نقطہ نظر

داعش ایک دہشت گرد تنظیم

 سعید الرحمن بن نورالعین سنابلی

       داعش ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔ اس تنظیم کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی سروکار نہیں بلکہ یہ مٹھی بھر تشددپسند لوگوں کا مجمع ہے جن کی فکر خوارج سے ہم آہنگ ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ لوگ اپنے کالی کرتوتوں اور بے ہودہ حرکتوں کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کے لئے جگ ہنسائی کا سبب بنے ہوئے ہیں ۔داعش کی حقیقت اور اس کی ابتداء کے بارے میں بہت سارے لوگوں نے خامہ فرسائی کی ہے اور ان کے بارے میں مختلف حقائق کو دنیا کے سامنے بیان کیا ہے اور ان کی حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے اور بتایا ہے کہ اس قدر خطرناک فکر و فہم کے حاملین کبھی بھی اسلام کے نمائندے نہیں ہوسکتے،اسلام تو امن و آشتی کا سب سے بڑا پیامبر ہے،بھلا وہ کیوں کر داعش جیسی خونخوار تنظیم کی حیوانیت و بربریت کو شہہ دے سکتا ہے ۔ اسلام تو ہر طرح کی تشددپسندی اور سخت گیری کا سخت مخالف ہے ، وہ بھلا داعش جیسی متشدد اور خونخوار تنظیم کا کیوں کر حامی ہوسکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ داعش ایک دہشت پسند تنظیم ہے اور یہ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے وقوع پذیر ہوئی ہے ۔ اس تنظیم کے اصول و مبادی دیکھتے ہیں تو یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ داعش کی گمراہی کی سب سے بڑا سبب  یہ ہے کہ اس تنظیم کی بنیاد شدت پسندی پر ہے۔یہ شدت پسندی ہی ان کے بگاڑ کی اہم جڑ اور بنیاد ہے۔سخت گیری اور شدت پسندی ہی کی وجہ سے یہ لوگ ساری دنیا کے مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیںاور فتنہ و فساد اورقتل و غارت گری جیسی برائیوں کے شکار ہوتے ہیں، معصوم شہریوں، بچوں اور عورتوں کے ساتھ انسانیت سوز حرکتوں کو روا سمجھتے ہیں اور ان ساری حماقتوں اور بیوقوفیوں کو بہت ہی بے شرمی کے ساتھ اسلام کانام دیتے ہیں۔یہ جاہل اور گمراہ لوگوں کی ٹولی ہے ، یہ کتاب و سنت کے نصوص اور اس کے مزاج کو سمجھنے سے قاصر ہیں، یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے کے موقر علماء کرام نے انہیں اس وقت کاخارجی قراردیا ہے،کیونکہ ان کی صفات خارجیوں سے بہت حد تک میل کھاتی ہیں۔ خارجیوں نے خیرالقرون میں جن غلط بنیادوں پر فتنہ و فساد کو روا جانا، انہیں بنیادوں پر یہ لوگ بھی اپنا شیش محل بناتے ہیں اور پھر اس کی آڑ میں معصوم شہریوں، بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو مشق ستم بناتے ہیں۔ یہ لوگ آیاتِ جہاد کو سمجھے بغیر اسے بڑے شدو مد سے بیان کرتے ہیں اور جہاد کے معنیٰ ومفہوم، اس کے شروط اور موانع کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ اسلاف کرام نے جہاد کے بارے میں جو حقائق بیان کئے ہیں، انہیں ملحوظ نہیں رکھتے، یہ لوگ موجودہ سماج میں غلامی کا دستور نافذ کرتے ہیں مگر اس تعلق سے اسلاف کرام کے فہم کو نظر انداز کرتے ہیں۔یہ معاہدین کے ساتھ جس درندگی کا برتاؤ کرتے ہیں ، اس سے اسلام بالکل بیزار ہے۔اس کے علاوہ نہ جانے کون کون سی برائیوں کو انجام دیتے ہیں اس کے بعد بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ لوگ ہی اسلام کے حقیقی متبعین ہیں اور باقی سب اسلام سے بیزار ہوچکے ہیں، پوری دنیا کے لوگوں نے نفاق کو اپنالیا ہے ، صرف داعش کے حساب سے وہ لوگ ہی اسلام کی روشن تعلیمات پر گامزن ہیں۔زیر نظر تحریر میں داعش کی ایسی ہی کچھ کالی کرتوتوں اور اسلام مخالف حرکتوں کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور کتاب و سنت اور علماء کے اقوال کی روشنی میں ،ان کے بطلان اور فساد کو واضح کیا گیا ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان وجوہات کی بنیاد پر داعش کبھی بھی اسلامی تنظیم نہیں ہوسکتی بلکہ داعش کی یہ انتہائی خطرناک سازش ہے کہ وہ اپنی بے ہودہ حرکتوں کے جواز کے لئے اسلامی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتی ہے اور اسلاموفوبیا میں مبتلا لوگ ان کی باتوں پر یقین بھی کرلیتے ہیں۔

1-معصوموں کی قتل و غارت گری

       اسلامک اسٹیٹ یعنی داعش کی اسلام مخالف کرتوتوں میں سب سے خطرناک یہ ہے کہ وہ نہتے لوگوں کو نہایت ہی بے رحمی اور سنگ دلی سے قتل کرتے ہیںاور انسانی جانوں کی حرمت کو پامال کرتے ہیں۔یہ لوگ اس قدر سنگ دل اور سفاک ہوتے ہیں کہ سیکڑوں معصوم لوگوں کو قطار میں کھڑا کرکے بیک وقت سبھی کو ایک ساتھ گولیوں سے بھون دیتے ہیں جبکہ مذہب اسلام نے انسانی جانوں کو نہایت ہی محترم اور معظم قرار دیا ہے اور معصوموں کی قتل و غارت گری کو عظیم جرم قرار دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی بے شمار آیتوں میں انسانی جانوں کی حرمت کو بڑے شد و مد سے بیان کیا ہے اور مسلمانوں کو تاکید کی ہے کہ وہ اس کی پامالی سے باز رہیں۔اللہ تعالیٰ نے (سورہ اسراء ؍33)میں ارشاد فرمایا:’’ولا تقتلواالنفس التی حرم اللہ الا بالحق۔۔۔۔‘‘ یعنی کسی جان کو جس کا مارنا اللہ نے حرام کردیا ہے ہرگز ناحق قتل نہ کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

       ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:’’قل تعالوا أتل ماحرم ربکم علیکم ألا تشرکوا بہ شیئا وبالوالدین احسانا ولاتقتلوا أولادکم من املاق نحن نرزقکم وایاھم ولاتقربواالفواحش ماظھرمنھاومابطن ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق ذلکم وصاکم بہ لعلکم تعقلون‘‘ یعنی آپ کہئے کہ آؤ میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جن کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرمادیا ہے،وہ یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔ ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤخواہ وہ اعلانیہ ہوں خواہ پوشیدہ، اور جس کا خون کرنا اللہ نے حرام کردیا ہے اس کو قتل مت کرو، ہاں حق کے ساتھ ان کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تم سمجھو۔(سورۃ الانعام؍151)

       مزید فرمایا:’’من أجل ذلک کتبنا علی بنی اسرائیل أنہ من قتل نفسا بغیر نفس أو فساد فی الأرض فکأنما قتل الناس جمیعا ومن أحیاھا فکأنما أحیا الناس جمیعا۔۔۔۔۔‘‘ یعنی اس وجہ سے بنواسرائیل پر ہم نے لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے والا ہو،قتل کرڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیااور جو شخص کسی ایک کی جان بچالے ،اس نے گویا تمام لوگوں کو زندہ کردیا۔۔۔۔۔(سورۃ المائدۃ؍32)

