دیگر نثری اصنافنقطہ نظر

بہار اردو اکادمی کی بے اصولی ہی اصول ہے

ڈاکٹر سید احمد قادری

 بہار اردو اکادمی کی گزشتہ 16 جنوری 2018 ء کو منعقدہونے والی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں لئے گئے فیصلوں پر میں حیران اور پشیمان  ہوں۔  حیران اس لئے ہوں کہ یہ تمام فیصلے اردو زبان و ادب کے حق میں نہیں ہیں ، بلکہ دوست نوازی کو ترجیح دینے اور اردو زبان کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے،اور  پشیمان اس لئے ہوں کہ میں اس اکادمی کی مجلس عاملہ کا رکن ہوں اور گزشتہ تقریباََ ڈھائی برسوں سے اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اکادمی کے اندر پھیلی بے ا صولی ا ور بے ضا بطگی، نیز، انصافیوں کو ختم کرنے میں ناکام رہا اور اس بات کا بھی اعتراف کرتا ہوں کہ میں چند ایسے لوگوں سے جو اردو زبان و ادب کے نام پرلوٹ مچائے ہوئے ہیں، ان کے ذاتی مفادات اور ترجیہات کے سامنے میں نے سپر نہیں ڈالی ہے، لیکن یہ ضرور ہے کہ میری مثبت آواز اور کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ دراصل بہار اردو اکادمی کے ڈھائی عہدیداران نے اکادمی کو اپنی میراث سمجھ لیا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو جب چاہتے ہیں اپنے من مطابق فیصلہ کر لیتے ہیں۔

اکادمی کی میٹنگ جہاں ہر ماہ دو ماہ پر ہونی چاہئے، اکادمی کے سیکریٹری، جن کا آمرانہ رویہ اور ہٹلر شاہی بہت مشہور ہے، وہ عاملہ کی میٹنگ چھ یا آٹھ ماہ پر بلاتے ہیں اور اس درمیان جو جی میں آتا ہے، خود یا پھر دوسرے ڈیڑھ آدمی سے فائل پر دستخط کرا کر اپنی مرضی کے مطابق اکادمی کو چلارہے ہیں۔ ہر ماہ دو ماہ پر اکادمی کی مجلس عاملہ کی میٹنگ اس لئے نہیں بلاتے ہیں کہ کہیں کوئی ممبر بازپرس نہ کرے۔ اس لئے یہ ہمیشہ مجلس عاملہ کی میٹنگ بہت ہی عجلت میں اور بہت سارے ایجینڈوں کے ساتھ بلاتے ہیں کہ ممبران کو زیادہ سوچنے سمجھنے کا موقع نہ ملے۔ یوں بھی  اکادمی کے سکریٹری میٹنگ ایک یا دو روز کی نوٹس پر بلاتے ہیں ، تاکہ زیادہ ممبران میٹنگ میں شامل نہ ہو سکیں اور مجوزہ میٹنگ کا ایجنڈا بھی بھیجنے کی زحمت نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی میٹنگ میں ہونے والے فیصلوں یا منظور ہونے والی تجاویز کی کاپیاں کسی ممبر کو بھیجتے ہیں کہ پھر اس میں میٹنگ کے بعد من مطابق ترمیم و اضافہ کیسے کرینگے، عام طور ایسی میٹنگ کی تفصیلات اخبارات کو بھی نہیں دیتے ہیں۔ اکادمی کی مجلس عاملہ کی میٹنگ بس خانہ پری کے لئے ہوتی ہے، ہوتا وہی ہے، جو اکادمی کے ڈھائی عہدیداران چاہتے ہیں۔ ایسی مثالیں بھری پڑی ہیں ، میں ابھی تفصیل میں نہ جا کر صرف ایک مثال سامنے رکھتا ہوں ، اکادمی کی پہلی یا دوسری میٹنگ میں مجموعی خدمات کے لئے ایوارڈ دینے کی بات لائی گئی، سکریٹری اکادمی پہلے سے ہی مشہور ناقد اور بلا شبہ قابل قدر شخصیت شکیل الرحمٰن کو ان کی بیماری کی وجہ کر ایک لاکھ کا ایوارڈ دینے کا وعدہ کئے ہوئے تھے۔

