معاشرہ اور ثقافتنقطہ نظر

داغ اچھے ہیں: سرف ایکسیل 

کپڑوں پر لگے ہوئے داغ تو سرف ایکسیل سے نکل جائیں گےلیکن ذہنوں پر لگے داغوں کا کیا؟

سہیل ذکی الدین

(اسٹنٹ پروفیسر، مراٹھواڑہ کالج آف ایجوکیشن، اورنگ آباد)

گزشتہ دو دنوں سے سوشل میڈیا پر سرف ایکسیل کا نیا اشتہار مسلسل چل رہا ہے۔ اس اشتہار پر کئیں دانشور اپنی مثبت اور منفی رائے پیش کررہے ہیں۔  کٹر پنتی سوچ رکھنے والے، سیاسی لالچ رکھنے والے اور ہر چیز میں اپنا فائدہ ڈھونڈنے والے لوگ اس اشتہار سے فائدہ چاہ رہے ہیں۔  سرف ایکسیل یہ نام کسی کے لئے نیا نہیں ہے۔ یہ ہمارے ملک میں فروخت ہونے والے ڈیٹرجنٹ پاؤڈرس میں سے ایک مشہور و معروف ڈٹرجنٹ پاؤڈر ہے۔  کوئی بھیFast Moving Consumer Goods (FMCG) پروڈکٹ کمپنی اپنے پروڈکٹ کومارکیٹ میں بیچنے کے لئے کمر شیل اشتہارات ہی کا سہارا لیتی ہے۔ ٹی وی ایک ایسا ذریعہ جس سے کروڑوں لوگ کے گھروں میں بآسانی پہنچا جا سکتا ہے۔  ہر کمپنی اپنے پروڈکٹ کو مقبول کر تی آئی ہے۔  اشتہارات بنانے والی ایک ٹیم ہوتی ہے۔  آدھا یا ایک منٹ میں ساری بات ناظرین کے سامنے رکھنے کا اس ٹیم کے سامنے چیلنج ہوتا ہے۔  کرویٹیو ڈائریکٹر، اسکرپٹ رائٹر، ایکٹر، پروڈیوسر، آرٹ ڈائریکٹر سے لیکر اسپاٹ باؤے تک کے لوگ اس میں شامل ہوتے ہیں۔

کسی بھی پروڈکٹ کا پروڈکشن، اویلیبیٹی، فنکشن، فائدہ اور کاسٹ اس اشتہار میں بتایا جاتا ہے اور لوگوں کو اس پروڈکٹ کو خریدنے کے لئے مجبور کیا جارتا ہے یا منایا جاتا ہے۔  سرف ایکسیل کے سالوں سے اشتہارہی کے ذریعے گھر گھر میں پہنچ چکا ہے۔ اس اشتہار میں کبھی بچے اپنے کپڑے کھیل کود میں خراب کر لیتے ہیں تو کبھی دوسروں کی مدت کرنے میں۔  کبھی اپنے دادا کے جوتوں پر پالش کرنے میں کبھی پالتو جانور کے ساتھ کھیلنے میں۔  کبھی اپنی دادی کے ساتھ سبزی منڈی میں کریدی کرتے ہوئے کبھی اپنے کھیل کے کوچ کو گراؤنڈ پر مناتے ہوئے۔  اس کمپنی کے اشتہار کے ذریعے ہمیشہ یہ بتایا کی کیا گایا ہے کے کچھ اچھا کرنے میں اگر داغ لگے تو داغ اچھے ہیں۔

 حال ہی میں سرف ایکسیل نے اپنا ایک نیا کمرشیل اشتہار ریلیز کیا ہے۔  اس اشتہار میں چند معصوم بچوں کو فلمایا گیا ہے۔  اشتہارا کا سیٹ اس انداز میں بنایا گیا ہے کہ اس سے صاف اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ قصہ ہولی کے دن کا ہے۔ ایک ننھی سی سائیکل پر گلی سے گزرتی ہوئے دیکھائی گئی ہےء۔ کوئی اپنی چھت پر، کوئی کھڑکی میں تو کوئی گیلری میں راستے سے آنے جانے والوں پر رنگ ڈالنے کی تیاری میں دکھائے گئے۔ پچکاری، غبارے، پانی اور رنگ لے کر بچے اس تیوہار کو منانے کی پوری تیاری میں نظر آتے ہیں۔  ایک معصوم بچی ان لڑکوں کو خود پر رنگ ڈالنے کی دعوت دیتی ہے۔  سبھی جانب سے اس لڑکی پر رنگوں کی برسات سی ہوتی ہے۔ تمام بچے ہولی کا مزہ لیکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔  وہ ننھی سی بچی ہر ایک کو بار بار رنگ پھینکنے کئی دعوت دیتی ہے۔  آخر کار سب کے پاس کا رنگ ختم ہوجاتا ہے۔  پھر وہ اپنے ننھے سے دوست کو آواز دیتی ہے۔  اس کا دوست پہناوے سے مسلمان نظر آتا ہے۔  سفید کرتا پاجامہ اور سر پر نماز کی ٹوپی پہنا ہوا وہ لڑکی اپنے گھر سے باہر آتا ہے۔  وہ معصوم بچی اس لڑکے کو سائیکل پر بٹھا کر مسجد تک چھوڑ دیتی ہے۔  راستے میں ان ہی کا ایک دوست ان پر رنگ ڈالنے کی کوشش کرت اہے لیکن وہ معصوم بچی اس رنگ نہ ڈالنے کا اشارہ کر تی ہے۔

