ملی مسائلنقطہ نظر

تقسیم درتقسیم کا تسلسل

آج  خیر امت بدتر امت سے تبدیل ہوگئی ہے۔

ابوفہد

ابھی حال ہی میں یہ واقعہ رونما ہوا کہ صدسالہ عرسِ رضوی کے موقع پرمنتظمین عرس کی اعلیٰ کمان کی طرف سے حضرت معین الدین چشتی اجمیریؒ کے مزار پرعام سنی مسلمانوں کوحاضری دینے اور زیارت کرنےسےمنع کردیاگیا تھا۔ بعد میں جب چاروں طرف سے ممانعت کے اس فرمان کی مخالفت سامنے آئی تو وضاحتی بیان بھی جاری ہوا، جس میں پہلے بیان کی نفی کی گئی۔تاہم نفی کے بعد بھی اختلافات اور ایک دوسرے کے خلاف الزامات کا سلسلہ ہنو زجاری ہے۔ سر دست ہم اس کو صحیح یا غلط کے حوالے سے نہیں دیکھ رہے ہیں، البتہ اِس حوالے سے ضرور دیکھ رہے ہیں کہ امت میں ایک اور بڑی تقسیم کی صف بندی ہورہی ہے۔

اس سے پہلے امت کے ایک او ر بڑے دھڑے میں تقسیم عمل میں آچکی ہے، میری مراد تبلیغی جماعت سے ہے۔ اس جماعت کی بنیاد خالص للٰہیت پر رکھی گئی تھی ،ملکی وعالمی سیاست سے یہ اتنی ہی دور تھی اور اب بھی ہے جتنا کرۂ ارضی کے دو کنارےایک دوسرے سے دور ہیں،حد تو یہ ہے کہ دین اسلام کو انتظامی سیاست سے اگر تھوڑا بہت واسطہ ہوسکتاہے ، اس جماعت میں اس کا بھی کچھ گزر نہ تھا،شاید اس خوف سے کہ سیاست اچھی بھلی چیزوں، افکار اور تحریکات کو بہت جلد پراگندہ کردیتی ہے، سیاست بڑی آسانی سے دوسروں کو اپنے رنگ میں رنگ لیتی ہےجبکہ وہ خود غیر کا رنگ جلدی قبول نہیں کرتی۔ مستزاد برآں یہ کہ اس جماعت کا دائرۂ عمل بہت محدود تھا۔ اس محدودیت کا تعلق زمینی رقبے سے نہیں ہے بلکہ دین کی تشریح و تبلیغ سے ہے، ورنہ زمین کے لحاظ سے کرۂ ارضی کا جتنا بڑا رقبہ اس جماعت کے تصرفات میں ہے اتنا بڑا رقبہ مسلمانوں کی کسی اور دینی جماعت کو حاصل نہیں ، آج بھی نہیں ہے۔مسلمانوں کی اکثر جماعتیں علاقوں اور مسلکوں میں سمٹی ہوئی ہیں۔اور اِس سے بھی آگے کی جو چیز ہے اور جس نے اس جماعت کو خصوصیت عطا کردی تھی وہ عدم فرقہ واریت تھی۔اس جماعت نےعقیدے کے باب میں کلمۂ شہادت اور عمل کے میدان میںنماز کی تلقین وعوت کے نام پر اپنی پہچان بنائی، اس نے جانتے بوجھتے کبھی بھی فرقہ واریت کو نہ ہوا دی اور نہ ہی خود کو ایک فرقے کی حیثیت سے متعارف کرانے کی کوئ کوشش کی۔ کمزوریاں اپنی جگہ مگر یہ اس جماعت کی چند بڑی بڑی خصوصیات ہیں اور جس جماعت میں یہ خصوصیات ہوں اس میں شیطان کو سیندھ لگانے کا موقع مشکل ہی سے مل سکتا ہے۔ مگرنتیجہ ہم سب کی آنکھوں نے دیکھ لیا۔ ابھی تو اس جماعت نے اپنے سوسال بھی پورے نہیں کئے ہیں اور تقسیم عمل میں آگئی۔اندرونی انتشار نے اس جماعت کی جامعیت کو نگل لیا اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے دولخت ہوگئی۔سیاست سے دوری بنائے رکھنا بھی کچھ کام نہیں آیا اور للہیت و درویشی بھی منہ تکتی رہ گئی۔