ان ہی دنوں معروف صحافی عبدارافع صاحب بھی بہت علیل تھے، میں نے ان کی علالت اور ان کی صحافتی مجموئی خدمات کے پیش نظر انھیں بھی ایک لاکھ روپئے کا ایوارڈ دئے جانے کی بات رکھی، جسے کچھ پس و پیش کے بعد تسلیم کر لیا گیا۔ لیکن سکریٹری اکادمی کو میری یہ تجویز پسند نہیں آئی اور انھوں نے میٹنگ میں ہوئے فیصلے کے کافی دنوں بعد ایک لاکھ کے چیک کی بجائے صرف پچاس ہزار کا چیک دیا۔ ان کی اس حرکت کے بعد جب میں نے ان سے فون پر یہ سوال کیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا، تو ان کا جواب تھا کہ صحافیوں کے لئے ایک لاکھ کی رقم نہیں ہوتی ہے۔ میں نے اکادمی کی قبل کے کئی فیصلوں کا مکتوب نمبر کے ساتھ حوالہ دیا، پھر بھی وہ نہیں مانے۔ نہ معلوم اکادمی کے سکریٹری کو صحافیوں سے اس قدر نفرت کیوں ہے۔ اسی طرح معروف صحافی رضوان احمد مرحوم کی اہلیہ نے رضوان صاحب کے کچھ اداریوں کو منتخب کر اس مسودہ (مسودہ نمبر 41 )کی اشاعت کے لئے مالی تعاون کے لئے اکادمی میں جمع کیا تھا، جسے مبصر، ذیلی کمیٹی اور پھر مجلس عاملہ نے پاس کر دیا، لیکن سکریٹری کو یہ نہ جانے کیوں اور کس ذاتی پرخاش کی بنا پر فیصلہ پسند نہیں آیا اور انھوں نے مجلس عاملہ سے منظوری کے بعد بھی اس مسودہ کو نا منظور کر دیا۔ اکادمی کے سکریٹری کی ایسی ہی ہٹلر شاہی سے خفا ہو کر اکادمی کی مجلس عاملہ کی رکنیت سے ڈاکٹر علیم اللہ حالی استعفیٰ دے چکے ہیں۔

استعفیٰ دینے کے بعد ان کا جو بیان یا جو ان کی شکایتیں تھیں ، وہ تمام شکایتیں اب بھی اسی طرح موجود ہیں۔ علیم ا للہ حالی صاحب نے کہا تھا کہ۔ ۔ ۔’’ جس ادارے میں جمہوریت کا قتل کیا جا رہا ہو، اقربأ پروری کا ننگا ناچ ہو رہا ہو، مجلس عاملہ کی آواز کو دبایا جا رہا ہو اور صرف ڈھائی افراد کی منمانی چل رہی ہو، اس ادارے میں بنے رہنا نہ صرف میرے مزاج کے خلاف ہے، بلکہ اس زبان کے ساتھ نا انصافی ہے، جسکی خدمت ہم کرتے رہے ہیں۔ یہ کم ہی معلوم ہو پاتا ہے کہ کب کہاں اور کیسے ہو رہا ہے۔ ‘‘  ’’ اکادمی کی مجلس عاملہ میں نہ تو کوئی مجلس ہوتی ہے نہ اس پر عمل کیا جاتا ہے۔ ابھی مجلس عاملہ کا مطلب ہے میٹنگ میں آؤ، دستخط بناؤ، لفاف لو اور چلتے بنو، اگر کوئی سوال اٹھایا بھی تو خاموش کر دیا جا تا ہے یا پھر میٹنگ کے بعد فیصلے کوبدل دیا جاتا ہے۔ ‘‘’’مجلس عاملہ کے ممبران کے مشوروں کو جوتے کی نوک پر رکھنا، پہلے سے سب کچھ طئے کر لینا، باہمی اتفاق رائے سے کسی فیصلے کو نہ ہونے دینا، اکادمی کے ممبران کوکوئی اہمیت نہ دینا، ایک عجیب سا ماحول طاری کر دیا گیا تھا۔ سکریٹری خود کو سب سے لائق سمجھنے لگے اور ہر خبر میں اپنی تصویرچھپوانا لازمی قرار دیا ہے۔ ‘‘

