نقطہ نظر

تصویر کے دورخ

رفیع الدین حنیف قاسمی

دنیادنیئہ کی اندھی ہوس، حب جاہ، حب مال نے انسانیت کو انسانی لبادے سے نکال کر جانوروں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے، انسان کے لئے پیسہ اور شہرت اس کی زندگی کامحور ہوچکا ہے، اسی محور کے ارد گرد ساری دنیا چکر کاٹ رہی ہے، خاندان، رشتہ داری،محبت پیار، الفت، ایک دوسرکے دکھ درد کو پاٹنے کا عمل یہ قصہ پارینہ بن چکاہے، مذہب بھی ایک انسان کے لئے صرف ایک نشان بن چکا ہے، مذہب پر حقیقت میں عمل سے انسانیت کوری ہوچکی ہے، مذاہب روحانیت کی تعلیم دیتے ہیں، انسانیت کے ظاہری ٹھاٹ بھاٹ، ظاہری چمک دمک، عیش وطرب کا سامان نہیں کرتے، یہ اس کی روح کی تسکین اور اسکی قلبی سکون کا ذریعہ ہوتے ہیں، رب سے تعلقات کی استواری، مذہب کے دائرے میں رہ کر اپنے آپ کو ایک حقیقی انسان بنانا، دوسروں کا احترام، دکھ درد میں شرکت، ہر کی پاسداری، حقوق کی ادائیگی، اذیت رسانی سے اجتناب اس کی تعلیم مذاہب ہی دیتے ہیں، اللہ عزوجل نے انسان کو دو خانوں میں بانٹا ہے، ایک کمزوراور ناتواں جنس یعنی عورتوں بنائی ہے، نہایت نرم ونازک، نہایت گذاز، پھول کی پھنکڑی کے مانند کو عورت کو سجایا ہے، یہ آبگینے ہیں، یہ زیور ہیں، یہ قیمتی جواہرات ہیں، ان کو سر بازار نہیں لایاجاتا،اس کے اندر نسوانیت اور خوبصورتی اور حسن رکھاہے، اس کے بالمقابل مرد کو نہایت طاقتور، مصاعب ومتاعب کو جھلینے والا، عورت کا رکھوالا، گھر کا نگہبان، قوام بنایا ہے، ایک ملک کے دو حاکم نہیں ہوسکتے، ایک گھر کے دو حاکم نہیں ہوسکتے، مردحاکم ہے، عورت اور بچہ گھر کی رعایا ہے، مرد خادم ہے، عورت مخدوم ہے، محترم، قابل احترام ہے، یہ شمع محفل نہیں یہ شمع خانہ ہے، اس کی روشنی گھر کوجگمگاتی ہے، گھر کو رونق بخشتی ہے، عورت کے بغیر گھر کا وجود ہی نہیں ہوتا، عورت گھر کی تکمیل ہوتی ہے، بچوں کی ماں ہوتی ہے، ممتا کے جذبہ سے بھری ہوتی ہے، عورت بیوی ہوتی ہے، شوہر کے لئے تسکین اور راحت کا سامان ہوتی ہے، عورت بہن ہوتی ہے، بھائی کے دکھ درد کی شریک کار ہوتی ہے، عورت بہو ہوتی ہے، گھر کی رکھوالی ہوتی ہے، عورت اپنے ہر کردار میں پاکیزہ، صاف ستھری شبیہ کی حامل ہوتی ہے، یہ انسانیت کی مشین ہے، یہ انسانیت جیسا اہم پروڈکٹ دنیا کو فراہم کرتی ہے، یہ دنیا کے وجود کا ذریعہ ہے، یہ نسل ِ انسانی کے بقا اورنشو ونما کا ذریعہ ہے، انسانیت کے کے پھلنے پھولنے کا ذریعہ ہے، یہ درون خانہ ہی اپنے خدمات کو صحیح انجام دیتی ہے تو بہن، بیٹی، ماں بیوی، بہو جیسے القاب سے نوازا جاتاہے، یہ اپنے ہر کردار میں ایک قیمتی جوہر ہے، یہ بہن کی شکل میں، بیٹی کی شکل میں، ماں کی شکل میں، بیوی کی شکل میں بہو کی شکل میں ہر شکل میں جب اپنے خدمات کو تن دہی کیساتھ انجام دہی میں لگی رہتی ہے تو اس کی وجہ سے دنیا گل گلزار بن جاتی ہے، جنت کا نمونہ پیش کرنے لگتی ہے، یہ دنیا کا دستور ہے، یہ دنیا کا قانون ہے، حقیقت کے آئینہ میں دیکھا جائے تو کڑوی حقیقت ہی سچ نظر آئے گی، مغربی تہذیب کی حواس باختگی، بے جا شہوت رانی، بے محابا بے تحاشا عریانیت، سفاکیت، نسوانیت کی قاتل، عورت کے وجود کی ملیامیٹ کرنے والی سے صرف نظر کرتے ہوئے، حقیقت پسندی سے جائزہ لیاجائے توعورت کایہ کردار گھر میں بہتر اور اچھا ہوتا ہے، عورت کے لئے عورت کی مناسبت جو کام ہیں، جو اس کے پردے اور دائرے میں انجام دیئے جاتے ہیں، وہ اس کے لئے کے لئے بہتر ہوسکتے ہیں، عورت بالکل اپنے دائرہ کار سے نکل جائے وہ لوگوں کی حواس باختگی اور اور عیاشی کا سامان بن جائے، وہ نسوانیت کے خول سے نکل جائے اس کی اجازت کوئی دین اورمذہب بالکل نہیں دیتا۔

