جمہوریت

امتیازعلی شاکر

   جمہوریت کاذکرآتے ہی آمریت، جمہوریت پرشب خون، جمہوریت کوخطرہ اورجمہوریت کیخلاف سازش جیسے الفاظ ذہن میں خودبخود اُبھرآتے ہیں۔ جمہوریت کیاہے؟جمہوریت کے فوائد کس کوحاصل ہیں ؟جمہوریت عام آدمی کی زندگی پرکس قسم کے اثرات مرتب کرتی ہے۔ جمہوری حکمرانی کے ادوارمیں صحت وتعلیم جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے کیاکچھ کیاگیا؟ایسے بہت سارے مزید سوالات کبھی زیربحث نہیں آتے۔ جمہوریت پرجب بھی گفتگوکے دور چلتے ہیں، جمہوریت کیخلاف سازش، جمہوریت کوخطرہ، جمہوریت پرشب خون، آمریت کے ہاتھوں جمہوریت کاقتل جیسے موضوعات پربحث کی جاتی ہے۔ کہاجاتاہے کہ آمریت کے دورمیں فردواحد یعنی آمرسارے فیصلے کرتاہے جس سے ریاست کمزورہوجاتی ہے جبکہ جمہوریت کاجوتصورپیش کیاجاتاہے اس میں ملک کی بالغ آبادی کے ووٹ سے منتخب ہوکرایوانوں میں پہنچنے والے نمائندے عوامی امنگوں کے مطابق فیصلے کرتے ہیں لہٰذاجمہوریت ہی بہترین طرز حکمرانی ہے۔ راقم کاخیال ہے کہ درحقیقت جمہوریت کوآج تک کوئی سمجھ ہی نہیں پایا۔

جمہوریت نہ سمجھ آنے والی چیزکانام ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی کہاوت کی طرح جس کااختیار اس کی جمہوریت کوبھی مثال کے طورپراستعمال کیاجاسکتاہے۔ ہرکوئی اپنی مرضی کی جمہوریت ترتیب دیتاہے۔ صاحب اقتدارجب چاہیں ذاتی مفادات کوتحفظ دینے کیلئے جمہوریت کالفظ استعمال کرکے اپنے خیالات اورضروریات کوبطورجمہوریت پیش کرسکتے ہیں۔ جمہوریت کوئی مکمل ضابطہ حیات یاحتمی نظام زندگی پیش نہیں کرتی۔ جمہوریت ایسی لچک دارشاخ کی مانند ہے جسے طاقتور اپنی مرضی سے موڑسکتاہے۔ ہمارے ہاں جمہوریت کی ایک خاص قسم کثرت سے پائی جاتی ہے، راقم اس قسم کوخوفزدہ جمہوریت کانام دیتاہے۔ ایک شخص کی غلطی یایعنی کرپشن، لوٹ گھسوٹ کی وجہ سے پوری جمہوریت کابسترگول کردیاجاتاہے۔

سیاستدان ہردورمیں اپنے تمام عیب چھپانے کیلئے بڑی بے باکی سے جمہوریت کے گلے پرچھری چلاتے ہیں اورپھرپاکستان کی سلامتی کے ضامن اداروں کو تنقید کانشانہ بناتے ہیں۔ سیاستدانوں کی جانب سے ہمیشہ یہ تاثردیاجاتاہے کہ آمریت یعنی فوجی حکومت میں فردواحد فیصلے کرتاہے جبکہ یہ تاثر بالکل غلط ہے۔ فوج ایساادارہ ہے جس کے فیصلے کرنے کااختیارکبھی بھی فرد واحد کے پاس نہیں رہا۔ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی نااہلی کے بعد عدلیہ کیخلاف کھلے لفظوں میں اور افواج پاکستان کی طرف اشاروں سے زہراگلنے والوں نے میاں نوازشریف کوپارٹی صدر بنانے کیلئے فردواحد کے فیصلے پر لبیک کہتے ہوئے آئین میں ترمیم کرکے ثابت کردیاکہ جمہوریت کے نام پر عوام کوبے وقوف بنانے والے ہی اصلی آمرہیں۔ اس حقیقت کاانکارممکن نہیں کہ طاقتور کااحتساب کرناکسی کمزورکے بس کی بات نہیں۔

 اقتدارطاقت کادوسرانام ہے۔ آمریت ہویاجمہوریت صاحب اقتدارہی طاقتورٹھہرتے ہیں۔ انسانی تاریخ شاہد ہے کہ اقتدارکے نشے نے ہمیشہ حکمرانوں کوگمراہ کیاہے۔ کسی فرد، معاشرے یاجماعت کااحتساب کرنے کیلئے عادل کاطاقتورہونالازم ہے۔ ایساخومختاراور مضبوط نظام عدل جس میں عادل خوف کھائے نہ ترس۔ قیام پاکستان کے سترسال گزرچکے ہیں۔ پاکستانی عوام نے جمہوری دوربھی دیکھے اورفوجی بھی۔ فوجی دورمیں جمہوریت کادم بھرنے والوں کی اکثریت حاکم وقت کے تلوے چاٹتی پائی جاتی اورجب جمہوریت رائج ہوتی ہے وہی لوگ جمہوری حاکم کے قریبی وزیراورمشیربن جاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ سترسال گزرچکے ہم پاکستان کواسلامی فلاحی ریاست نہیں بناپائے۔ سول ہویافوجی، آمرہویاجمہوریت کادم بھرنے والاآج تک کسی طاقتورکااحتساب نہیں ہوپایا۔