یہ ہے اکادمی سے استعفیٰ دینے کے بعد بزرگ اور با وقار شاعر علیم اللہ صاحب کی رائے۔ اب میں اپنی بات پرآتا ہوں۔ اتفاق سے میں اکادمی کی مجلس عاملہ کے رکن ہونے کے ناطے اکادمی کی چار ذیلی کمیٹیوں کا ممبر ہوں۔ لیکن گزشتہ ایک سال کے اندر صرف ایک مسودات کی ذیلی کمیٹی  اور ایک صحافتی ذیلی کمیٹی کی ایک میٹنگ میں مجھے مدعو کیا گیا تھا۔ اکادمی کے دستور میں کچھ تبدیلیوں کی ضرورت کے پیش نظر اس کے لئے بھی ایک ذیلی کمیٹی کی تشکیل دی تھی، لیکن دو سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا۔ لیکن ایک بھی اس ذیلی کمیٹی کی میٹنگ نہیں ہوئی۔

یہی حال دوسری ذیلی کمیٹیوں کا حال رہا۔پٹنہ میں کسی دو مشن اسکول کو اردو زبان کی تعلیم کے لئے گود لینے یعنی دو اساتذہ کو معمور کئے جانے اور انھیں مناسب تنخواہ دئے جانے کی ایک درخواست میری ہی ایمأ پر اردو مشاورتی کمیٹی، اتفاق سے میں اس کمیٹی کا بھی ایکزیٹیو کمیٹی ممبر ہوں ، اکادمی کے سکریٹری کو اردو مشاورتی کمیٹی کے چئیرمین جناب شفیع مشہدی نے بھیجا تھا، لیکن میرے بار بار کہنے کے باوجود اس درخواست کو مجلس عاملہ کے سامنے نہیں رکھا گیا، جس کا نتیجہ ہے کہ آج تک پٹنہ کے دو مشن اسکولوں میں اردو کی تعلیم کا سلسلہ شروع نہیں ہو سکا۔ کہاں تک سناؤں ، اکادمی کی بے اصولی اور بے ضابطگی کا حال، ابھی بہت ساری باتیں ہیں ، جنھیں سناؤں ، تو ایسے اردو دشمنوں کے چہرے پر نقاب ہٹ جائے۔ لیکن میں ان ہی چند باتوں پر اکتفا ٔ کر رہا ہوں۔ سوچ رہا ہوں کہ ایک کتابچہ ہی لکھ ڈالوں اور ایسے لوگوں کی نقاب کشائی کروں ، جو اردو کی ترقی کے نام پر اردو کو فائدہ کی بجائے نقصان زیادہ پہنچا رہے ہیں۔

 گزشتہ 16 جنوری کو اکادمی کی مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، یہ کوئی ایمرجنٹ میٹنگ نہیں تھی، کہ راتوں رات فون کیا گیا اور چند لوگوں کو بلا کر اپنے کئے گئے فیصلے پر مہر ثبت کرا لیا گیا۔ اس میٹنگ کی اطلاع پندرہ روز قبل ہونی چاہئے تھی، جو نہیں دی گئی۔ای میل پر تو ابھی تک  میٹنگ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ میٹنگ سے دو روز قبل مجھے سکریٹری کا فون ضرور آیا، وہ بھی اس وقت جب میرے فیس بک پر یہ اطلاع آ گئی تھی کہ میں گیا سے ممبئی کے راستے میں ہوں۔ رات میں ممبئی پہنچا اور صبح سویر فون آیا کہ پرسوں میٹنگ ہے۔ جس میٹنگ کا میں اکتوبر سے منتظر تھا، اس کی اطلاع جنوری میں میٹنگ سے دو روز قبل ملی۔ یہ بات سمجھ سے پرے ہے کہ سارے وسائل موجود رہتے ہوئے اور کسی طرح کا مسئلہ نہیں ہونے کے باوجود 2016 کا فیصلہ 2018 میں کیا جاتا ہے۔ اس میٹنگ میں وزیر اقلیتی فلاح و بہبود کی عدم موجودگی بھی، کئی سوال کھڑے کر رہی ہے۔

