نقطہ نظر

حاجی نہیں ‘الحاج’ ہیں ہم!

احساس نایاب

ایک دور تھا جب حج کو ایسا فریضہ مانا جاتا تھا جسکو ادا کرنے کے بعد انسان کی زندگی مکمل تبدیل ہوجایاکرتی تھی، ایک مومن بندہ حج کے دوران اللہ کا قرب اس قدر حاصل کرلیتا کہ اسکا شمار اللہ والوں میں ہوجایا کرتا تھا ، اور وہ اپنی بقیہ زندگی دنیاوی الجھنوں، فضول اورلایعنی باتوں سے بچتے ہوئے ہر قسم کے جھوٹ، فریب، غیبت، چغلی اور سودی لین دین جیسی برائیوں سے سخت پرہیز کرتے ہوئے خود کو گناہِ کبیرہ اور گناہِ صغیرہ جیسے دونوں قسم کے گناہوں سے بچاتے ہوئے پرہیزگار زندگی بسر کرتاتھا ۔حج کے حقیقی معنی بھی یہی ہیں کہ حجاج کرام خود کو دنیاوی خواہشات سے دور اور پاک و صاف رکھ کر ہر گھڑی، ہر لمحہ اپنے اعمال کی فکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کریں اورحج کے دوران پیش آنے والی تمام پریشانیوں و تکالیف پہ صبر اختیار کرکے ثابت قدم رہ کر لبوں پہ ذکر الٰہی کرتے ہوئے اُس ربِ کائنات کی بارگاہ میں شکر ادا کریں۔

کیونکہ ہر مومن بندہ کے لئے صبر اور شکر ہی وہ دو ہتھیار ہیں جس سے دونوں جہاں میں فلاح پاسکیں، اور جب حجاج کرام حج کے سخت و طویل سفر کے بعد واپس لوٹتے ہیں تو حدیث شریف کی روایت کے مطابق کہ جو بھی حاجی سچے دل، نیک نیت اور صرف اللہ کی رضا، اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنے گھر پریوار دوست احباب کو چھوڑ کر اپنا مال اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرتے ہوئے حج کے دوران پیش آنے والی تمام تکالیف پہ صبر کرکے ،خلوص نیت سے اللہ کے احکامات کو مان کر اللہ کی عبادت کر کے جب وہ واپس لوٹتا ہےتو ایسا لوٹتاہے گویا ابھی ابھی اس نےماں کے پیٹ سے نیانیاجنم لیاہے کہ جس طرح ایک بچہ تمام گناہوں کی آلائشوں سے پاک صاف ہوکرنکلتاہے اسی طرح خلوص نیت سے حج کرکے لوٹنے والاحاجی تمام گناہوں سے پاک صاف ہوکرلوٹتاہے۔(متفق علیہ)

لیکن آج کے دور میں حج کا مطلب صرف اتنا سا رہ گیا ہے کہ قلب سے زیادہ اپنے ظاہر کو پاک صاف دکھایا جاتا ہے اور اپنے تمام گناہوں کو سفید احرام کی آڑ میں چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے ، اپنا مال و دولت جو ناجائز طریقوں سے جمع کئے ہیں اس کی سیاہی کو احرام کی سفیدی میں پاک کرسکیں ،لیکن نادان انسان یہ بھول جاتا ہے کہ وہ جس احرام کی سفیدی میں اپنے گناہوں کی سیاہی کو صاف کرنا چاہتا ہے، دراصل اس کی یہ بیوقوفی جہالت کی وجہ سے ہے، وہ انجانے میں احرام کو ہی داغدار کرنے پہ تُلا ہے اور بھلے ہی وہ دنیا کی نظر میں سفید پوش بن کے گھومے لیکن اللہ کی نظر سے وہ بچ نہیں سکتا، کیونکہ اللہ تعالی ہر راز کا رازداں ہے، ظاہر کے ساتھ باطن سے بھی واقف ہے ،اس کی  شانِ شہنشاہی کا عالم تو یہ ہے کہ وہ اعمال کے ساتھ نیت بھی دیکھتا ہے ،اپنے ہر بندہ کو بار بار لگاتار خود کو سدھارنے ، ظاہر کے ساتھ باطن کو بھی بہتر بناتے ہوئے راہِ راست پہ چلنے کا موقع دیکر آزماتا ہے کہ اس کا بندہ کبھی تو سچے دل سے توبہ کرے گا، کبھی تو  پچھتاوے کے چند آنسو بہائے گا ،لیکن افسوس ہم گنہگار بندے اتنی خوش فہمی میں جی رہے ہیں کہ اللہ کی آزمائشوں کو سمجھ ہی نہیں پارہے ہیں اور یہ سوچ نہیں پارہے ہیں کہ پرووردگار اپنے بندہ کو جب دیکر آزماتا ہے تو وقت آنے پر چھین کر بھی آزمائے گا۔

