نقطہ نظر

بے پردگی اور بے حیائی مغربی معاشرہ کی نقالی ہے

عبدالعزیز
غیر مسلموں میں پردہ کا رواج یا حیا کا چلن قریب قریب ختم ہوتا جارہا ہے۔ گنے چنے خاندان ہوں گے جن میں پردہ یا حیا کاپاس و لحاظ ہوگا، ورنہ ایک دو فیصد کے شاید ہی کسی کو معلوم ہے کہ پردہ کیا ہے؟ اور حیا کسے کہتے ہیں؟ کیونکہ جو چیز عام ہوتی ہے اسے ہی عام طور پر لوگ اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں۔ عقل و دانش سے کام لیتے ہیں اور نہ ہی فائدے اور نقصانات پر ان کی نظر ہوتی ہے۔ جب کوئی واقعہ یا سانحہ پیش آتا ہے تو ا س کے تدارک کیلئے کوشاں ہوجاتے ہیں اور یہ کوشش ہوتی ہے کہ سخت سے سخت قانون بنا دیا جائے جس سے جرائم میں کمی واقع ہوجائے گی مگر قانون بنتا ہے بگاڑ میں کمی یا واقعات کی شرح میں کمی نہیں آتی ہے بلکہ پہلے کے مقابلے میں بگاڑ بڑھتا جاتا ہے اور واقعات کی رفتار میں تیزی آتی جاتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔
اس وقت مشرقی دنیا میں نہیں مغربی دنیا میں جو جنگ برپا ہے وہ حقیقت میں حیا اور بے حیائی کے درمیان ہے۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے۔ اسلام کا اخلاق حیا ہے۔ اور وہ حدیث بھی اس مضمون پر روشنی ڈالتی ہے جس میں سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’اذا لم تستحی فاصنع ما شئت‘‘ بے حیا باش ہر چہ خواہی کن (جب تجھ میں حیا نہیں تو جو تیرا جی چاہے کر) کیونکہ جب حیا نہ ہوگی تو حیوانی جبلت انسان پر غالب آجائے گی اور حیوانوں جیسی زندگی گزارنا پسند کرے گا، کوئی برائی اس کیلئے نہ برائی رہے گی اور نہ کوئی منکر، منکر رہے گا۔
حیا جیسی چیز کو گہرائی میں اتر کر دیکھا جائے تو حیا بے حیائی کی ضد ہے، اخلاق یا حیاکی ضد بد اخلاقی ہے، حیا انسانیت سکھاتی ہے جبکہ بے حیائی انسان کو حیوانیت کی طرف لے جاتی ہے اور آہستہ آہستہ اچھا خاصہ انسان انسان نما حیوان ہوجاتا ہے۔ وہ اپنی انسانیت سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
جب مغربی ممالک میں پردہ، نقاب یا حجاب پر پابندی عائد کی جاتی ہے تو مشرقی دنیا کے لوگ جو اسلام کی حقیقتوں سے نا آشنا ہیں انھیں ایک طرح سے خوشی ہوتی ہے کہ مغربی دنیا والے ٹھیک کر رہے ہیں کیونکہ اسلام اور مسلمان عورتوں کو چہار دیواری میں بند رکھنا چاہتے ہیں، کھانا بنانے اور بچہ پیدا کرنے کے سوا عورتوں کو کسی کام کا نہیں سمجھتے۔ ایسے لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی ہے کہ حیا، اخلاق کو مغربی دنیا کے لوگ اپنی تہذیب و تمدن پر حملہ سمجھ رہے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی بے حیا، بدچلن عورتیں کہیں کشمکش میں نہ مبتلا ہوجائیں شاخ نازک پر جو مغربی تہذیب کا آشیانہ بنا ہے وہ شکست خوردگی کے احساس میں مبتلا نہ ہوجائے۔ اخلاق باختہ عورتیں جو مردوں کو عیش حیات فراہم کر رہی ہیں وہ عیش و عشرت کی دنیا سے منہ نہ موڑ لیں۔ مرد بیچارا جو زلف گرہ گیر ہوچکا ہے وہ بے حیا عورتیں اس کا ہاتھ نہ چھوڑ دیں اور وہ کہتا پھرے ؂ رقص میں لیلیٰ نہ رہی لیلیٰ کے دیوانے نہ رہے
