نقطہ نظر

جب برطانیہ میں دارالقضا قائم ہوسکتے ہیں تو ہندوستان میں کیوں نہیں؟

برطانیہ نے اُسی اکیسویں صدی میں اور ہم سے کہیں زیادہ جدید ہونے کے باوجود شرعی قوانین کے مطابق فیصلے کرنے کی مسلمانوں کو آزادی دے ر کھی ہے۔

ندیم عبدالقدیر

مرزا غالب نے کہا تھا ؎

ہرچند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو 

بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر 

مرزا غالب مشاہدہ حق کی گفتگو چاہتے تھے لیکن ان کے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ وہ بادہ و ساغر کا ذکر کئے بغیر کوئی بات نہیں کرسکتے تھے۔ہمارے ملک میں بھی تقریباً یہی حال ہے۔ ہم ایک بہتر سماج اور ملک کے خواہاں ہیں، لیکن ہمارے ملک میں کوئی سوچ، کوئی نظریہ، کوئی فکر، کوئی تصور اسلام دشمنی کے بغیر ممکن ہی نہیں۔  نیا معاملہ دارالقضا کا ہے۔ وطن عزیز میں بھلے ہی دارالقضا کی مخالفت میں اسلام دشمن طاقتیں ایڑی چوٹی کا زور لگادی ہیں اور اسے آئین کے خلاف بتارہی ہیں لیکن برطانیہ میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ دارلقضا جیسے ادارے برطانیہ میں موجود ہیںاور جس شریعت کے خلاف ہمارے ملک میں   انسان نما افرا د دن و رات قے کرتے رہتےہیں، برطانیہ کے درالقضا میں اُسی شریعت کے مطابق فیصلے بھی ہوتےہیں، جنہیں عدالتیں قانونی حیثیت دیتی ہیں۔  شریعت کے خلاف ’اکیسویں صدی‘ اور ’جدید دنیا‘ کی جو ساری دُہائی ہمارے ملک میں دی جارہی ہے۔

برطانیہ نے اُسی اکیسویں صدی میں اور ہم سے کہیں زیادہ جدید ہونے کے باوجود شرعی قوانین کے مطابق فیصلے کرنے کی مسلمانوں کو آزادی دے ر کھی ہے۔ کمال یہ نہیں ہے کہ برطانیہ نے مسلمانوں کواپنے کئ امور میں شرعی قوانین کے مطابق فیصلے کرنے اور دارالقضا جیسے مراکز قائم کرنے کی آزادی د ی ہے بلکہ کمال یہ ہے کہ برطانیہ میں کسی صحافی، کسی دانشور یا کسی بھی محب وطن نے اسے ملک کے خلاف نہیں بتایا۔ نہ ہی کسی نے یہ دلیل دی کہ ایسے مراکز قائم ہوجانے سے ان کا ملک اسلامی ریاست بن جائے گا۔ ہمارے یہاں چند الفاظ سے بہت ڈرا یا جاتا ہے اور انہیں ملک مخالف بتایا جاتا ہے۔  ان  چند الفاظ میں سے ایک ’شرعی قوانین‘ بھی ہے۔ شرعی قوانین کا لفظ آتے ہی سارے سیکولر، لبرل، کمیونسٹ اور نرم ہندوتو ا کے نظریات کے تمام حامی و حوارین یکلخت آر ایس ایس کی بولی بولنے لگتے ہیں لیکن امریکہ اور برطانیہ ایسے مرض کے  شکار نہیں ہیں۔ امریکہ میں مسلمانوں کے مابین مفاہمت و مصالحت کیلئے قائم اداروں  کو ’اسلامی شرعی مرکز‘ بھی  کہا جاتاہیں۔

 انفرادی آزادی ،  سیکولرزم، ترقی پسندی اور جدت پسندی میں ہمارا ملک برطانیہ اور امریکہ سے آگے تو قطعی نہیں ہوسکتا ہے۔ جب اس ملک میں دارالقضا جیسے ادارے قائم ہوسکتےہیں تو آخر ہمارے ملک ایسا کیوں نہیں ہوسکتا ہے۔

