سیر و سیاحتنقطہ نظر

حج انتظامات اور حجاج کرام کے تاثرات

سہیل انجم

ہر سال کی مانند امسال بھی حج کا سیزن کافی پہلے سے شروع ہو گیا تھا۔ دہلی سے حج کی پروازوں کا آغاز 14 جولائی کو ہوا۔ حجاج کرام کے قافلے پہلے مدینہ منورہ اترے اور پھر وہاں سے مکہ مکرمہ پہنچے۔ بہت سے وہ حاجی جن کی فلائیٹس تاخیر سے تھیں، پہلے مکہ مکرمہ آئے اور حج بعد وہ مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔ سرزمین عرب پر اترنے کے بعد حاجیوں نے 18؍ یا 19؍ اگست سے 22؍یا 23؍ اگست تک منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں قیام کیا۔ ان مقامات پر مجموعی طور پر پانچ روزہ قیام اور طواف افاضہ، سعی اور رمی کے ساتھ حج 2018 پایہ تکمیل کو پہنچا۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنے اپنے ہوٹلوں یعنی عارضی قیام گاہوں میں منتقل ہو گئے۔ اب ان کی وطن واپسی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اعداد و شمار کی جنرل اتھارٹی کے مطابق امسال 165 ملکوں کے مجموعی طور پر 23 لاکھ 71 ہزار 675 (2371675) حجاج نے فریضہ حج کی ادائیگی کی۔ جن میں 6 لاکھ 12 ہزار 953 (612953) سعودی عرب سے تھے اور 17 لاکھ، 58 ہزار 722 (1758722) حجاج بیرون سعودی عرب سے تشریف لائے تھے۔ 12؍ ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک 16 کروڑ، 60 لاکھ، 17 ہزار 250 (166017250) کنکریوں سے رمی کی گئی یعنی اتنی کنکریاں جمرات پر پھینکی گئیں۔

حج ایک انوکھی، نرالی اور مہتم بالشان عبادت ہے۔ یہ عبادت جو کہ پانچ دنوں پر مشتمل ہوتی ہے کافی پیسے اور جسمانی مشقت کا تقاضہ کرتی ہے۔ خوشحال اور متمول افراد کے لیے پیسہ کوئی مسلہ نہیں لیکن نچلے اور متوسط طبقات کے لیے پیسو ں کا انتظام ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ اس لیے وہ حکومتی انتظام کے تحت آتے ہیں جو قدرے سستا ہوتا ہے۔ جبکہ متمول افراد پرائیویٹ ٹور آپریٹرس کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ ا س کے ساتھ ہی فریضہ حج کی ادائیگی کرنے والے کو جسمانی طور پر تندرست ہونا چاہیے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ حج جوانی کی عبادت ہے۔ یا اگر اللہ تعالی توفیق دے تو جوانی ہی میں حج کر لینا چاہیے۔ اس عبادت کی سخت شرائط کی وجہ سے ہی اسے صاحب استطاعت پر زندگی میں ایک بار فرض کیا گیا ہے۔ دنیا کے کسی دوسرے مذہب میں حج جیسی کوئی عبادت نہیں اور نہ ہی اتنی بڑی تعداد میں لوگ کسی ایک جگہ پر ایک ہی روز اکٹھا ہوتے ہیں۔
حج ایک نئے تجربے کا نام ہے۔ ایک ایسا تجربہ جو پھر زندگی میں کبھی نہیں ہوتا۔ اس دوران حجاج کرام الگ قسم کے مشاہدات سے روبرو ہوتے ہیں۔ ہم نے اس پانچ روزہ قیام کے دوران دو خاص باتیں نوٹ کیں۔ ایک خانہ بدوشوں کی زندگی کا تجربہ اور دوسرے ایک دوسرے کے خیالات و نظریات اور جذبات و احساسات کو سمجھنے کا موقع پانا۔ اگر ہم غور کریں تو پائیں گے کہ یہ پانچ روزہ عارضی قیام اپنے آپ میں بڑی معنویت رکھتا ہے اور بڑے سبق آموز مراحل سے گزرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