قوم کواب یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ صاحب اقتدارکواحتساب کے دائرے میں لائے بغیرملک ترقی نہیں کرسکتا، عوام خوشحال نہیں ہوسکتے۔ اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ صاحب اقتدارسے زیادہ طاقتورکون ہے جوحساب لے گا؟آج دنیاکے ساتھ چلنے کیلئے جمہوریت سے فائدہ اُٹھاناوقت کی ضرورت ہے جبکہ دین اسلام اس کائنات کاواحد مکمل ضابطہ حیات ہے جوخوش قسمتی سے پاکستان کی بنیاد بھی ہے۔ قیام پاکستان سے آج تک جمہوریت اورآمریت  ادوارہم دیکھ بلکہ برداشت کرچکے ہیں۔ نہیں دیکھاتواسلامی نظام نافذ ہوتے نہیں دیکھا۔

مسلم ہوں یاغیرمسلم سب اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ جدید ترقی یافتہ دورمیں بھی دنیاکاکوئی نظام اسلام کے نظام عدل و مساوات کامقابلہ نہیں کرسکتا۔ انگریزوں اور ہندئوں سے آزادہونے کے باوجود پاکستانی قوم گزشتہ سترسالوں سے مشکلات کاشکار ہے جس کی ایک ہی وجہ سمجھ آتی ہے کہ پاکستان جن مقاصد کیلئے قائم ہواقوم نے اُن مقاصد کو پس پشت ڈال دیا۔ کتنی شرم کی بات ہے کہ مسلمان ریاست کے باشندے اسلام کی بنیاد’’ ختم نبوت ؐ‘‘ جیسے معاملے پرحکمرانوں کے سامنے احتجاج کرنے پرمجبورہیں۔ جس پارلیمنٹ کا رکن بننے کیلئے ختم نبوت ؐ پرکامل ایمان رکھنے کاحلف لینالازم ہے اسی پارلیمنٹ نے ختم نبوت ؐ کیخلاف ترمیم پاس کردی۔ یہی جمہوریت ہے تو ہم اس جمہوریت کامکمل بائیکاٹ کرتے ہیں۔ ہمیں ایسی جمہوریت چاہئے جو اسلام کے تابع ہو۔ ہم آئندہ عام انتخابات مین اسی جماعت کوووٹ اور سپورٹ کریں گے جواسلامی جمہوریت کی بات کرتی ہے۔ اسلام کے تابع جمہوریت کاتصورپیش کرنے والی جماعت تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ پاکستان کے سرپرست، عظیم روحانی پیشوا، سید عرفان احمد شاہ المعروف نانگامست کے ساتھ مرکزی امیرتحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ پاکستان علامہ خادم حسین رضوی کے باربار فرشتوں کی مدد آنے کے بیان کے متعلق تفصیلی بات ہوئی۔

 سید عرفان احمد شاہ کاکہناہے کہ علامہ حافظ خادم حسین رضوی ہمارے بزرگ ہیں انہوں نے جوکہابالکل سچ ہے۔ تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ کے ہر پروگرام میں انسانوں کے ساتھ دیگرمخلوقات بھی شامل ہوتی ہیں۔ راقم نے سوال اُٹھایاکہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں یادیگرمخلوقات کومیرے جیساعام انسان دیکھ یامحسوس کرسکتاہے؟ انہوں نے بہت یقین اورپروقارلہجے میں جواب دیاہاں بالکل دیکھ سکتاہے محسوس کرسکتاہے شرط یہ ہے کہ نیت آزمائش کی لے کرنہ آئے۔ انہوں نے کہاکہ جواللہ تعالیٰ کی غیبی مدد دیکھنایامحسوس کرناچاہتاہے چھ نومبر کے مارچ میں خالصتااللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ کی خوشنودی کی نیت سے شامل ہو۔

 اللہ تعالیٰ کے فضل سے چھ نومبرکو لاہورسے اسلام آبادکی طرف نکلنے والے ختم نبوتؐ مارچ میں فرشتے قافلوں کی صورت شامل ہوں گے اوردنیادیکھے گی کہ محمد عربی ﷺ کے غلام اپنے نبی کریم ﷺ کے ساتھ کس قدر محبت کرتے ہیں۔ جن راستوں سے مارچ گزرے گاوہ راستے، اُن پرموجود شجر، پھول، پودے، ہوامیں اڑتے پرندے اورزمین پررینگنے والی مخلوق سمیت تمام مخلوقات مارچ کااستقبال کریں گی۔ سید عرفان احمد شاہ کی سحرانگیزگفتگوسن کر ایسامحسوس ہواجیسے چھ نومبر کے ختم نبوت ؐ مارچ پر رسول اللہ ﷺ کی نظر خاص ہوگی اورصرف فرشتے نہیں اولیاء اللہ کی جماعت بھی شامل ہوگی۔ اللہ کرے میرے وطن میں ایسی جمہوریت رائج ہوجس کاتصورعلامہ خادم حسین رضوی نے پیش کیااور اللہ تعالیٰ کی مدد ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ رہے۔

 جمہوریت ایسا نظام حکومت ہے جو عوام کی اکثریت کی رائے سے قائم کیاجاتاہے۔ اس نظام میں انفرادی آزادی اور شخصی مساوات کے تصورات کو اہمیت دی گئی ہے جس کی وجہ سے دنیابھر میں اسے پسندکیاجاتاہے۔ پسندیدہ ترین ہونے کے باوجود جمہوریت صاف شفاف اورغیرجانبدار نظام عدل کے قیام میں ناکام نظر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دُعاہے کہ پاکستان میں جمہوریت قائم رہے اورامن بھی ہو، انصاف بھی ہو، بدعنوانی کاخاتمہ ہواورخوشحالی آئے۔



⋆ امتیازعلی شاکر

امتیازعلی شاکر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے