نقطہ نظر

جان بچانے کے لیے حرام کھانے کی بھی اجازت ہے!

انہوں نے زہر تو پی لیا لیکن جان دینے کے بجائے عہدہ قربان کردیا۔

حفیظ نعمانی

یکم اگست 1965 ء کو جب مسلم یونیورسٹی نمبر ندائے ملت ضبط ہوگیا اور ہم جیل بھیج دیئے گئے تو دو چار دن کے اندر بیرک میں جتنے پڑھے لکھے تھے وہ رفتہ رفتہ قریب آئے اور سب نے یہ جاننا چاہا کہ اخبار نکلنے سے پہلے ضبط کیسے ہوگیا؟ ان میں سے ایک نوجوان شرافت تھا نہ جانے کیوں سب اسے ڈاکٹر کہتے تھے۔ ہم نے معلوم کیا تو اس نے بتایا کہ اس کے والد ملٹری ہاسپٹل میںکمپائونڈر ہیں انہیں سب ڈاکٹر کہتے ہیں اور اسی وجہ سے ہمارے نام کے ساتھ ڈاکٹر لگا دیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ قتل کے الزام میں دو برس سے بند ہے۔

اُس زمانہ میں لکھنؤ میں دو سشن ججوں کی دھوم تھی ایک جج ساہی دوسرے قریشی۔ جیل میں شہرت تھی کہ قریشی بہت سخت ہیں اللہ سے دعا ہے کہ ہمارا مقدمہ قریشی کے ہاں نہ لگے۔ یہ قسمت کی بات ہے کہ شرافت اور ان کے ساتھ منا نام کا جو لڑکا تھا ان کا مقدمہ قریشی کی عدالت میں لگ گیا۔ اب شرافت کے پاس خود دعا کرنے اور دوسروں سے دعا کے لئے کہنے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔

مقدمہ شروع ہوا اور پیشیاں پڑتی رہیں۔ شرافت شام کو جب عدالت سے آتے تھے تو چہرہ اُترا ہوا ہوتا تھا۔ ایک دن آکر بتایا کہ مقدمہ پورا ہوگیا اب اگلے ہفتہ فیصلہ ہے۔ شرافت کو اپنے وکیلوں کی بحث کی طرف سے یہ اطمینان تھا کہ پھانسی تو نہیں ہوگی لیکن عمرقید کے بارے میں یقین تھا۔ اور پریشانی یہ تھی کہ اس کے ساتھ منا بھی تھا اور مقدمہ میں سب سے اہم مقتول کا نزاعی بیان تھا کہ ’’مجھے منا اور منئی نے مارا ہے‘‘۔ منا تو وہ تھا جو شرافت کا دوست تھا اور اس واردات کے وقت اس کے ساتھ تھا اور منئی شرافت کی گائوں کی عرفیت تھی۔ مقررہ تاریخ پر دونوں گئے اور شام کو منھ لٹکائے واپس آگئے کہ فیصلہ نہیں سنایا اگلے ہفتے سنائیں گے۔ یہ بات بھی جیل میں مشہور تھی کہ جب فیصلہ پھنس جاتا ہے تو علامت اچھی نہیں ہے۔ دوسری پیشی پر پھر واپس آئے اور اس سے زیادہ منھ لٹکا ہوا کہ آج بھی نہیں سنایا اگلے ہفتہ سنائیں گے۔ شرافت اور جیل میں بار بار آنے جانے والے خود وکیل بن چکے ہوتے ہیں۔ اب جیل میں ہر طرف صرف ایک ہی بحث تھی کہ شرافت کا مقدمہ پھنس گیا اب اللہ ہی مالک ہے۔

آخرکار تیسری پیشی پر قریشی صاحب نے فیصلہ سنایا کہ منا کو پانچ سال کی سزا دی چونکہ وہ چھ سال سے جیل میں ہے اس لئے رِہا کیا جاتا ہے۔ اور شرافت بھی چھ سال جیل میں گذار چکے ہیں اس لئے انہیں مزید دس سال کی سزا۔ شرافت پوری بات ہمیں بتا چکے تھے کہ برسوں پہلے وہ دس برس کے تھے، ان کے ماموں لاولد تھے انہوں نے ہماری ماں سے گود لے لیا تھا اور اپنا وارث ہمیں بنا دیا تھا۔ ایک بار کسی جھگڑے میں شرافت کے ماموں کو ان کے ایک مخالف نے دیسی کٹے سے زخمی کردیا وہ بچ تو گئے لیکن معذور ہوگئے تھے اور اٹھتے بیٹھتے کہا کرتے تھے کہ میرا بھی کوئی بیٹا ہوتا تو وہ میرا بدلہ لیتا۔