       سابقہ قرآنی آیتوں سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی جانوں کو بغیر شرعی حق کے قتل کرنے کو حرام قراردیا ہے اور ناحق ایک جان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔جب ہم ان آیتوں کی کسوٹی پر داعش کی بربریت اور ان کے ہاتھوں معصوموں کے بے دریغ قتل وخونریزی کو پرکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بنیاد ہی شرپسندی،فتنہ پروری اور خوںریزی پر ہے ۔یہ لوگ صرف اور صرف اسلام کو بدنام کرنے کے لئے اس کا نام استعمال کرتے ہیں ، ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ انہیں اسلام کی بنیادی تعلیمات کا بھی علم نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اس بے دردی سے معصوم لوگوں کی جانوں کوہلاک کرتے ہیں ۔

2-مختلف ملکوں کے سفارت کاروں، حکومتی اہلکاروں، صحافیوں اور مختلف رفاہی اداروں سے منسلک لوگوں کا قتل:

       اسلامک اسٹیٹ کا ایک غیرشرعی عمل یہ ہے کہ وہ سفارت کاروں، دوسری حکومت کے اہلکاروں،صحافیوں اور مختلف رفاہی اداروں سے منسلک لوگوں کو مارنے میں چنداں تامل نہیں کرتے بلکہ یہ لوگ عام معصوم لوگوں کی طرح انہیں بھی یرغمال بناکر مشق ستم بناتے ہیں اور انہیں قتل کردیتے ہیں۔حالانکہ قاصدوںاور سفارت کاروں کے تعلق سے آمداسلام سے پہلے سے یہ معمول رہا ہے کہ ایسے لوگوں کو قتل نہیں کیا جاتا تھا،جسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام میں بھی باقی رکھا۔گویا قاصدوں،سفارت کاروں اور ان جیسے لوگوں کو خصوصی حرمت حاصل ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف صحابہ کرام کو متعدد ملکوں کے سربراہان کے پاس خطوط دے کر روانہ کیا، جن میں سے کسری کو چھوڑکر سبھی بادشاہان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصدوں کی تعظیم و توقیر کی ۔اسی طرح مختلف بادشاہان کے قاصد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سبھی قاصدوں کی عزت افزائی کی۔

        عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:’’یہ معمول رہا ہے کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا‘‘۔(مسند احمد؍3861، مسند طیالسی؍248)

       علی بن حسن حلبی اثری نے اپنی کتاب ’’داعش !العراق والشام فی میزان السنۃ والاسلام ـ‘‘(ص؍74)میں لکھا ہے کہ صحافی حضرات بھی قاصدوں کے حکم میں شامل ہیں بشرطیکہ وہ جاسوس نہ ہوں۔اس وجہ سے کہ صحافیوں کا کام حقیقت حال سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہوتا ہے۔

       اسی طرح مختلف رفاہی اداروں کے کارکنان بھی قاصدوں اور سفارت کاروں کے حکم میں شامل ہیں ۔اس وجہ سے کہ وہ امن و شانتی کے قاصد ہیں اور لوگوں کی بھلائی کے لئے کام کرتے ہیں۔لہذا، ان کو قتل کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہوسکتا ہے۔

3- داعش کاجہاد کی غلط تشریح:

       جہاد ایک حددرجہ فضیلت یافتہ عمل ہے ۔یہ انسانی معاشرے میں امن و آشتی کے فروغ ، صلح و صفائی کے قیام اور اطمینان و سکون کی بالادستی اور ان سے ظلم و ستم اور فتنہ و فساد کے خاتمہ کے لئے مشروع کیا گیا ہے۔ اسے لوگوں کو ہراساں کرنے یا کسی سے انتقام لینے کے لئے ہرگز مشروع نہیں کیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ علامہ ابن قیم جوزیہ رحمہ اللہ نے زادا لمعاد (3؍9)میں جہاد کے جو چار مراتب بتائے ہیں ، ان میں جہادنفس کو سب سے بڑا جہاد قرار دیا ہے۔ اسی طرح فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : سب سے بڑا مجاہد تو وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرتا ہے ؎۔ (سنن ترمذی؍1621، مسند احمدبن حنبل؍23965، صحیح ابن حبان ؍4624)

       ٭جہاد کے تعلق سے ایک قابل غور پہلو یہ ہے کہ یہ فرض کفایہ ہے، فرض عین نہیں ہے جیساکہ حافظ ابن رجب حنبلی نے جامع العلوم والحکم( 1؍155)میں کہا ہے اور امام شافعی کا بھی یہی قول ہے۔(مختصرالمزنی ص؍377)

       ٭جہاد ایک خالص اسلامی عبادت ہے۔ اس کی وجوبیت کے شروط و ضوابط کو ملحوظ رکھنا بہرحال ضروری ہے۔اسے اپنی منشاء اور مرضی کے حساب سے نہیں انجام دیا جاسکتا ہے ،جیساکہ آج داعش اس فضیلت یافتہ عمل کی آڑ میں اپنی اسلام مخالف سرگرمیوں کو نیک اور باعث ثواب بتانے کی کوشش کررہی ہے جبکہ وہ جو کچھ کررہے ہیں وہ کسی بھی صورت میں جہاد نہیں ہوسکتا ، بلکہ وہ فساد فی الارض کی بدترین شکل ہے۔داعش کے قتال و خونریزی کا بڑا حصہ مسلمانوں کے خلاف استعمال ہوتا ہے جبکہ شریعت میں مسلمانوں کے خلاف جہاد کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔

       ٭نیز اگر انسان کے والدین باحیات ہوں تو جہاد کے لئے ان کی اجازت بہرحال ضروری ہے جیساکہ صحیح بخاری(3004)میں مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے جہاد کے لئے اجازت چاہی۔آپ نے پوچھا:’’کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟‘‘۔اس نے کہا:ہاں، یہ سن کراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:’’پھر جاکر ان کی خدمت کے ذریعہ ہی جہاد کا ثواب حاصل کرو‘‘۔

       اس کے برعکس داعش کا معمول یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کو اپنی مہم میں شرکت کے لئے ابھارتے ہیں اور انہیں اپنی فوج میں شامل ہونے پر آمادہ کرتے ہیں ، جن کی ملمع سازیوں کا شکار ہوکر نوجوانان داعش کی فوج میں شریک ہوجاتے ہیں اور والدین تو کیا کسی رشتے دار تک کو اپنے اس پلان کے بارے میں نہیں بتاتے ہیں اور اس طرح سے شرعی حکم کی مخالفت کی وجہ سے گنہگار ٹھہرتے ہیں۔بلکہ داعش کے جھانسے میں آنے والے بعض گمراہ نوجوانوں نے فتنہ و فساد سے منع کرنے پر اپنے والدین تک کو قتل کردیا۔العیاذ باللہ۔

4- تکفیر کا فتنہ:

       داعش کی گمراہی کی ایک بڑی دلیل تکفیر کے باب میں ان کا شتربے مہار ہونا ہے۔داعش تکفیر کے مسئلے میں اس قدر زیادتی کرتے ہیں کہ جو مسلمان ان کے آراء کا مخالف ہوتا ہے، یہ اس کی تکفیر کرتے ہیں۔یہ پوری دنیا کے مسلم حکمرانوں اور مسلم ممالک میں انتخابات میں شرکت کرنے والوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔یہی نہیں، مسلم ملکوں اور ان کے افواج کو طاغوت، مرتد اور کافر کہتے ہیں۔حالانکہ تکفیر کا مسئلہ انتہائی حساس ہے۔علماء کرام نے بغیر قطعی دلیل کے کسی کی تکفیر سے منع فرمایا ہے۔امام شوکانی رحمہ اللہ نے ’’ السیل الجرار 6؍578‘‘میں کہا ہے کہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والے کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی مسلمان کے بارے میں کہے کہ وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہوگیا یا کفر میں داخل ہوگیا، اس وجہ سے کہ مختلف صحابہ کرام سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’جو شخص اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہتا ہے تو کلمہ کفر ان میں سے کسی ایک کی طرف لوٹ جاتا ہے‘‘۔ (صحیح بخاری؍6104، صحیح مسلم؍60)

