بھلا کر، آنے والی نسلوں کے امن اور خوشحالی کے لیے نفرتیں ختم کر دیں اور دونوں ممالک کے عوام کی ترقی اور بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے دشمنی اور نفرت کی پالیسی کو ہمیشہ کیلئے دفن کر دیں، ہم پہلے ہی بہت کچھ گنوا چکے ہیں مزید گنوانے کے لئے ہمارے پاس کچھ بھی نہیں سوائے اپنی قوم کو مفلسی اور کسمپرسی کی حالت میں رکھ کر IMF اور ورلڈ بینک جیسی تنظیموں اور اغیار کے آگے گروی رکھنے کے۔

میری خواہش بھی ہے اور دعا بھی کہ اس جشن آزادی کے موقع پر دونوں ممالک (بھارت اور پاکستان) یہ عہد کریں کہ ہم نے انگریزوں سے زمین کا ٹکڑا تو آزاد کرا لیا لیکن ہم اپنی قوم کو غربت، افلاس اور محرومیوں سے آزادی نہیں دلا سکے، ہم اپنی قوم کو امن، ترقی، خوشحالی، مساوات اور انصاف نہیں پہنچا سکے، آزادی کا یہ خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ آئیں ہم مل کر عوام کی ترقی، خوشحالی اور امن کا عہد کریں حقیقت میں جشن آزادی کا مطلب یہی ہے۔

آخر میں دونوں ممالک کے عوام نام احمد ندیم قاسمی کے چند اشعار:

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے، وہ کھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

خدا کرے نہ کبھی خم، سر وقار وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو

ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوج کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے کہ میرے ایک بھی ہم وطن کیلئے
حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو
۔ ۔ ۔

مزید دکھائیں

حسنین اشرف

ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، اسلام آباد، پاکستان

متعلقہ

Close