نقطہ نظر

جامعہ کے ‘فیشن شو’ کا تنازع: پس منظر و پیش منظر

وسیم احمد علیمی

(ایم اے اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ )

آپ براکیوں مانیں سچی باتوں کا

کسی بھی منظر یا تصویر کو جتنے الگ الگ زاویے سے دیکھا جائے گا اس منظر اور تصوریر کی اتنی ہی جہتیں متعین ہوں گی جو آپس میں متضاد بھی ہو سکتی ہیں اور موافق بھی۔ پہاڑ کی بلندی سے نظر آنے والا درختوں کا ہجوم سطح زمین سے ویسا نظر نہیںآئے گا جیسا فرازِ کوہ سے نظر آتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح حقیقی زندگی میں بھی ایک ہی مسئلہ پر متعدد لوگوں، جماعتوں اور گروہوں کے نظریات مختلف ہو سکتے ہیں اورہوتے ہیں۔ یہ ایک فطری عمل ہے لیکن جب انسان اپنی آنکھوں پر تعصب کی عینک لگا کر کسی منظر کا مشاہدہ کرنے لگتاہے تو چیزیں اپنی حقیقی ہیئت و صورت میں نظر نہیں آتیں۔

        پچھلے کچھ دنوں کے اندر اخبارات نے اپنی سرخیوں میں مرکزی یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ’فیشن شو‘(fashion Show)کو اتنی جگہ دے ڈالی ہے جتنی جگہ کا مستحق یہ حادثہ نہیں تھا۔ اور خبر نویسوں نے جامعہ کے جمہوری نظام پر جم کر لکھا ہے، اسلام اور اقلیت کی بھی گفتگو کی ہے، تعلیم گاہ ہونے کی حیثیت سے اس کے اسلام اساس ہونے پر بھی سوالیہ نشان لگایا ہے، جنسی مساوات کی بحثیں بھی سامنے آئی ہیں، مذہبی کٹّر پنتھی اور تشدد پر بھی کچے پکے معلومات کا پٹارہ کھولا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر میڈیا نے، خصوصا انگریزی اخباروں نے، اس  مسئلہ کے حوالے سے جامعہ پر اتنی خاص توجہ کیوں دی ہے ؟جامعہ کے ’فیشن شو‘کے تعلق سے میڈیا کی سنگین دلچسپی کے درپردہ کون سی حکمت  پوشیدہ ہے؟

اصل واقعہ یہ ہے کہ جامعہ کی انجینیئرنگ فیکلٹی کی سالانہ تقریب’Xtacy ‘میں ہونے جارہے ’فیشن شو‘ کے خلاف اسی شعبے کے 12طلبہ نے پر سکون احتجاج کیا اور یہ کہا کہ اس طرح کے پروگرام جامعہ ملیہ اسلامیہ کی اصل تہذیب اور بانیانِ جامعہ کے مقاصد کے خلاف ہے۔ مظاہرہ کرنے والے طلبا نے کہا کہ وہ جامعہ کے اندر کسی بھی ایسے پروگرام کے خلاف ہیں جس میں خواتین کی نمائش

( objectification of women) ہو، اور انہیں ’ذات‘(Human being) کے بجائے ’چیز‘  (object) کے طور پر پیش کیا جائے۔

بات بس اتنی سی تھی، جس کو میڈیا نے نمک مرچ لگا کر پیش کیا اور جامعہ کے جمہوری نظام پر کھردرا سوالیہ نشان لگاتے ہوئے اس واقعہ پر کٹر پنتھی، تشدداور دقیانوسیت کا لیبل لگاکر public domainمیں جامعہ کی شبیہ بگاڑنے کی ناکام کوشش کی۔

