نقطہ نظر

تو پھر عدالتوں میں تالے ڈال دیے جائیں

حفیظ نعمانی

یاد نہیں کہ ہم نے کبھی پڑھا ہو کہ اجودھیا میں میر باقی تاشقندی نے سرجو ندی کے کنارے ایک مسجد کیوں بنائی اور اس کا نام بابری مسجد کیوں رکھا؟ حضور اکرمؐ نے جب ہجرت فرمائی اور مکہ سے مدینہ کے لئے روانہ ہوئے تو راستے میں نہ جانے کتنی جگہ نماز ادا فرمائی ہوگی لیکن مدینہ منورہ سے پہلے جس بستی میں قیام فرمایا اور وہاں قیام رہا اور ہر نماز ادا کی تو وہاں اس کی یاد میں ایک مسجد بنادی گئی جس میں ہر حاجی اور عمرہ کے لئے جانے والا شاید ہی کوئی بدنصیب ہو جس نے نماز نہ پڑھی ہو۔

جہاں تک بابر کا تعلق ہے تو اُن کے بارے میں کہیں نہیں پڑھا کہ وہ ہر جگہ نماز پڑھتے ہوئے آئے تھے بلکہ   ؎  ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تو نماز بھی گنڈے وار پڑھتے ہوں گے۔ پھر یہ مسجد بناکر میرباقی نے کیا ثابت کرنا چاہا ہے؟ یہ بات تو شاید سب کو یاد ہوگی کہ انگریزوں کی حکومت میں بھی بابری مسجد کا تنازعہ تھا اور انگریزوں نے ایسی ہر مسجد کے بارے میں کہہ دیا تھا کہ ہم جب آئے ہیں تو جو عبادت گاہ جس کی اور جیسی تھی اسے اسی طرح اس وقت تک رکھیں گے جب تک ہم ہیں۔ ہمارے جانے کے بعد جس کی حکومت ہو وہ جو چاہے فیصلہ کرے ؟

یہ تو سب کو معلوم ہے کہ بابری مسجد میں جس رات کو مورتیاں تالا توڑکر رکھی گئیں تو کانگریس کی حکومت تھی اور پنڈت گووند ولبھ پنت وزیراعلیٰ تھے جو کانگریس کی صف اوّل کے لیڈر تھے اور عمر میں پنڈت نہرو سے بڑے تھے۔ ان سے جب پنڈت نہرو نے کہا کہ مورتیاں وہیں رکھوا دیجئے جہاں سے لائی گئی تھیں تو انہوں نے اپنے دل کی بات نہیں کہی بلکہ یہ کہا کہ ڈی ایم کہہ رہا ہے کہ خون خرابہ ہوجائے گا۔ یہ اس زمانہ کی بات ہے کہ ایک ایم ایل اے کی ڈانٹ سے افسروں کی پینٹ گیلی ہوجاتی تھی اور پولیس فورس میں نصف کے قریب مسلمان تھے۔ پنت جی اگر ڈی ایم کو بلاکر کہتے کہ تم خود جاکر مورتیاں مسجد سے نکال کر اسی مندر میں رکھ آئو تو اس کی ہمت نہیں تھی کہ انکار کرے۔ جو جواب پنڈت نہرو کو دیا گیا وہ ڈی ایم کا نہیں اس پنت کا تھا جو خود چاہتا تھا کہ مورتیاں وہیں رکھی رہیں اور وہ مسجد میں تالا ڈلوادے۔ اور ان کی ذہنیت اس وقت کھل کر سامنے آہی گئی کہ جب ان کی بہو اور بیٹا جن سنگھ میں چلے گئے۔

ہم جو لکھ رہے ہیں یہ سب وہ باتیں ہیں جو سب کو معلوم ہیں۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بابری مسجد کی جو زمین ہے وہ انگریزوں کے زمانے میں پٹواری کی کھسرہ کھتونی میں اور بعد میں لیکھ پال کے پاس درج ہو کہ اتنی زمین مسجد کی ہے۔ اور ایسا کوئی کاغذ نہ ہے اور نہ ہوسکتا ہے جس پر لکھا ہو کہ اتنی زمین پر رام مندر بنا ہوا ہے ؟ جس وقت سے سپریم کورٹ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ زمین کی ملکیت کے بارے میں سنے گا اور فیصلہ کرے گا اس وقت سے شری شری روی شنکر کو میدان میں اتارا ہے اور وہ پہلے ان چند مسلمانوں سے ملے ہیں جو کہتے ہیں کہ نہ زمین ہمارے قبضہ میں ہے اور نہ ہم ان ہاتھوں سے چھین سکتے ہیں جن کا قبضہ ہے کیونکہ حکومت بھی ان کی ہے پولیس بھی ان کی ہے فوج بھی ان کی ہے اور خزانہ بھی اُن کا۔ اور جو 18  کروڑ مسلمان ہیں ان کے پاس صرف اس زمین کے کاغذات ہیں اور اپنی جان ہے۔

چند دن پہلے جب شری شری مولوی سلمان حسینی سے اُمید لگائے ہوئے تھے تو انہوں نے کہا تھا کہ میں آج تک اپنی کسی مہم میں ناکام نہیں ہوا اور اب جبکہ ان کا سب سے مضبوط مہرہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے دروازے پر کھڑا ہوکر یہ کہنے لگا کہ اگر ان چار آدمیوں کو نکال دو تو میں آسکتا ہوں تو شری شری ہوا میں لٹکے رہ گئے اور انہوں نے اپنے ہر لفظ سے یہ ظاہر کردیا کہ وہ پروین توگڑیا سے کم نہیں ہیں۔

اب یہ بورڈ کے سوچنے کی بات ہے کہ وہ کیا کرے شری شری روی شنکر نے اشارے دے دیئے کہ اگر عدالت نے فیصلہ کردیا کہ زمین مسجد ہے اور مسجد رہے گی تو ہم ان کے فیصلہ کو ٹھکرا دیں گے اس لئے کہ آستھا عدالت سے بڑی ہے اور ہندوستان میں مورتی پوجا والے جتنے بھی ہندو ہیں وہ 30  کروڑ ہوں یا 40  کروڑ حکومت فوج خزانہ اور عدالتیں سب اُن کی ہیں وہ زمین مسلمانوں کو نہیں دیں گے اور حکومت شری شری روی شنکر کے ہر بیان کے بعد بھی خاموش ہے تو اس سے کیسے اُمید کی جاسکتی ہے کہ فوج کے ذریعہ زمین خالی کرائے گی اور اس کی چہار دیواری کراکے چابی بورڈ کو دے دے گی؟

حیدر آباد کے اجلاس کے موقع پر بورڈ کے ذمہ داروں نے ذکر کیا تھا کہ بابری مسجد مقدمہ پر کروڑوں روپیہ خرچ ہورہا ہے یہ سن کر موجود خواتین نے اپنے زیور اتارکر دے دیئے۔ یہ بات اکثر لوگوں کو یاد ہوگی کہ بابری مسجد کا مقدمہ سنی وقف بورڈ لڑرہا تھا پرسنل لاء بورڈ کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا کافی عرصہ کے بعد بورڈ نے ایک کمیٹی بنادی کہ وہ سنی وقف بورڈ کی مدد کرے اور پھر نہ جانے کیا ہوا کہ سنی وقف بورڈ تو حاشیہ پر چلا گیا اور پرسنل لاء بورڈ نے اسے اپنا سب سے اہم مسئلہ بنا لیا۔ ہمارا خیال ہے کہ بورڈ کے جتنے بھی ذمہ دار ہیں ان سب کو اندازہ ہوگا کہ اگر ایسا ہوا تو کیا ہوگا اور اگر ویسا ہوا تو کیا ہوگا؟ اس کے بعد بھی ملت کا کروڑوں روپیہ اس بازی پر لگانا جو ہارنے کے بعد بھی انہیں کچھ نہیں دے گی اور جیتنے کے بعد بھی وہ خالی ہاتھ رہ جائیں گے کیوں لگایا گیا؟ یہ خیال کہ حکومت کو دنیا میں اپنی بدنامی کا خیال ہوگا وہ بھی غلط ہے۔ ہندوستان میں لاکھوں مسلمان شہید کردیئے گئے اور اس ہندوستان کے وزیراعظم کو سعودی عرب کا سب سے بڑا اعزاز اور فلسطین کا سب سے بڑا اعزاز دیا جارہا ہے جس ہندوستان میں سب سے بڑی عدالت کے فیصلہ کو بھی ٹھوکر مارنے کے اشارے دیئے جارہے ہیں اسی ہندوستان کے وزیراعظم ابوظہبی، دوبئی اور عمان میں اپنے ہاتھوں سے مندر کا سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں۔ اور وندے ماترم کے نعرے لگا رہے ہیں پھر بھی میزبان خاموش ہیں۔

سیاسی پارٹیوں کا ایک حربہ یہ ہے کہ جب حکومت نہ اُن کی مانتی ہے اور نہ سنتی ہے تو وہ ہائوس سے واک آئوٹ کرجاتے ہیں۔ کیا جن حالات کے اشارے مل رہے ہیں اور اسی ملک کے راجپوتوں نے سپریم کورٹ کے واضح فیصلوں کے بعد یہ کہا ہے کہ سب سے بڑی عدالت جنتا کی ہے اور جنتا ہم ہیں ہم پدماوت فلم نہیں چلنے دیں گے۔ اور انہوں نے نہیں چلنے دی اور ان کا کسی نے کچھ نہیں بگاڑا تو کیا یہ یقین نہیں ہے کہ عدالت عظمیٰ کچھ بھی فیصلہ کردے عالیشان مندر وہیں بنے گا جہاں ہندو بنانا چاہتے ہیں اور رام للا کی پیدائش وہیں مانی جائے گی جہاں بابری مسجد کا درمیانی گنبد تھا۔ تو عدالت سے واک آئوٹ کے بارے میں مشورہ کیا جائے؟ یہ تو آخری درجہ کی بات ہے کہ ہندوستان سیریا بن جائے گا۔ کیا کسی کو اس میں شک ہے اور کیا اب بھی چھوٹا سیریا نہیں ہے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close