تکفیر کے بعض اہم اورمختصر اصول و ضابطے:

       تکفیر کا مسئلہ حددرجہ پیچیدہ ہے۔سلفی مکتب فکر کے حاملین پر یہ الزام لگتا ہے کہ یہ لوگ تکفیر کے باب میں نہایت سخت ہوتے ہیں اور اپنے مخالف سبھی مسلکوں کے ماننے والوں کو کافر قرار دیا کرتے ہیں جبکہ حقیقت حال اس کے برعکس ہے۔ لہذا بہتر معلوم ہوتا ہے کہ تکفیر کے اصول و ضوابط کو مختصر انداز میں بیان کیا جائے تاکہ جولوگ سلفی منہج کو تکفیری منہج کہتے ہیں، وہ اسے پڑھ کر اپنا علم درست کریں اور وہ دیکھیں کہ سلفی علماء نے تکفیر کے جو اصول و ضوابط ذکر کئے ہیں ،وہ انتہائی معتدل ہیں۔ان میں کسی بھی طرح کا افراط یا تفریط نہیں ہے۔

       أ- اصلاََ کلمہ گو شخص کو مسلمان مانا جائے گا۔

       اصل یہی ہے کہ ہر وہ شخص جو کلمہ طیبہ ’’ لاالہ الااللہ، محمد رسول اللہ‘‘کا اقرار کرتا ہے وہ مسلمان ہوگا اور اس کی تکفیر جائز نہیں ہوگی، الایہ کہ اس کے اندر ایسی چند شرطیں پائی جائیں جو کفر کو مستلز م ہوں یا ایسی موانع موجود ہوں جو اسلام کے منافی ہوں ۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے مجموع الفتاویٰ (14؍118)میں کفریہ بات کہنے والے شخص کا حکم بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی یہ جان کر کہہ رہا ہو کہ وہ جو کچھ اپنی زبان سے ادا کررہا ہے ، وہ کفریہ کلام ہے۔اسی طرح وہ مختار اور آزاد ہو یعنی اس پر کسی بھی طرح کا دباؤ نہ ہو اور اس نے یہ بات غلطی میں نہیں بلکہ جان بوجھ کر کہا ہو تو اس بنیاد پر اس کی تکفیر کی جائے گی اور اس کے برعکس چیزوں کو موانع کفر مانا جائے گا۔

       ب- مسئلہ تکفیر کی سنگینی۔

       تکفیر کا مسئلہ انتہائی خطرناک ہے کیونکہ جب ہم کسی مسلمان پر کفر کا حکم لگاتے ہیں تو گویا ہم اس کی جان و مال کے حلال ہونے کی بات کہتے ہیں۔لہذا اس مسئلے میں انتہائی حساسیت برتنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم کسی کی تکفیر کا فتویٰ دے کر سنگین جرم کاشکار نہ ہوں ۔اس وجہ سے کہ جسے ہم کافر کہہ رہے ہیں ، ایک طرف ہم اسے اسلام سے خارج بتارہے ہیں اور کفر میں داخل ہونے کا حکم سنارہے ہیں،لیکن اگر وہ ایسا نہ ہوتو حدیث کے مطابق ایسی صورت میں یہ کلمہ کفر ہماری طرف پلٹے گا۔دوسری طرف ہم اس کی جان و مال کے حلال ہونے کی بات کررہے ہیں جبکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح فرمان ہے:’’اللہ کے نزدیک دنیا کا زوال ایک مسلمان شخص کے خون کے مقابلے آسان اور کم وقعت ہے‘‘۔ (سنن ترمذی؍1395، شیخ البانی نے اسے غایۃ المرام ؍439میں صحیح قرار دیا ہے۔)

       درحقیقت تکفیر خوارج کی علامت ہے ،جیساکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہا ہے :’’خوارج کی نظر میں دین مسلمانوں کے گروہ سے دور رہنے اور مسلمانوں کی جان و مال کو حلال سمجھنے کا نام ہے‘‘۔ (مجموع الفتاویٰ13؍209)

       ج- علمی مسائل میں اختلاف موجب کفر نہیں:

       علمی مسائل میں اختلاف موجب کفر نہیں ہے، کیونکہ اس اختلاف کے بہت سارے اسباب ہوتے ہیں۔ اس تعلق سے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے مجموع الفتاوی(3؍182)میں کہا ہے کہ کسی بھی مسلم کو کسی گناہ یااہل قبلہ کے مابین مختلف فیہ مسئلے میں واقع اس کی غلطی کی وجہ سے کافر نہیں قرار دیا جائے گا۔۔۔‘‘۔

       اس کے بعد ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس مسئلہ کو ذکر کیا ہے کہ صحابہ کرام نے خوارج کی تکفیر نہیں اور کہا ہے کہ ’’۔۔۔۔ ان لوگوں کی گمراہی نصاََ اور اجماعاََ عیاںہونے کے بعد بھی صحابہ کرام نے ان کی تکفیر نہیں فرمائی، حالانکہ ان سے قتال کرنے کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم موجود ہے تو بھلا دوسری ایسی تنظیموں اور جماعتوں کو کیوں کر کافر قرار دیا جاسکتا ہے جن پر بعض ایسے اختلافی مسائل میں حق مشتبہ ہوگیا جن میں ان سے بڑے بڑے جانکار لوگوں سے غلطیوں کا صدور ہوا ہے۔کسی بھی ایسی تنظیم یا جماعت کے لئے دوسری جماعت و تنظیم کو کافر قرار دینا اور ان کی جان و مال کو حلال سمجھنادرست نہیں ہے،گرچہ ان کے اندر حقیقی معنوں میں کوئی بدعت کیوں نہ پائی جاتی ہو۔

       د- عمومی تکفیر جائز نہیں:

       مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں کو عمومی انداز میں تکفیر نہیں کی جاسکتی بلکہ تکفیر کا حکم خاص فرد کے بارے میں اس کے عمل  یا قول کی بنیاد پر لگایا جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے اسی حقیقت کو قرآن مجید کے اس آیت کریمہ میں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:’’ولاتزروازرۃ وزرأخریٰ‘‘     یعنی کسی کا بوجھ دوسرے پر مت ڈالو۔

       ھ-کافر کی تکفیر نہ کرنے والے شخص کو کافر قرار دینے کا قاعدہ:

       اگر کوئی مسلمان کسی شخص کی تکفیر میں شک کا شکار ہو یا اسے کافر نہ قرار دے رہا ہو تو محض اس بنیاد پر کہ دوسرے شخص کو کافر نہیں کہہ رہا ہے ،ایسے شخص کی تکفیر جائز نہیں ہے۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ’’الصارم المسلول علی شاتم الرسول‘‘ (3؍963)میں لکھا ہے کہ کسی احتمال کی بنیاد پرکسی شخص کی تکفیر جائز نہیں ہے۔

       و- کفریہ عمل اور تکفیر کے درمیان فرق ہے:

       کفریہ عمل اور اس کی وجہ سے تکفیر کے مابین بہت فرق ہے۔اس امر کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔بڑے بڑے علمائے کرام بشمول علامہ ابن تیمیہ اور علامہ ابن قیم رحمہمااللہ نے یہ بات کہی ہے کہ کفریہ عمل اور اس کی بنیاد پر کسی انسان کو کافر قرار دینا دونوں الگ الگ چیزیں ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اگر کسی انسان سے کفریہ عمل صادر ہوتا ہے تو اسے سابقہ بیان کردہ شروط کی رعایت کئے بغیر کافر نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔لہذا، کفر یہ عمل کے ہرمرتکب انسان کو کافر نہیں کہاجاسکتا ہے ۔

       حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ’’سیر أعلام النبلاء ‘‘(11؍393)میں اپنے شیخ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں کہا کرتے تھے کہ میں اس امت کے کسی فرد کو کافر نہیں قرار دیتا ہوں اورکہا کرتے تھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا ہے :’’صرف مومن شخص ہی وضو پر ہمیشگی برت سکتا ہے‘‘۔چنانچہ جو شخص وضو کے ساتھ نمازوں کا التزام کرے گا، وہ مسلمان ہوگا۔