ہم نے جس لمحے سرزمین حجاز پر قدم رکھا اسی وقت سے ہمیں سعودی حکومت کے انتظامات کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ یہ مشاہدہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا اور حج انتظامات کے تعلق سے اس کی کارکردگی ہمارے سامنے جلوہ گر ہوتی گئی۔ لاکھوں کی تعداد میں پولیس اور سیکورٹی جوان، اسکاوٹس اور دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے رضاکاروں نے حجاج کے لیے اپنے دیدہ و دل جس طرح فرش راہ کر دیے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ سیکورٹی سنبھالنے کا یہاں کی پولیس کا نظام زبردست ہے۔ ٹریفک کو کیسے کنٹرول کیا جائے یہ کوئی آکر ان سے سیکھے۔ چند استثناؤں کے ساتھ سیکورٹی، ٹریفک، صحت اور دوسرے معاملات میں مختلف محکموں کی کارکردگی سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں کی حکومت اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں سے سیکھتی ہے اور ان کی روشنی میں نئے نئے تجربات کرتی ہے۔ البتہ ایک چیز کی کمی محسوس ہوئی۔ جن جوانوں کو ٹریفک کنٹرول کرنے یا دیگر خدمات کے لیے متعین کیا گیا تھا اگر ان کو اس کی باضابطہ ٹریننگ دی جاتی اور یہاں کی پولیس فورس میں دوسری زبانوں کے جاننے والوں کو بھی شامل کیا جاتا تو وہ چھوٹی چھوٹی شکایتیں پیدا ہی نہیں ہوتیں جو زبان کی لاعلمی کی بنیاد پر اور مواصلات کے فقدان کی وجہ سے سامنے آتی رہتی ہیں۔ منیٰ کے خیموں اور عرفات کے میدان میں تو ٹریفک نظام کا کوئی معاملہ ہی نہیں تھا۔ البتہ جب مزدلفہ میں چند گھنٹے قیام کے بعد ہم لوگوں کا قافلہ منیٰ کی طرف پیدل روانہ ہوا تو کچھ مسافت کے بعد ہی ٹریفک کنٹرول کرنے والے جوان نظر آنے لگے۔ جہاں بھی ایسا محسوس ہوا کہ سڑک پر بھیڑ کافی ہو گئی ہے اور لوگوں کو آگے بڑھنے میں دشواریوں کا سامنا ہے تو ٹریفک پولیس کے جوانوں نے وی (V) شیپ میں ایک دوسرے کے ہاتھ تھام کر زنجیر بنا دی اور بھیڑ کو دو پھاڑ کر دیایعنی دائیں اور بائیں تقسیم کر دیا۔ اس طرح انسانی زنجیر عبور کرنے کے بعد سڑک پر لوگوں کا اژدحام فطری طور پر کم گیا۔ سڑک کی دونوں جانب بڑی تعداد میں جوان تعینات تھے۔ منیٰ کے خیمے جوں جوں قریب آتے گئے جوانوں کی تعداد بڑھتی گئی۔

یہاں ایک بہت خاص بات دیکھنے کو ملی۔ یہاں درجہ حرارت 44-45 ڈگری ہے۔ کھلی سڑک پر گزرتے وقت دھوپ کی تمازت جان نکال لیتی ہے۔ لیکن اچانک ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بارش کی چھینٹیں پڑنے لگی ہیں۔ نظر اٹھا کر دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی جوان پانی سے بھری بوتل سے اسپرے کر رہا ہے۔ جس طرح کوئی نائی اسپرے کرکے بال بھگوتا ہے اسی طرح چہرے پر اچانک اسپرے کر دینے سے دھوپ کی تمازت کچھ دیر کے لیے ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے جوانوں کی نظریں کمزوروں، عورتوں، بزرگوں، بچوں اور چہرے سے تھکے تھکے نظر آنے والوں پر ہوتی ہیں اور وہ ان پر پانی کا اسپرے کرکے ماحول کو خوشگوار بنا دیتے ہیں۔ جب اچانک کسی بچے کے چہرے پر پانی کی پھوار پڑتی ہے تو بچہ پہلے تو چونک جاتا ہے پھر مذکورہ جوان کو دیکھ کر اس کے لبوں پر فطری طور پر مسرت نمودار ہو جاتی ہے۔ ان کو دیکھ کر بہت سے حجاج بھی یہی عمل کرنے لگے اور انھوں نے بھی تھکے ہارے حاجیوں کے چہروں پر پھوار سے بشاشت پیدا کر دی۔ اس کے علاوہ سڑک کی دونو ں جانب ایستادہ کھمبوں پر فوارے بنے ہوئے ہیں جن سے مسلسل پانی اسپرے ہوتا رہتا ہے۔ سڑک پر چلیے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ساون کا مہینہ ہے اور ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی ہے۔ بعض خیموں کے اندر سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہلکی پھلکی بارش ہو رہی ہے۔ یہ تجربہ انتہائی خوشگوار ہے اور اس سے حجاج کو زبردست تسکین ملتی ہے۔ جن جوانوں کے پاس اسپرے والا آلہ نہیں انھوں نے بوتل میں باریک سا سوراخ کر رکھا ہے۔ جیسے ہی وہ سمجھتے ہیں کہ فلاں شخص کو ضرورت ہے وہ بوتل دبا کر اس کے چہرے پر پانی کی باریک سی دھار مار دیتے ہیں۔ ہم نے بہت سے مردو خواتین کو دیکھا کہ وہ ان جوانوں سے فرمائش کرکے اپنے چہرے کو تر کروا رہے ہیں۔ سڑک کی دونوں جانب بنے ہوئے اسٹینڈ پر کھڑے متعدد رضاکار گتے سے حاجیوں کو پنکھا بھی جھلتے ہیں۔ وردی میں ملبوس ایک خوبصورت سیکورٹی ایک جوان کو دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں مائکروفون ہے۔ وہ کچھ دیر تک حاجیوں کو عربی میں آگے بڑھنے کی ہدایت دیتا ہے اور پھر بڑے والہانہ انداز میں دعائیں پڑھنے لگتا ہے۔ حاجیوں کا قافلہ پرخوش ہو جاتا ہے اور لوگ اس کی دعاؤں پر بہ آواز بلند آمین کہنے لگتے ہیں۔