آج ہم نے اللہ کی چھوٹ کو اپنے اعمال پہ ملا انعام سمجھ بیٹھے ہیں، لیکن یاد رکھیں! آج جتنی چھوٹ ملی ہے کل کو میدان محشر میں اتنی ہی سخت پکڑ بھی ہونی ہے اور آج جس سفید احرام کی آڑ میں ہم اپنے گناہوں کو چھپانے کی بار بار کوشش کررہے ہیں،دراصل وہی ہمارے گناہوں کو کئی گنا زیادہ ظاہر کریگا،کیونکہ ایک عام انسان سے زیادہ ذمہ داری اُس انسان کی ہے جسکو اللہ کی طرف سے جتنا بڑا عہدہ ملا ہے،چاہے وہ عہدہ حاجی کا ہو الحاج کا ہو یا حافظ عالم علماء کا ہی کیوں نہ ہو،اس کو اسی کے مطابق پکڑ ہوگی اور یہ سوچ غلط ہے کہ حج پہ حج، عمرہ پہ عمرہ کرنے سے ہمارے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے ، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ہمارے آقا دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک سے زائد حج کرکے اپنی امت کے لئے مثال پیش کرتے ، لیکن نہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں صرف ایک ہی حج کیا اور مسلمانوں کے لئے ایک بار حج کرنا ہی فرض ہے نہ کہ بار بار !!!

اور آج جو نام و نمود کی خاطر اپنے نام کے آگے حاجی اور الحاج لگاکر فخروغرور سے اتراتے ہوئے، اوروں کو نیچا دکھاکر خود کی برتری ظاہر کرتے ہوئے حج و عمرہ جیسی عظیم عبادات کو آج محض سیروتفریح اورپکنک بنادیا گیا ہے،جو لوگوں میں اپنی دھاک جمانے اور اپنی برتری پیش کرنے کی نیت سے اوروں کا حق مار کر، امانت میں خیانت کر کے کررہے ہیں وہ عنقریب ہی ہونے والے اللہ کے غصب سے ڈریں۔

آج جہاں ہمارے آس پڑوس میں ایسے ضرورت مند ہیں جنہیں دو وقت کی روٹی میسر نہیں، کئی گھروں میں جوان لڑکیاں پیسوں کی قلت کی وجہ سے بنا شادی کے بیٹھی ہوئی ہیں ،کئی مریض علاج نہ ہونے کی وجہ سے تڑپ رہے ہیں ،ایسے حالات میں جو خود کو صاحبِ استطاعت کہتے ہیں،انہیں چاہئے کہ وہ اپنے مجبور، بے بس مسلم بھائی بہنوں کی پرواہ کئے بغیر، انہیں نظرانداز کر کے حج پہ حج عمرہ پہ عمرہ کرکے آخر کس رب کو خوش کرنا چاہتے ہیں؟