شرافت کا کہنا تھا کہ یہ بات میرے دل میں بیٹھ گئی اور میں نے فیصلہ کرلیا کہ اپنے ماموں کا بدلہ میں لوں گا اور ایک دن برسوں بعد منا اور ہم نہر کے کنارے جارہے تھے وہ سامنے آگیا اور میں نے اسے پکڑکر پٹخ دیا اور منا سے کہا کہ چاقو نکال، اس نے چاقو دیا تو میں نے اس کا کام تمام کردیا اور بھاگ گئے وہ اسپتال تک زندہ رہا اور اس نے بس یہ کہا کہ ’’مجھے منا اور منئی نے مارا ہے۔‘‘

جیل میں جتنے کھلاڑی تھے وہ قریشی کی جے جے کررہے تھے کہ کیسے صحیح فیصلہ دیا جبکہ اس نے پہلے منا کا نام لیا تھا بعد میں منئی کہا تھا۔ لیکن کوئی اس گتھی کو نہ سمجھ سکا۔ کئی برس کے بعد ہم کسی کام سے الہ آباد گئے ہوئے تھے اپنے دوست میجر حسن سے ملنے گئے تو معلوم ہوا وہ حمید صاحب کے گھر گئے ہیں ہم وہاں گئے تو چوکڑی جمع تھی۔ چند منٹ کے اندر دو صاحب اور آئے جن سے ہماری ملاقات نہیں تھی۔ حسن نے تعارف کرایا اور قریشی صاحب کے بارے میں بتایا کہ یہ فتح پور میں سشن جج ہیں۔ آپس میں ہنسی مذاق ہوتا رہا اور سردی کے موسم کے اعتبار سے حمید صاحب مہمانوں کی تواضع بھی کرتے رہے۔

ذرا سکون ہوا تو میں نے قریشی صاحب سے معلوم کیا کہ 1965 ء میں کیا آپ لکھنؤ میں تھے؟ انہوں نے مانا کہ میں دو برس وہاں رہا ہوں تب میں نے کہا کہ دو سال میں نہ جانے کتنے مقدمے آپ نے نپٹائے ہوں گے آپ کہاں تک یاد رکھیں گے، لیکن ایک مقدمہ منا اور شرافت کا ضرور اس لئے یاد ہوگا کہ اس کا فیصلہ سنانے میں آپ کو تین مرتبہ بلانا پڑا تھا۔ قریشی صاحب نے کہا حفیظ صاحب آپ نے اچھا یاد دلایا وہ تو میں زندگی بھر نہیں بھول سکتا۔ لیکن آپ بتایئے آپ نے کیوں چھیڑا۔ موضوع کو کاٹتے ہوئے میجر حسن نے کہا کہ قریشی صاحب حفیظ اس زمانہ میں اسی جیل میں تھے۔ وہ میری طرف متوجہ ہوئے تو میں نے کہاکہ شرافت کو اس کی تکلیف تھی کہ نزاعی بیان میں کہا ہے کہ مجھے منا اور منئی نے مارا ہے جس کی وجہ سے زیادہ سزا منا کو ملے گی وہ میرا بچپن کا دوست ہے اور غریب گھر کا ہے میں اس سے آنکھ کیسے ملائوں گا۔ لیکن آپ نے یہ فیصلہ کیسے کردیا کہ شرافت عرف منئی کو زیادہ اور منا کو کم سزا دی؟

قریشی صاحب نے کہا کہ نزاعی بیان سیدھا تھا لیکن یہ بھی معلوم کرنا ہماری ذمہ داری تھی کہ منا کی مقتول سے کیا دشمنی تھی؟ اس کی جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس نے شرافت کے ماموں کو مارا تھا منا سے کوئی مطلب نہیں تھا بس دونوں دوست تھے۔ یہ بات معلوم ہونے کے بعد نقشہ بدل گیا۔ ہم نے صبح کو فیصلہ لکھا لیکن جب سنانے کا ارادہ کیا تو دل سے آواز آئی کہ ٹھیک نہیں ہے۔ اور دو بار ایسا ہی ہوا۔ پھر پورا مقدمہ پڑھا اور تب فیصلہ لکھا۔ اس کے بارے میں ایک بات سمجھ لیجئے کہ ہم مسلمان ہیں یا ہندو جس دنیا کے چلانے والے نے ہمارے ہاتھ میں قلم دیا ہے اور یہ طاقت دی ہے کہ ہم بے گناہ کو پھانسی کی سزا دے دیں اور گناہگار کو بری کردیں وہ ہمارے دماغ میں صحیح فیصلہ ڈال دیتا ہے اور میں ہر وقت اس کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میرے قلم سے آج تک کوئی فیصلہ غلط نہیں نکلا۔

جسٹس آر ریڈی بھی جج تھے، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ قدرت نے ان کی رہنمائی نہ کی ہو لیکن وہ جانتے تھے کہ جو یہ چاہتے ہیں کہ کسی کو سزا نہ ہو وہ جج لویا کی جگہ پہونچا دیتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے زہر تو پی لیا لیکن جان دینے کے بجائے عہدہ قربان کردیا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close