جہاں جہاں بھیڑ کا اندیشہ تھا وہاں وہاں اس کو سنبھالنے کے انتظامات کیے گئے۔ پہلے رمی کرنے کے لیے جمرات پر کوئی منزل نہیں تھی۔ لوگ رمی کرکے اسی راستے سے واپس بھی آتے تھے جس کی وجہ سے بھگدڑ سی مچ جایا کرتی تھی اور جانی نقصان ہو جاتا تھا۔ لیکن اب جمرات پر چار منزلیں تعمیر کر دی گئی ہیں۔ یعنی گراونڈ پلس تھری۔ جمروں کی چوڑائی بھی بڑھا کر 80 میٹر کر دی گئی ہے۔ الگ الگ منزلوں پر جانے اور مڑنے کے راستے بھی الگ الگ بنائے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک طرف کے خیموں کا راستہ گراونڈ فلور پر جاتا ہے اور حجاج کو رمی کرکے وہیں سے فوراً بائیں طرف سے یو ٹرن لے کر واپس آجانا ہوتا ہے۔ کسی اور طرف کے خیموں کا راستہ پہلی منزل پر جاتا ہے اور رمی کرکے گراونڈ سے تھوڑا آگے چل کر یو ٹرن لینا پڑتا ہے۔ اسی طرح تیسری منزل والے کنھی اور خیموں کی طرف سے آتے ہیں اور رمی کے بعد وہ کافی آگے تک جا کر یو ٹرن لیتے ہیں۔ اس طرح بھیڑ کو کئی منزلوں پر منتشر کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہاں اژدحام کا کوئی خطرہ نہیں رہ گیا۔ کچھ لوگ جوش میں آکر پہنچتے ہی کنکری مارنے کے لیے دوڑ پڑتے ہیں جس کی وجہ سے بالکل آگے کی طرف زیادہ بھیڑ رہتی ہے۔ ہم آگے بڑھ جاتے تھے اور آخری سرے سے رمی کرتے تھے جہاں میدان بالکل خالی رہتا تھا۔ رمی کا منظر قابل دید ہوتا ہے۔ اگر اچانک نظر پڑے تو یوں لگتا ہے سائیکلوں پر پیڈل ماری جا رہی ہے۔ البتہ واپسی کا راستہ ایک ہی ہے جو مسجد خیف سے گزرتا ہے۔ جس کی وجہ سے واپسی میں انسانی ٹریفک جام ہو جاتا ہے۔

2015 میں منیٰ میں بھگدڑ مچنے سے متعدد حاجی ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد حکومت نے ’’منیٰ پروجکٹ‘‘ شروع کیا جس کے تحت بھیڑ کو کنٹرول کرنے اور انفرااسٹرکچر پر اربوں ڈالر خرچ کیے گئے۔ جمرات پر ایک ہزار سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ جبکہ لوگوں کی آمد و رفت کو آسان بنانے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس اور رضاکار تعینات کیے جاتے ہیں۔ حج و عمرہ کے پروجکٹ مینجمنٹ کے ڈائرکٹر کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی کیمروں سے وہاں مسلسل نظر رکھی جاتی ہے۔ جہاں بھی یہ محسوس ہوا کہ بھیڑ خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے فوراً متعلقہ اسٹاف کو ہدایت دی جاتی ہے اور وہ حرکت میں آکر صورت حال کو سنبھال لیتا ہے۔ اس کے علاوہ جمرات پر لاتعداد بڑے بڑے اے سی نصب ہیں جس کی وجہ سے وہاں درجہ حرارت 29 ڈگری سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔

ٹریفک کنٹرول کرنے والے جوانوں کے علاوہ بڑی تعداد میں نقشہ بردار رضاکار تعینات کیے گئے تھے۔ جہاں کوئی شخص اپنے راستے سے بھٹکا اور اس نے ان نقشہ بردار رضاکاروں سے رابطہ قائم کیا وہیں انھوں نے مکتب نمبر پوچھا اور نقشہ دیکھ کر بتا دیا۔ ہم بھی ایک بار اپنے مکتب کے بارے میں ذرا شکوک و شبہات میں مبتلا ہوئے تو ایک نقشہ بردار سے پوچھا اور اس نے فوراً اسے دیکھ کر ہمارے خیمے کی لوکیشن بتا دی۔ لیکن یہ کام سعودی پولیس کے جوان نہیں کر پاتے۔ اگر کسی نے سعودی پولیس سے کچھ پوچھا تو اس سے پہلے کہ وہ کچھ سن پاتا ’’گِدّا گِدّا، علیٰ طول علیٰ طول‘‘ کہہ کر یعنی آگے آگے بالکل سیدھے جاؤ کہہ کر اس کو آگے بڑھا دیتے ہیں۔ البتہ کیرالہ کے رضاکار یہ خدمت زیادہ بہتر انداز میں انجام دے رہے ہیں۔