برطانیہ نے مسلمانوں کے بہت سے معاملات کو شرعی طور پر حل کرنے کی آزادی دیتے ہوئے ۲۰۰۷ء میں ’اسلامی آربی ٹریشن ٹریبونل ‘ قائم کرنے کی اجازت دی۔ ان مراکز کی کامیابی کودیکھتے ہوئے ۲۰۱۵ء میں امریکہ نے شمالی ٹیکساس میں ’اسلامی آربی ٹریشن ٹریبونل‘ قائم کردئیے۔

برطانیہ اور امریکہ میں ’اسلامی آربی ٹریشن ٹریبونل ‘ نامی ادارے وہی کام کررہے ہیں  جو  ہمارے یہاں دار القضا  کے وجود کے اسباب ہیں۔ ان ممالک میں یہ ادارے وہاں کے ’آربی ٹریشن ایکٹ‘ کےتحت وجود میں آ ئے ہیں۔

امریکہ اور برطانیہ کے ان دارلقضا ؤں میں تنازعات کو شرعی قوانین کے تحت حل کیا جاتا ہے۔ ان کے کام کرنے کاطریقہ کچھ یوں ہے کہ، فریقین ملک کی  عدالت میں تحریری طور پر درخواست دیتےہیں کہ وہ  فلاں معاملے کو شرعی عدالتوں میںافہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کی خواہش رکھتےہیں۔ عدالتیں اس کی اجازت دیتی  ہیں اورجب ’اسلامی آربی ٹریشن ٹریبونل‘  دونوں فریقین کی رضا مندی سے شرعی طور پر اپنا فیصلہ سناتی  ہیں، تو ملک کی عدالتیں ان شرعی عدالتوں کے فیصلوں کو قانونی حیثیت دے دیتی ہے۔ اسلام ایسا کمال ہے جو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ برطانیہ  میں ان شرعی عدالتوں یا دارالقضاؤں کی کامیابی کا عالم یہ ہے کہ غیر مسلم افراد بھی اپنے معاملات کو لے کر شرعی عدالتوں کا رخ کررہے ہیں۔ برطانوی اخبار ’گارجین‘  کی  مارچ ۲۰۱۰ء کی رپورٹ کے مطابق غیر مسلم افراد بھی اپنے معاملات لے کر دارالقضا (مسلم آربی ٹریشن ٹریبونل) جارہے ہیں۔ اس  میں ۱۵؍فیصد کا اضافہ بھی ہوا۔

دو فریقین کے درمیان ثالثی کرنا، افہام و تفہیم کے ذریعے تنازع کو خوش اسلوبی سے حل کرنا انسانی سماج میں ہمیشہ سےقابل احترام اور نیک کام سمجھا جاتا رہاہے۔ معاملہ دو افراد کے مابین ہو یا پھر دو ممالک کے درمیان، مصالحت کے امور کو انسانی تقاضوں کے عین موافق مانا گیا ہے۔کیا ایسا بھی کوئی  غیر مہذب سماج ہوسکتا ہے جہاں  فریقین کے درمیان ثالثی اور مصالحت کرانے کے نیک کام کوہی غلط سمجھا جاتا ہو اور اس سے روکا جاتا ہو، یہ سننے میں بڑا ہی عجیب لگتاہے لیکن ہمارا ملک ایسا ہی سماج بنتا جارہا ہے۔ دارالقضا درحقیقت ایک مہذب سماج کی غمازی کرتا ہے جہاں دو فریقین کے درمیان گفت و شنید کے ذریعے پر امن طریقہ پر اختلافات سے نمٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ایسے مراکز یا ایسے اداروں کی مخالفت انسانیت کے بنیادی تقاضوں سے اختلاف کے مصداق ہے، لیکن وطن عزیز میں تہذیب کے نام پر یہ غیر مہذبانہ حرکت زور و شور سے جاری ہے۔

دارالقضا کے قیام سے عدالتوں کا بوجھ بھی ہلکا ہوگا۔ عوام کو بھی عدالتوں کے چکر کاٹنے سے نجات ملے گی۔ان کے اخراجات اور وقت کی بھی بچت ہوگی، نیز معاملات خوش اسلوبی کے ساتھ  حل کرلئے جائیں گے۔ ورنہ پھر انہیں وہی عدالتوں کے پھیرے لگانے ہونگے جو انصاف سے زیادہ ناانصافی کے مظہر ہوتے ہیں۔