اس سے اور پیچھے چلے جائیں تو مسلم پرسنل لا بورڈ جو ہندی مسلمانوں کا سب سے بڑا متحدہ پلیٹ فارم تھا وہ بھی تقسیم ہوا۔اور نہ صرف تقسیم ہوا بلکہ تین حصوں میں بکھر گیا۔اسے بھی اندرونی ضربوں نے ہی مارا۔ جنہوں نے الگ ہوکر اپنے اپنے پرسنل لاء بنائے وہ نہ صرف اس کے لئے ذمہ دار ہیں کہ انہوں نے جان بوجھ کر پرسنل لا کو تقسیم کے عمل سے گزارا ، وہ ساتھ ہی اس کے لئے بھی مجرم قرار پائیں گے کہ خود انہوں نے اپنے الگ قائم کردہ پلیٹ فارم کو مضبوط نہیں کیا اور اس پلیٹ فارم سے قوم وملت کا تو کیا بھلا کرتے خود اپنا اور اپنے مکتبۂ فکر کا بھی کچھ بھلا نہیں کیا۔ وہ ہنوز عضو معطل کی طرح پڑے ہوئے ہیں۔ اگرانہیں اسی طرح غیر متحرک رہنا تھا تو الگ سے ایک پلیٹ فارم قائم کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اگر انہیں اتفاق نہیں تھا تو الگ ہوجاتے۔ مگر بات یہ بھی ہےکہ وہ مسلمان ہی کیا جو مجرمانہ عمل اور کردار کے بغیر آگے بڑھ سکے۔

اس سے قبل جمعیۃ العلماء بھی تقسیم کے عمل سے گزرچکی ہے۔ یہ بھی خاندانی چشمک کا شکار ہوئی۔ اس کے دونوں دھڑوں کی فعالیت، کردار اورملکی سطح پر یک گونہ سیاسی استحکام اپنی جگہ مگر یہ تقسیم توسیع پسندانہ عزائم کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ نجی تنازعات اور آپسی رسہ کشی کا نتیجہ تھی۔ اور اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست ہےکہ ملی کاموں کو خاندان واد کی سطح پر آگے بڑھانا خوشگوار نتائج پیدا نہیں کرتا۔

اس سے تھوڑا اور پیچھے جائیں تو ایک اور باوقار تنظیم یعنی جماعت اسلامی کی تقسیم ہمیں ملتی ہے۔اس کو تقسیمِ وطن نے سہہ لخت کردیا اور نتیجے میں اس کی فعالیت متاثر ہوئی۔ اگر یہ غیرمتوقع تقسیم عمل میں نہ آتی تو یہ امت کو بہت بڑا پلیٹ فارم دے سکتی تھی۔ ابھی اس کے ابتدائی ایام تھے کہ کئی معزز شخصیات اس سے الگ ہوگئیں۔ وجہ جو بھی رہی ہو اورخامی جس کسی کی بھی رہی ہو مگر یہ کہ جماعت کی کارکردگی اور شبیہ اس سے خاصی متاثر ہوئی۔ اسی ابتدائی زمانے میں اس کے بطن سے تنظیم اسلامی برآمد ہوئی ۔ گرچہ یہ جماعت کی تقسیم نہیں ہے مگر یہ کہ دو متوازی دھارے پیدا ہوئے اور آپ جانتے ہیں کہ جو بات وحدت میں ہے وہ متوازی طاقت کھڑی کردینے میں نہیں ہے۔

اس سے بھی اور پیچھے جائیں تو از ہر ہند تقسیم ہوا ۔ اور تعلیمی میدان میں ہندوستان کا سب سے قابل قدر اور وسیع پلیٹ فارم آپسی ناچاقی کا شکار ہوا۔ اس ادارے نے بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کے عزم سے تقویت پائی تھی مگر اندرونی خطرات کی زَد برداشت نہ کرسکا۔ البتہ یہاں نتیجہ ذرا مختلف بھی ہے اور وہ اس طرح کہ اس تقسیم نے کسی بڑے خلفشار کو جنم نہیں دیا اور تقسیم کے بعد دونوں حصوں کی فعالیت اپنے اپنے حدود میں بحال رہی۔

