نقطہ نظر

بے حسی کی انتہا

راحت علی صدیقی قاسمی

 گذشتہ چند ایام میں ملک سخت ترین حادثات سے دوچار ہوا ہے، جنہوں نے قلوب کو غمزدہ، آنکھوں کو اشکبار کردیا ہے، ملک کے تمام باشندوں نے ان واقعات کی تکلیف شدت کے ساتھ محسوس کی، ان سب سے زیادہ تکلیف دہ واقعہ بہار سے متعلق ہے، جو شدید ترین سیلاب سے مقابلہ آراء ہے، زندگیاں موت کا روپ دھار گئیں، انسانوں کی لاشیں پانی پر تیرتی نظر آئیں، گھر ملبے کا ڈھیر بن چکے، زمین تالاب کی شکل اختیار کر چکی، غذا کی قلت، بھوک کی شدت منظر کو اور زیادہ ہولناک بنا رہی ہے، ایک ہفتہ سے زیادہ مدت گذر چکی ہے، بہار کے لوگ اس خوفناک صورت حال کا مقابلہ کررہے ہیں، ہزاروں افراد کی جانیں جا چکی ہیں، لاکھوں بے گھر ہو چکے، چلتے پھرتے انسان پل بھر میں لاش کی شکل اختیار کرگئے، جان بچانے میں مشغول محنت و مشقت اور امیدوں کے سہارے آگے بڑھتے ہوئے افراد کو دیکھتے ہی دیکھتے تیز لہر آتی ہے اور بہا کر لے جاتی ہے۔ 16افراد کشتی میں بیٹھے زندگی اور موت کی کشمکش کے درمیان پانی کے سخت حملہ نے انہیں موت کی آغوش میں لے لیا، چیخ و پکار، آہ و بکا، امید و بیم کے الفاظ ان کی موت کے ساتھ ختم ہوگئے، ہر لمحہ یہی ہورہا ہے، لاشیں پانی میں بہائی جارہی ہیں، آخری رسومات ادا کرنا بھی ممکن نہیں ہورہا ہے، بہار کی کثیر آبادی سیلاب کی زد میں ہے، حکومت صرف 90اموات کی تصدیق کر رہی ہے۔

 بہار کے اخبارات 160 لوگوں کے جاں بحق ہونے کا اعلان کررہے ہیں اور ان حالات کا مقابلہ کررہے افراد، اپنی نگاہوں سے جنازوں کو اٹھتا دیکھ رہے لوگ، ہزاروں افراد کی جدائی کا ماتم منا رہے ہیں اور ہزاروں افراد کی موت کا دعویٰ کر رہے ہیں، وائرل ویڈیوز کئی گاؤں کی تباہی کا دلدوز منظر دکھا رہے ہیں، درد و غم سے ٹوٹے ہوئے لوگوں کا اعتبار کیا جائے، حالات کو جھیلنے اور حالات سے مقابلہ کرنے والے افراد کا اعتبار کیا جائے، یا اے سی میں بیٹھ کر فرمان جاری کرنے والے، ہیلی کاپٹر کے ذریعہ تباہی کا منظر دیکھنے والے افراد کا اعتبار کیا جائے، یا ان اخبارات پر بھروسہ کیا جائے، جنہوں نے تڑپتے انسانوں کی جگہ گلیمر کی دنیا کو مرکز توجہ بنا رکھا ہے۔

