نقطہ نظر

بی جے پی کو ہرانے کی سیاست

مانا جاتا ہے کہ ہندوستان میں  مسلمان عام طور سے بی جے پی کو ہرانے کے لیے ووٹ کرتے ہیں ، انہیں  سیکولر پارٹیاں  بی جے پی، آرایس ایس کا خوف دلاتی ہیں  اور ان کے ووٹ لے لیتی ہیں ، ان کی ترقی یا خوشحالی کے لیے کچھ بھی نہیں  کرتیں  بلکہ زيادہ تر یہ سیکولر پارٹیاں  انہیں  دھوکہ ہی دیتی ہیں  اور فسادات کے تحفے دینے میں  بی جے پی سے پیچھے نہیں  رہتیں ۔  پھربھی مسلمان بی جے پی کو ہرانے کی سیاست کا شکار کیوں  ہو جاتا ہے۔  زير نظر مسئلے کو سمجھنے کے لیے کچھ باتوں  کو دھیان میں  رکھنا بہت ضروری ہے۔

1۔  دوسری سیاسی پارٹیوں  کے بالمقابل بی جے پی ( جو کہ آرایس ایس کی سیاسی ونگ ہے ) ہندوستان کی جمہوریت، سیکولرزم اور ڈیموکریسی پر بھروسہ نہیں  رکھتی، اس کے نقطئہ نظر کے مطابق ہندوستان کو ہندوتوا کی راہ پر چل کر ہندو راشٹر ہونا چاہیے۔  مودی کی اگوائی میں  مرکز میں  چل رہی بی جے پی حکومت کے رویے اب اتنے صاف ہوچکے ہیں  اور اس مسئلے پر انہوں  نے جس طرح کا ہنگامہ کیا ہے، وہ اب کوئی چھپا ہوا معاملہ نہیں  رہ گیا ہے۔

2۔  بی جے پی کی بنیاد فرقہ واریت ہے، اس کی سیاست کا تانا بانا نفرت و تفریق ہے، سب جانتے ہیں  کہ بابری مسجد کی شہادت اور رام جنم بھومی اور رتھ یاترا سے پہلے بی جے پی کی سیاسی حیثيت کیا تھی۔

3۔  مختلف سیاسی پارٹیوں  کے دور حکومت میں  فرقہ وارانہ فسادات کا ہونا بلا شبہہ ان سیاسی پارٹیوں  کی ناکامی اور نا اہلی کا ثبوت ہیں  لیکن عام طور سے یہ حقیقت نظر انداز کی گئی ہے کہ ان فسادات کی آگ بھڑکانے والے کون لوگ رہے ہیں ۔

4۔  مسلمانوں  کا بی جے پی سے خائف ہونا بے بنیاد نہيں  ہے، اس کی سب سے واضح مثال موجودہ حکومت کا طرز عمل ہے، جس طرح سے طلاق ثلاثہ، یکساں  سول کوڈ، علی گڑھ کا اقلیتی کردار اور اسی طرح کی چیزوں  کو ایشو بنایا گیا ہے، حکومت کے اعلا عہدیداران مسلمانوں  کو پاکستان جانے کا مشورہ دیتے رہے ہیں  اور جس طرح سے مسلمانوں  کی حب الوطنی پر شکوک و شبہات کے اظہار کیے گئے ہیں  وہ بہت کچھ کہتے ہیں ۔

  ان تمام کے باوجود بی جے پی کو ہرانے کی سیاست کو مثبت سیاست نہیں  کہا جاسکتا لیکن تب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں  کے پاس کیا کیا اختیارات رہ جاتے ہیں ، عام طور سے کانگریس سے نا امید ہونے کے بعد مسلمانوں  نے علاقائی پارٹیوں  پر بھروسہ کیا اور سچی بات یہ ہے کہ زيادہ تر پارٹیوں  کا رویہ کانگریس جیسا ہی رہا، ایسے میں  اس مسئلے پر کئی زاویوں  سے نظر ڈالی جاسکتی ہے۔