جیسا کہ ذکر کیا گیا 165 ملکوں کے حجاج نے فریضہ حج کی ادائیگی کی۔ ان میں جہاں بہت سے عام لوگ ہیں وہیں بہت سے خاص لوگ یا مشہور شخصیات بھی ہیں جن کو انگریزی میں سلیبریٹیز کہتے ہیں۔ یہ الگ الگ شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان لوگوں نے بھی اپنے خیالات، تجربات اور مشاہدات بیان کیے ہیں۔ ان کے تاثرات یہاں کے اخباورں میں خوب چھپ رہے ہیں۔ ہم ان تاثرات سے قارئین کو واقف کرائیں گے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ اس سے قبل ہندوستانی حجاج کے تاثرات جان لیں۔ ہم نے بہت سے حاجیوں سے ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی تو بیشتر نے سعودی حکومت کے انتظامات کی ستائش کی۔ البتہ متعدد حاجیوں نے منیٰ کے خیموں میں رہائش اور خورد و نوش کے انتظامات پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ بائیو سائنس میں استاد ڈاکٹر عارف علی نے بتایا کہ جب انھوں نے حج کا فارم پُر کیا تھا تو لوگوں نے حج میں مشکلات کا حوالہ دیا تھا۔ مشکلات تو آئیں البتہ اتنی نہیں جتنی مشکلات کا اندیشہ تھا۔ یعنی : کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار، اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں۔ تاہم انھوں نے حج کمیٹی کے مبینہ ناقص انتظامات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ روانگی کے وقت سے ہی حج کمیٹی کے انتظامات کے پیش نظر آنے والے وقتوں کا مبہم سا اندازہ ہو گیا تھا۔ مدینہ منورہ پہنچے تو دیکھا کہ ایک ایک کمرے میں پانچ پانچ چھ چھ افراد کو ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ سوچا ہی نہیں گیا کہ اس طرح لوگوں کو کیا دشواریاں ہو سکتی ہیں۔ خیر مکہ مکرمہ آئے تو یہاں بھی رہائش کے سلسلے میں کافی شکایتیں سامنے آئیں۔ البتہ ہماری بلڈنگ کا معاملہ اتنا ناقص نہیں تھا جتنا کہ دوسری بلڈنگوں کا تھا۔ لیکن جب ہم منیٰ پہنچے تو پتا چلا کہ یہاں تو سسٹم نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔ پچاس ساٹھ افراد کے خیمہ میں 170؍ اور 180؍ افراد کو رکھ دیا گیا۔ ہم نے ایک گوشے میں جگہ لی جسے بعد میں ہم نے گوشہ عافیت قرار دیا۔ لیکن وضو، استنجا، فراغت اور چائے کے لیے لوگوں کے بستروں پر اور اگر لوگ سوئے ہیں تو ان کے جسموں کو لانگھتے ہوئے جانا پڑتا۔ گدوں پر پیر پھسل بھی جاتا۔ لیکن کھانے کا موقع آیا تو جناب اور بھی برا حال۔ ہم لوگوں نے بستروں پر بیٹھ کر کھانا کھایا۔ لیکن پلاسٹک اور گتے کے برتنوں کو سمیٹنے کے لیے کوئی نہیں آیا۔ خود ہی لے جا کر باہر پھینکیے۔ انھی بستروں پر نماز بھی پڑھی گئی۔ کھانے کی کوالٹی نہایت گھٹیا۔ چائے بھی خود ہی لائیے۔ لوگ لوٹوں اور بوتلوں میں اپنے اور ساتھیوں کے لیے چائے لا رہے ہیں۔ روٹی چٹنی کی مانند سوکھی روٹی کو جام سے کھائیے۔ کوئی مناسبت ہی نہیں۔ ٹوائلٹ میں کوئی صفائی ستھرائی نہیں۔ کوڑا اس قدر جمع ہو جاتا کہ خیمے سے باہر نکلے تو دروازے پر کوڑے کا انبار ہے، پاؤں رکھنے کی جگہ ہی نہیں۔

ڈاکٹر عارف علی نے حج کمیٹی کے ذمہ داروں پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ان کے پاس انتظامات کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ اگر یہی سب کرنا تھا تو پھر ان لوگوں کی کیا ضرورت ہے۔ مکہ، مدینہ میں اس کے افسران کیا کر رہے ہیں۔ حج کمیٹی کا کیا مصرف ہے۔ جب ہر چیز ہمیں خود کرنی ہے تو پھر ان کی موجودگی کا کیا مطلب۔ حج کمیٹی کو ختم کریں۔ انڈین حج مشن کے تمام لوگوں کو نکالیں باہر کریں۔ یا پھر وہاں سے اچھے افسران لائے جائیں۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ حج کمیٹی اور انڈین حج مشن کے افسران اچھے نہیں ہیں۔ ان لوگوں کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ہمارے ساتھ جو خدام الحجاج آئے ہیں وہ بھی بے مصرف ہیں۔ وہ تو خود اپنے حج میں مصروف تھے۔ ان کو حج کرنے کی اجازت کس نے دی۔ ان کی کیا ڈیوٹی تھی۔ انھوں نے اپنی ڈیوٹی کیوں نہیں نبھائی۔ ان کا کام تو حجاج کی خدمت کرنا یا مدد کرنا ہے۔ لیکن کسی بھی خادم الحجاج کا کچھ پتا نہیں تھا۔ ڈاکٹر عارف علی نے حج کمیٹی اور انڈین حج مشن کی بد انتظامی پر جم کر تنقید کی اور ان کے مقابلے میں پاکستان اور دوسرے ملکوں کے انتظامات کی ستائش کی۔ ان کے مطابق پاکستانی رضاکار ہندوستانی رضاکاروں سے کہیں بہتر کام کر رہے تھے۔ یہ تما م باتیں متعلقہ ذمہ داروں تک پہنچنی چاہئیں تاکہ آئندہ جو حاجی آئیں وہ ان مراحل سے نہ گزریں جن سے ہم گزر کر آرہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حج مشکل ہے۔ حاجی کو صبر سے کام لینا چاہیے۔ لیکن ان کو کس نے اجازت دی کہ وہ ہمارے صبر کا امتحان لیں۔ حج کمیٹی آف انڈیا مشکلات میں کمی کرنے کے لیے وجود میں آئی ہے نہ کہ ان کو مزید بڑھانے کے لیے۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ حج کمیٹی نے مشکلوں کو کم کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ حجاج جب واپس وطن پہنچیں تو وہ خطوط اور دیگر ذرائع سے ذمہ داروں تک صورت حال کو پہنچائیں تاکہ پورے سسٹم کی اوور ہالنگ ہو۔ اس کے ساتھ ہی اقلیتی امور کے وزیر تک بھی بات پہنچے تاکہ وہ اس جانب توجہ دیں۔ البتہ ڈاکٹر عارف علی نے عرفات کے انتظامات کو اطمینان بخش قرار دیا۔

ممبئی جمعیت اہلحدیث کے نائب امیر مولانا محمد مقیم فیضی نے کہا کہ سعودی حکومت کی جانب سے تو کوئی کمی نہیں ہے لیکن ان کا مینجمنٹ بہت کمزور ہے جس کی وجہ سے حجاج کو پریشانیاں ہوتی ہیں۔ منیٰ میں خیموں کا انتظام ناقص ہے۔ کھانوں کا معیار بھی بہت خراب ہے۔ کھانوں کی تقسیم کا نظام بھی معقول نہیں ہے۔ اگر کھانوں کے لیے الگ ڈائننگ ہال نہ بھی ہو تو کم از کم ان کی تقسیم کا تو باعزت طریقہ ہو۔ ہر شخص ایک دوسرے پر ٹوٹا پڑ رہا ہے۔ جیسے کہ لوگ بھیک مانگ رہے ہوں۔ ان کو چاہیے تھا کہ کھانہ لینے کے لیے لائن بنوا دیتے۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ عرفات جانے کے لیے یہ نہیں بتایا گیا کہ بس کہاں ملے گی۔ بسوں کی تعداد بھی بہت کم۔ کافی تاخیر سے کوئی بس آتی تو لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے۔ عرفات میں جب لے گئے تو معلم کے لوگوں کو ہی پتا نہیں تھا کہ ان کا خیمہ کہاں ہے۔ گھنٹوں پریشان رہے۔ لوگ دھوپ میں تپتے رہے۔ بڑی مشکلوں سے خیمہ ملا۔ حالانکہ وہاں ہر چیز موجود تھی لیکن کو آرڈینیشن کی کمی تھی۔ مزدلفہ میں کوئی رہنمائی کرنے والا نہیں تھا۔ حاجی کہاں جا ئیں کیا کریں کچھ بتانے والا کوئی نہیں تھا۔ بہت سے لوگ اپنا پیسہ خرچ کرکے ٹیکسی لینا چاہتے تھے تاکہ انھیں پیدل منیٰ نہ جانا پڑے۔ لیکن کوئی ٹیکسی نہیں۔ وہاں تو حاجیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔

مولانا مقیم فیضی نے یہ بھی کہا کہ ٹرین کا انتظام اچھا ہو سکتا ہے اگر اس پر اور کام کیا جائے۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ ٹرینوں کی لائنوں اور گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ خیمہ بندی ایسے کی جائے کہ کسی حاجی کو ٹرین کے لیے ایک کلو میٹر سے زیادہ نہ چلنا پڑے۔ خیموں کے درمیان میں لائنیں ہونی چاہئیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ٹرینوں کو معلمین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ صرف انھی کے لوگ ان میں سوار ہو سکتے ہیں۔ جبکہ ٹرینیں تو تمام حاجیوں کے لیے ہونی چاہئیں۔ انھوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے لوگوں کو خیموں میں بھیج کر سروے کرائے اور خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرے۔ انھوں نے کہا کہ نقل و حمل کا شعبہ بہت کمزور ہے۔ کئی ایسے شعبے ہیں جن میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ مولانا فیضی نے مزید کہا کہ سعودی حکومت کی ایجابیات بہت ہیں، لوگ بڑی فدائیت کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ لیکن ایجابیات کے ساتھ صلبیات پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ اس سے لوگوں کو بڑی پریشانی ہے۔ ہم نے یہ بھی سنا ہے کہ نئے نئے لوگوں کو ٹرینڈ کرنے کے مقصد سے مختلف شعبوں میں لگایا جاتا ہے جس کی وجہ سے کام خراب ہو جاتا ہے۔ لوگوں کو ٹرینڈ کرنے کے لیے پرانے افراد کے تجربات سے کام لیا جانا چاہیے۔ انھوں نے سیکورٹی جوانوں کے بارے میں کہا کہ وہ صرف عربی جانتے ہیں جس کی وجہ سے دوسری زبان جاننے والوں کی مدد نہیں کر پاتے۔ پولیس اور سیکورٹی میں دوسری زبانیں جاننے والوں کو بھی رکھا جانا چاہیے۔ پولیس لوگوں کو منیٰ اور جمرات پر کھڑے نہیں ہونے دیتی۔ اگر کوئی معمر شخص تھک گیا ہے تو وہ وہاں سستا نہیں سکتا۔ ان لوگوں کے پاس وسائل ہیں اگر منظم انداز میں کام کیاجائے تو ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

دبئی سے آئے مولانا عبد الرزاق عبد الغفار نے بھی منیٰ اور مزدلفہ کے حالات کو غیر اطمینان بخش قرار دیا۔ انھو ں نے کہا کہ مزدلفہ میں تو پینے کا پانی ہی نہیں تھا۔ حجاج کو سخت دشواریوں سے گزرنا پڑا۔منیٰ میں حمام اور وضو خانے انتہائی کم تعداد میں ہیں۔ تقریباً دو ہزار افراد پر تیس حمام اور پانچ ٹوٹیاں ہیں۔ وضو خانے پر بھیڑ جان لیوا تھی۔ ان کے بقول میرا تجربہ ہے کہ ایک شخص کو فراغت میں تیس سے چالیس منٹ تک لگ جاتے تھے۔ صفائی کا کوئی نام و نشان نہیں۔ کوئی مہتر کہیں دکھائی نہیں دیا۔ بدبو سے دماغ پھٹنے لگتا اور طبیعت بے قابو ہو جاتی۔ دو ہزار حجاج کے لیے کم از کم سو حمام اور وضو کے لیے سو ٹونٹیوں کی ضرورت ہے۔ جہاں تک رہائش کا مسئلہ ہے تو ایک حاجی کے حصے میں ڈیڑھ فٹ سے بھی کم جگہ آئی تھی۔ اسی پر چلنا بھی ہے، کھانا بھی ہے، چپلیں بھی رکھنی ہے اور سامان بھی رکھنا ہے۔ مولانا عبد الرزاق عبد الغفار نے کہا کہ منیٰ میں تو ایسا لگتا تھا کہ یہ انسان نہیں جانور ہیں اور ان کو کسی باڑے میں لا کر بند کر دیا گیا ہے۔ اس سے بہتر تو سعودی جیلیں ہیں جہاں قیدی سکون سے سو لیتے ہیں اور اطمینان سے اجابت سے فارغ ہو جاتے ہیں۔ اگر کسی سے کوئی شکایت کی جاتی تو کہتے ’’حاجی صبر‘‘۔ حج صبر کا نام ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انھی لوگوں کو حج کے مسائل معلوم ہیں باقی سب جاہل ہیں۔ انھوں نے ٹریفک نظام کو بھی غیر اطمینان بخش قرار دیا۔ ان کے مطابق ٹریفک کنٹرول کرنے والے سب غیر تربیت یافتہ تھے۔ بس ان کو سڑک پر چھوڑ دیا گیا اور کہہ دیا گیا کہ جاؤ ٹریفک کنٹرول کرو۔ وہ جہاں چاہتے ہیں راستہ بند کر دیتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں کھول دیتے ہیں۔ البتہ جمرات کے انتظامات اچھے تھے۔ آمد و رفت کے راستے الگ الگ تھے اور کافی کشادہ تھے۔ حرم شریف میں بھی حمام اور وضو خانوں کا نظم بہت اچھا ہے۔

سندر نگری دہلی سے آئے قمر الدین قریشی نے کہا کہ ہر جگہ کا انتظام ٹھیک تھا لیکن منیٰ اور مزدلفہ کے انتظامات ٹھیک نہیں تھے۔ اگر کسی سے کچھ کہا جاتا تو جواب ملتا کہ حاجی صاحب صبر کیجیے۔ ارے بھائی کب تک صبر کریں۔ اگر صبر کرتے تو بھوکوں مرتے۔ منیٰ میں پہلے روز جو کھانا دیا گیا اسے تو جانور بھی نہیں کھا سکتا انسان تو انسان ہے۔ حج صبر کا نام ہے لیکن صبر کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ البتہ انھوں نے عزیزیہ میں رہائش کی تعریف کی اور کہا کہ ہماری بلڈنگ میں کبھی کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی۔ یہاں اگر کوئی مسئلہ ہے تو حارس سے کہیے فوراً شکایت دور کی جاتی تھی۔ یہ بلڈنگ بھی بہت کشادہ اور اچھی ہے۔ چار چار لفٹ لگی ہوئی ہیں، کبھی لفٹ کے لیے دھکا مکی نہیں ہوئی۔ انھوں نے جمرات کے انتظامات کی بھی تعریف کی اور کہا کہ یہاں کی پولیس حاجیوں کی بڑی خدمت کرتی ہے۔ یہاں کے لوگ بھی بہت خدمت کرتے ہیں اور صاحب خیر افراد بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جو حاجیوں میں مفت کھانا پانی پھل اور دوسری چیزیں تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ انڈین حج مشن کی جانب سے جو ڈسپنسری اور اسپتال بنائے گئے ہیں وہاں بھی معاملہ اچھا ہے اور کارگر دوائیں دی جاتی ہیں۔