5- اہل کتاب نصاری کے ساتھ برتاؤ:

       داعش کے ظلم و ستم کے شکار ہونے والے لوگوں میں عرب ممالک کے نصاری بھی ہیں۔داعش نے نصرانیوں پر ظلم و ستم کے ایسے پہاڑ توڑے ہیں کہ اس کے ادنیٰ تصور سے ہی انسانی جسم پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے ۔جی ہاں! ان تشددپسند وں نے عرب نصاری کو تین چیزوں میں سے ایک یعنی جزیہ دینے، قتل ہونے یا دین اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا ہے۔یہ نصرانیوں کے کنیساؤں کو مسمار کرنے ، ان کے دھن دولت کو لوٹ لینے اور انہیں قتل کردینے کو باعث ثواب سمجھتے ہیں۔ان کی سفاکیت اور بربریت کی وجہ سے عرب نصاری اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ جگہوں کی تلاش میں بھاگنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

       حالانکہ اسلامی ملکوں میں رہنے والے یہ نصاریٰ محارب نہیں بلکہ یہ مسلم ممالک کے باشندے اور شہری ہیںاور مسلم ملکوں کی شہریت اور جنسیت ایک طرح کا عہد و پیمان ہے۔

       شرعی نقطۂ نظر سے بھی یہ اسلامی ملکوں میں عہدو پیمان کے تحت آباد ہیں۔انہیں یہ عہد و پیمان عمربن خطاب رضی اللہ عنہ، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ،اموی اور عباسی خلفاء اور عثمانی حکمرانوں سے ملے ہیں۔لہذا ان پر کسی بھی صورت میں جہاد و قتال کے احکام نافذ نہیں ہوں گے۔

       اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے:’’لاینھاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم أن تبروھم و تقسطوا الیھم ،ان اللہ یحب المقسطین‘‘(سورۃ الممتحنۃ؍8)یعنی جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

       حافظ ابن جریر طبری نے اپنی تفسیر(22؍573) میں اس آیت کے ضمن میں لکھا ہے کہ اس آیت کی توضیح کے تعلق سے سب سے صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد سبھی ادیان و ملل کے لوگ ہیں ۔ایسے لوگوں سے ہم سلوک و احسان اور منصفانہ برتاؤ کرسکتے ہیں۔اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو ان لوگوں کے تعلق سے عام کیا ہے جنہوں نے مسلمانوں سے جنگ نہیں لڑی اور انہیں جلاوطن نہیں کیا  اور کسی کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں فرمائی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

6-جزیہ کے احکام و مسائل:

       ٭امام ابن قیم جوزیہ رحمہ اللہ کے بقول: جزیہ کی کوئی متعین حد نہیں کہ اس میں کمی بیشی نہ کی جاسکے اور نہ ہی جزیہ کی جنس ہی مخصوص ہے۔۔۔۔(أحکام أھل الذمہ1؍132)

       ٭ جزیہ کی دو قسمیں ہیں۔

       أ- جزیہ جو غیرمسلموں سے لیا جاتا ہے اور وہ اس کی ادائیگی ذلیل وخوار ہوکر کرتے ہیں۔

       یہ جزیہ محاربین سے وصول کیا جاتا ہے، جیساکہ اللہ کے اس فرمان سے بظاہر معلوم ہوتا ہے جس میں ارشاد ہے:’’قاتلوا الذین لایؤمنون باللہ ولا بالیوم الآخر ولا یحرمون ماحرم اللہ ورسولہ ولایدعون ماحرم اللہ ورسولہ ولایدینون دین الحق من الذین أوتوا الکتاب حتی یعطوا الجزیۃ عن ید وھم صاغرون‘‘(سورۃ التوبۃ؍29)یعنی ان لوگوں سے لڑو جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لاتے جو اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ شے کو حرام نہیں جانتے، نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان لوگوں میں سے جنہیں کتاب دی گئی ہے ، یہاں تک کہ وہ ذلیل و خوار ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ اداکریں۔

       علی بن حسن حلبی اثری نے ’’داعش! العراق والشام فی میزان السنۃ والاسلام‘‘ص؍137میں لکھا ہے کہ علماء کے بقول : اس آیت کریمہ سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ جزیہ محارب مشرکین سے وصول کیا جائے گا۔

       ب- جزیہ جو غیر محاربین سے وصول کیا جاتا ہے:

       غیر محاربین مشرکوں سے عہدو پیمان کے حساب سے جزیہ وصول کیا جائے گا، البتہ اس سلسلے میں ان پر سختی نہیں کی جائے گی۔ابن قدامہ رحمہ اللہ نے ’’المغنی‘‘(10؍621) میں لکھا ہے:ایسے مشرکوں سے جزیہ وصول کرنے میں سختی سے کام نہیں لیاجائے گا بلکہ اگر ایسے لوگ جزیہ کی ادائیگی سے قاصر ہوں تو انہیں جزیہ نہ دینے کی وجہ سے سزا نہیں دی جائے گی۔ایک بار کا واقعہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بہت زیادہ مال آیا۔یہ دیکھ امیر المومنین نے پوچھا:شاید لوگوں کو پریشانی میں ڈال کر یہ وصول کیا گیا ہے؟ صحابہ کرام نے بتایا:نہیں، بلکہ اسے وصولنے میں انتہائی نرمی اور آسانی کا معاملہ کیا گیا ہے۔عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا:کیا واقعی یہ کوڑے اور سختی کے بغیر وصول کیا گیا ہے؟ لوگوں نے بتایا :جی ہاں۔عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:ہر طرح کی تعریف اس اللہ کے لئے سزاوار ہے جس نے اس قسم کا مال میرے ہاتھ یا میرے اختیار میں نہیں دیا۔(ملاحظہ ہو:کتاب الأموال لأبی عبیدص؍54، کتاب الأموال لابن زنجویہ1؍386و أحکام أھل الذمۃلابن القیم الجوزیۃ1؍139)

       یہ جزیہ غیر محارب مشرکوں سے صدقہ کے بدلے وصول کیا جاتا ہے۔عمر رضی اللہ عنہ نے اسے صدقہ قرار دیا ہے البتہ اس کی مقدار زکوٰۃ کی مقدار سے کم ہوگی اور یہ بیت المال میں جمع کیا جائے گا اور بوقت ضرورت اسے نصاری کو بھی دیا جاسکتا ہے۔

       ٭ فقہاء نے غیر محارب مشرکوں سے جزیہ کی معافی کو بھی جائز قرار دیا ہے، خصوصا اس صورت میں جبکہ بعض غیر مسلمین مسلم فوج میں شریک ہوجائیں،جیساکہ عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں ہوا تھا کہ وہ لوگ مسلمانوں کی فوج میں شامل ہوگئے تھے اور مسلمانوں کے ہمراہ مشرکوں سے قتال بھی کیا تھا جس کی وجہ سے امیر المومنین نے ان کے جزیہ کو معاف کردیا تھا۔

7- یزیدیوں کے بارے میں شرعی حکم:

       یزیدیوں کے ساتھ بھی داعش کا برتاؤ انتہائی سفاکانہ اور مجرمانہ ہے۔انہیں داعش یاتو موت کے گھاٹ اتارتے ہیں یا دین اسلام میں داخل ہونے پر مجبور کرتے ہیں، حالانکہ ان لوگوں نے نہ تو داعش سے قتال کیا اور نہ ہی کسی دوسرے مسلمانوں کے خلاف محاذ کھولا ہے، اس کے باوجود بھی شریعت سے ناآشناداعشیوں نے خودساختہ دلائل کی بناء پران سے جنگ و قتال کو مشروع قرار دیا اور فتنہ و فساد کا ایسا دروازہ کھولا ہے کہ اس کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کی شبیہ خراب ہورہی ہے ۔