ہندوستان کا نظامِ ِعدلیہ ویسے بھی سست رفتاری میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ انڈین ایکسپریس کی جنوری ۲۰۱۷ء کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی ضلعی عدالتوں میں ۲؍کروڑ۸۱؍لاکھ معاملات زیر التوا  ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈسٹرکٹ کورٹ میں ۵۰۰۰؍ججوں کی کمی ہے۔

اسی طرح ٹائمز آف انڈیا کی مارچ ۲۰۱۸ء میں شائع رپورٹ کے مطابق ملک کے ۱۰؍ہائی کورٹ میں ۱۰؍لاکھ سے زیادہ معاملات زیر شنوائی ہیں۔ ان اعدادو شمار سے یہ بات قطعی طور پر ظاہر ہے کہ ہماری عدالتیں پہلے سے ہی کام کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔ اس کے سبب معاملات سست رفتاری کا شکار ہوتےہیں۔ عام لوگوں کو صرف تاریخ پر تاریخ اور تاریخ پر تاریخ  ہی ملتی ہے لیکن انصاف نہیں ملتا۔ معاملہ اتنے پر ہی ختم نہیں ہوجاتا، بلکہ حصول ِ انصاف بذاتِ خود اس قدر مہنگا ہے کہ ایک غریب آدمی  کیلئے اس  کو حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔  اس کے علاوہ عدلیہ کے معاملات وقت طلب ہوتے ہیں۔ ہر تاریخ پر عدالت پہنچنا، ایک عذاب جیسا ہی ہوتا ہے۔ سالہا سال عدالتوں کے چکر لگانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ غریب انسان اگر ایک دن عدالت کے چکر لگاتا ہے تو اس کی ایک دن کی آمدنی ضائع ہوتی ہے ساتھ ہی آنے جانے کے خرچ اور دیگر اخراجات الگ ہوتےہیں۔اتنی مصیبتوں، پریشانیوں اور صعوبتوں کے بعد انصاف ہے کہ ملتا نہیں۔

کوہلی نامی شخص نے ۱۹۸۲ء میں اپنی بیوی سے طلاق حاصل کرنے کیلئے عدالت میں درخواست دی۔ انہیں طلاق لینے میں ۳۰؍سال لگ گئے۔ ۲۰۱۱ء میں جاکرعدالت نے میاں بیوی کے طلاق کو قانونی شکل دی۔ راجستھان میں ایک دیوانی مقدمہ ۱۹۵۶ء سے زیر التواہے۔ جھارکھنڈ کی ایک عدالت میں ایک دیوانی مقدمہ ۱۹۵۸ء سے اپنے فیصلے کا انتظار کررہا ہے۔ ایسے بے شمار معاملات ہیں جہاں خانگی مسائل دہائیوں تک عدالت میں گھسٹتے رہتےہیں۔ عدالتوں کی حالتِ زار، انتہائی مہنگے انصاف اوراس کی تاخیر کے مدنظر ہندوستان میں دارالقضا کا قیام اشد ضروری ہے۔ اس سے سماج میں بہتری کی بھی امید ہے۔ اس سے فریقین کو جلد انصاف ملے گا، عدالتوں کا بوجھ کم ہوگا، لوگوں کو مہنگے انصاف سے نجات ملے گی، عدالتوں کا چکر نہیں کاٹنا ہوگا اور یہ سب   مل کریقینا    سماج کو بہتر بنانے کی سمت پیش قدمی ہوگی۔ اتنے سارے فائدے کو ہم نے صرف اور صرف اسلام دشمنی کی ذہنیت کے سبب ترک کررکھا ہے۔ ہمیں عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار قبول ہے، عام آدمی پر پڑنے والے عدالتی اخراجات  قبول  ہیں، دہائیوں تک مقدمات کا گھسٹتے رہنا بھی قبول ہے، اس درمیان عام آدمی کو ملنے والی اذیت بھی قبول ہے اور ان سے سماج پر پڑنے والے منفی اثرات بھی قبول ہیں، لیکن شریعت قبول نہیں ہے۔ مرزا غالب کیساتھ مجبوری ان کے بادہ وساغر تھے، ہمارے بادہ وساغر’اسلام دشمنی‘ ہے۔ ہم بھی وہی کہہ رہے ہیں؎

بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ندیم عبدالقدیر

فیچر ایڈیٹر (روزنامہ اردوٹائمز ، ممبئی)

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close