نقطہ نظر

جمہوریت، مسلم مسائل اور ہم

ابو عفاف عبدالوحید سلفی ریاضی

(مدیرمجلہ نداء السنہ )

کسی بھی جمہوری نظام کی کامیابی ا ور خوبصورتی کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ اس کے سایے میں سانس لینے والے شہریوں کے ساتھ عدل و انصاف اور مساوات کا معاملہ کیا جائے۔ امن و سکون کا ماحول ہو، اصول و قوانین کی بالادستی ہو اور تمام ادیان و مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے دینی شعائر اور اصول و عقائد کی روشنی میں زندگی گزارنے کی آزادی ہو۔مذہبی آزادی میں حکومتیں دخل انداز نہ ہوں اورسب کو ساتھ لے کر چلنے کا جذبہ ہر حکومت کے مطمح نظر ہو۔

ہمارا ملک ہندوستان جو دنیا کا سب سے عظیم جمہوری ملک ہے اس کا دستور اپنے ہر شہری کو مذہبی آزادی اور تمام طبقات کو یکساں حقوق و مواقع کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ ہر فرد کو ملک کی ترقی سے جوڑنے اور مین اسٹریم سے ہمرکاب کرنے کی وکالت کرتا ہے۔ دستورِ ہند میں مذہبی اقلیات کے لئے خاص رعایتیں بھی دی گئی ہیں جن کی حفاظت اور یقین دہانی حکومتِ وقت کی ذمہ داری اور فرضِ منصبی ہے۔

ہمارا یہ ملک صدیوں سے آپسی بھائی چارہ اور مل جل کر جینے کا مظہر رہا ہے۔ وقتاً فوقتاً امن و شانتی کے تانے بانے کو بکھیرنے کی سعی نا مسعود بھی ہوتی رہتی ہے۔ متعصب اور فاشسٹ طاقتیں کبھی کبھی اتحادو یگانگت کی فصیل میں سیند لگانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں مگر معاشرے کے دور اندیشوں اور بہی خواہوں کی پہل سے اس شگاف و شکن کی پیوندکاری ہوجاتی ہے۔ اور اس طرح ہر شخص اپنے مذہبی تشخص اور آزادی کے ساتھ زندگی کی راہ پر رواں دواں ہوجاتا ہے۔

جمہوری نظام میں اگر حکومت زمامِ عدل و انصاف پر اپنی پکڑ ڈھیلی کردے اور ایک خاص نظریے اور فکر کی وکالت کرتے ہوئے آگے بڑھے تو یقینی طور پر اس کا برا اثر اُن افراد پر مرتب ہوتا ہے جو جمہوریت میں یقین رکھتے ہیں مگر اس خاص نظریے سے انہیں اختلاف اور اعتراض ہے۔ آج ہمارے ملک میں زمامِ حکومت جن کے ہاتھوں میں ہے ان کے طرزِ حکومت سے انہیں خدشات کی بو آرہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ اقلیت و اکثریت کے ٹکراؤ اور تصادم کی راہ ہموار ہورہی ہے اور اس کی روک تھام کے لئے بر وقت اطمینان بخش کاروائی نہیں ہورہی ہے۔

ہمارے وزیر اعظم کا یہ نعرہ تھا اور ہے کہ ’’ سب کاساتھ اور سب کا وِکاس‘‘ مگر گزشتہ چار سالہ حکومتی دور انیے میں جو کچھ دیکھااور سنا گیا اس سے عملاً ان کے نعرے کی تصدیق نہیں ہوتی، بلکہ ظاہر و باطن میں شدید تصادم کا احساس ہوتا ہے۔ تمام شہریوں کے لئے ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے بجائے انہیں غیر ضروری چیزوں میں الجھانے کی کوشش زیادہ ہورہی ہے ایسا لگتا ہے کہ اپنی حکومتی ناکامیوں پر پردہ پوشی کی کوششیں عروج پر ہیں۔ مسلمانوں کے خصوصی مسائل ’’ پرسنل لاء‘‘ کے خلاف جیسے مہم چھیڑ دی گئی ہو، ایسا لگتا ہے کہ ملک کے لئے سب سے اہم ایشوز یہی ہوں، اور آئے دن بڑی تیزی کے ساتھ مسلم مسائل میں دراندازی جاری ہے۔ خواہ و ہ طلاق ثلاثہ کا مسئلہ ہو یا عورت کا محرم کے ساتھ حج کرنے کا، حج سبسڈی کا مسئلہ ہو یا اقلیتی حقوق کی رعایت کا، مدارسِ اسلامیہ کے مسائل ہوں یا مساجد کے لاؤڈ اسپیکر پر پابندی کا، غرضیکہ مسلم پرسنل لاء میں دخل اندازی حکومت کے ایجنڈے میں سر فہرست نظر آتی ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ مسلم مسائل میں اصلاح و تنقیح کی ضرورت نہیں مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ حکومتِ وقت کا کام نہیں بلکہ اس کے لئے مسلم پرسنل لاء بورڈ، مسلم مجلس مشاورت، اسلامی جمعیات اور موقر علماءِ کرام موجود ہیں جوحالات و ظروف کے لحاظ سے مسلم مسائل کے لئے کوشاں رہے ہیں اور کوشش میں لگے ہیں اور آج بھی اس طرح کے مسائل کا حل انہیں کے سپرد ہونا چاہئے۔

