فقہمذہبنقطہ نظر

جیلاٹین مکس خوراک کا شرعی حکم

مقبول احمد سلفی

جیلاٹن ایک پروٹین کا نام ہے جو گائے، گدھا،گھوڑا، کتا، سانپ، مچھلی، بکرا،بھیڑ،سور(خنزیر)اورمردار جانوروں کی کھال، ہڈی اور ریشوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ سبزیوں سے بھی جیلاٹین تیار کیا جاتا ہے لیکن  عموماجیلاٹین میں جانور کی ہڈی کااستعمال ہوتا ہےجو ایک مخصوص مراحل طے کرکے عمل میں لایا جاتا ہے۔

جیلاٹین کا فائدہ یہ ہے کہ یہ اشیاء کوجمانے کا کام کرتا ہے نیز یہ ایک ٹھوس مادہ ہے مگر گیلا ہونے پر فورا تحلیل ہوجاتا ہے۔ جیلاٹین کا استعمال ٹافی، چاکلیٹ، جیلی، چیونگم، کیک، آئیس کریم، مٹھائی، دوا، بسکٹ، بریڈ، دہی، مسالحہ، کیپسول وغیرہ میں ہوتا ہے جو کہ کھانے والی اشیاء ہیں اور اس کا استعمال نان فوڈ آٹمز میں بھی ہوتا ہے جیسے لوشن، شیونگ کریم اور کاسمیٹکس۔

یہاں ہمیں جیلاٹین سے بنے کھانے والی اشیاء سے سروکار ہے کہ اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟ یہاں اس سے بھی ہمیں سروکار نہیں کہ  جیلاٹین تیار کرنے میں جانوروں کی ہڈیوں پر کیا پراسیس کیا جاتا ہے؟ اور یہاں یہ بحث بھی بے معنی ہوگی کہ ہڈیوں کو مختلف مراحل سے گزارکے اس کی ہیئت تبدیل کردی جاتی ہے۔

اصل ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں میں جانور اور اس کی اشیاء کا کیا حکم ہے ؟ اسلامی ضابطہ کی رو سے ہمارے لئے صرف وہی جیلاٹین حلال ہے جس میں حلال جانور کی ہڈی یا کھال استعمال کی گئی ہواس شرط کے ساتھ کہ حلال جانور کو اسلامی طریقے سے ذبح بھی کیا گیا ہو۔ اگر ہمیں معلوم ہوکہ گائے، بھیڑ، بکرا،گھوڑاحلال طریقے سے ذبح کیا گیاہو تو ان کی اشیاء سے بنے جیلاٹین کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح مچھلی اور سبزیوں سے بنے جیلاٹین ہمارے لئے حلال ہے۔

اس کے ماسواحرام جانور سور، کتا، گدھا، سانپ یا مردار جانور سے بنے جیلاٹین کا استعمال جائز نہیں ہے حتی کہ حلال جانور بھی اگر اسلامی طرز پر ذبح نہ کیا گیا ہوتو اس کے جیلاٹین کااستعمال بھی جائز نہیں۔ اسی طرح جس سامان میں جیلاٹین کی ملاوٹ ہو اور جیلاٹین کا ماخذ معلوم نہ ہوتو اس سے بھی بچنا ہے کیونکہ یہ مشکوک ہوگیا۔

ایک اہم  انتباہ : مسلمانوں  میں جیلاٹین کے استعمال سے متعلق مختلف قسم کی باتیں اور فتاوے متداول ہیں۔ کسی کا کہنا ہے کہ چونکہ اس کی ماہیت بدل جاتی ہےاس لئے جیلاٹین کے استعمال میں کوئی حرج نہیں خواہ کسی سے بنا ہو۔ کسی کا کہنا ہے کہ بطور علاج جیلاٹین کا استعمال جائز ہے، کسی کا کہنا ہے کہ سور کے علاوہ بقیہ تمام جانور کے جیلاٹین کا استعمال جائز ہے۔ ان میں سے کسی کی بات درست نہیں ہے۔ صحیح بات وہی ہے جو میں نے اوپر لکھی ہے کہ صرف حلال جانور کی ہڈی سے بنے جیلاٹین کا استعمال جائز ہے وہ بھی اس وقت جب اسے  شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہو، باقی مچھلی یا سبزی کے جیلاٹین کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

حرام جانور کا جیسے گوشت کھانا حرام ہے ویسے اس کی کھال اور ہڈی کھانا حرام ہے، اللہ تعالی نے ہمیں صرف پاک  چیزوں  کے کھانے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَآئِثَ۔ [ الأعراف : 157 ]

ترجمہ: اور پاکیزہ چیزوں کو حلال بتاتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں۔

اس لئے پاک چیزیں ہی ہمیں کھانا ہے اور ناپاک چیزوں سے اجتناب کرنا ہے، اسے بطور علاج بھی نہیں استعمال کرنا ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

إنَّ اللهَ تعالى خلق الدَّاءَ و الدَّواءَ، فتداووْا، و لا تتداووْا بحَرامٍ( صحيح الجامع:1762)

ترجمہ: یقیناً اللہ تعالی نے بیماری اور اس کا علاج پیدا کیا ہے، لہذا تم اپنا علاج کراؤ اور حرام چیزوں سے اپنا علاج مت کراؤ۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close