نقطہ نظر

جامعہ ملیہ اسلامیہ: یوم تاسیس یا یوم برائی

عزیر احمد

 جب امت زوال پذیر ہوتی ہے تو اس کے افراد، لہو ولعب میں مبتلا ہوجاتے ہیں، ترقی کے نام پہ برائی عروج پہ پہونچ جاتی ہے، ثقافت اور کلچر ناچ گانے میں سمٹ کے رہ جاتے ہیں، لیکن یہ چیزیں جب تک صرف فرد تک محدود رہیں تو پریشانی زیادہ نہیں ہوتی،کیونکہ اس کا اثر دوسروں پہ زیادہ نہیں ہوتا، ایک انفرادی معاملہ قرار دے کے سوسائٹی اس سے اپنا گردن چھڑا سکتی ہے، لیکن جب یہ چیزیں سوسائٹی یا انسٹیٹیوشنز کے ذریعہ انجام پانے لگیں تو انہیں ایک قسم کا Legitimate Right حاصل ہوجاتا ہے، اس کو ہم یوں سمجھیں کہ اگر جامعہ ملیہ کا کوئی طالب علم برائی کرے تو اس سے نہ تو جامعہ پہ کوئی فرق پڑنے والا، اور نہ ہی امت مسلمہ پہ، کیونکہ یہ کسی ایک شخص کا ذاتی معاملہ ہے، وہ چاہے تو برائی کرے یا چاہے اچھائی، اس کا زیادہ سے زیادہ اثر اس کے سرکل میں رہنے والوں دوستوں پہ ہوسکتا ہے، اور بہت ممکن ہے ان پہ بھی نہ ہو، لیکن اگر وہی برائی جامعہ کے ذریعہ انجام دیا جائے تو اس کا اثر نہایت ہی خطرناک اور دیر پا ہوگا، کیونکہ جامعہ ایک ملی انسٹیٹیوشن ہے، اگر اسے ہم ہندوستانی مسلمانوں کا دل کہیں تو شاید غلط نہ ہو، تو اب سوچئے ذرا کہ اگر یہ دل خراب ہوجائے تو پورے بدن پہ اس کا کتنا بھیانک اثر پڑے گا.

جب بھی جامعہ کے یوم تاسیس کا وقت قریب آتا ہے، جامعہ کو دلہن کی طرح سجا دیا جاتا ہے، طرح طرح کے پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں، مختلف اخباروں میں جامعہ کہ اب تک کی پوری تاریخ لکھی جاتی ہے، جامعہ نے امت مسلمہ ہند کو یہ دیا وہ دیا، بہت کچھ لکھا جاتا ہے، اگر نہیں لکھا جاتا ہے تو وہ ہے یوم تاسیس کا امت مسلمہ کے افراد پہ پڑنے والا نیگیٹیو Impact، جامعہ ملیہ دلہن کی طرح سجایا جاتا ہے، اچھی بات ہے، ہونی چاہیئے، مگر اس طرح نہیں، جس طرح ابھی ہورہا ہے، اس دلہن کا سہارا لیکر جو گل کھلائے جاتے ہیں وہ بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے، تعلیمی میلے کے نام پہ برائی میلہ، اور ثقافت اور کلچر کے نام برائی، بے حیائی، ناچ، گانا، ڈی جے، دیکھنے کے بعد احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہ ایک اسلامی ادارہ ہے، جس کی شناخت اس کے مائنارٹی اسٹیٹس ہے، اور یہ اسٹیٹس اس کا اسلام سے جڑے ہونے کی وجہ سے ہے، اگر یہی سب کرنا ہے تو پھر مائنارٹی اسٹیٹس کیوں ہے، یا مسلم انسٹیٹوشن کے نام پہ گرانٹ کیوں حاصل کرنا ہے، اسے مکمل طریقے سے سارے لوگوں کے لئے عام کیوں نہ کردیا جائے، جامعہ کو کانسٹیٹیوشن کے ذریعہ اسپیشل Privilege دیا گیا، تاکہ مسلمان اپنے کلچر اور اپنے شناخت کو باقی رکھتے ہوئے تعلیم حاصل کرسکیں، ان کے ایک ہاتھ میں قران ہو، دوسرے میں سائنس، قدیم و جدید دونوں علوم کا سنگم ہو، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تعلیم و ترقی کے نام پہ جامعہ غیروں کی روایت کو اپنا لے.