       اس کے برعکس جب ہم یزیدیوں کے افکار و خیالات اور عقائد و تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مجوسیوں سے قریب تر معلوم ہوتے ہیں اور مجوس کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان انتہائی مشہور ہے کہ ان کے ساتھ اہل کتاب کا معاملہ کیا جائے گا۔(موطا امام مالک؍617، مسند شافعی؍1008، اسے شیخ البانی نے ضعیف قرار دیا ہے مگر ان کے علاوہ دوسرے بہت سارے علماء کرام نے اسے حسن قرار دیا ہے۔)

       یہی نہیں، امویوں نے تو ہندؤوں ، بدھ مذہب کے پیروکاروں اور ان کی طرح دوسرے مذہب کے ماننے والوں کو بھی اہل ذمہ مانا ہے،جیساکہ امام قرطبی نے اپنی تفسیر ’’الجامع لأحکام القرآن‘‘(8؍110) میں نقل کیا ہے۔

       امام اوزاعی نے کہا ہے کہ ہر بت پرست، آگ کے پجاری، اللہ کے منکر اور اس کی تکذیب کرنے والے انسان سے جزیہ لیا جائے گا۔امام مالک رحمہ اللہ کا بھی یہی موقف تھا۔ان کے مطابق مرتد کو چھوڑکر ہر مشرک اور اللہ کے منکر سے چاہے وہ عربی ہو یا عجمی جزیہ وصول کیا جائے گا۔

       جبکہ داعش یزیدیوں سے جزیہ نہیں لیتے بلکہ انہیں دو چیزوں میں سے ایک کو اختیار کرنے کا پابند بناتے ہیں کہ یا تو وہ زبردستی اسلام میں داخل ہوجائیں یا پھر اپنی جان دے دیں جوکہ علماء کے دیئے گئے فتاوی کے برعکس ہے۔

8- اسلام میں رق(غلامی) اور عتق(غلام کو آزاد)کرنے کا مسئلہ:

       داعش کے فتنوں میں ایک بڑا فتنہ یہ ہے کہ وہ غلامی کے رواج کو پھر سے زندہ کرنے پر بضد ہیں،اس سلسلے میں وہ لوگ گرفتار غیرمسلموں اور ان کی خواتین کو غلام بناتے ہیں اور مذہب اسلام کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں جبکہ اگر ہم غلامی کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی دیرینہ خواہش تھی کہ آہستہ آہستہ رق اور غلامی کا دروازہ بند کردیا جائے۔یہی وجہ ہے کہ فقہاء کرام نے فقہ کی کتابوں میں’’کتاب العتق‘‘تو ذکر کیا ہے اور اس میں غلاموں کو آزاد کرنے کے فضائل و مسائل بیان کئے ہیں مگر کسی فقیہ نے ’’کتاب الرق‘‘ نہیں ذکر کیا ہے۔

       اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جابجا غلام آزاد کرنے کو باعث اجرو ثواب قرار دیا ہے۔چنانچہ فرمایا:’’ماأدراک ماالعقبۃ ،فک رقبۃ،أو اطعام فی یوم ذی مسغبۃ‘‘ (سورۃ البلد؍12-14)یعنی اور کیاسمجھا کہ گھاٹی ہے کیا؟ کسی گردن (غلام لونڈی) کو آزاد کرنا، یا بھوک والے دن کھانا کھلانا۔

       نیز فرمایا:’’۔۔۔۔۔۔۔۔فتحریر رقبۃ من قبل أن یتماسا۔۔۔۔۔۔‘‘ (سورۃ المجادلۃ؍3) یعنی تو ان کے ذمہ آپس میں ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا ہے۔

       قرآن مجید میں اس طرح کی بے شمار آیتیں موجود ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے ’’البدایۃ والنھایۃ‘‘(5؍284)میں کہا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی ہی میں اپنے سبھی غلاموں اور لونڈیوں کو آزاد کردیا اور ان میں سے کسی غلام یا لونڈی کو اپنے ورثاء کے لئے نہیں چھوڑا۔۔۔۔‘‘۔

       علاوہ ازیں ، ایک صدی سے زائد عرصہ سے پوری دنیا کا غلامی کے نظام کے خاتمہ پر اجماع اور اتفاق ہے۔علامہ حجوی ثعالبی نے ’’الفکر السامی فی تاریخ الفقہ الاسلامی‘‘(2؍419) میں لکھا ہے کہ شریعت اسلامیہ ہر امت اور ہر زمانے کے لئے عام اورموزوں ہے۔لہذا، عمومی مصالح کی رعایت ، بیضہ کی حفاظت اور معاشرتی نظام کی ترقی کے لئے اس کے دنیوی احکام کا زمانے سے آہنگ ہونا ضروری ہے ۔اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو پھر ہم شریعت پر ناقابل معافی جرم کرنے والے ہوں گے،جیساکہ غلامی کا مسئلہ ہی لے لیں کہ ابتداء اسلام میں قیدیوں کو غلام بنانا مباح عمل تھا۔اسلام غیروں کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا تھا جیساکہ غیرلوگ اسلام کے ساتھ برتاؤ کیا کرتے تھے، مگر آج کے زمانے میں مصلحت کے پیش نظر اس عمل سے باز رہنا واجب ہے۔اس تعلق سے بعض علماء کا تعصب کوئی معنیٰ نہیں رکھتا،اس وجہ سے غلامی کا خاتمہ اسلام کے پانچ بنیادوں میں سے کسی بنیاد میں کوتاہی نہیں ہے۔۔۔۔‘‘۔

       اس کے برعکس داعش غیرمحارب مشرکوں کو بھی غلام بناکر فتنہ و فساد کو ہوا دے رہے ہیں اور ان کے ساتھ ایسے ظالمانہ اور جابرانہ سلوک روا رکھتے ہیں جو کہ اسلامی اخلاقیات و آداب کے سخت مخالف ہے ۔عبدالعزیز داویش نے اپنی کتاب’’الاسلام دین الفطرۃ‘‘(ص؍79)میں لکھا ہے کہ اسلام کسی مسلم شخص کو غلام بنانے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا ہے بلکہ وہ شرعی جنگ کے قیدیوں کو غلام بنانے کی اجازت دیتا ہے، ایسی جنگ جو اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے لڑی گئی ہو اور وہ جنگ مشرکوں کے ظلم و ستم کی وجہ سے لڑی گئی ہو۔ان کے سوا، غیرمحاربین کو غلام بنانا جائز نہیں ہے۔یہی امام احمد، امام مالک اور امام شافعی رحمہم اللہ کا موقف ہے۔

       شیخ البانی رحمہ اللہ کے بقول: رق اور غلامی مباح عمل ہے،یہ نہ تو واجبی عمل ہے اور نہ ہی استحبابی عمل ۔بنابریں کفار و مشرکین سے عہد و میثاق کے ذریعہ اسے ختم کیا جاسکتا ہے،جیساکہ موجودہ زمانے میں چل رہا ہے۔(داعش !العراق والشام فی میزان السنۃ والاسلام للشیخ علی بن حسن الحلبی الأثری ص؍144)

       مجلۃ الفقہ الاسلامی( 4؍289) میں مذکور ہے کہ غلامی کا باب بند ہوچکا ہے کیونکہ دنیاکے ملکوں اور انسانی سماج نے غلامی کے رواج کو بند کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔شارع کا یہی مقصود تھا اور قرآن و سنت میں بھی اسی امر کا اشارہ ملتا ہے۔چنانچہ ان احکامات کے بارے میں اشکال کرنا درست نہیں ہوگا جوکہ اپنے وجود کے زمانے میں مشروع تھے۔

9-مذہب اسلام کو اختیار کرنے پر لوگوں کو مجبور نہ کیا جائے:

       داعش کی اسلام مخالف حرکتوں میں سے ایک یہ  ہے کہ وہ غیر مسلموں کو اسلام کو اپنانے پر مجبور کرتے ہیں ،حالانکہ قرآن کریم اس سے صراحتاََ منع کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے:’’لااکراہ فی الدین‘‘ یعنی دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔

       یہ آیت کریمہ فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی ہے لہذا اس آیت کریمہ کے تعلق سے یہ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے۔چنانچہ غیرمسلموںکو اسلام کی دعوت دی جائے گی اور نہایت ہی حکمت و دانائی کے ساتھ ان کے سامنے اسلام کی خوبیاں بتائی جائیں گی۔اب انہیں ہدایت دینا نہ دینا اللہ کے ذمہ ہے،زور زبردستی کے ذریعہ کسی کو مذہب اسلام میں داخل کرنا درست عمل نہیں ہے۔

10- عورتوں کے ساتھ داعش کا سفاکانہ برتاؤ:

       مذہب اسلام نے عورتوں کو ایک بلند مقام عطاکیا ہے، جبکہ داعش اپنے کردار کے ذریعہ دنیا کے سامنے مذہب اسلام کی جگ ہنسائی کا سبب بنتے ہیں۔ایسے وقت میں جبکہ دنیابھر میں حقوق نسواں کے پرفریب نعرے لگتے ہیں اور نام نہاد جدت پسند حضرات مذہب اسلام پر جھوٹے الزام عائد کرتے ہیں کہ مذہب اسلام نے عورتوں پر ظلم کیا ہے اوراس نے انہیں کامل حقوق عطانہیں کیا ہے، داعش عورتوں کو گھروں میں قید رکھتے ہیں اور انہیں تعلیم جیسی فضیلت یافتہ نعمت کے حصول کے لئے بھی گھروں سے نکلنے کی اجازت فراہم نہیں کرتے ہیں جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’’علم کا سیکھنا ہر مسلمان مرد پر ضروری ہے‘‘(سنن ابن ماجہ؍224) یہ نص عام ہے جوعورتوں کو بھی شامل ہے۔

       اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جو سب سے پہلی وحی اتاری تھی ، اس میں بھی امر کے صیغہ ’’اقرأ‘‘ کے ذریعہ تعلیم کے حصول پر ابھاراجو کہ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی شامل ہے۔

       اس کے علاوہ داعش کئی طرح سے عورتوں پر بربریت اور درندگی کرتے ہیں، یہ لوگ عورتوں کو اپنے جنگجؤوں سے شادی کرنے پر مجبور کرتے ہیں،  وقتی نکاح کو جائز سمجھتے ہیں اور حدتک تو یہ ہے کہ یہ کم عقل اور اوباش لوگ خواتین کو بازاروں میںبیچتے بھی ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اور پیارے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان میں عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت فرمائی ہے۔

11- شرعی حدوں کے نفاذ کی شرطیں:

       شرعی حدوں کا نفاذ ضروری عمل ہے، لیکن ان حدود کے نفاذ کی کچھ شرطیں ہیں جنہیں ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔شرعی حدوں کے نفاذ کے تعلق سے ضروری ہے کہ اس کو نافذ کرنے سے پہلے ان سے معاشرے کے سبھی افراد کو آگاہ کردیا جائے ، انہیں اس کے بارے میں بتادیا جائے اور انہیں ڈرا دیا جائے۔یہ شرعی حدود کے نفاذ کی شرطیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کمزوری کی حالت میں یا جہالت کی صورت میں یا پھر ظلماََ انہیں نافذ نہیں کیاجائے گا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بعض صورتوں میں حدوں کو نافذ نہیں کیا ہے ۔اسی طرح سے کسی طرح سے بھی شک و شبہ پائے جانے کی صورت میں شرعی حدود کو نافذ نہیں کیاجائے گا۔امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ شک و شبہ پائے جانے کی صورت میں حدود کو نافذ کرنے سے چھوڑدینا ،میرے نزدیک اس صورت میں انہیں نافذ کرنے سے بہتر ہے۔(مصنف ابن ابی شیبہ؍28493)

       شرعی حدوں کا مسئلہ شریعت کے انتہائی پیچیدہ مسائل میں سے ہے۔اس کا نفاذ اس قدر آسان نہیں ہے جتناکہ داعش اور اس کی ہم مشرب اور ہم خیال دہشت گرد تنظیمیں سمجھا کرتی ہیں۔محتاج ،فاقہ کش، فقیر ، قلاش اور گداگرپر کوئی حد نہیں ہے۔متعین مقدار سے کم چوری کرنے پر انسان کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا جبکہ داعش کے لوگ شرعی حدود کے بارے میں اسلامی تعلیمات کی باریکیوں کو سمجھے بغیر ہر طرح کی لغزشوں پر شرعی حدوں کو نافذ کرتے ہیں جوکہ انتہائی غلط اور شرعی حدود کی روح اور اسپرٹ کے یکسر مخالف ہے۔

       اسی طرح جب امام، امیرالمومنین یا حاکم وقت کے پاس ایسا کوئی معاملہ پہونچ جائے جس میں شرعی حد واجب ہو تو امام اور حاکم پر حد کو نافذ کرنا ضروری ہے، لیکن امام یا حاکم کے پاس معاملہ کے پہنچنے سے پہلے لوگ چاہیں تو اس پر پردہ ڈال سکتے ہیں ۔عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’تم لوگ حد کے معاملات اپنے درمیان ہی ختم کرلیا کرو، اس وجہ سے کہ حدکے جو معاملے مجھ تک پہونچ جائیں گے،ان کا نفاذ میرے حق میں ضروری ہوجائے گا‘‘۔(سنن ابوداود؍4376، نسائی:کبری؍7531، صغری؍4929،مستدرک حاکم؍8156، سنن دارقطنی؍3196، سنن بیہقی8؍575،شیخ البانی نے اسے الجامع الصغیر؍2954میں حسن قرار دیا ہے۔)

       یہی نہیں ، بعض حدیثوں سے یہ بھی مفہوم نکلتا ہے کہ کسی ایسی غلطی کے ارتکاب کے بعد جس میں حدواجب ہو، کوئی انسان صدق دل سے توبہ کرلیتا ہے تو ایسی صورت میں اس سے حد ساقط کردیا جائے گا،جیساکہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے ’’سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ‘‘(2؍569) میں ابن قیم جوزیہ رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔

       داعش شرعی حدود کے نفاذ پر ایسی وحشیت و درندگی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ! ،یہ لوگوں کو زندہ دفن کر دیتے ہیں، چاقو سے گردن کاٹ دیتے ہیں، اپنے مخالفین کو اجتماعی پھانسی دیتے ہیں، انسانوں کو ایک دوسرے کے سامنے قتل کرتے ہیں اور قتل کرنے والے انسان کا مذاق بھی اڑاتے ہیں،اس سے کہتے ہیں کہ دیکھو ہم تمہیں کس طرح سے بھیڑ بکریوں کی طرح مارتے ہیں وغیرہ وغیرہ، حالانکہ ان سبھی باتوں سے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرمایا ہے۔مشہور حدیث ہے کہ ایک شخص بکری کی گردن پر پاؤں رکھ کر چاقو تیز کررہا تھا جسے بکری دیکھ رہی تھی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر اس سے مخاطب ہوکر کہا:’’کیا تم اس کو کئی بار مارنا چاہتے ہو،تم نے اس کو لِٹانے سے پہلے ہی چاقو کیوں نہیں تیز کرلیا‘‘۔(مستدرک حاکم؍7570، مصنف عبدالرزق؍8608، سنن بیہقی؍1941، شیخ البانی نے ’’الصحیحۃ‘‘؍24میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔)

       اس حدیث کو پڑھئے اور سوچئے کہ ایک بکری چاقو دیکھ رہی تھی ، اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کرنے والے کو ٹوکا اور اسے منع کیا کہ ایسا درست نہیں ہے۔اب اگر کوئی شخص انسانوں کو ایک دوسرے کے سامنے مارتا اور قتل کرتا ہے تو اسے بھلاکیوں کر درست کہا جاسکتا ہے۔