میڈیا کا حال دیکھ لیجئے بہار سیلاب کی زد میں آکر لوگوں کی جانیں جارہی تھیں اور میڈیا بے خبر تھا، ٹی وی چینلز پر دوسری خبریں نشر ہو رہی تھیں، اخبارات کی سرخیاں مودی، یوگی سے بھری پڑی تھیں، فرقہ پرستی کا کھیل کھیلنے میں مشغول تھیں، چوں کہ میڈیا زر خرید غلام بن چکا ہے، تجارت کی شکل اختیار کر چکا، اب وہاں جان کی قربانی پیش کرنے والا مولوی محمد باقر نہیں ہے، حالات سے ٹکرانے والا محمد علی جوہر نہیں ہے، ابو الکلام آزاد نہیں ہے، محمد حسین آزاد نہیں ہے، جو بھوک کی شدت تو برداشت کر لیتے تھے، مگر صحافت کے وقار کو مجروح نہیں کرتے تھے، اپنے ضمیر کو فروخت نہیں کرتے تھے، جب کہ آج حال یہ ہو چکا ہے کہ ٹی آر پی سے بڑھ کر کچھ نہیں، بے جا مدّعوں پر مباحثوں کا انعقاد کیا جانا، لوگوں کے قلوب میں نفرتوں کا زہر گھولنا یہی میڈیا کا مقصد اور ضرورت ہے، اگر کسی فرقہ وارانہ فساد میں چند افراد کی جان جاتی ہے، تو میڈیا آگ لگا دیتا ہے، پل پل کی خبر سے ہمیں آگاہ کرتا ہے، سانس کی ڈوری بعد میں ٹوٹتی ہے، موت کی خبر پہلے آجاتی ہے، لیکن آسمانی آفت سے دوچار بہار کے افراد میڈیا کے عتاب کا شکار ہوئے ہیں، ہم یہ نہیں کہتے کہ بہار کی کوئی خبر کسی چینل پر نشر نہیں ہوئی، کسی اخبار میں شائع نہیں ہوئی، بہار کے حالات پر میڈیا نے ہمیں مطلع نہیں کیا، لیکن سوشل میڈیا کا کردار اگر بہار حادثہ کے تناظر میں دیکھا جائے تو الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا پشیماں نظر آئے گا اور ہر ذی شعور فرد اس بات کا فیصلہ کرے گا ، کیا واقعی میڈیا نے حالات کی سنگینی کو عیاں و بیاں کیا ؟ کیا جو کوریج وزیر اعظم کے بیان کو حاصل ہوتی ہے، وہ بہار کے مفلس و نادار انسانوں کو حاصل ہوئی ؟ان سوالات کے جوابات میڈیا کی صورت حال کو واضح کرنے کے لئے کافی ہیں ۔

جو رویہ میڈیا نے اپنایا وہی صورت حال سیاسی گلیاروں کی بھی ہے، یوں تو سیاست میں جذبات کی قدرہوتی ہی نہیں، یہاں تو انسانوں کو چھلنے کے سینکڑوں حربے موجود ہوتے ہیں اور معصوم افراد کے جذبات سے کھیلنا ہی کامیابی کی دلیل سمجھا جاتا ہے، ان گلیاروں میں بھی بہار کی عوام کے لئے ہمدردی کے الفاظ نہیں سنائی پڑے۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو میٹنگ کی توفیق اس وقت ہوئی، جب طوفان اپنے شباب پر پہنچ چکا تھا اور بہت سے افراد ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکے تھے، مرکزی حکومت کے تعاون سے بہار سرکار امداد فراہم کر رہی ہے، حفاظتی دستہ لگا ہوا ہے، بہت سے افراد کو غذا پہنچائی جارہی ہے، مگر آج بھی قلت غذا کی خبریں موصول ہو رہی ہیں، کشتیوں کی کمی کا شکوہ ہورہا ہے، یہ سستی چہ معنی دارد ؟اور اس سے بڑھ کر بے حسی کا عالم کیا ہوگا، بشمولیت وزیر اعظم کسی اہم لیڈر کی طرف سے افسوس، غم یا دکھ کا اظہار تک بھی نہیں ہوا، جانوں کا معاوضہ تو بڑی بات ہے، حالاں کہ فرقہ وارانہ فسادات کی بات کیجئے تو لاشوں کے دام لگتے ہیں، زخموں کی قیمت لگائی جاتی ہے، جذبات خریدے جاتے ہیں اور پل بھر میں معاوضہ کا اعلان کردیا جاتا ہے، ان تمام احوال کوذہن میں رکھا جائے تو احساس ہوتا ہے، انسانیت مرچکی ہے، مطلب پرستی، مفاد پرستی کی حکمرانی ہے، ہر شئے اور ہر معاملہ میں مفاد ہی کو ترجیح دی جاتی ہے، انسانیت کو ترجیح کوئی نہیں دیتا، اگر یقین نہ آئے تو دوسری تصویر دیکھ لیجئے۔