  مشہوراور بارسوخ انگریزی اخبار ’ٹائمس آف انڈیا ‘ نے 2  اپریل 2019کو لکھا : ’’(ترجمہ)طلبا نے الزام لگایا کہ جامعہ کے ایک خاص گروپ کے بارہ طلبا نے عام آدمی پارٹی کے طلبا ونگ سی وائی ایس ایس کے ساتھ مل کر اس فیشن شو تقریب کی مخالفت کی، یہ لوگ اس گروہ سے وابستہ ہیں جو جامعہ کیمپس کے اندر مذہبی تبلیغ کے لیے جانے جاتے ہیں‘‘۔

اس عبارت پر غور کریںکہ کس طرح ایک عام احتجاج اور اخلاقی بحث کو نہایت چالاکی کے ساتھ مذہب سے جوڑ دیا گیا۔ یہی نہیں اس بات پر زور دینے کے لیے احتجاج میں شامل جامعہ کے ایک طالب علم اقدس سمیع کو ’ٹائمس آف انڈیا ‘ نے "prominent student leader” تک کہہ ڈالا تاکہ قارئین کو احساس ہو کہ جامعہ کے ایک بارسوخ طلبہ لیڈر نے بھی اس مظاہرہ کی قیادت کی۔ جب کہ در حقیقت موصوف اقدس سمیع جامعہ طلبہ لیڈروں کے درمیان ان سیکڑوں طلبہ میں سے ایک ہیں جو کسی نہ کسی سیاسی پارٹی سے وابستہ ہوتے ہیں اور گاہے بگاہے داخلی اور خارجی مسائل کو لے کر اپنی اپنی ٹولی بناکر جامعہ کیمپس میں احتجاج و مظاہرہ کرتے ہیں۔ جنابِ مذکور اقدس سمیع کی حیثیت طلبۂ جامعہ کے درمیان کسی عظیم لیڈر کی نہیں ہے۔

زیادہ تر نیوز پورٹل اور اخباروں نے لکھا ہے کہ جامعہ کے چند طلبہ نے انجینیئرنگ فیکلٹی کی تقریب ’فیشن شو‘ بہ عنوان ’طرز لباس‘ کی مخالفت اس لیے کی کیوں کہ یہ پروگرام اسلامی تعلیمات واخلاق کے خلاف تھا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مظاہرہ کے پیچھے کوئی مذہبی محرک کارفرما نہیں تھا بلکہ احتجاج کنندگان طلبہ کے مطابق اس طرح کے پروگرام جامعہ کی تہذیب کے خلاف تھے۔

میں خود جامعہ ملیہ اسلامیہ کا طالب ہوں اور گزشتہ چار سالوں سے اس ادارہ میں زیر تعلیم ہوں، گزشتہ چار بر سوں میں اپنی آنکھوں کے سامنے جامعہ کی تہذیب کو دھیرے دھیرے مٹتے ہوئے دیکھ رہاہوں۔ جامعہ کی تہذیب کا اندازہ حکیم اجمل خان کے درج ذیل کلمات سے لگایا جا سکتاہے جو انہوں نے جامعہ کے پہلے جلسۂ تقسیم اسناد(convocation)میں خطبۂ صدارت پیش کرتے ہوئے کہے تھے :

’’ہم نے اصولی حیثیت سے تعلیم کو صحیح شاہرہ پر ضرور ڈال دیاہے اور جہاں ہم نے سچے مسلمان پیداکرنے کی تدابیر اختیار کیں وہاں اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا ہے کہ تعلیم و تربیت میں ماحول کا بہت بڑا اثر ہوتاہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جہاں ہندو طلبا کے لیے بہت سے اسلامی معاملات پر معلومات حاصل کرنا ضروری ہے وہاں مسلمان طلبہ بھی اہم ہندو رسوم اور ہندو تہذیب و تمدن سے نا آشنا نہ رہیں گے کہ ایک متحدہ ہندوستانی قومیت کی اساس محکم اسی باہمی تفہیم و تفہم پر منحصر ہے ‘‘۔ (جامعہ کی کہانی، عبدالغفار مدہولی، ص 37,38، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان )

ایسا نہیں ہے کہ جامعہ کیمپس کے اندر ’فیشن شو‘ جیسے پروگراموں کو بالکل برداشت نہیں کیا جاتا۔ بلکہ مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ وہ ادارہ جس کے نام کا لاحقہ ہی ’ملیہ اسلامیہ ‘ ہے اور جہاں ساٹھ ستر فیصد اوسط درجہ مسلم طلبہ زیر تعلیم و تربیت ہیں وہاں رقص وسرود کے نام پر کیا کیا نہیں ہوتا۔ مگر حالیہ مخالفت کے بعد میڈیا نے اس معاملے کو جس طرح سے پیش کیا ہے اس سے ظاہر ہوتاہے کہ جامعہ میں اس سے قبل اس انداز کافیشن شو گویا کبھی ہواہی نہیں۔

اس ضمن میں چند اخبارات کی سرخیاں دیکھیں اور اندازہ لگائیں کہ میڈیا نے اس دھارے کو کیسا رخ دینے کی کوشش کی ہے :

"Fashion show at Jamia Millia cancelled for being against Islamic ethos”

"Row erupts as fashion show  at Jamia Millia Islami nixed”

"Jamia Millia Islamia cancels  fashion show after radical students backed by AAP students’ wing protest”

"Fashion show at Jamia Millia got cancelled as it was ‘un-Islamic’.

ان تمام سرخیوں سے یہی اندازہ ہوتاہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ نے خود فیشن شو کو منسوخ کیا جب کہ در اصل جامعہ ایڈمنسٹریشن نے ایسا کوئی قدم اٹھا یا ہی نہیں۔ جامعہ ایڈمنسٹریشن نے تو تحفظ کی بھی یقین دہانی کرائی اور پروگرام  منعقد کرنے کی اجازت دی، لیکن منتظم طلبہ نے کسی بھی طرح کی بد نظمی اور نا اتفاقی کے خوف سے خود ہی اس فیشن شو کو منسوخ کردیا۔

جامعہ ہی نہیں، ہر ادارہ، تنظیم، سماج،کیمپس اور خطے کا ایک وقارہوتاہے، ایک تہذیب اورایک شناخت ہوتی ہے جس کی پاسداری اورحفاظت کے لیے کوشاں رہنا اس سے وابستہ ہر فرد کی ترجیحات میں شامل ہے۔ جامعہ کی بھی اپنی ایک شناخت اور تہذیب ہے، جو اس کے بانیان اور بنیاد گزار حضرات، شیخ الہند مولانا محمود حسن، مختار احمد انصاری، مہاتما گاندھی، ڈاکٹر ذاکر حسین، مولانا محمد علی جوہر، حکیم اجمل خان اور عبدالمجید خواجہ کی قربانیوں کانتیجہ اور ان کے دیرینہ خوابوں کی تعبیر ہے۔

یہ اہل ِشوق کی بستی  یہ سر پھروں  کا دیار

یہاں کی صبح نرالی،  یہاں  کی  شام نئی 

یہاں کی رسم و رہ ِ مے کشی جدا سب سے

یہاں کے  جام نئے،طرح رقص جام نئی

  (ماخوذ از ترانۂ جامعہ، خلیق صدیقی )

رہی بات کیمپس کے جمہوری اقدارکی تو مجھے نہیں لگتا کہ خواتین کی نمائش کے خلاف آواز بلند کرناکسی بھی شکل میں جمہوریت کے خلاف ہے، بلکہ یہ جمہوریت کا تقاضا ہے اور اس کے عین مطابق ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ میڈیا نے تہذیب اور مذہب کے درمیان فرق کو نظر انداز کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ او ر یہاں کے پراگریسو طلبا کو دقیانوس ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔

ہم نے بھی تکلیف اٹھائی ہے آخر

آپ براکیوں مانیں سچی باتوں کا

٭٭٭

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. تحریر شامل اشاعت کرنے کے لیے مضامیں ڈاٹ کام کے مدیر اعلی اور ان کی پوری ٹیم کا شکریہ

متعلقہ

Back to top button
Close