       اس کے علاوہ یہ شرپسند لوگ انسانی لاشوں کا مثلہ بھی کیا کرتے ہیں۔مردوں کا سر اس کے تن سے جدا کرتے ہیں اور اپنے ان سبھی مجرمانہ کاموں کا ویڈیوبناکر رابطہ عامہ کی ویب سائٹس پر ڈال کر دنیا والوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں اور اپنی عاقبت خراب کرتے ہیں۔

12- پختہ قبروں اور اس پر تعمیر شدہ مزاروں اور قبوں کو توڑنا:

       بلاشبہ شریعت اسلامیہ نے قبروں کو پختہ بنانے اور اس پر مسجد تعمیر کرنے بلکہ انہیں زمین سے بلند کرنے سے روکا ہے۔ایسی قبروں کو مسمار کرنا اور اس سلسلے میں پہل کرناضروری ہے کیونکہ یہ اسلامی اصولوں اور تعلیمات کے خلاف بنائی گئی ہیں اور لوگوں کے لئے فتنہ کا سامان بھی ہیں، نیز یہ انسانی معاشرہ کے لئے مسجد ضرار سے بھی زیادہ نقصان دہ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند قبروں کو مسمار کرنے کا حکم دیا تھا۔صحیح مسلم؍696میں مروی ہے کہ علی رضی اللہ علیہ وسلم نے ابوہیاج اسدی سے کہا: کیا میں تم کو ایک ایسی مہم پر نہ بھیجوں جس مہم پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا کہ تم جتنی بھی اونچی قبروں کو دیکھو،انہیں زمین کے برابر کرڈالو۔

       البتہ ایسی چیزوں میں انسان کو انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہئے۔اس وجہ سے کہ حکمت و دانائی اور شرعی ضابطوں کو بالائے طاق رکھ کر ایسی قبروں کو ہاتھ لگانا جائز نہیں ہے، خصوصا ایسی جگہوں پر جہاں فتنہ و فساد کا اندیشہ ہو یا موجودہ برائی سے بڑی برائی کے جنم لینے کا خدشہ دامن گیر ہو۔آج کے دور میں ایسی چیزوں کو توڑنا ہرگز درست نہیں ہے بلکہ ہمیں چاہئے کہ ہم اس سلسلے میں اسلامی تعلیمات کو لوگوں کے سامنے بیان کریں ۔جب لوگوں کو اس سلسلے میں آگاہی ہوگی تو وہ لوگ خود ان چیزوں سے دور ہوں گے اور پھر ہمارا کام آسان ہوجائے گا اور ہم فتنہ و فساد سے بھی بچے رہیں گے۔

13-مسلم حکمرانوں کی اطاعت:

       شریعت اسلامیہ نے ہر مسلمان پر مسلم حکمرانوں کی اطاعت کو واجب قرار دیا ہے اور ان کے خلاف بغاوت کو حرام قرار دیا ہے، الایہ کہ وہ ایسے ظاہری کفریہ کاموں کا ارتکاب کریں جن کے بارے میں علماء کا اتفاق ہوکہ ان کی وجہ سے انسان دائرۂ اسلام سے نکل جاتا ہے یا وہ حاکم نماز وغیرہ قائم کرنے سے انکار کردے وغیرہ۔ اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے:’’یاأیھا الذین آمنوا أطیعوا اللہ وأطیعواالرسول وأولی الأمر منکم۔۔۔۔۔۔(سورۃ النساء؍59)۔‘‘ یعنی اے مومنو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اور حکمرانوں کی اطاعت کرے۔۔۔۔۔

       نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم لوگ سمع و طاعت کو لازم پکڑو،گرچہ کوئی حبشی ہی تمہارا حاکم بنا دیاجائے جس کا سر منقیٰ کی مانند ہو‘‘۔(صحیح بخاری؍693)

       نیز فرمایا:’’بہتر امراء وہ ہیںجو تمہیں پسند ہوں اور تم لوگ انہیں پسند ہو، تم ان کے لئے دعائیں کرو اور وہ تمہارے لئے کریں اور برے امراء وہ ہیں جن سے تم لوگ بغض رکھواور جو تم لوگوں سے بغض رکھے اور جو تم پر لعنت بھیجیں اور جن پر تم لوگ لعنت بھیجو‘‘۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا:جب ایسی صورت حال پیدا ہو تو کیا ہم تلوار سے ان کا مقابلہ کریں؟آپ نے فرمایا:’’نہیں، جب تک وہ نماز قائم کریں، جب تمہیںاپنے حکمرانوں کی بات پسند نہ آئے تو تم لوگ اس کے عمل سے نفرت کرو، البتہ اس کی فرماں برداری سے دست کش نہ ہو‘‘۔(صحیح مسلم؍1855)

       سابقہ سطور میں یہ بات ذکر کی گئی کہ تکفیر کا باب نہایت ہی سنگین ہے۔کسی بھی مسلمان کوقیودوضوابط کی رعایت کے بغیر کافر قرار دینا سنگین جرم ہے،لیکن یہ جرم اس وقت مزید سنگین ہوجاتا ہے جب کوئی کسی مسلم حکمراں کی تکفیر کرتا ہے۔کسی نے ایک مسلمان حکمراں کی تکفیر کی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کے خلاف بغاوت کرنا جائز ہے جس کے نتیجے میں جنگ و جدال ،قتل و غارت گری اور بدامنی وغیرہ کا خدشہ ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عمومی حالتوں میں ان کے خلاف تلوار اٹھانے سے منع کیا ہے اور فرمایا ہے:’’۔۔۔۔۔۔الایہ کہ تم ان سے ظاہری کفر دیکھو، جس پر تمہارے پاس رب کی طرف سے کوئی دلیل موجود ہو‘‘۔

       اس حدیث پر غورکرنے سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ محض افواہ یا بدگمانی کی بنیاد پر کسی مسلم امیر کا تختہ پلٹنا یا اس کے خلاف بغاوت کا علم بلند کرنا درست نہیں ہے۔اسی طرح مسلم امیر کی فرماں برداری سے دست کشی کے لئے کفربواح یعنی ظاہری اور صریحی کفر کا ارتکاب ضروری ہے،صرف کسی امیر کے فسق و فجور کے کاموں مثلاََ شراب نوشی ، ظلم و زیادتی اور جوابازی وغیرہ سے مسلم امیر کی اطاعت سے برگشتہ نہیں ہوا جاسکتا ہے۔نیز اس کے کفریہ عمل ہونے پر قطعی ثبوت اور ظاہری دلیل کا ہونا ضروری ہے، اگر کوئی دلیل ایسی ہے جس کی سند ضعیف ہو یا اس کا مفہوم واضح نہ ہو تو یہ پھر اس کے ذریعہ کسی امیر کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔نیز اس بارے میں کسی امام یاانسان کا قول معتبر نہیں ہوگابلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’عندکم فیہ من اللہ برھان‘‘ یعنی اس پر کتاب و سنت کا صریح اور واضح نص ہونا ضروری ہے۔

       امراء کے خلاف خروج کرنے اور ان کے خلاف بغاوت کرنے کی سنگینی کو بیان کرتے ہوئے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ’’مجموع الفتاوی5؍126‘‘ میں لکھا ہے کہ امراء اور حکمرانوں کے ظلم و ستم کو سہنا اور اس پر صبر کرنا اہل سنت والجماعت کی بنیادوں میں سے ہے۔نیز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مشہور حدیثوں میں اسی بات کا حکم دیا ہے۔چنانچہ ایک حدیث میں فرمایا:’’تم لوگ میرے بعد اپنی حق تلفی دیکھوگے، اس پر صبر سے کام لینا حتی کہ مجھ سے آملو‘‘(صحیح بخاری؍4330، صحیح مسلم؍2410) ۔ نیز فرمایا:’’جو اپنے امیر کے اندر کوئی ایسی چیز دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو اسے چاہئے کہ اس  پر وہ صبر سے کام لے ‘‘۔ (صحیح بخاری؍7054، صحیح مسلم؍8418)اس کے علاوہ اس مفہوم کی دوسری حدیثیں بھی مروی ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ تم حکمرانوں کے حقوق ادا کرو اور اپنے حقوق کے تعلق سے رب تعالیٰ سے دعا اور فریاد کرو۔(صحیح بخاری؍7052، صحیح مسلم؍4803)