 اشتہار کا آخری حصہ مسجد کی سیڑھیوں پر فلمایا گیا ہے۔ لڑکا مسکراتے ہوئے نماز ادا کرنے کے لئے جاتا ہے اور وہ بچی اس سے بعد نماز رنگ کھیلنے کی دعوت دیتی ہے۔ بچہ میٹھی سے مسکراہٹ دے کر نماز ادا کرنے چلا جاتا ہے۔  ایک منٹ کا یہ کمر شیل اشتہار، زعفرانی سوچ رکھنے والے لوگوں کو ہضم نہیں ہوا۔  انہوں نے اس میں ’ لو جہاد ‘ کو ڈھونڈ نکالا۔  معسوم بچوں کی عمر کا بھی انہیں لحاظ نہیں رہا اور سوشیل میڈیا پر انہوں نے ا س اشتہار کے خلاف پُر ور مذمت کی۔  یہاں تک کے چند ہنو سنگھٹناؤں نے اس کمپنی کو بھی بائیکاٹ کرنا چاہئے ایسا نعرہ لگادیا۔  یہ ہمارے ملک کی فضاؤں کو کیا ہو گیا ہے ؟ ہم اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو بھول بیٹھے ہیں۔  کثرت میں وحدت Unity in diversity یہ لفظ اب کتابوں تک ہی محدود تہ نہیں رہ گئے ہیں نہ ؟

ہر مذہب نے یہی سکھایا ہے کہ خود کے مذہب کے ساتھ دوسروں کے مذہب کا بھی احترام کرو۔  خود کی عبادت گاہوں کے ساتھ ساتھ دوسروں کی عبادت گاہوں کی بھی عزت کرو۔  چھوٹوں سے شفقت، بڑوں سے پیار، آپس میں مروت، بھائی چارہ یہ تمام چیزیں ہم اخلاقیات میں بچوں کو سکھاتے ہیں۔  ہمار ے ملک کی تاریخ رہی ہے کہ یہاں ہندو اور مسلمانوں کی مثالی دوستی دیکھنے کو ملی ہے۔  مختلف مذاہب کو ماننے والوں کا ایک دوسرے کے ساتھ رویہ یہاں قابل ستائش رہا ہے۔  ایک دوسرے کے غم میں برابر کے شریک رہتے ہیں۔  سرف ایکسیل کا اشتہار اس وقت در اصل الیکشن کے ماحول کا شکار ہوگیا ہے۔ الیکشن کا ماحول جیسے جیسے بن رہا ہے ویسے ویسے لوگوں کے ذہنوں پر مذہب غالب ہوتا نظر آرہا ہے۔

 سرف ایکسیل کا اشتہار پر تنقید کرنے والے شدت پسند لوگ اپنی آں کھوں پر مذہب کا چشمہ لگا کر یہ اشتہار دیکھ رہے ہیں۔  انہوں نے نہ تو کمسن بچون کی عمر کا لحاظ رکھا، نہ ان کی معصومیت کا اور ان کے بچپن کا۔  ہر طرح سے یہ لوگ سمجھ میں دو مذہبوں کے بیچ تفریق پیدا کرکے اپنی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔  مذہب، ذات اور برادری کے نام پر ووٹ حاصل کرتے ہیں اور اقتدار کا مزہ لوٹتے ہیں۔  اس طرحح کی سوچ رکھنے والوں نے نہ صرف سماج میں بٹواڑہ پیدا کیا ہے بلکہ انہوں نے جانوروں تک میں بھی مذہبی بنیاد پر تفریقہ ڈال دیا ہے۔  ان کی باتوں سے کب گائے ہندو ہوگئی اور بکرا مسلمان ہوگیا یہ ہمیں پتہ ہی نہیں چلا۔  دھرم اور مذہب کے نام پر ایسے لوگ اپنی سیاسی دکانیں کئیں سالوں سے چلاتے آرہے ہیں۔  یہ لوگ امن پسند نہیں رہتے۔  یہ لوگ اپنی منزل پانے کیلئے کسی کی بھی قربانی دے سکتے ہیں۔  اب تو بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ کپڑوں پر لگے ہوئے داغ تو سرف ایکسیل سے نکل جائیں گےلیکن ذہنوں پر لگے داغوں کا کیا؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

متعلقہ

Back to top button
Close