متعلقہ وزیر کے میٹنگ میں نہیں رہنے سے من مطابق فیصلہ لینے میں کسی طرح کی رکاوٹ بھی نہیں ہوئی، جو چاہا فیصلہ کیا۔ اسی کمیٹی کی قبل میں لئے گئے کئی اہم فیصلوں کو بھی بدل دیا گیا۔ مثال کے طور پر اس کمیٹی کی دوسری ہی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا تھا کہ اکادمی کے عہدیداران اور ممبران کو ایوارڈ اور مسودات پر مالی تعاون سے مستثنیٰ رکھا جائے گا، لیکن یہ اچانک اسی کمیٹی میں اتنا زیادہ پڑھا لکھا  نہ جانے کون آ گیا، کہ اس کی وجہ کر اس کے حق میں فیصلہ لیا گیا۔ میں یہ واضح کر دوں کہ اکادمی کا ممبر بننے سے قبل ہی میرا ایک مسودہ منظور ہو چکا تھا، لیکن میری مخالفت میں اکادمی کے نائب صدر اعجاز علی ارشد نے وزیر کے سامنے ہی یہ تجویز رکھی اور سب سے پہلے میں نے ہی اس تجویز کی تائید کی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ میرے منظور شدہ مسودہ اور پھر میرے افسانوی مجموعہ ’ملبہ‘ کو بھی انعام کی فہرست میں نہیں رکھا گیا۔ اس کا مجھے افسوس بھی نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس افسانوی مجموعہ کو اتر پردیش اردو اکادمی اور مغربی بنگال اردو اکادمی نواز چکی ہے۔

اسی طرح  یہ بھی فیصلہ  ہوا تھا کہ اکادمی کی جانب سے، قبل میں جنھیں مجموعی خدمات پر ایوارڈ دیا جا چکا ہے، ان کے ناموں کی بجائے بہار کے ان مشاہیر کے ناموں پر غور کیا جائے گا، جنھیں اب تک ایسے اعزاز سے محروم رکھا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ اس فیصلہ کو بھی اپنے چند خاص لوگوں کو فیضیاب کرنے کے لئے بدل دیا گیا ہے۔ سیمنار کے نام الگ لوٹ مچی ہوئی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ سیمینار کے لئے ایسے اداروں کو ان کی کسی درخواست کے بغیر ہی لاکھوں روپئے کا مالی تعاون دیا گیا۔ بس شرط یہ رکھی گئی کہ سیمینار میں سیکریٹری اکادمی کو مہمان خصوصی بنایا جائے اور زاد راہ کا خاص خیال رکھا جائے۔ اکادمی کے ذریعہ منعقد ہونے والے سیمینار وغیرہ کے موقع پر حاضرین کے تناول کے لئے دئے جانے والے بریانی کے بند ڈبّہ کا راز بھی ابھی بند ہی رہے تو اچھا ہے۔ اسی طرح ریوڑیوں کی طرح ہر مشاعرہ، سیمینار اور میٹنگوں میں تقسیم کئے جانے والے مومینٹو کا نرخ بھی حیرت میں ڈالنے والا ہے۔ طباعت کے نام پر جو ہو رہا ہے، وہ بھی بڑا سوال پیدا کرتا ہے۔ زبان وادب کے علاوہ جس مقصد کے لئے خبر نامہ کی اشاعت کی بات طئے ہوئی تھی، وہ جب باقی نہیں رہی، تب یہ بلا وجہ اس  خبر نامہ کے نام پر لاکھوں روپئے کی بربادی کا کون ذمّہ دار ہے۔ سکریٹری موصوف نے اکادمی کے رسالہ ’زبان و ادب‘ کو بھی اپنی ذاتی رسالہ بنا دیا ہے۔ ہر رسالہ میں جب تک سکریٹری کی بیس پچیس تصویر یں نہیں لگتی ہیں ، وہ رسالہ مکمل نہیں ہوتا۔ نہ جانے کیوں اپنی تصویر کھینچوانے اور چھپوانے کا انھیں اس قدر خبط کیوں  ہے۔ ڈاکٹر علیم اللہ حالی صاحب بھی اپنے اخباری بیان میں یہ بات کہہ چکے ہیں۔