مسلمانوں کی جدید اور مغرب زدہ خواتین اور خاندانوں میں جو بے حیائی در کر رہی ہے وہ در اصل دین اسلام کی ناواقفیت اور اس کے دور رس نتائج سے لاعلمی کے علاوہ مغرب کی بے حیا اور بد چلن خواتین کی نقالی ہے جو تیزی سے برہنگی اور بے لباسی کی صورت میں جلوہ گر ہے۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے آج سے تقریباً اسی نوے سال پہلے ایک معرکۃ الآرا کتاب پردہ کے نام سے مرتب کی جو 272 صفحات پر مشتمل ہے ۔ مولانا نے پردہ کے مسئلہ پر کتاب مرتب کرنے سے چار سال پہلے اپنے رسالہ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے کئی نمبروں میں ایک سلسلہ مضامین شائع کیا تھا پھر چار سال بعد یعنی 22محرم 1359ء کو ان تمام اجزاء کو یکجا کرکے ضروری اضافوں او ر تشریحات کے ساتھ کتاب ’’پردہ‘‘ مرتب کی۔ ایسی کتب اردو کیا کسی اور زبان میں میری معلومات کی حد تک شائع نہیں ہوئی، جس میں پردہ اور حیا سے متعلق اطمینان بخش مواد اور دلائل اس سلیقہ اور زبان و ادب کی چاشنی کے ساتھ پیش کی گئی ہو کہ قاری کے دل میں ایک ایک بات اترتی چلی جائے اور پڑھنے والا یہ کہے بغیر نہیں رہے ؂
وہ زن لطیف رہ نہیں سکتی جو ہے بے پردہ ۔۔۔سبب ہے کہ نگاہوں کی مار پڑتی ہے
مولانا مودودیؒ نے بے پردگی اور بے حیائی کو مغرب کا سیلاب بتایا اور ان کی بدعقلی اور افراط و تفریط کو تفصیل سے پیش کرتے ہوئے مسلم دنیا پر اس کے بڑھتے ہوئے اثرات کا ذکر کیا:
’’اب ہر صاحب عقل انسان یہ اندازہ کرسکتا ہے کہ جو لوگ ایک طرف مغربی تمدن کی پیروی کرنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف اسلامی نظم معاشرت کے قوانین کو اپنے لئے حجت بناتے ہیں وہ کس قدر سخت فریب میں خود مبتلا ہیں یا دوسروں کو مبتلا کر رہے ہیں۔ اسلامی نظم معاشرت میں تو عورت کیلئے آزادی کی آخری حد یہ ہے کہ حسب ضرورت ہاتھ اور منہ کھول سکے، اور اپنی حاجات کیلئے گھر سے باہر نکل سکے، مگر یہ لوگ آخری حد کو نقطۂ آغاز بناتے ہیں جہاں پہنچ کر اسلام رک جاتا ہے وہاں سے یہ چلنا شروع کرتے ہیں اور یہاں تک بڑھ جاتے ہیں کہ حیا اور شرم بالائے طاق رکھ دی جاتی ہے۔ ہاتھ اور منہ ہی نہیں بلکہ خوبصورت مانگ نکلے ہوئے سر، اور شانوں تک کھلی ہوئی باہیں اور نیم عریاں سینے بھی نگاہوں کے سامنے پیش کر دیئے جاتے ہیں، اور جسم کے باقی ماندہ محاسن کو بھی ایسے باریک کپڑوں میں ملفوف کیا جاتا ہے کہ وہ ہر چیز ان میں سے نظر آسکے جو مردوں کے شہوانی پیاس کو تسکین دے سکتی ہو۔ پھر ان لباسوں اور آرائشوں کے ساتھ محرموں کے سامنے نہیں بلکہ دوستوں کی محفلوں میں بیویوں، بہنوں اور بیٹیوں کو لایا جاتا ہے اور ان کو غیروں کے ساتھ ہنسنے، بولنے، اور کھیلنے میں وہ آزادی بخشی جاتی ہے جو مسلمان عورت اپنے سگے بھائی کے ساتھ بھی نہیں برت سکتی۔ گھر سے نکلنے کی جو اجازت محض ضرورت کی قید اور کامل ستر پوشی و حیا داری کی شرط کے ساتھ دی گئی تھی اس کو جاذب نظر ساڑیوں اور نیم عریاں بلاؤزوں اور بے باک نگاہوں کے ساتھ سڑکون پر پھرنے، پارکوں میں ٹہلنے، ہوٹلوں کے چکر لگانے اور سنیماؤں کی سیر کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے، عورتوں کو خانہ داری کے ما سوا دوسرے امور میں حصہ لینے کی جو مقید اور مشروط آزادی اسلام میں دی گئی تھی اس کو حجت بنایا جاتا ہے۔ اس غرض کیلئے مسلمان عورتیں بھی فرنگی عورتوں کی طرح گھر کی زندگی اور اس کی ذمہ داریوں کو طلاق دے کر سیاسی و معاشی اور عمرانی سرگرمیوں میں ماری ماری پھریں اور عمل کے ہر میدان میں مردوں کے ساتھ دوڑ دھوپ کریں۔
ہندستان میں تو معاملہ یہیں تک ہے۔ مصر، ترکی اور ایران میں سیاسی آزادی رکھنے والے ذہنی غلام اس سے بھی دس قدم آگے نکل گئے ہیں۔ وہاں ’’مسلمان‘‘ عورتیں ٹھیک وہی لباس پہننے لگی ہیں جو یورپین عورت پہنتی ہے تاکہ اصل اور نقل میں کوئی فرق ہی نہ رہے اور اس سے بھی بڑھ کر کمال یہ ہے کہ ترکی خواتین کے فوٹو بار ہا اس ہیئت میں دیکھے گئے ہیں کہ غسل کا لباس پہنے ساحل سمندر پر نہا رہی ہیں۔ وہی لباس جس میں تین چوتھائی جسم برہنہ رہتا ہے اور ایک چوتھائی حصہ اس طرح پوشیدہ ہوتا ہے کہ جسم کے سارے نشیب و فراز سطح لباس پر نمایاں ہوجاتے ہیں‘‘۔
مولانا نے مصر، ترکی اور ایران کی سیاسی آزادی کے ذہنی غلامی کا ذکر کیا ہے۔ان تینوں ملکوں کی صورت حال اس وقت وہ نہیں ہے جو اُس وقت تھی جب یہ کتاب لکھی گئی تھی۔ یہ کتاب مصر، ترکی اور ایران جیسے ملکوں میں بولی جانے والی زبان میں ترجمہ کی گئی۔ صرف اس کتاب کے اثرات ہی ان ملکوں میں نہیں پڑے بلکہ جو لوگ حیا کیلئے لڑ رہے تھے اور بے حیائی کو شکست دینا چاہتے تھے ان کی زبردست جد و جہد اور قربانیوں کے بعد کامیابی ملتی گئی۔ ایران میں جو انقلاب آیا جیسا بھی آیا مگر پردہ کے معاملہ میں عورتوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی گئی، یہاں تک کہ مسلمان خواتین کے علاوہ دیگر مذاہب کی خواتین کو بازاروں اور کھلے عام جگہوں میں بے لباسی کے مظاہرہ کو روک دیا گیا وہ بھی ایک حد تک پردہ کا اہتمام حکومت کے دباؤ یا خوشی سے کرنے لگیں۔ مصر میں اخوان المسلمون کی اسلامی تحریک نے ملک پر ایسا اثر ڈالا کہ مسلمانوں کی اکثریت حیا اور پردہ کی قائل ہوگئی، بے حیائی کو زبردست شکست ہوئی۔ حیا کو کامیابی حاصل ہوئی مگر شکست خوردہ طاقت مغربی دنیا اور مسلم بادشاہوں اور شیخوں کی مدد سے حیا کی طاقت کو مسمار کرنے کی پوری کوشش کی اور عارضی طور پر فرعونیت بظاہر کامیاب نظر آرہی ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ اسے اعتراف شکست کا احساس ستانے لگا ہے۔