   عام طور سے مسلمانوں  میں  سیاسی وفاداری کا چلن ہے، جو جس پارٹی سے جڑجاتا ہے وہ اس سے الگ نہیں  ہو پاتا، مسلمانوں  میں  آج تک پولیٹیکل اکٹیوزم ( سیاسی سرگرمی ) نہیں  آ پایا ہے، عام طور سے سلجھے ہوئے اور تعلیم یافتہ لوگ سیاست میں  نہیں  آتے، عوام میں  شرح ناخواندگی بہت ہے، شعور پختہ نہیں  ہے، اس لیے جو جدھر چاہتا ہے ہانک لے جاتا ہے، جذباتیت کا عنصر اتنا زيادہ ہے کہ عام طور سے دانشمندانہ کوئی روایت قائم نہیں  ہو پاتی۔  ہم زيادہ تر مسائل پر دماغ سے نہیں  دل سے سوچتے ہیں ۔  سماجی سطح پر علماء کا عوام پر اچھا خاصا اثر ہے، علماء کی اکثریت سرگرم سیاست سے الگ ہے، جذباتیت کا شکارہے، اردو صحافیوں  کے جذباتی مضامین اور تجزیوں  سے رائے قائم کرتے ہیں  اور اسی سے عوام کا بھی ذہن بناتے ہیں ۔  مسلم سماج کا پڑھا لکھا اور باشعور طبقہ سیاسی شعور کی آبیاری کرسکتا ہے لیکن اس کا مسئلہ یہ ہے کہ عام طور سے اس کا سماجی رابطہ بہت کمزور ہے، وہ اپنے خول میں  بند ہے، اس کے اندر ملی دردمندی کی کمی نہیں  تو کم از کم وہ کیفیت دیکھنے کو نہیں  ملتی جو جذباتیت کے باوجود علماء طبقہ میں  پائی جاتی ہے۔  دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ابھی تک عام پڑھا لکھا طبقہ سماجی سطح پر اپنی قابل ذکر پکڑ نہیں  بنا پایا ہے۔

 اس پوری صورت حال کا نتیجہ یہ ہے کہ عام طور سے مسلمان سوجھ بوجھ کے ساتھ ووٹنگ نہیں  کرپاتے، خود رہنماؤں  کا رویہ خاصا حیران کن اور کبھی کبھی مضحکہ خیز ہوتا ہے جس سے فائدہ نام نہاد سیکولر پارٹیاں  اٹھاتی ہیں  اور مسلمانوں  کے تحفظ کے نام پر ان کے سہارے حکومت بناتی ہیں  اور انہیں  ہی نظر انداز کرتی ہیں ۔

صورت حال کی تبدیلی کا راستہ نسبۃ طویل ہے، ملت کو شعور وآگہی سے ہتھیار بند کرنے کی ضرورت ہے، تعلیم پر خصوصی توجہ دینی ہوگی، صاحب حیثيت مسلمانوں  کو قربانی دینی ہوگی، اس راہ میں  پیسے خرچ کرنے ہوں  گے، ایک نہیں  کئی ایک ایسے ظفر محمود کی ملت کو ضرورت ہے جو مختلف میدانوں  کے لیے مسلم نوجوانوں  کو تیار کرسکیں  ورنہ ہم ہنگامہ کرتے رہیں  گے اور معاملہ جوں  کا توں  برقرار رہے گا۔  قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ مسلمانوں  میں  سیاسی ہنگامہ آرائی نسبۃ زیادہ ہی ہے لیکن سیاسی شعور اور پولیٹیکل اکٹیوزم کی بہت کمی ہے، پڑھا لکھا طبقہ سرگرم سیاست سے دور ہے اور گنواروں  کے پاس قوم کی سیاسی بالادستی ہے، ایسے میں  بہت اچھے نتائج رونما ہونے سے رہے۔  اس لیے میں  سمجھتا ہوں  کہ اس کے لیے جہاں  وقتی لائحہ عمل کی ضرورت ہے اس سے کہیں  زيادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ کمیونٹی ڈیولیپمنٹ کے پروگرام بنائے جائيں ، تعلیمی راہیں  ہموار کی جائیں  اور دل کی بجائے دماغ سے سوچنے کے چلن کو عام کیا جائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ثناءاللہ صادق تیمی

اسسٹنٹ پروفیسر ، محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی ، ریاض

متعلقہ

Close