ابھی آج بتاریخ ۱؍جولائی، ۲۰۱۹ کے اخبار میں یہ تصویر کے دو رخ دیکھنے کو ملے، عجیب دنیا ہے، ایک لڑکی زائرہ وسیم فلمی دنیا میں قدم رکھتی ہے، وہاں سے وہ شہرت کی آخری بلندیوں پر پہنچ جاتی ہے، پھر اسکے بعد وہ لڑکی اپنے فلمی کریئر کو خیر آبادکہنے کی بات کہتی ہے، جس کی وجہ وہ بذات خود یہ بتاتی ہے کہ اسے شہرت وعزت تو اس میدان سے بہت ملی، لوگوں کی پذیرائی تو بہت حاصل ہوئی ؛ لیکن دل کی تسکین کا سامان اسے حاصل نہ ہوسکا، اس کاایمان اور ایقان برباد ہوگیا، اس کے اس نجی فیصلہ کی پیچھے ہر شخص کو سازش کی بو نظر آتی ہے، اس پر سارامیڈیا واویلہ مچاتا ہے، ہنگامہ کرتاہے، وہی دوسری طرف ایک مسلمان خاتون ایم مغربی بنگال نصرت جہاں روحی ہے، جوکہ درحقیقت ایک فلمی ایکٹر ہے، جو اپنے پہناوے اور رہن سہن اور غیرمذہبی رسومات کے اختیار میں اپنے آپ کو آزاد بتاتی ہے، ایک غیر مذہب شخص سے شادی رچاتی ہے، اس پر اس کی پیٹھ تھپتھپائی جاتی ہے، اس کو اس کی زندگی کا نجی فیصلہ، اس کی آزادی، اس کی خود اختیاری کہا جاتا ہے، اس کی تعریف وتوصیف کی جاتی ہے، انسانیت کے کام، مذہبی روادری کے کام اپنے مذہب کو اختیار کرنے کے ساتھ بھی انجام دیئے جاسکتے ہیں، اس کے لئے مذہب کے خول سے نکل جانا کسی بھی مذہب والوں کے لئے ناپسندیدہ شمار کیا جاتا ہے۔