بہر حال ابھی بے حیائی کو مکمل شکست نہیں ہوئی ہے مگر آج سے ساٹھ ستر سال والی حالت نہیں ہے۔ الحمدللہ پردہ اور حیا کو ایک لحاظ سے غلبہ حاصل ہے۔ ترکی مسلم ملکوں میں سے ایسا ملک تھا جہاں حیا اور پردہ پر پابندی تھی لیکن غیر معمولی جدوجہد اور قربانیوں کی وجہ سے حیا کو جگہ مل رہی ہے اور بے پردگی کو آہستہ آہستہ ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے پردہ سے پابندی اٹھا دی گئی ہے۔ حیا کی اہمیت خدا کے فضل و کرم سے اجاگر ہورہی ہے، شیطان ایک بار یہاں پھر فوج کی مدد سے حق پر غالب آنا چاہتا تھا مگر عوام کی زبردست طاقت نے مغرب کے اشارے پر شیطانوں اور باغی فوجیوں کو بارکوں میں جانے پر مجبور اور مغلوب کیا، انشاء اللہ اب وہاں بے حیائی آسانی سے اپنی جگہ نہیں بنا سکے گی۔
مولانا مودودیؒ نے پردہ کی بحث کے دو پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے:
’’یہ دورِ جدید کے ’مسلمان‘ کا حال ہے۔اب ہمارے سامنے بحث کے دو پہلو ہیں اور اس کتاب میں انہی دونوں پہلوؤں کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے گا۔
(1 اولاً ہم کو تمام انسانوں کے سامنے، خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، اسلام کے نظام معاشرت کی تشریح کرنی ہے اور یہ بتانا ہے کہ اس نظام میں پردے کے احکام کس لئے دیئے گئے ہیں۔
(2 ثانیاً ہمیں ان دورِ جدید کے ’مسلمانوں‘ کے سامنے قرآن و حدیث کے احکام اور مغربی تمدن و معاشرت کے نظریات و نتائج دونوں ایک دوسرے کے بالمقابل رکھ دینے ہیں تاکہ یہ منافقانہ روش، جو انھوں نے اختیار کر رکھی ہے ختم ہو، اور یہ شریف انسانوں کی طرح دو صورتوں میں سے کوئی ایک صورت اختیار کرلیں، یا تو اسلامی احکام کی پیروی کریں اگر مسلمان رہنا چاہتے ہیں یا اسلام سے قطع تعلق کریں اگر ان کو شرمناک نتائج کو قبول کرنے کیلئے تیار ہوں، جن کی طرف مغربی نظام معاشرت لا محالہ ان کو لے جانے والا ہے‘‘۔
مولانا نے اس حقیقت پر بھی روشنی ڈالی ہے ۔ مشرقی دنیا کے ممالک میں مغربی مبلغین اور مشتہرین کا کیا اثر پڑا:
’’اس فلسفے اور ان نظریات پر اور ان تمدنی اصولوں پر علی وجہ البصیرت ایمان لائے ہیں جن پر مغربی تہذیب و تمدن کی بنا رکھی گئی ہے۔ وہ اسی دماغ سے سوچتے ہیں اور اسی نظر سے زندگی کے مسائل کو دیکھتے ہیں جس سے جدید یورپ کے معماروں نے دیکھا اور سوچا تھا اور وہ خود اپنے اپنے ملکوں کی تمدنی زندگی کو بھی اسی مغربی نقشہ پر تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ عورت کی تعلیم کا منتہائے مقصود ان کے نزدیک واقعی یہی ہے کہ وہ کمانے کی قابلیت بہم پہنچائے اور اس کے ساتھ دل لبھانے کے فنون سے بھی کما حقہ واقف ہو۔ خاندان میں عورت کی صحیح حیثیت ان کے نزدیک در حقیقت یہی ہے کہ وہ مرد کی طرح خاندان کا کمانے والا رکن بنے اور مشترک بجٹ میں اپنا حصہ پورا پورا ادا کرے۔