بہار اردو اکادمی کی ایسی ہی کارگزاریوں پر اکثر اخبارات میں رپورٹیں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ بہت تفصیل میں نہ جا کر بعض اخبارات کے یہ چند جملے ملاحظہ کریں ،۔ ’’ اسی لئے اس فہرست میں ایسے کئی نام ملے، جن کو ہر جگہ پایا۔ انعام کی فہرست میں وہ موجود، مسودہ کی فہرست میں وہ موجود، پروجیکٹ کی فہرست میں وہ موجود، یعنی پیسے دینے کے جتنے زمرے ہیں ، ہر جگہ ان کا نام پا یا ‘‘۔ اس رائے میں ایک جملہ کا  میں اضافہ کرنا چاہونگا  ’’ ہر سیمینار اور ہر مشاعرہ میں وہ موجود‘‘۔ اسی طرح کے تاثرات ایک دوسرے روزنامہ میں دیکھنے کو ملا کہ۔’’ سرکار کی طرف سے ملی رقم کو اردو

 اکیڈمی کی طرف سے جس بے دردی سے استعمال کیا جا رہا ہے اس کا حاصل؟ حق دار محروم اور مکھن لگانے والوں کی چاندی۔۔ ۔۔۔۔‘‘

 اب آپ خود فیصلہ کریں کہ میں ایک ممبر کی حیثیت سے غلط کہہ رہا ہوں یا صحیح۔ سال گزشتہ ایوارڈ کی ریوڑیاں جس طرح بانٹی گئی تھی، ان میں اکادمی کے چند ممبران نے  ایوارڈ کے مستحق، ظہیر صدیقی، محمد محفوظ الحسن اوراسلم آزاد جیسی  چند اہم ادبی شخصیات کے نام کی سفارش کی گئی تھی۔ جب اعلان ہوا تو دیکھا گیا ان بزرگوں کے مقابلے ان سے بہت جونئیر بلکہ ان کے شاگردوں کو ان سے بڑا ایوارڈ، یعنی استاد کو پچاس ہزار کا اور شاگردوں کو ایک ایک لاکھ کے ایوارڈ دئے جانے کا اعلان ہوا۔ اس اعلان کے بعد ان لوگوں نے اکادمی  کے اس  اعزاز، اعزاز نہیں بلکہ ہتک محسوس کیا اور رنجیدہ ہو کر ایوارڈ واپس کر دئے۔

 یہ تمام باتیں ایسی ہیں جو اکادمی کی کارگردگی کو ظاہر کرتی ہیں۔ ایسے میں یہ بہت ضروری ہو جاتا ہے کہ ان حالات پر مختصر طور پر ہی سہی عوام کے درمیان باتیں رکھی جائیں ، تاکہ اردو آبادی کسی طرح ہم جیسے لوگوں کی جانب سے بدگمان نہ ہو۔ اکادمی کی  بہتری کے لئے اب یہ بہت ضروری ہے کہ اکادمی کے چئیرمین یا وزیر اقلیتی فلاح وبہبود  اس طرف خصوصی توجہ دیں اور گزشتہ روز کی میٹنگ میں جو بہت سارے غلط اور دوست نوازی کے لئے فیصلے لئے گئے ہیں ، ان پر از سر نو غور و فکر کر درست فیصلہ لیا جائے، تاکہ اردو آبادی کے درمیان جو غلط پیغام جا رہا ہے، ان کا تدارک ہو سکے۔

مزید دکھائیں

سیّد احمد قادری

ڈاکٹرسیّد احمد قادری معروف کالم نویس ہیں۔

متعلقہ

Close