بات در اصل یہ ہے کہ اسلام ایک کامل ومکمل اور فطرت سے ہم آہنگ دین ہے، اس کی تعلیمات زندگی کے ہر شعبہ، اور کارگاہِ حیات کے ہر گوشہ کو شامل ہیں، اس میں کمی اور کوتا ہی نہیں ہے، اگر روشنی اس بات کانا م ہے کہ عورت اپنی نسوانیت سے باہر نکل جائے، عورت اپنی عزت وعصمت کو سر بازار نیلام کرے، ناچے تھرکے اور لوگوں کی شہوت رانی اور جنسی تسکین کا سامان بنے تو یہ جدت پسندوں کے یہاں روشنی تو ہوسکتی ہے، لیکن حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ در اصل تاریکی ہے، اندھیرا ہے، ظلمت ہے، یہ ایسے ہی ہوا کہ جھوٹ، دھوکہ، بغاوت، قتل وخون، کشت وغارت گردی، بے جا وناحق لوگوں کے مال کو لوٹ لینا، دھونس اور دغابازی، سٹہ بازی، بٹہ بازی، شراب نوشی، عصمت دری کا نام روشنی رکھ لیا جائے، کوئی شخص اس کو روشنی نہیں کہے گا، یہ در اصل تاریکی ہے، ظلمت ہے، اندھیرا ہے، روشنی اس کانام ہے عورت اپنے ماں ہونے کو کردار کو نبھائے، اپنے بیوی ہونے کے کردار کو خوبصورتی سے اداکرے، بیٹی اور بہو کی شکل میں خاندان کا نام روشن کرے، روشنی یہ ہے کہ دنیاسے جھوٹ، دھوکہ دہی، دغابازی، رشوت خوری، قتل وغارت گری، شراب نوشی، عریانیت، عصمت دری، دست درازی، قتل ناحق ان جیسے تمام جرائم کا خاتمہ ہوجائے، دنیا امن وامان کی آماجگاہ بن جائے، تاریخ اسلام میں وہ دور بھی گذار ہے کہ جس میں صنعا ء سے حضرت موت ایک عورت تن تنہا زیورات سے لدے ہوئے جاتی تھیں، اس کو چھیڑ چھاڑ کرنے والے کوئی نہیں ملتا تھا، یہاں تو صرف انسانیت کو ذاتیات، مذہبی حدبندیوں، اپنی انا کی تسکین کے خول میں ایسا بندھ گیاکہ کسی ایک راستہ سے ایک نہتے آدمی کا گذرنا نہایت مشکل اور دشوار کن ہوچکاہے۔

عورت کو تو سر بازار لوٹ لیا جاتا ہے، اسکی عصمت دری کی جاتی ہے، اس کو انسانیت کے خول میں نظر آنے والے درندے ہر طرف سے گھیر اس کے ساتھ حیوانیت کا سا سلوک کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں، عورت کا احترام اورتقدس ختم ہوچکا،وہ شمع محفل تو ضرور ہے، لیکن لوگوں کے دلوں میں اس کا حترام اور تقدس نہیں رہا، ہوسکتا ہے بعض عورتیں اس میں ہی اپنی تسکین کا سامان پاتی ہوں، لیکن عورت کی منزل مرد کی ہوس رانی اور شہوانی جذبات کی تکمیل نہیں ہے، وہ ماں ہے، وہ بیوی ہے، وہ بیٹی ہے، وہ بہن ہے، وہ گھر کی قابل احترام بہوہے، سب عورتوں کو اپنی ہوسناکی کا سامان اور اپنی تعیش پرستی کا کھلوناتوضر ور سمجھتے ہیں، اور اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ عورت کو گھر کی چہار دیواری میں محدود کر کے رکھ دیا جائے، وہ خود وہ بھی اپنی ماں، بیوی، بیٹی اور بہن کو آفسوں میں بھیجتے ہیں، لیکن کیا یہ لوگ یہ گواراہ کرسکتے ہیں، ان کی ماں، بیوی، بہن اور بیٹی اور بہن کے اوپر کوئی نظر غلط ڈالتے، جس کے اندر بھی انسانیت کی ذری بھی رمق باقی ہو، وہ ہرگز نہیں چاہے کہ اس کی ماں، بیٹی، بہن، بیوی اور بہن کے ساتھ یہ سلوک ہو، اگر وہ واقعۃ مرد ہے تو وہ غیرت میں آپے سے باہر ہوجائے گی، وہ اپنی عصمت وعفت کے تحفظ کے لئے جان کی بازی لگانے سے کترائے اس سے بھی دریغ نہیں کرے گا، وہ اپنی ہر قسم کی طاقت وقوت اس بات پر صرف کرے گا کہ اپنی عزت وعصمت کا تحفظ کیا جائے، ’’می ٹو‘‘ کے حقیقت جب واشگاف ہوئی، انسانیت کی شکل میں بازاروں میں بیٹھے، درندوں کی حقیقت واشگاف ہوگئی، جو عورت سر بازار لا کر عورت کے احترام کی بات کرتی ہیں، اسکے پردہ نشین ہونے، اس کے مردوں سے میل جول کو قدامت پسندی شمار کرتے ہیں، اس وقت ہر عورت کا منہ کھل گیا، فلمی دنیا کی ہر عورت کے ہالی ووڈ، ٹالی ووڈ ہر جگہ پر عورتیں یہ کہنے پر مجبور ہوگئیں، جب تک وہ عصمت وعفت کو نیلام نہیں کرتیں، ان کی ترقی کی راہیں مسدود ہیں، حقیقت چھپانے سے نہیں چھپتی، تاریکی کا نام روشنی رکھ دینے سے حقیقت بدل نہیں جاتی ہے، تاریکی ظلمت اور نور اور روشنی کے درمیان تضاد ہے، دونوں یکجا نہیں ہوسکتے ہیں، جھوٹ جھوٹ ہے، سچ سچ ہے، تاریکی تاریکی ہے، نور نور ہے، خواہ ہر شخص دنیا میں اس بات کا قائل ہوجائے کہ تاریکی روشنی ہے اور روشنی تاریکی ہے، اس سے حقیقت بدل نہیں جاتی، لوگ حقیقت پسندی سے جی چرانے لگے، پیٹ اوراس کے اطراف واکناف کی شہوت رانی نے انسانیت کوانسانیت کے خول سے نکال کر بستیوں میں جنگل کا ساساماں پیدا کردیا۔