دہلی سے شائع ہونے والے ہندی روزنامہ شاہ ٹائمس کے بیورو چیف جناب مطلوب رانا نے بتایا کہ منیٰ کے انتظامات اچھے نہیں تھے اور پہلے روز بہت خراب کھانا دیا گیا لیکن جب ہم لوگوں نے احتجاج کیا تو کھانے کی کوالٹی بہتر کی گئی۔ انھوں نے پولیس نظام کی ستائش کی اور مختلف ملکوں سے جو رضاکار آئے ہوئے ہیں اور وہ لوگ جو خیموں کے نقشے لیے ہوتے ہیں ان سب کی کارکردگی بہت اچھی رہی۔ جمرات پر بھی اتنا اچھا نظام بنایا گیا ہے کہ اب بھگدڑ مچنے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔
ایم ٹی این ایل دہلی میں سب ڈویژنل آفیسر (ایس ڈی او) محمد عمران نے کہا کہ گیارہ اور بارہ ذی الحجہ کو صبح آٹھ بجے ہی معلم کی جانب سے خیموں میں بار بار اعلان کیا گیا کہ لوگ ابھی جا کر رمی کر لیں۔ بلکہ اسی وقت لوگوں کو رمی کرنے کے لیے مجبور کیا گیا اور خیموں سے باہر نکالا گیا۔ حالانکہ رمی زوال کے بعد کی جاتی ہے۔ کچھ دوسرے مکتب کے لوگوں نے شکایت کی کہ ان کے خیمے کے دروازے بند کر دیے گئے اور کہا گیا کہ وہ دو بجے کے بعد رمی کریں۔ کسی کو کسی دوسری ضرورت کے تحت بھی باہر نہیں جانے دیا جا رہا تھا۔ محمد عمران نے کھانے کی کوالٹی کی شکایت کی اور کہا کہ وہ ایسا نہیں تھا جسے کوئی صحت مند شخص کھاتا۔ انھوں نے بتایا کہ دوسرے مکتبوں سے بھی خراب کھانے کی شکایت کی گئی ہے۔ البتہ انھوں نے جمرات کے انتظامات کی ستائش کی۔

فراش خانہ دہلی کے ڈاکٹر محمد اعظم نے حج کمیٹی اور پرائیویٹ ٹور آپریٹرس کے انتظامات کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ پرائیویٹ ٹور آپریٹرس زیادہ پیسہ لیتے ہیں اس لیے وہ سہولتوں بھی بہت اچھی دیتے ہیں۔ لیکن حج کمیٹی کا انتظام بھی کوئی برا نہیں ہے۔ ہم تو اپنے ہوٹل میں بہت مطمئن ہیں۔ انھوں نے ہندوستانی حجاج کے باے میں کہا کہ ان کا رویہ ٹھیک نہیں ہے، وہ کسی نظم و ضبط کے پابند نہیں ہیں اور نہ ہی کسی کو اپنا رہنما یا قائد بنانا جانتے یا چاہتے ہیں۔ بس سے اتریں گے تو ایسے بھاگیں گے کہ جیسے اگر پہلے نہیں گئے تو ہوٹل میں کمرہ نہیں ملے گا۔ انھوں نے خدام الحجاج پر سخت تنقید کی اور کہا کہ انھوں نے اپنی ڈیوٹی انجام ہی نہیں دی۔ ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان کا نظام بہت شاندار ہے۔ ہم نے مدینہ میں دیکھا کہ پاکستانی حاجیوں کو اپنا سامان اتارنے نہیں دیا گیا۔ ان کے خدام الحجاج نے کہا کہ آپ سامان نہ اتاریں، آپ چابی لیں اور اپنے کمروں میں جائیں، یہ کام ہم کریں گے۔ اور انھوں نے ان کا سامان اتار کر ان کے کمروں میں پہنچایا۔ ہندوستانی حجاج کا کچھ سامان ادھر ادھر ہو گیا جو بعد میں ملا لیکن ہندوستانی خدام الحجاج نے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔ انھوں نے منیٰ میں بھی کوئی کام نہیں کیا۔ اگر ان سے کچھ کہا جاتا تو پہلے تو جواب نہیں دیتے اور اگر دیتے تو الٹا۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا جا کر ہماری کمپلینٹ کر دینا۔ ارے بھائی آپ کس لیے آئے ہیں۔ آپ کیوں کہتے ہیں کہ جا کر معلم کو ڈھونڈو۔ ہم کیوں ڈھونڈیں آپ کا کیا کام ہے۔ ان لوگوں نے حجاج کی کوئی رہنمائی نہیں کی۔ نہ ہی کوئی مشورہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ ان خدام کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ڈاکٹر محمد اعظم نے ٹریفک کنٹرول کرنے والوں کی ستائش کی اور کہا کہ ان کے دس افراد دس ہزار لوگوں کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ چونکہ وہ نظم و ضبط کے پابند ہیں اس لیے ان کی کارکردگی انتہائی شاندار ہے۔