جانے کو تو مزید آگےبھی جاسکتے ہیں کہ تاریخ کو اس حوالے سے تنگ دامانی کا شکوہ ہرگز نہیں۔ یہ ساری تقسیم جو اوپر بیان کی گئی یہ تو زیادہ تر مذہبی تقسیم تھی،سیاسی سطح پر امت میں جو تقسیم ہوئی ہے یا ہورہی ہے وہ اس سے بہت زیادہ بھیانک ہے۔سیاسی لیڈروں نے تو زمینیں بھی بانٹ لیں اور قبر کے برابر دو دو گز زمین پر اپنی اپنی بادشاہت قائم کرکے خوش ہوگئے۔یہ درست ہے کہ سیاسی زمین بیرونی مداخلت سے تقسیم ہوئی مگر یہ بھی درست ہے کہ سیاسی لیڈروں نے محض اپنی نادانی اور ہٹ دھرمی میں دوبھائیوں کے درمیان سرحدی لکیریں کھینچ دیں۔ اور امت کوسرحدوں میں تقسیم کیا۔ سرحدوں میں تقسیم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سرحد کے دونوں طرف کے افراد کسی متحدہ کاز کے لیے چاہ کر بھی مجتمع نہیں ہوسکتے ۔کیونکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ دونوں کی اسٹریٹجک شراکت داری مختلف ہوگئی ۔انگریزوں کا نوآبادیاتی نظام جیسے جیسے اپنے دامن کو سمیٹتا گیا اپنے زیر تسلط ممالک اور قوموں کو تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزارتا چلا گیا۔ اور بدقسمتی یہ بھی رہی کہ اس وقت کی قیادت اس تقسیم پر راضی بھی ہوئی ۔ کیونکہ جب تقسیم ہوتی ہے تو حصے بٹتے ہیں اور حصہ لینا کسے برا لگتا ہے؟ اب چاہے وہ ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو اور قبر کے برابر دوگز زمین ہی کیوں نہ ہو۔

ویسےتقسیم کا عمل تو جاری وساری رہتا ہے، تنظیمیں، ادارے اور حکومتیں بنتی بگڑتی رہتی ہیں اور یہ عمل دنیا کی ہر قوم میں پایا جاتا ہے ، قوموں کے عروج وزوال کی کہانی انسانی تاریخ کے سینے میں محفوظ ہے،مگر یہ کہ ایسا نہیں ہوتا جیسا امت کے ساتھ ہورہا ہے۔ امت کے ساتھ جو ہورہا ہے اسے  حالی نےیوں بیان کیا ہے:

پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے

اسلام کا گِر کر نہ ابھرنا دیکھے

مانے نہ کبھی کہ مد ہے ہر جزر کے بعد

دریا کا ہمارے جو اترنا دیکھے

تقسیم کا عمل تو فطرت میں بھی جاری وساری ہے۔ ایک پیڑ سے ہزاروں شاخیں پیدا ہوتی ہیں اور پھر وہ آپس میں مزاحم بھی ہوجاتی ہیں اور ایک پیڑ سے دوسرے ہزاروں پیڑ پودے پیدا ہوتے ہیں۔ تو تقسیم کی ایک قسم یہ بھی ہے اور یہ کائنات کے جسم میں رگ حیات کی طرح پھیلی ہوئی ہے،جس طرح زمین کے جسم میں ندیاں اور حیوانی جسم میںخون کی وریدیں پھیلی ہوتی ہیں، مگر یہاں نوعیت مختلف ہے، یہ تقسیم کائنات کو منتشر نہیں کرتی اور ٹوٹنے بکھرنے پر مجبور نہیں کرتی ، یہ تقسیم کائنات کو بوقلمونی عطاکرتی ہے اور اسے مزید وسیع اور متحرک بناتی ہے۔ اگر ہماری خودساختہ تقسیمیں بھی ایسا ہی کوئی کردارادا کرتیں تو کتنا اچھا ہوتا ۔ مگر وائے کہ ایسا نہیں ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ایک تقسیم وہ ہے جو وحدت کو توڑتی ہے اور ایک تقسیم وہ ہے جو وحدت کو بوقلمونی عطاکرتی ہے۔مگر بدقسمتی سے انسان اور خاص کر مسلمان جو تقسیم پیدا کررہا ہے وہ پہلی والی تقسیم ہے اس سے سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہوتا کہ وحدت پارہ پارہ ہوتی ہے۔

