نقطہ نظر

تأثرات : مجھے میرا کشمیر لوٹا دو۔۔!!

  عبید طاهر، دوحہ قطر 

 کتنا ڈراؤنا لفظ ہے موت اور کتنا دلربا لفظ ہے زندگی! ایک بار کی اس حیاتِ مختصر کو بھرپور جینے کی خواہش کس کی نہیں ہوتی ؟! کون یہ چاہے گا کہ وہ رب کے اس بیش بہا انعام کو قبر کی تاریکیوں کے حوالے کردے !؟ کس کی خواہش ہوگی کہ گھر پہ لگی اسکے نام کی خوبصورت تختی کو لوحِ مزار میں تبدیل کر دیا جائے۔ زندگی کی امنگ کس دل میں نہیں ہوتی ؟ جینے کی ترنگ تو رگوں میں لہو بن کے دوڑتی ہے، ہر شخص اپنے ارمانوں کو حقیقت بنتے دیکھنا چاہتا ہے ، ہر ذی شعور اپنے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈتا ہے، اس کو حاصل کرنے کے جتن کرتا ہے۔۔ پھر کیا ہے کہ میرے وطن کی زندگی چھینی جارہی ہے؟ پھر کیا ہے کہ میرے کشمیر کے مستقبل کو تاریک کیا جارہا ہے؟ پھر کیا ہے کہ میرے دیس کے اسپتالوں کو آباد اور اسکے ہنستے کھلکھلاتے بازاروں اور محلوں کو ویران کیا جارہا ہے ؟! پھر کیا ہے کہ معصوموں کے قطرۂ خوں سے سبزے کو لالہ زار کیا جارہا ہے؟ کیا زندگی کی چاہ کم ہوگئی ہے ؟ کیا موت کا بدصورت چہرا اچانک پرکشش ہوگیا ہے یا زندگی کو جینے کی خواہش مہنگی پڑ رہی ہے؟ مجھے سڑکوں پہ نوجوانوں کا خون نہیں میرے وطن کا اَن سِلا ،ادھ کُھلا ، رِستا ہوا زخم دکھائی دیتا ہے ، مجھے بینائی سے محروم ہوجانے والوں کی آنکھوں میں جموں وکشمیر کا مستقبل ڈوبتا نظر آرہا ہے، مجھے اپاہج ہونے والے جوانوں میں وطن کی لنگڑاہٹ دکھائی دیتی ہے، مجھے لگتا ہے کہ چند سوداگروں نے میرے پیاروں کی زندگیوں کا سودا کرلیا ہے اور ان کی معصومیت کو اپنے مذموم ارادوں کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ او موت کے بے رحم تاجرو! تم بھی گوست پوست کے انسان ہو، ایک لمحے کو سوچو تو سہی….کون ہے جو جانے والوں کی جگہ لے گا؟ کون ہے جو ان کے ضعیف والدین کا سہارا بنے گا ؟کون ہے جو آنکھوں کا نذرانہ دینے والوں کو بتائےگا کہ آؤ دیکھو! کِھلتے ہوئے زعفران کے کھیت جنت نظیر بن گئے ہیں؟ سیبوں کے درختوں پہ پھول آگئے ہیں، اخروٹ کا چھلکا ٹوٹنے لگا ہے، بادام کے خوشے بھر گئے ہیں، وہ دیکھو پہاڑوں کی چوٹیوں پہ سردی کی پہلی سفید پری اتری ہے.. ذرا دیکھو تو سورج کی پہلی کرن اسکے گالوں کیسے تھپکیاں دے رہی ہے…میرا بھائی اب ان مناظر کو کیسے دیکھے گا؟؟ کون ہے جو کل کے طوفانی بلے باز کو آج اپاہج ہونے کے بعد اپنی ٹیم میں شامل کرے گا؟ کون ہے جو اس کی حسرتوں کا بوجھ اٹھائے گا؟ میں یہ الم کس کے نام لکھوں ؟ میں یہ آنسو کس کے دامن سے پونچھوں؟ میں یہ بیاضِ درد کسے دکھاؤں؟ ان زخموں کا مداوا کہاں ہے؟ اس درد کا درماں کون کرے گا؟ یہ روح چھلنی ہے…یہ دل دو نیم ہے..یہ سوچ لخت لخت ہے…یہ دماغ پارہ پارہ ہے…ایک شورِماتم ہے کہ تھمتا ہی نہیں…ایک نالۂ غم ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں….ایک چشمۂ خون ہے کہ رکتا ہی نہیں.. مجھے بتاؤ کہ میں یہ نوحے کس کے نام لکھوں؟ مجھے بتاؤ کہ یہ المیے کس سے منسوب کروں..!؟ اے جنت کے خوابوں کے سوداگرو! میری قوم پر رحم کرو،،مجھے میرا کشمیر لوٹا دو،،مجھے میرے نوجوان واپس کر دو،، مجھ سے میری ڈل جھیل کی متانت بھری خوبصورتی نہ چھینو،، میرے نشاط و شالیمار کا حسن میلا نہ کرو.. میرے گلمرگ کی فضاؤں کو پابند سلاسل نہ کرو.. میرے پہلگام کے دودھیا دریا کو خون آلود نہ کرو… میری مسجدوں کو ویراں نہ کرو..میری خانقاہوں کی رونقیں نہ چھینو … میرے مندر و گردوارے کو سنسان نہ کرو…. مجھ پہ میرے چناروں کا سایہ رہنے دو،، میری عطربیز ہواؤں کو زہرآلود نہ کرو….میں امن کا پیامبر ہوں میری محبت میرے پاس رہنے دو،، میرے کشمیر کو زخمی نہ کرو،، میرے جوانوں کو لہولہان نہ کرو ،، ابھی ان کو وطن کا نام روشن کرنا ہے، ابھی ان کو زندگی کی انگڑائیوں کا لطف لینا ہے، ابھی ان کو ماں کے دودھ کا قرض چکانا ہے،، ابھی ان کو ابّا کی عرق ریزی کا صلہ دینا ہے،، ابھی ان کو اس دنیا میں اپنی ایک دنیا بسانی ہے،اسکو سنوارنا ہے، اسکو جینا ہے، اسکے ماتھے پہ خوشیوں کا جھومر لٹکانا ہے ، ابھی بہت کچھ باقی ہے،، او موت کی سیج پہ بیٹھ کے تماشا دیکھنے والو! یاد رکھو موت تمہاری بھی سگی نہیں ، ان غنچوں کو کھلنے دو، ان کلیوں کو مہکنے دو ، ان پھولوں کو مسکرانے دو، ان پرندوں کو چہکنے دو،،، اس خطۂ جنت نظیر کو جہنم نہ بناؤ۔ میرے شہروں کو نہ جلاؤ ، میرے لوگوں کو نہ مرواؤ،، میری سانسوں کو چلنے دو….میرے پیاروں کو جینے دو…!! تمہیں کیا پتہ کہ لاڈ و پیار سے پالے ہوئے ننھے فرشتے کی میت کتنی وزنی ہوتی ہے! تمہیں کیا پتہ جوان لاش کو قبر میں اتارنا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے! تمہیں کیا پتہ کہ ایک بھائی کے ساتھ ہی اس کی بہن بھی مرجاتی ہے! تمیں کیا خبر کہ جانے والا اپنے ساتھ ایک جہان لے جاتا ہے، ایک دنیا اجاڑ جاتا ہے۔ اے خود ساختہ قومی رہنماؤ !! صحیح غلط تمہیں مبارک،،اچھا برا تم جانو،، سچ اور جھوٹ تم سمجھو… میں تو بس کشمیر کا ایک لاچار و بے بس شہری ہوں..میرا دامنِ طلب بہت چھوٹا ہے…میری بس ایک خواہش ہے…سنو ! میں زندہ رہنا چاہتا ہوں، اپنے ہم جولیوں کے ساتھ، اپنے بھائیوں کے ساتھ، اپنے کشمیر کے ساتھ،،،، بس اتنی سی خواہش ہے… خدا را بس کرو ،، میرے زخموں کو ہوا نہ دو، میرے خون پہ جاگیریں نہ بناؤ،، میرے وجود کی تجارت نہ کرو..میرے وطن کا سودا نہ کرو….. میرا امن، میری محبت، میرا کشمیر مجھے لوٹا دو۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عبید طاہر

عبید طاہر ہندوستان کی معروف دینی دانش گاہ ندوۃ العلماء سے فراغت یافتہ ہیں. قطر ریڈیو سے وابستہ ہیں جہاں وہ بہ حیثیت ترتیب کار، پیش کاراور ہدایت کار اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں.

متعلقہ

Close