سوسائٹی میں عورت کا اصل مقام ان کی رائے میں یہی ہے کہ وہ اپنے حسن، اپنی آرائش اور اپنی اداؤں سے اجتماعی زندگی میں ایک عنصر لطیف کا اضافہ کرے، اپنی خوش گفتاری سے دلوں میں حرارت پیدا کرے، اپنی موسیقی سے کانوں میں رس بھر دے، اپنے رقص سے روحوں کو وجد میں لائے اور تھرک تھرک کر اپنے جسم کی ساری خوبیاں آدم کے بیٹوں کو دکھائے تاکہ ان کے دل خوش ہوں، ان کی نگاہیں لذت یاب ہوں اور ان ٹھنڈے خون میں تھوڑی سی گرمی آجائے۔ حیاتِ قومی میں عورت کا کام ان کے خیال میں فی الواقع اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ وہ سوشل ورک کرتی پھرے، میونسپلٹیوں اور کونسلوں میں جائے، کانفرنسوں اور کانگریسوں میں شریک ہو، سیاسی اور تمدنی اور معاشرتی مسائل کو سلجھانے میں اپنا وقت اور دماغ صرف کرے، ورزشوں اور کھیلوں میں حصہ لے، تیراکی اور دوڑ اور کود پھاند اور لمبی لمبی اڑانوں میں ریکارڈ توڑ دے، غرض وہ سب کچھ کرے جو گھر سے باہر ہے اور اس سے کچھ غرض نہ رکھے جو گھر کے اندر ہے۔ اس زندگی کو وہ آئیڈیل زندگی سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک دنیوی ترقی کا یہی راستہ ہے اور اس راستہ پر جانے میں جتنے پرانے اخلاقی نظریات مانع ہیں وہ سب کے سب محض لغو اور سراسر باطل ہیں۔ اس نئی زندگی کیلئے پرانی اخلاقی قدروں Moral Values کو انھوں نے اسی طرح نئی قدروں سے بدل لیا ہے جس طرح یورپ نے بدلا ہے۔ مادی فوائد اور جسمانی لذتیں ان کی نگاہ میں زیادہ بلکہ اصلی قدر و قیمت رکھتی ہیں اور ان کے مقابلہ میں حیا، عصمت، طہارت، اخلاق، ازدواجی زندگی کی وفاداری، نسب کی حفاظت اور اسی قبیل کی دوسری تمام چیزیں نہ صرف یہ کہ بے قدر ہیں بلکہ دقیانوسی و تاریک خیالی کے ڈھکوسلے ہیں جنھیں ختم کئے بغیر ترقی کا قدم آگے نہیں بڑھ سکتا۔
یہ لوگ در اصل دین مغربی کے سچے مومن ہیں اور جس نظریہ پر یہ ایمان لائے ہیں اس کو ان تمام تدبیروں سے جو یورپ میں اس سے پہلے اختیار کی جاچکی ہیں، مشرقی ممالک میں پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔
مختصراً یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ حیااور بے حیائی کی لڑائی پردہ اور بے پردگی کی جنگ، اخلاق اور بداخلاقی کی جنگ حق و باطل کی لڑائی ہے۔ جو لوگ حیا کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں حقیقت میں حق و اسلام کے ساتھ ہیں اور جو اسے چھوڑ دینا پسند کرتے ہیں یا کرچکے ہیں وہ باطل پرستوں کے ساتھ ہیں اور ایک ایسے راستہ پر گامزن ہیں جو جنت کے بجائے جہنم کی طرف کشاں کشاں لئے چلا جارہا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close