ہمارا کانسٹیٹیوشن اتنا وسیع ہے کہ شاید کہ کوئی اور وضعی قانون اس کے جتنا وسیع ہو، اس میں مائناریٹیز کو جو حقوق دئیے گئے ہیں،  سیکولرزم یہی ہے کہ مائناریٹیز ان حقوق کو جم کے استعمال کریں، کوئی بھی ان کے مقابل میں نہیں آئے گا، لیکن نجانے کیوں مسلمانوں میں کود کر یا آگے بڑھ کر خود کو سب سے زیادہ سیکولر دکھانے کی خواہش ہوتی ہے، اور اسی چکر میں وہ قانون کے ذریعہ عطا کردہ حقوق کے استعمال میں بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں سیکولرزم کو ٹھیس نہ پہونچ جائے، اسے شکستہ ذہنیت کہیں، یا نفسیاتی ڈر، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سیکولرزم کو نقصان اس وقت پہونچتا ہے جب مائناریٹیز کانسٹیٹیوشن کے ذریعہ عطا کردہ حقوق کا استعمال نہیں کرتے ہیں، اگر جامعہ ناچ گانا انسٹیٹیوشنل (Institutional) لیول پہ نہ کرے تو کون سی گورنمنٹ آف انڈیا آ کے حکم دے گی کہ جامعہ ان چیزوں کو انجام دینا شروع کرے تبھی ہم سیکولر مانیں گے، بات صرف اتنی ہے کہ ہندوستانی مسلمان کتنا بھی سیکولر کیوں نہ بن لے، وقت آنے پہ پہلو خان، اخلاق اور جنید کی طرح موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے، تو کیا ہی بہتر ہو کہ مسلمان اپنے دین پہ کاربند رہے، ہمارا کانسٹیٹیوشن تو ہم سے مطالبہ بھی نہیں کرتا کہ ہم اپنے مائنارٹی انسٹیٹیوشنز اور تعلیمی مراکز میں وہی تمام چیزیں کریں جو عام اداروں میں ہوتیں ہیں، اور جن برائیوں سے اپنے افراد کو بچانے کے لئے انہیں قائم کیا گیا، انہیں برائیوں کو وہ Legitimate Right دیکر پوری امت میں بے چینی کا سبب بن جائیں.

جامعہ ملیہ کو غیر اسلامیہ بنانے میں موجودہ وائس چانسلر کا بہت بڑا ہاتھ ہے، نئے نئے سبجیٹکس اور مراکز بھلے ہی انہوں نے قائم کئے ہوں، مگر اس کی شناخت کو توڑنے میں انہوں نے کافی اہم ادا کیا ہے، نجیب جنگ نے اس سے پہلے بہت ساری غیر اسلامی چیزوں پہ پابندی لگادی تھی، اسی میں سے ایک ڈی.جے اور جامعہ کا تاسیسی پروگرام تھا، مگر موجودہ وائس چانسلر ان تمام چیزوں کو دوبارہ شروع کرا دیا، جس گناہ تو ان کو جائے گا ہی، مزید جب تک یہ عمل چلتا رہے گا، اس کا گناہ ان کے سر لکھا جاتا رہے گا، حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "جس نے کسی اچھے کام کو شروع کیا، تو اس کا ثواب اسے ملے گا، مزید جو لوگ اس کو بجالائیں گے، ان کے ثواب کے برابر اسے بھی ثواب ملتا رہے گا، اور جو کوئی برے عمل کی بنیاد ڈالے گا، اس کا گناہ اسے ملے گا، اور جو لوگ اسے انجام دیں گے، ان کے گناہ کے برابر اسے بھی گناہ ملتا رہے گا”.  جامعہ ملیہ کی شناخت اس کے اسلام سے جڑے ہونے سے ہے، تبھی اس میں اسلامیہ کا لفظ ہے، اور یہ شناخت صرف نام میں نہیں اس کے افعال میں بھی ہونی چاہیئے، یہاں تک کہ اس کے در و دیوار، اس کے باغات، اس کے سینٹرز، غرضیکہ ہر جگہ میں یہ شناخت ہونی چاہیے، لیکن اگر تمام جگہوں میں پائی جائے، افعال میں نہ ہو، تو پھر نام کا کوئی فائدہ نہیں، نام میں کیا رکھا ہے، اصل تو فعل ہے، اگر کام ہی غیر اسلامی ہوگا تو نام مسلمانوں کا ہو یا کرسچین کا، کیا فرق پڑنے والا ہے.

ہوسکتا ہے جامعہ کے تعلق سے میری بات بہت سارے لوگوں اچھی نہ لگے، مگر یہ حقیقت ہے کہ جامعہ دو دن کے تاسیسی پروگرام میں جتنی برائی ہوجاتی ہے، اتنا اس کے طلباء شاید پورا سال مل کے کریں تو بھی برابر نہ ہو، پھر اس کا جو اثر مسلمانوں پہ پڑتا ہے وہ تو بے شمار ہی ہے، مگر مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ علماء، صلحاء، اور مسلم امت کے لئے دردمندانہ دل رکھنے والا صحافی طبقہ مسلمانوں میں بڑھتی ہوئی جس اخلاقی برائی کا رونا روتا ہے، وہی طبقہ جامعہ کے مسئلے پہ خاموش کیوں رہتا ہے، مسلمانوں کا کریم طبقہ بٹلہ ہاؤس اور شاہین باغ میں رہتا ہے، بلکہ کہا جاتا ہے ہندوستان میں مسلمانوں کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا طبقہ یہیں سکونت پذیر ہے تو غلط نہ ہو، یہیں پہ مختلف اسلامی جماعتوں اور تنظیموں کے مراکز ہیں، یہیں پہ بڑی بڑی دینی شخصیات رونق پذیر ہیں، تو پھر اس پہ خاموشی کیوں ہوتی ہے، کہیں یہ خاموشی رضامندی کی تو علامت نہیں، کہ نہیں نہیں، یہ برائی نہیں، بلکہ یہ ترقی ہے، حالانکہ یہ بات جگ ظاہر ہے کہ ننگا پن اور بے غیرتی کبھی بھی ترقی کی علامت نہیں ہوسکتے، یہ تو تنزلی ہے، کیونکہ ننگا پن اس دور کی علامت ہے جب تہذیب نامی چڑیا کا جنم نہیں ہوا تھا، اس زمانے میں بھی لوگ پتوں سے ڈھک اپنے آپ کو رکھتے تھے، پھر کپڑا بنانا سیکھ لیا، پھر مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کا عروج ہوا، مذاہب کا جنم ہوا، معاشرے میں رہنے کے لئے مختلف Ethics بنائے گئے، پھر موجودہ دور آیا جسے ہم "دور انحطاط” ہی کا نام دیں گے، کیونکہ اس دور میں ترقی کے نام پہ کپڑے اترنے لگے، برائیوں کو قانونی حق ملنے لگا، پہلے جو برائی فرد کیا کرتا تھا، اب پوری سوسائٹی مل کے کرنے لگی ہے. خدا رحم کرے، اگر ایسا ہی چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں، جب صرف نام ہی نام رہ جائے گا، مسلمان کوئی نہ باقی بچے گا.

جب ہم یوم تاسیس کے موقع پر جامعہ ملیہ کی طرف نظر ڈالتے ہیں تو پھر دل سے ان بزرگوں کے لئے دعائیں نکلتی ہیں، جنہوں نے مدارس کو قائم کیا تھا، ہم کتنا بھی مدرسوں کو برا بھلا کیوں نہ کہہ لیں، مگر اس حقیقت کو ہر کس و ناکس کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ آج جتنی بھی اسلامیت ہندوستان میں دکھائی دیتی ہے، وہ انہیں مدرسوں کی دین ہے، ورنہ اگر امت مسلمہ صرف یونورسٹیوں یا کالجوں کے دم پہ ہوتا تو اس کے افراد وہاں سے صرف بھانڈ، گویا، سنگر، اور ڈانسر بن کے نکلتے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عزیر احمد

Student of Arabic language and litreture at Jawaharlal Nehru University, New Delhi.

متعلقہ

Close