       لہذا، کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی مسلم امیر کے خلاف بغاوت کرے یا اس کے خلاف کفر کا فتویٰ دے، جبکہ آج داعش کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تنظیم سبھی مسلم حکمرانوں کی تکفیر ہی نہیں کرتی بلکہ ان کے خلاف بغاوت کو فرض عین سمجھتی ہے اور انہیں کفارومشرکین سے بدتر مانتی ہے۔یہ داعش کی شریعت اسلامیہ اور اس کے روشن تعلیمات سے جہالت کا نتیجہ ہے کہ وہ اس طرح کی سنگین گمراہیوں کا شکار ہوتے ہیں۔انہوں نے وسطیت اور اعتدال پسندی جیسی اسلامی اسپرٹ کو چھوڑکر تشدد اور غلوآمیزی جیسی غیراسلامی چیزوں پر اپنی فکر کا شامیانہ تانا ہے اور پھر اس کا خمیازہ ہمارے سامنے ہے ۔یہ لوگ اگر علمائے اسلام کی تحریروں کو پڑھیں تو انہیں معلوم ہوکہ حکمرانوں کے خلاف اقدام انتہائی قدم ہے اور اگر فتنہ و فساد کا اندیشہ ہو تو پھر امراء و حکام کے خلاف خروج اور بغاوت کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے کیونکہ شریعت کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ ایک شر کو اس سے بڑے شر سے ختم کرنا درست نہیں ہے۔

14- اسلامی خلافت اور داعش :

       اسلامی خلافت کااس کے صحیح مفہوم میں قیام امت کے ہرفرد پر ضروری ہے۔1924ء میں عثمانی خلافت کے سقوط کے بعد سے دنیا میںاسلامی خلافت کا وجود باقی نہ رہا۔البتہ معتبر شرعی خلافت کے قیام کے لئے عام مسلمانوں کا اجماع ضروری ہے، صرف کسی خاص علاقہ اور خطہ میں وہاں کے لوگوں کے باہم اتفاق کرلینے سے خلافت نہیں قائم ہوجاتی ہے۔خلیفۂ ثانی امیر المومنین عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے:’’جو کوئی شخص مسلمانوں کے مشورے کے بغیر کسی شخص سے بیعت کرلیتا ہے تو نہ ہی ایسے شخص سے بیعت کی جائے گی اور نہ ہی بیعت کرنے والے کی بات مانی جائے گی، اس ڈرسے کہ کہیں انہیں قتل نہ کردیا جائے‘‘۔(صحیح بخاری؍6830)

       عبدالرزاق نے مصنف؍9759میںاور خلال نے ’’السنۃ؍106‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:جو شخص مسلمانوں کے مشورے کے بغیر لوگوں کو اپنی امارت یا دوسرے کسی کی امارت کی طرف بلائے تو تمہارے لئے یہ جائز نہیں ہے ،الایہ کہ تم لوگ اسے قتل کردو۔

       قاضی ابویعلیٰ نے ’’الأحکام السلطانیۃ ؍22‘‘ میں لکھا ہے کہ جمہور اہل حل و عقد کے اتفاق کے بغیر امامت منعقد نہیں ہوسکتی۔امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اسحق بن ابراہیم کی روایت میں کہا ہے کہ امام وہ ہوگا جس کے تعلق سے اہل حل و عقد کی رائے متحد ہوجائے اور سبھی کہیں کہ یہی امام ہے۔

       اب ان اقوال کی روشنی میں داعش کی خلافت کو پرکھتے ہیں تو پہلی نظر میں یہ بات مترشح ہوجاتی ہے کہ داعش کی خلافت خودساختہ اور غیراسلامی ہے۔ اس وجہ سے کہ نہ تو اس خلافت پر مسلمانوں کا اجماع ہے اور نہ ہی صحیح بنیادوں پر قائم ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اجماع کے بغیر خلافت کا اعلان کرنا فتنہ کا سبب ہے کیونکہ جو مسلمان ایسی خلافت کو نہیں تسلیم کرتے وہ خلافت کے احکام سے خارج قرار پاتے ہیں۔نیز اس صورت میں ایک وقت میںکئی کئی خلافتیں قائم ہوتی نظر آتی ہیں جیسے داعش کی خلافت الگ ہوگئی، طالبان کی خلافت الگ اور پھر بوکو حرام کی خلافت الگ، اب ایسی صورت میں انسان کونسی خلافت مانے اور کس خلافت کو غیراسلامی قرار دے کیونکہ ایک وقت میں ایک ہی خلافت اسلامی ہوسکتی ہے۔ہر ہر خطہ کے لئے الگ الگ اسلامی خلافتیں نہیں قائم ہوسکتی ہیں، کیونکہ یہ فتنے کا سامان اور فساد کا ذریعہ ہیں۔

       داعش کی خلافت کا فتنہ موصل میں جنم لیا۔انہوں نے اس نام نہاد خلافت پر بیعت نہ کرنے والے موصل کی مسجدوں کے ائمہ اور خطباء کے ساتھ حددرجہ حیوانیت و درندگی کا مظاہرہ کیا، ان میں سے اکثر کو موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ ابوبکر بغدادی نے اپنے خطبہ میں خلیفہ اول ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خطبہ کا ایک جملہ ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے تمہارا امیر بنادیا گیا ہے، مگر میں تم لوگوں سے بہتر نہیں ہوں۔

       کیا داعش یہ بتانے کی زحمت کرے گی کہ کس نے ابوبکر بغدادی کو امت کا امیر اور حاکم بنایا تھا۔کیا صرف داعش کے کم عقلوں اور جاہلوں نے ہی اس شخص کو امت کا امیر بنادیا ہے۔ایسی صورت میں خلافت ایک تماشہ بن کر رہ جائے گا، دنیا کے کسی بھی خطہ میں لوگ دس ہزار لوگوں کی تعداد جمع کرکے اپنا امیر چن لیں گے اور کہیں گے کہ یہی ہمارا امیر ہے اور ہم اپنے وطن اور ملک کے حکمراں کو اپنا امیر نہیں مانتے کیونکہ وہ فلاں فلاں وجوہات کی بناء پر کافر ہے۔ اب اگر ایسے دس ہزار لوگ کسی کو مل کر اپنا امیر بنالیں تو یا تو وہ سبھی مسلمانوں کو کافر کہیں گے ، اس وجہ سے کہ سبھی مسلمان ان کی خودساختہ خلافت کے پابند نہیں یا پھر انہیں مسلمان مانیں گے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر انہیں مسلمان مانتے ہو تو پھر ان سے خلافت کے لئے رائے کیوں نہیں لی اور ان سے مشورہ طلب کیوں نہیں کیا؟؟؟؟

       یہ داعش کے چند کالے کرتوت۔آپ نے دیکھا کہ وہ کس طرح سے اسلامی تعلیمات کی دھجیاں اڑاتے ہیں اور پھر بھی اپنا رشتہ اسلام سے جوڑتے ہیں۔بلکہ حدتو یہ ہے کہ یہ لوگ اپنا رشتہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب رحمہما اللہ سے جوڑتے ہیں۔حالانکہ یہ دونوں علمائے کرام داعش کی بے ہودگیوں سے پاک ہیں اور ان کی تحریروں میں کہیں بھی تشددپسندی کا شائبہ نہیں ہے بلکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی نہایت ہی حکمت ودانائی سے اعلاء کلمۃ اللہ کی کوششیں کیں ۔لہذا، داعش کا سلفی منہج سے اپنا رشتہ جوڑنے کی بات ہو یا اسلاف کرام میں سے کسی دوسرے سلف صالح سے ایک گھناؤنی سازش کا حصہ ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close