کیا اُس رب کائنات کو جس نے یہ فرمایا ہے کہ اگر کسی کے پڑوس میں کوئی جوان لڑکی بنا شادی کے کنواری بیٹھی ہو تو اس کا سفر حج پہ نکلنے سے بہتر ہے کہ اس کی  شادی کروادے تو انشاءاللہ اسے بنا حج کئے حج کا ثواب ملے گا ۔لیکن آج ہم بدبخت اپنے مفاد اپنی انا کے لئے اللہ کے فرمان اللہ کے قول کو بھلا چکے ہیں۔ کیونکہ آج ہماری سوچ تو غیر مذاہب کے ماننے والوں جیسی ہوتی جارہی ہے جو گناہ پہ گناہ کریں، سود پہ سود کھاتے رہیں اور انہیں پیسوں سے تیرتھ یاترا کا سفر کرکے خود کو شدھ مانتے ہیں، بالکل انہیں کی طرح آج ہم میں بھی کئی ایسے پیشوں سے جڑے ہیں جہاں پہ کام کرنا اسلامی اعتبار سے ممنوع ہے اور تو کئی لوگ ایسے ہیں جو خود کو مسلمان کہنے کے باوجود فائنانس کے نام پہ سود کا کاروبار کرتے ہیں اور انہی حرام پیسوں سے خود کے گناہوں کو دھونے کہ لئے حج و عمرہ کرنے نکل جاتے ہیں، اورسمجھتے ہیں کہ حج پہ حج، عمرہ پہ عمرہ کرنے سے انہیں تمام گناہ دھل جائیں گے اور اسی خو ش فہمی کے چلتے چند حاجیوں کے تو تیور ہی نرالے ہوتے ہیں، انہیں اس بات سے بھی پیٹ  میںدرد ہوتا ہے کہ کسی جلسہ وجلوس میں بھول کر انکے نام کے آگے الحاج نہ لگایا جائے تو پل بھر میں وبال کھڑا کردیتے ہیں یا کسی دعوت نامہ میں ان کے نام کے آگے الحاج نہ لگایا ہو تو اُس میزبان کی تو خیر نہیں، ایک تو دعوت نامہ قبول نہیں کریں گے یا دو چارباتیں منہ پہ ہی سناکر ذلیل کردیں گے جیسے کہ الحاج نہ لگاکر بیچارے نے کوئی بہت بڑا گناہ کردیا ہو، اور ان کے علاوہ چند حاجیوں کا حال تو گلی کے نکڑ والے چاچا جی کی طرح ہوگیا ہے، وہ چاچا جی جو حج سے لوٹے تو سیدھے محلے والے کاکا کی دکان پر پہنچے، چاچا جی کو دکان کی طرف آتا دیکھ دوکاندار بہت خوش ہوگیا، اس کا چہرہ خوشی سے لال ہوگیا یہ سوچ کر کہ ابھی چاچا جی حج سے لوٹے ہیں تو سب سے پہلے جو بھی ان کے دوکان کابقایا قرضہ ہے وہ سب ادا کردیں گے،جیسے ہی چاچا جی نے دوکاندار کے پاس پہنچ کر سلام کیا، دوکاندار نے سلام کا جواب دیتے ہوئے جلدی سے حساب کی بک نکال کر چاچا جی کے سامنے کردیا، چاچا جی نے حساب کی بک پہ نظر دوڑاتے ہوئےدوکاندارسے کہاکہ میرے نام کے آگے الحاج لکھ دو،اوراتناکہہ کرگھرکی طرف چل دئیے،بیچارہ دوکاندار جوکچھ دیرقبل اپنے بقایاکی وصولی کی امیدیں لگائے ہواتھا،اس کے چہرے کارنگ فق سے اڑگیااورتمام امیدوں پرپانی پھرگیا۔ادھرچاچامحلے والوں سے گل پوشی کراتے ہوئے اورالحاج کانعرہ لگواتے ہوئےگھرکوروانہ ہوگئے اوربیچارہ دوکاندارمنہ تکتاہی رہ گیا۔

یہ توایک مثال تھی، لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ آج ہمارے اطراف ایسے ہی کئی چاچا جی مل جائینگے جو غراتے ہوئے یہی کہتے پھرتے ہیں کہ حاجی نہیں الحاج ہیں ہم۔۔۔۔!!!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

احساس نایاب

ایڈیٹر گوشہ خواتین واطفال بصیرت آن لائن، سب ایڈیٹر روزنامہ آجکا انقلاب

متعلقہ

Close