 بی آر ڈی میڈیکل کالج 60 سے زیادہ بچوں کی جانیں گئیں، زندگی کی نیرنگیاں خوبصورتی انہوں نے نہیں دیکھی، کوئی جرم نہیں کیا، لیکن سزا پاگئے اور دل دہلانے والا واقعہ سامنے آیا، یہاں بھی میڈیا کا وہ رویہ سامنے نہیں آیا، جو ہونا چاہئے تھا، وزیر اعلیٰ موت کو فطری ثابت کرنے میں مشغول رہے، محنت جد وجہد کرنے والے ڈاکٹر کفیل کو مستعفی کردیا گیا، حالاں کہ اس سانحہ میں میڈیا ڈاکٹر کفیل کے ساتھ کھڑا نظر آیا اور ان کا دفاع کرتا رہا، لیکن صحیح معنوں میں میڈیا کی جو دلچسپی اس حادثہ میں ہونی چاہئے تھی وہ نظر نہیں آئی اور وزیر اعلی کو الگ ہی دھن سوار تھی، وہ مخالف سیاسی جماعتوں کو اس حادثہ کا ذمہ دار کہہ رہے تھے اور دیگر سیاسی جماعتیں انہیں اس حادثہ کا مجرم گردان رہیں تھیں، اتنے سخت ترین حادثے پر بھی سیاسی مفاد کا غلبہ نظر آیا، اس واقعہ نے ہمارے لیڈروں کے چہروں سے نقاب اتار دیا، ان کے انسانیت محبت کے دعوں کو بے معنی ثابت کردیا، ان کی ہمدردی کو ڈھونگ ظاہر کردیا، ورنہ ضرورت تھی ہر لیڈر مرنے والوں کے غم میں شریک ہوتا، ان کے آنسو پونچھتا اور انہیں ہمت و حوصلہ عطا کرتا۔

 اس کے علاوہ تیسرا واقعہ کھتولی میں پیش آیا، ٹرین پٹری سے اتری گئی، میڈیا کے مطابق 25سے 30 لوگوں کے درمیان لوگ دنیا سے رخصت ہوگئے، سینکڑوں لوگ زخمی ہوگئے، جانچ میں ریلوے کی سستی اور کوتاہی کو حادثہ کی وجہ قرار دیا گیا اور چند افراد کو برطرف کردیا گیا، لیکن میڈیا اس واقعہ کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کر رہا تھا اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے خوبصورت کہانی تخلیق کررہا تھا، تینوں واقعات میں حکومتی عملے کی کوتاہی اور میڈیا کی تخریب کاری موجود ہے، جو ملک کے اہم اجزاء ہیں، ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، بہار میں عام طور سے سیلاب آتا رہتا ہے، پھر اس سے بچاؤ کا بڑے پیمانے پر انتظام کیوں نہیں ؟کیا حکومت لوگوں کی جانوں کی قیمت نہیں سمجھتی ؟وہ محض ووٹ ہیں یا چلتے پھرتے انسان؟  بی آر ڈی کالج میں آکسیجن جیسی اہم شئے کا ختم ہوجانا تصور سے پرے ہے، بعض مریض تو آکسیجن کے بغیر ایک سانس بھی نہیں لے سکتے اور اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات ہے، گورکھپور میں اس حادثہ کا پیش آنا، جو وزیر اعلی کا جائے قیام ہے۔ کیا وزیر اعلیٰ پوری ریاست کا دورہ کرتے رہے اور یہاں تحقیقات کرنا ضروری نہیں سمجھا ؟

 آج بہت سے ایسے chc اور phc ہیں، جو طبیلے بنے ہوئے ہیں، ان پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے اور ریلوے کے نظام کو بھی بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے واقعات رونما نہ ہوں، لوگوں کے قلوب پر غموں کے پہاڑ نہ ٹوٹیں، کسی ماں کو اپنے بچے اور کسی بیوی کو اپنے شوہر کی میت پر آنسوں نہ بہانے پڑے، انسانیت کا خیال کیجئے، ہمدری کو مقدم رکھئے، مفاد پرستی چھوڑئیے، انسانیت کی راہ پر چل کر بھی انتخاب جیتے جاسکتے ہیں اور محبت کو عام کرکے بھی ٹی آر پی بڑھائی جاسکتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ملک خوش حال ہوگا، ترقی یافتہ ہوگا، صدیوں تک آپ کی قربانی کو یاد رکھا جائے گا، لوگ آپ سے محبت کریں گے، دعائیں دیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close