مگر جیسا کہ ہم مشاہدہ کررہے ہیں کہ حکومتِ وقت نے اس طرح کے مسائل کے خلاف کمر کس لی ہے اور اس کا بھر پور سیاسی فائدہ اٹھانے کے موڈ میں ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں کی دین بیزاری اور جہالت کے سبب بہت سارے ایسے مسائل جنم لیتے ہیں جن کا بروقت حل پیش کرنا مسلم جمعیات و مراکز کی ذمہ داری ہے جس میں تأخیر کے سبب ایسے مسائل سیاسی چوکھٹ پر پہونچ جاتے ہیں اور تب تک کافی تأخیر ہوچکی ہوتی ہے اور پھر ہمیں ناکامی ہی ہاتھ لگتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ آج علماء و عوام کے درمیان تقارب و تعلقات کی خلیج دن بدن بڑھتی چلی جارہی ہے، دین بیزاری عام ہے، گھریلو تربیت کا نظام درہم برہم ہوتا جارہا ہے، ہماری زندگی میں اسلامی عائلی نظام اضمحلال کا شکار ہے، اسلامی شعائر سے دوری اور ایمان و عقائد سے فرار زندگی کا خاصہ بن چکا ہے، دینی اور دنیاوی مقتضیات کا توازن بگڑتا جارہا ہے، آئے دن مسلم معاشرے سے ایسی خبریں آتی ہیں جس سے لگتا ہے کہ اخلاق و کردار کا جنازہ نکل رہا ہے، دینی و دنیاوی تعلیم کے میدان میں بھی ہم سخت کنفیوژن اور عدم توازن کا شکار ہیں۔
ایسے وقت میں جب حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے مسلم مسائل میں دراندازی کررہی ہو، اقلیت و اکثریت میں ٹکراؤ کا ماحول پروان چڑھ رہا ہو، اور اپنے ہی مسلم برادران حکومتِ وقت کے آلۂ کار بن رہے ہوں اور اقلیتی حقوق و مراعات پر قدغن لگانے کی پہل ہورہی ہوتو مسلم علماء وقائدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہوش کے ناخن لیں، حالات سے آگاہی اور اپنے گرد و پیش رونما احداث پر نظر رکھیں، حکومتِ وقت سے بات چیت اور ڈائیلاگ کے لئے باخبر علماء و مفکرین کی منظم ٹیم تیار رکھیں، مسلم مسائل کے سلسلے میں اربابِ حل و عقد کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں، عامۃ الناس سے رشتہ ہموار کریں، علماء اور عوام کے درمیان خلیج پاٹنے کی کوشش کریں، دینی بیداری کے لئے اٹھ کھڑے ہوں، اسلام کے عائلی نظام کی خوبصورتی اور مسلم خواتین کو فراہم کردہ حقوق سے لوگوں کو آگاہ کریں، آپسی اختلاف و چپقلش سے اوپر اٹھ کر مسلمانوں کے مشترکہ فلاح و بہبود کے لئے سیاسی طور پر ایک آواز بن جائیں اور مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل کتاب و سنت کی روشنی میں تلاش کریں، اور ٹکراؤ کی صورت میں کتاب و سنتِ رسول ﷺ ہی کو اپنا فیصل مانیں، مسلمانانِ ہند کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے اور بروقت مناسب حل پیش کرنے کے لئے بیدار مغزی اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھنے کا عہد کریں اور اگر یونہی خوابِ غفلت میں مست رہے تو تاریخ تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ موجودہ حالات میں یہ شعر ہم پر کتنا صادق ہے۔

 عیاں تھا جسکی نگاہوں پہ عالم اسرار
اسے خبر نہ ہوئی کیا ہوا پسِ دیوار

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close