بھیڑ کے ذریعے قتل کا انسداد کیسے؟

محمد رضی الاسلام ندوی

 آج کل ہندوستان میں بھیڑ کی غنڈہ گردی جاری ہے _ اسے انگریزی میں Mob Lynching کہا جا رہا ہے _ آئے دن ملک کے مختلف حصوں میں ایسے واقعات پیش آرہے ہیں کہ منظّم بھیڑ لاٹھی ڈنڈوں ، لوہے کے راڈ اور چُھروں سے لیس ہوکر نکلتی ہے اور کسی نہتّے کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیتی ہے _ عموماً اس کا شکار مسلمان ہو رہے ہیں ، بوڑھے بھی ، ادھیڑ عمر کے بھی اور نوجوان بھی _ کبھی یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے گائے کا گوشت کھایا ہے ، کبھی یہ الزام کہ وہ گائے کو ذبیحہ کے لیے فروخت کرنے لے جارہا ہے ، کبھی یہ الزام کہ وہ کسی لڑکی کو چھیڑ رہا تھا ، کبھی کوئی اور الزام _ دل چسپ بات یہ کہ یہ الزامات محض افواہوں پر مبنی ہوتے ہیں ، بعد میں یہ کبھی ثابت نہیں ہوسکے _

 اب تک ان واقعات پر کوئی روک نہیں لگ سکی ہے _ ملک کے حکم راں عموماً ان واقعات پر خاموش ہیں ، یا کبھی بہت ہلکے انداز میں مجرمین کی فہمائش کردیتے ہیں ، جس کا مجرموں پر کوئی اثر نہیں ہوتا ، چنانچہ وہ پورے ملک میں دندناتے پھر رہے ہیں اور اپنی ان مذموم اور قابلِ نفرت حرکتوں سے باز آنے پر تیار نہیں ہیں _ ملک کا سنجیدہ طبقہ ، جس میں مختلف مذاہب کے لوگ شامل ہیں، ان واقعات پر فکرمند ہے اور ان کو روکنے کی مختلف تدابیر کر رہا ہے _

 مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں اسلام کا  نقطہ نظر پیش کردیا جائے _ اسلام نے اس جرم کی بہت عبرت ناک سزا تجویز کی ہے _  ایک شخص کا قتل کوئی ایک شخص کرے تو بھی اسے  قتل کیا جائے گا اور بہت سے لوگ مل کر کریں تو  وہ   سب بھی قتل کی سزا کے مستحق ہوں گے ، بلکہ انھیں عام قتل کے مقابلے میں زیادہ درد ناک سزا دی جائے گی _ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

"جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں ، یا سولی پر چڑھا دیے جائیں ، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں ، یا وہ جلاوطن کردیے جائیں _ یہ ذلت و رسوائی تو ان کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کے لیے اس سے بڑی سزا ہے _” (المایدۃ : 33)

 اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن کے اِس قانون پر عمل کرکے دکھایا _ عُکَل اور عُرَینہ نامی قبائل کے آٹھ افراد مدینہ آئے ، جہاں ان کی طبیعت خراب ہوگئی _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے شہر کے باہر اونٹوں کے باڑے کے قریب ان کی رہائش کا انتظام کیا _ وہ کچھ دن رہے ، پھر  اونٹوں کے چرواہے کو قتل کرکے اونٹوں کو ہانک لے گئے _ انھیں گرفتار کیا گیا ، ان کے ہاتھ پیر کٹوادیے گئے، ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئی اور انھیں صحرا میں ڈال دیا گیا، جہاں وہ تڑپ تڑپ کر مر گئے _ (صحاح ستہ ، مسند احمد اور دیگر کتبِ حدیث میں یہ واقعہ مذکور ہے _)

 کسی سماج میں  مجرموں کو ایسی عبرت ناک سزا دی جائے گی تو دوسرے مجرم ایسے جرم کی ہمّت ہی نہ کر سکیں  گے _ یہی وجہ ہے کہ مسلم عہدِ حکم رانی میں اسلامی ریاست کے تمام علاقوں میں ہمیشہ امن و امان قائم رہا _

 بھیڑ کے ذریعے قتل کے گھناؤنے جرم کے انسداد کا یہی حل ہے _ لیکن اس حل کو قبول کرنا اور اس پر عمل کرنا آسان نہیں ہے _



⋆ محمد رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے