نقطہ نظر

خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں!

انتشار وا فتراق اور شدت پسندی کے اس دور میں سیدھے سادے انسان کو کہیں جائے عافیت نہیں۔

کامران غنی صباؔ

انتشار وا فتراق اور شدت پسندی کے اس دور میں سیدھے سادے انسان کو کہیں جائے عافیت نہیں۔ ہر شخص ایک خاص نظریہ کی عینک لگا کر اُس سے نظر آنے والی چیزوں کو ہی حقیقت سمجھانے پر تلا ہوا ہے۔

اختلاف کوئی بری بات نہیں لیکن اختلاف اگر ذاتی رنجش اور بغض و عناد کا ذریعہ بن جائے تو یہ ایسا اختلاف ہلاکت کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے ’دین بچاؤ، دیش بچاؤ‘ کانفرنس کو لے کر جس طرح سوشل میڈیا پر لوگ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں وہ ایک مومن کی شان نہیں ہو سکتی۔ تاریخ شاہد ہے کہ ہمارے اسلاف نے شدید ترین اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے احترام میں کبھی کوئی کمی نہیں ہونے دی۔ حضرت عمرؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ جلیل القدر صحابی ہیں۔ دونوں میں سو سے زائد مسائل میں شدید ترین اختلاف تھا لیکن ان کا اختلاف کبھی بھی ذاتی رنجش اور بغض و عناد کی وجہ نہیں بن سکا۔ حد تو یہ ہے کہ شدید ترین اختلافات کے وجود حضرت عمر فاروقؓ، عبداللہ بن مسعودؓ کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’’عبداللہ بن مسعود علم و فقہ کا پٹارہ ہیں۔ ‘‘دوسری جانب عبداللہ بن مسعودؓ کی عقیدت دیکھیے کہ جب انہیں حضرت عمرؓ کے انتقال کی خبر ملی تو کہتے ہیں ’اللہ رحم کرے عمرؓ پر، وہ اسلام کا ایک مضبوط قلعہ تھے، جو منہدم ہو گیا۔ ‘‘

تاریخ کے صفحات ایسے بے شمار واقعات سے بھرے پڑے ہیں کہ جن کو پڑھ کر ہم محو حیرت رہ جاتے ہیں کہ نظریاتی اختلافات کے باوجود ہمارے اسلاف ایک دوسرے کی کس قدر عزت کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اللہ نے لوگوں کے دلوں میں ان کی عظمت کا سکہ جما دیا تھا۔ ایسا نہیں ہے کہ ان کے اختلافات صرف فقہی معاملات تک محدود تھے۔ ان بزرگوں نے سیاسی اور سماجی معاملوں میں بھی الگ الگ نظریہ رکھنے کے باوجود احترام انسانیت کا دامن کبھی نہیں چھوٹنے دیا۔ جنگ جمل میں حضرت طلحہؓ، حضرت علیؓ کے مخالف خیمے میں شامل تھے۔ اسی جنگ میں ان کی شہادت بھی ہوئی۔ ان کے بیٹے عمران جب حضرت علی کے پاس آتے تو حضرت علیؓ انہیں اپنے قریب بیٹھنے کو کہتے اور فرماتے کہ مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے اور تمہارے والد کو ان لوگوں میں شامل کرے گا جن کے بارے میں قرآن میں ہے ’’ہم ان کے سینوں میں موجود خفگی کو ختم کر دیں گے اور وہ کرسی پر آمنے سامنے بھائی بن کر بیٹھے ہوں گے۔ ‘‘

حضرت زید بند ثابتؓ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ میں کسی مسئلہ میں شدید اختلاف تھا۔ ایک موقع پر حضرت زیدؓ نے حضرت ابن عباسؓ کو ہاتھ دکھانے کے لیے کہا جب حضرت عباسؓ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو حضرت زیدؓ نے اسے چوم کر کہا کہ ہمیں اہلِ بیت کے ساتھ ایسا ہی کرنے کو کہا گیا ہے۔ جب حضرت زیدؓ کا انتقال ہوا تو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ آج علم کا ایک بڑا حصہ زمین میں دفن ہو گیا۔

امام شافعیؒ اور ان کے شاگرد یونس حلافی کے بیچ کسی مسئلے کو لے کر زبردست مناظرہ ہوا بعد میں جب ان کی پھر سے ملاقات ہوئی تو امام شافعیؒ نے یونس حلافیؒ کا ہاتھ تھام کر کہا کہ اگر ہم ایک مسئلے میں متفق نہ ہو سکے تو کیا ہوا ہم بھائی بن کر تو رہ ہی سکتے ہیں۔ ‘‘

آج ہم ذرا ذرا سی بات پر مرنے مارنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ قرآن تو کفار و مشرکین سے بھی بحث و مباحثے میں نرمی کا حکم دیتا ہے:’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور بہترن نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور لوگوں سے بہتر طریقے سے گفتگو کرو۔ ‘‘(سورۃالنحل)۔ حد تو یہ ہے کہ فرعون جیسے سرکش اور باغی کے پاس جب موسیؑ اور ہارونؑ کو بھیجا جاتا ہے تو وہاں بھی نرمی کے ساتھ گفتگو کا حکم ہوتا ہے۔ ’’تم دونوں اس سے نرم لہجے میں گفتگو کرو، ہو سکتا ہے وہ نصیحت قبول کر لے‘‘(سورۃ طہٰ)۔

افسوس کا مقام ہے کہ اختلاف کرتے ہوئے ہم قرآن و حدیث کے تمام اصول اور اپنے اسلاف کی روشن مثالوں کا بھی خیال نہیں رکھتے۔ طنز و تمسخر کا تیر برسا کر، لعن طعن کے ذریعہ اپنے مخالفین کو زیر کرنا چاہتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس وبا کو اس قدر بڑھا دیا ہے کہ سنجیدہ ذہن رکھنے والے مخلص لوگ اپنی عزت بچانے کے لیے خاموش ہو جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیے کہ کیا اِ س طرح اصلاح کی کوششیں کارگر ہو سکتی ہیں ؟

’دین بچاؤ، دیش بچاؤ‘ کانفرنس کے بعد اٹھنے والے سوالات انتہائی اہم ہیں۔ ہمیں اپنے علمائے دین سے سوال پوچھنے کا حق بھی ہے، سوال پوچھنے سے ان کی عزت و عظمت پر کوئی حرف نہیں آئے گا لیکن سوال پوچھنے سے پہلے ہمیں اپنے دل سے یہ ضرور پوچھ لینا چاہیے کہ ہم سوال اپنے دل کی تسلی اور اصلاحِ قوم کے لیے پوچھ رہے ہیں یا اپنے دل کا غبار نکالنے اور سماج میں انتشار پیدا کرنے کے لیے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

اللہ ہمیں خلوص نیت کے ساتھ اسلام کے آفاقی پیغام کو دنیا والوں کے سامنے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

کامران غنی صبا

اعزازی مدیر اردو نیٹ جاپان

متعلقہ

Close