نقطہ نظر

حکومت آر ایس ایس کے ایجنڈے کی تکمیل کر رہی ہے ؟

جولائی 2015 میں آر ایس ایس کے تعلیمی ونگ بھارتیہ شکشن منڈل (بی ایس ایم) کے انتظامیہ سیکریٹری مکل کانتکر نے ایک اعلان کیا تھاکہ وہ اقلیتی اداروں کے خلاف ایک قانونی مہم چھیڑنے والے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقلیتی درجہ کی تعریف پر نظرثانی کی جانی چاہیئے یہ چاہے عدالت عظمی کی مداخلت کے ذریعے ہو یا دستور میں ترمیم کے ذریعے۔ ساتھ میں انھوں نے ایک بھونڈی سی دلیل یہ بھی پیش کی کہ اقلیتی درجہ اس لئے دیا جاتا ہے تاکہ اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو فائدہ پہونچایا جا سکے لیکن عملی طور سے ایسا نہیں ہوتا ہے کیوں کہ بہت سے ایسے اقلیتی ادارے ہیں جہاں اقلیت سے زیادہ عام طلبہ موجود ہوتے ہیں اوربہت سے اقلیتی ادارے ایسے بھی ہیں جہاں کی انتظامیہ اقلیتی طبقے پر مشتمل ہوتی ہے اور طلبہ میں اکثریتی طبقے کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ یہ ادارے قانون حق برائے تعلیم (RTE)اور حکومت کی عوامی فلاح وبہبود کی پالیسی کو اپنے یہاں نافذ نہیں کرتے۔ آرایس ایس کا یہ محض اعلان نہیں تھا بلکہ وہ مسلسل ہندوستانی مسلمانوں کو ہر میدان میں پیچھے ڈھکیلنے کے لئے کوشاں ہے۔ نریندر مودی کی سربراہی میں ہندوستان میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی بھی اسی سکے کا دوسرا پہلو ہے۔ مودی حکومت نے اس سال نیا تحفہ مسلمانوں کو اس وقت دیا جب11 جنوری کو عدالت عظمی کی سہ رکنی بنچ میں سماعت کے دوران اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے حکومت کی اس عرضداشت کو واپس لینے کو کہا جسے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی قیادت میں سابقہ حکومت نے داخل کیا تھا ۔ اس عرضداشت میں الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کواقلیتی ادارہ ماننے سے انکار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد مودی حکومت کی جانب سے دوسرا شگوفہ اس وقت چھوڑا گیا جب مرکزی وزارت قانون نے حکومت ہند کو مشورہ دیا ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس کا قیام ایک ایکٹ کے تحت ہوا ہے اور سیکولر ملک میں حکومت اقلیتی ادارہ قائم نہیں کرتی۔ اٹارنی جنرل روہتگی نے وزارت برائے ترقی انسانی وسائل کو دی گئی اپنی قانونی رائے میں 1967 کے سپریم کورٹ کے عزیز پاشا مقدمہ میں فیصلے کا بھی ذکر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تکنیکی طور پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کوئی اقلیتی ادارہ نہیں ہے اور یہی اصول جامعہ ملیہ اسلامیہ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ وزارت برائے ترقی انسانی وسائل نے اس معاملے پر قانونی رائے کے لئے وزارت قانون سے رابطہ کیا تھا۔ اس کے بعد وزارت قانون نے روہتگی سے قانونی رائے مانگی تھی۔ وزارت قانون کے ذرائع نے جامعہ ملیہ اسلامیہ ایکٹ، 1988 کے آرٹیکل 7 کا حوالہ بھی دیا جس میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی ہر جنس ‘ نسل، ذات یا طبقے کے لئے کھلی رہے گی اور کسی استاد یا طالب علم کے طور پر داخلے کی اہلیت کے لئے کسی شخص پر مذہب ‘ عقیدہ یا پیشے کے معیار کو لاگو کرنا یونیورسٹی کے لئے درست نہیں ہوگا۔ اٹارنی جنرل شاید یہ بھول رہے ہیں جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اقلیتی کردار کا درجہ22 فروری 2011 میں قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات نے دیا ہے جو کہ بالکل آئینی اور دستوری ہے۔ یوپی اے حکومت نے اپنے مینوفیسٹو ’’کامن منیمم پروگرام‘‘ کے تحت قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات (National Commisstion for Minority Educational Institutions -NCMEI) کو متعارف کرایا تھا۔ یہ حکومت نومبر2004میں اس کمیشن کی تشکیل کے لئے ایک آرڈنینس لے کر آئی تھی۔ دسمبر2004میں ایوان زیریں اور ایوان بالا دونوں میں یہ بل پاس ہوا اور جنوری 2005 میں این سی ایم ای آئی ایکٹ کا اعلان ہو گیا۔ یہ کمیشن اقلیتی اداروں کی نگہ بانی اور حقوق کا تحفظ کے لئے بنی ہے جو دستور ہند کے دفعہ30 میں درج ہے اور جس کے بموجب تمام اقلیتوں کو چاہے وہ لسانی ہوں یا مذہبی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے پسند کے ادارے قائم کرسکتی ہیں اور اس کا نظم و نسق چلا سکتی ہیں۔ یہ کمیشن جوڈیشیل باڈی کے مساوی ہے جسے سول کورٹ کے اختیارات دئیے گئے ہیں۔ اس کمیشن کی سربراہی دہلی ہائی کورٹ کا جج کرتا ہے اور اس کے دو اور رکن ہوتے ہیں جنھیں مرکزی حکومت نامزد کرتی ہے۔ اس ایکٹ میں یہ بات بالکل واضح طور سے لکھی ہے کہ جہاں تک اقلیتی تعلیمی ادارہ جات سے لے کر یونیورسٹی کی توثیق کا تعلق ہے تو اس کمیشن کا فیصلہ حتمی ہوگا۔ ہندوستان میں قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات کے ذریعے 31اکتوبر 2015 تک کی رپورٹ کے مطابق منظور شدہ کل اداروں کی تعداد11384 ہے جنھیں این سی ایم ای آئی نے مائنارٹی اسٹیٹس سرٹیفیکٹ (MSC)دے رکھا ہے۔ سب سے زیادہ مائنار ٹی ادارے ریاست کیرالہ میں ہیں جن کی تعداد 4412 ہے ۔ اقلیتی اداروں کے لئے دوسرے نمبر پر اترپردیش ہے جہاں 2554 اقلیتی ادارے ہیں۔ دہلی میں اقلیتی اداروں کی تعداد 218 ہے۔ ان اداروں میں 10 کو یونیورسٹی کا درجہ ملا ہے۔ ان میں مسلم اقلیتی کردار کی حامل جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی‘ ینیپویا یونیورسٹی منگلورو‘ بی ایس عبدالرحمن یونیورسٹی چنئی‘ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی رامپور‘ جامعہ ہمدرد دہلی‘ الفلاح یونیورسٹی دھوج ہریانہ ہیں۔ عیسائی اقلیت کی سیتھیاباما یونیورسٹی چنئی اور کرائسٹ یونیورسٹی بنگلورو ہے۔ جین اقلیت کی تیرتھنکر مہاویر یونیورسٹی ہے۔ اقلیتی کردار پر سوالیہ نشان لگانے کا سلسلہ صرف انھیں دونوں یونیورسٹیوں تک محدود رہتا ہے یا اور بھی دیگر اقلیتوں کے ادارے اس کی زد میں آئیں گے ؟ جہاں تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بات ہے تو یہ شروعات سے ہی ہندو انتہا پسند تنظمیوں اور خاص کر آر ایس ایس کے آنکھوں کا انتہائی تکلیف دہ کانٹا رہے ہیں۔ گزشتہ سال دونوں ہی یونیورسٹییوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کو دعوت دیئے جانے کی زبردست مخالفت بھی ہوئی تھی ۔ اس سے پہلے 2008 میں وزیر اعظم نریندر مودی گجرات کے ایک عوامی اجلاس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کو برا بھلا بھی کہہ چکے ہیں۔
مسٹر روہتگی نے ایک بات یہ بھی کہی کہ حکومت سیکولر ملک میں اقلیتی ادارے قائم نہیں کرتی۔ وہ شاید یہ بھول رہے ہیں کہ اسی سیکولر ملک میں دہلی یونیورسٹی کے مشہور کالج سینٹ اسٹیفین جیسے بہت سے دیگر اقلیتی اداروں کو بھی حکومت امداد دیتی ہے ۔ اسی سیکولر ملک میں کیرلہ‘ تامل ناڈو‘ کرناٹک اور اڑیسہ میں ہندو مذہبی دھرما ایڈمنسریٹیو سروسز ہیں جن میں افسروں کے تعین کے لئے شرط ہے کہ وہ ہندو مذہب کا ماننے والا ہو اور یہ سب حکومتی ادارے ہیں۔ اسی سیکولر ملک میں نیشنل مشن فار کلین گنگا جیسی حکومتی سوسائٹی بھی چل رہی ہے۔ اس کے علاوہ اسی سیکولر ملک کی بیشتر ریاستوں میں گؤکشی پر بھی پابندی عائد ہے اور آئے دن اس کے نام پر سیکولرزم کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ سیکولر زم کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ حکومت اکثریتی طبقے کے مفاد میں سرگرم عمل رہے اور اقلیتی طبقے کو یکسر نظر انداز کردے۔ ملک کے وکاس کے لئے ملک کے ہر طبقے کاوکاس ضروری ہے اور خاص طور سے وہ طبقہ کسی وجہ سے وکاس سے محروم رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ حکومت جسٹس سچر کمیٹی کی رپورٹ کو سنجیدگی سے لیتی جس میں مسلم طبقے کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے پر زور دیا گیا ہے اور اس طبقے کے لئے تعلیمی مراکز قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ جسٹس رنگ ناتھ کمیشن کی سفارشات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جاتی جس میں مسلمانوں کے لئے ان کی تعلیمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ریزرویشن کی بات کی گئی ہے۔ اس کمیشن کی رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طرح ملک میں منتخب اداروں کو قانونی طور سے خصوصی ذمہ داری دی جانی چاہیئے کہ وہ ہر سطح پر مسلم طلبہ کے درمیان تعلیم کو فروغ دیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے وہ ہر ممکنہ قدم اٹھائیں۔ اس مقصد کے لئے ہر ان ریاستوں میں کم از کم ایک ایسا ادارہ ہونا چاہیئے جہان مسلم کی ایک خاصی تعداد بستی ہو۔ یہ سب کرنے کے بجائے حکومت ہندومسلم کارڈ کھیل رہی ہے اور وکاس کے اپنے اصلی ہدف سے ہٹ کر آر ایس ایس کے ایجنڈوں کے تحت کام کر رہی ہے جو کسی طور سے بھی ملک کی ہمہ گیر ترقی کے لئے درست نہیں ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

خالد سیف اللہ اثری

خالد سیف اللہ اثری معروف دینی دانش گاہ جامعۃ الفلاح سے فارغ ہیں۔ آزاد صحافی اور قلم کار ہیں۔

متعلقہ

Close