بھجن پورہ دہلی کے محمد انیس نے مدینہ میں حج کمیٹی کے انتظامات کی ستائش کی۔ البتہ انھوں نے بھی خدام الحجاج کی شکایت کی اور ان کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ مکہ میں جو انتظامات ہیں وہ بھی ان کے نزدیک اطمینان بخش ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ شروع میں کھانا ناقص تھا لیکن جب شکایت کی گئی تو اس کی کوالٹی بہتر کی گئی۔ ہمیں عرفات میں کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔ البتہ ٹوائلٹ کی کمی تھی۔ انھوں نے منیٰ میں اور جمرات پر پولیس کے نظام کی تعریف کی اور جس طرح وہ انسانی زنجیر بنا کر بھیڑ کو کنٹرول کرتے ہیں وہ ان کو بہت پسند آیا۔ کیونکہ ان کے خیال میں اس سے بھگدڑ مچ ہی نہیں سکتی۔ اگر مچے گی بھی تو آگے نہیں جائے گی وہیں کنٹرول کر لی جائے گی۔ انھوں نے بتایا کہ حج کے دوران بہت سے لوگ کھو جاتے ہیں۔ پولیس ان کی بڑی مدد کرتی ہے۔ اگر اس کو متعلقہ شخص کی زبان نہیں آتی تو وہ اس زبان کے جاننے والے کی مدد لیتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس ایک ہیلپ لائن نمبر بھی ہوتا ہے جس سے لوگوں کی مدد کی جاتی ہے۔ انھوں نے مدینہ کا ایک واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ مسجد نبوی میں نماز کے بعد ہم سے دو صف آگے ایک شخص بیٹھا ہوا تھا لیکن ہمیں نہیں پتا تھا کہ وہ لیٹا ہوا ہے یا اسے کچھ ہو گیا ہے۔ لیکن پولیس کو کیمرے میں اس کے گرنے کے انداز سے معلوم ہو گیا کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔ فوراً پولیس والے آئے اور تب ہمیں معلوم ہوا کہ اس شخص کا انتقال ہو چکا ہے۔

انھوں نے ایک اور واقعہ بتایا کہ جمرات پر انھیں ایک معمر خاتون ملیں جن کے پاس سامان وغیرہ بھی تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہ دو روز سے اپنے لوگوں سے بچھڑی ہوئی ہیں۔ ان کے ساتھ ان کا بھتیجہ بھی تھا اور وہ بھی لاپتہ ہے۔ ہم نے ان کا مکتب نمبر معلوم کیا اور ان کو اپنے ساتھ لیا۔ اس کے بعد ہم نے انڈیا کا جھنڈا نکالا اور سیلفی اسٹک پر لگا کر ہم آگے بڑھ گئے۔ جب ہم چلے تو ہمارا گروپ چھ افراد پر مشتمل تھا لیکن تھوڑی دیر کے بعد دیکھا تو جھنڈے کے پیچھے تقریباً ڈھائی سو افراد چل رہے تھے۔ پھر ہم نے مذکورہ خاتون کو ان کے خیمے میں پہنچایا۔باقی جو لاپتہ افراد ہمارے ساتھ تھے ان کو رضاکاروں کے حوالے کیا۔ انھوں نے حکومت کے انتظامات کی ستائش کی۔

سندر نگری دہلی کے ایک 75 سالہ بزرگ نسیم احمد نڈر عرف بنگالی بابا نے بھی حکومت سعودی عرب کے حج انتظامات کی ستائش کی اور بتایا کہ یوں تو یہاں کی پولیس بہت سخت ہوتی ہے لیکن وہ حاجیوں کا بڑا خیال بھی رکھتی ہے۔ جمرات پر ایک طرف سے جانا اور دوسری طرف سے آنا ہوتا ہے۔ لیکن میں جس طرف سے گیا اسی طرف سے آیا بھی۔ جگہ جگہ پولیس والوں نے مجھے روکنے کی کوشش کی اور میں نے ہر بار اشاروں میں ان کو بتایا کہ میں بہت تھک گیا ہوں، میں بہت پیاسا بھی ہوں اور میری حالت بہت خراب ہے۔ لہٰذا ہر بار پولیس والوں نے میری مدد کی۔ پانی کی ٹھنڈی بوتلیں لا کر مجھے دیں اور ٹھنڈا پانی میرے سر پر گرایا۔ انھوں نے عزیزیہ میں رہائش کے انتظام کی بھی ستائش کی اور بتایا کہ حج سے قبل لوگ آآ کر جن میں مرد بھی ہوتے اور عورتیں بھی، حج کرنے کا طریقہ سکھاتے تھے۔ اس طرح یہاں کا انتظام بہت اچھا تھا اور ہم اس سے مطمئن ہیں۔
(باقی تاثرات اگلی قسط میں )

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close