ہر طرف جرائم، رشوت خوری، دغابازی، دھوکہ دہی، فراڈ، لوگوں کے مالوں کو ہتھیا لینا، بغیرمحنت کے غریبوں کے خون پسینے سے کمائے ہوئے پیسے پر قبضہ جمالینا، خوبصورت اسکیموں کے نام سے غریبوں کا خون چوسنا یہ موجودہ دور کی جدت پسندی کی حقیقت ہے، تعلیم کو تجارت بنادیا، پیشہ تعلیم جیسا اہم شعبہ تجارت کی آماجگاہ بن گیا، استاذ اور شاگرد کا رشتہ باقی وبرقرار نہیں رہا، مادیت پرستی کاذہنیت پر بھوت سوار ہوگیا، ڈاکٹر قصاب بن گئے، اپنی پیشہ میں انسانیت کا احترام، تقدس، انسانیت کے تئے درد وکسک جو ڈاکٹر کا وصف خاص تھا، مریض کی شفایابی ہدف اخیر ہوا کرتاتھا،انسانیت مرجائے لیکن پہلے ان کی منہ مانگی فیس دے دی جائے، یہ اسلئے بھی ہے کہ انہوں نے اسی شعبہ تعلیم سے تعلیم پائے جہاں تعلیم در اصل تجارت ہے۔ ایسابھی نہیں ہے کہ سارے اسی انسانیت کے وصف سے عاری ہوچکے ہیں، کچھ خال خال ایسے اساتذہ اور ماہر طبیب ہیں جو انسانیت کے ساتھ ہم دردی رکھتے ہیں، انسانیت کے کام آتے ہیں، بڑے بڑے امراض کا انسانیت کے لئے علاج کرتے ہی۔

لیکن زندگی ہر پیشہ اور شعبہ حیات کے ہر لمحہ میں انسانیت کی ضرورت ہے۔ عورت نہ انسانیت کے خول سے باہر نکلے، نہ مرداپنے انسانیت کو کھودے، معاشرہ میں سچ، وعدہ وفائی، شرافت، احترام وتقدس کے جذبات باقی رہیں۔ دلوں میں خوف خدا پیدا کیا جائے، وہ عظیم ہستی جو سب کی خالق ومالک ہے، جس کے زیر دست ساری انسانیت ہے، جو دنیا کا سارا نظام چلاتا ہے، جس کے قبضہ قدرت میں رات ودن کا بدلنا، چاند وسورج کا نکلنا، موسموں کی تبدیلی، کھیت وکھلیان، ہریانی، غلے اور دانے، میوے وباغات اور بارشوں کا ہونا، جس کے دست قدرت یہ انسانیت کی جان ہے، یہ احساس اللہ عزوجل نے ہر انسان میں رکھا ہے۔ یہ بات ہر وقت پیش نظر رکھی جائے اور انسانیت کے لئے جینا اور مرنا سیکھاجائے، جس کی تعلیم حقیقت سے تعلق رکھنے والے تمام مذاہب دیتے ہیں۔ اللہ عزوجل ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا کرے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close