اس حوالے سے ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ مذکورہ تمام ادارے اور تنظیمیں غلامی اور آزادی کی شکست وریخت والے حالات کی پیداوار تھیں۔ ابتدا میں تو ان سب کی فعالیت اور کارکردگی متاثر کن رہی مگر آزادی کے بعد کے بدلے ہوئے اور ایک دم متغیر زمانے میں ان کی فعالیت اور نافعیت کمزور تر ہوتی چلی گئی۔ شایداس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی رہی کہ ان تمام اداروں اور تنظیموں نے اپنے اپنے بانیان کےمقابلے کی شخصیات پیدا نہیں کیں۔ اقبال نے کچھ غلط نہیں کہا: ’’ نہ اٹھا پھر کوئی رومیؔ عجم کے لالہ زاروں سے‘‘۔

جہاں تک عروج وزوال کی بات ہے تو یہ تو قوموں کی تاریخ میں تسلسل کے ساتھ رونما ہونے والا عمل ہے۔ خالص مادی بنیادوں پر قائم ہونے والے ادارے بھی ٹوٹتے بکھرتے رہے ہیں اور جرائم واستحصال کے لیے قائم ہونی والی تنظیمیں اور گروہ بھی منتشر ہوتے رہے ہیں، قومی تحریکوں پر بھی ادبار کے بادل چھاتے رہے ہیں اور سیاسی جماعتیں بھی عبرت کا نشان بنتی رہی ہیں۔اسی طرح خالص علم وفن کے نام پر شہرت پانے والی تحریکیں بھی صفحہ وجود سے غائب ہوتی رہی ہیں۔آج کتنے ’ازمات‘ صفحۂ ہستی سے ناپید ہوگئے اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ادب میں ترقی پسندی بھی اپنی موت آپ مرگئی اور فیمنزم بھی رخصت پذیر ہوچلی ہے۔جدیدیت کے غبارے میں تھوڑی بہت ہوا گوکہ باقی ہو مگر یہ کہ وہ بھی زبان حال وقال سے پکار رہی ہے: ’’ ساقیا اب لگ رہا ہے چل چلاؤ‘‘۔ کیونکہ وقت کی ہوائیں اپنی رفتار سے چل رہی ہیں اور ان کی زَد پر رکھی ہوئی وقت کی کتاب کے صفحات خود بخود الٹتے جارہے ہیں۔مگر ہمیں ان سے سے کیا لینا دینا کہ انہوں نے ہمیشہ زندہ رہنے کی دعویداری بھی تو نہیں کی تھی ۔ البتہ اسلام کی یہ دعویداری رہی ہے یہ وہ قیامت تک نہ صرف یہ کہ زندہ رہے گا بلکہ اپنی فعال حیثیت کے ساتھ زندہ رہے گا تو ضمنا اس اسلام کو سہارا دینے والے ادارے، جماعتیں اور افکار ونظریات کی دعویداری بھی اسی کے مماثل ہونی چاہئےتھی اور ہے بھی ، مگر یہ کہ ارادے اور اعمال اس دعویداری کو سپورٹ کرنے والے نہیں ہیں۔

ویسے تو امت کے لیے یہ ایک پلس پوائنٹ ہی تھا کہ امت نے مد بھی دیکھا اور جزر بھی دیکھا، ادبار بھی دیکھا اور اقبال بھی دیکھا۔ تو ایسی امت جو محض چودہ سوسال کے عرصے میں ہر دو طرح کے تجربات سے گزرچکی ہو اور بارہاگزر چکی ہو،اس کے لیے یہ قدرے آسان تھا کہ ہر مشکل پر بآسانی فتح پالیتی اور تھوڑی سی مشقت کے بعد جزرکو مدسے اور اِدبار کو اقبال سے بدل دیتی۔ اگر اس لحاظ سےدیکھا جائے تو مسلمان اکیلی ایسی امت ٹہرتی ہے جو ماضی سے نہیں سیکھتی، جس کے پاس نمونہ بھی ہے، سپورٹنگ سسٹم بھی ہے اور پھر مدوجزر کے حالات کے تجربات بھی ہیں۔ اور پھر امت اگر اپنی پریشانیوں پر قابو نہیں پاسکتی تو اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ آج  خیر امت بدتر امت سے تبدیل ہوگئی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close