نقطہ نظر

دروپدی کا درد

مہابھارت کے ایک لویہ کا انگوٹھا کاٹ کر اس سے گرو دکشنا وصول کی جارہی ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

تریپورہ کے نئے نویلے وزیراعلیٰ بپلب کمار دیب نے اگرتلہ کے علاقائی کمپیوٹر ورکشاپ میں انکشاف کیا کہ  ’’یہ دیش وہ دیش ہے،  جس میں مہابھارت میں بیٹھ کر سنجئے نے  دھرتراشٹر کو یدھ(جنگ) میں کیا ہورہا تھا بول رہا تھا۔ اس کا مطلب،  ٹکنالوجی تھا، انٹر نیٹ تھا،  سیٹیلائیٹ تھا‘‘۔ بپلب داس چونکہ ست بنگالی مہاجر ہیں اس لیے مذکر و مونث کا فرق نہیں جانتے لیکن سچ تو یہ ہے کہ وہ نہ سائنس جانتے ہیں اور نہ انہیں تاریخ کا علم ہے۔ بلپ داس کے لیے یہ حماقتیں اس لیے قابلِ معاف ہیں کہ مودی جی بھی انڈین سائنس کانفرنس میں یہ انکشاف فرما چکے ہیں کہ گنیش کے گردن  پر ہاتھی کا سر قدیم ہندوستان کے اندر پلاسٹل سرجری کا ثبوت ہے۔ بھگوت گیتا میں کرن کا بغیر ماں کے پیدا ہوجانا بتاتا ہےظاہر کرتا ہے کہ اس دور میں ٹیسٹ ٹیوب بیبی کا چلن تھا نیز راون کے ہوائی جہازکا معترف سارا ہندوستان ہے۔ اس سیاسی لطائف  سے قطع نظر یہ ایک حقیقت ہے کہ رامائن اور مہابھارت جیسی  عظیم رزمیہ کہانیاں سیاستدانوں کے ذریعہ خواتین کے استحصال نیزسیاسی مقاصد کے حصول کی خاطر  خواتین  کے استحصال سے بھرے پڑے ہیں۔

رامائن میں پہلا ٹویسٹ اس وقت آتا ہے جب اپنے بیٹے  بھرت کو اقتدار پر بٹھانےکی خاطر اس کی ماں کیکئی رام کو بن باس پر روانہ کردیتی ہے۔ یہاں پر ایک خاتون سیاستداں نے  اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کی خاطراپنے سوتیلے کو بن باس پر بھجواتی ہے مگر اس کے ساتھ رام کی بیوی سیتا کو بھی آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے۔ جنگل میں لکشمن راون کی بہن سوروپ نکھا کی ناک کاٹ کر اس کی تذلیل کرتا ہے۔ اپنی بہن کا بدلہ لینے کی خاطر راون لکشمن کی بھابی سیتا کو اغواء کرلیتا ہے۔ کھٹوعہ کی آصفہ کا معاملہ ایسا ہی ہے۔ اس کے بکروال قبیلے کو  علاقہ سے نکالنے کے لیے اس اغواء کیا گیا۔بے قصور  سیتا کو اپنے شوہر رام کے ذریعہ ہمدردی کے بجائے اگنی پریشا سے گزرنا پڑتا  ہے۔ مندر کے اندر آصفہ کی عصمت دری کی جاتی ہے۔ پولس اس کو بچانے کے بجائے جرم میں شریک ہوجاتی ہے۔ رشوت لے کر شواہد کو مٹا ئے جاتے ہیں اور عدالت میں وکیل  مجرمین کو بچانے کے لیے ہنگامہ آرائی کرتے ہیں۔

اگنی پریکشا  میں کامیابی  کے باوجود عوام سیتا کے کردار پر شک کرتے ہیں اور ان  کی خوشنودی کے لیے  حاملہ  سیتا کو محل سے نکال کر ندی کنارے چھوڑ دیا جاتا ہے اور وہ بیچاری والمیکی کے آشرم میں اپنے جڑواں بیٹوں کو جنم دیتی ہے۔آصفہ کے معاملے عوام  مجرموں کو بچانے کی خاطر سڑکوں پر اترتے ہیں اور ان کے نمائندوں مجرموں کی پشت پناہی کرتے نظر آتے ہیں۔   مریادہ پرشوتم رام والمیکی کے آشرم سے اپنے بیٹوں کے ساتھ لوٹتے ہیں مگر اپنی دھرم پتنی سیتا کو ساتھ نہیں لاتے۔ رامائن کے اندر سیتا  کا سیاسی استحصال راون اور رام دونوں کے ہاتھوں ہوتا ہے۔ رام چندر جی کو ہندو سماج اپنے لیے نمونہ سمجھتا ہے ایسے میں اگر مریادہ پرشوتم رام اپنی دھرم پتنی کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں تو رام بھکت مودی  سے  کیا توقع کی جائے؟ آصفہ اور یشودھا بین کی صورت میں کل یگ کی رام لیلا جاری و ساری ہے۔

بھگوت گیتا کا میں سیاسی مقاصد  کے حصول کی خاطر عورت کے استحصال کی پر آشوب داستانِ الم  ہے۔ اول تو دروپدی کا پانچ بھائیوں میں تقسیم ہوجانا اور اس کے بعد جوئے میں اس کو لگا دینا عورت کی ایسی توہین ہے جس کی کوئی اور مثال نہیں ملتی۔  اپنے ہی خاندان کے چچا زاد بھائیوں  کو ذلیل کرنے کی خاطر بھرے دربار میں دروپدی کو بے لباس کرنے کی کوشش کرنا خواتین کا سیاسی استحصال نہیں تو کیا ہے۔ یہ کھیل اتر پردیش  میں آج بھی جاری ہے۔ سریندر سنگھ عرف پپو کا تعلق کلدیپ سنگھ سینگر کے قبیلے سے ہی ہے۔ اس نے پہلے تو سریندر سنگھ کی بیٹی کی آبرو ریزی کی۔ اس نے شکایت کی تو اجتماعی عصمت دری کروائی۔ وہ پولس کے پاس گئی تو جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ وہ اپنے ہی قبیلے کے وزیراعلیٰ یوگی کے دربار انصاف کی  میں گہار لگانے کے  لیے پہنچ گئی اس کے باوجود ظلم جاری رہا۔ بالآخر ان لوگوں نے عدالت سے رجوع کیا تو دباو حد سے سوا ہوگیا۔

 سریندر کی بیٹی نے  خوف و ہراس سے تنگ آکر وزیراعلیٰ کی کوٹھی کے سامنے خود سوزی کی کوشش کی لیکن یوگی جی کا ضمیر بیدار نہیں ہوا۔ پولس نے بیٹی کوتو مرنے سے روک دیا مگر اس کا انتقام  باپ  سے لیا۔ سریندر سنگھ کو سرِ عام کو زدوکوب کیا  گیا۔انتظامیہ  نے حملہ آوروں کو چھوڑ کر مظلوم کو حراست میں لے لیا جہاں اس بیچارے کی موت ہوگئی۔ بھائیوں کی آپسی جنگ اور اس میں ایک عورت کا استحصال مہابھارت کی دروپدی کا درد بیان کرتا ہے اور شہادت دیتا ہے کہ اس دھرتی پر ست یگ سے کل یگ تک خواتین پر ظلم و جبر ختم نہیں ہوا۔ درمیان میں جب مسلمانوں ، انگریزوں اور کانگریسیوں کی حکومت تھی تو اس میں قدرے کمی واقع ہوئی تھی لیکن بھگوا پرچم کے لہراتے ہی  پھر سے یہ بامِ عروج  کی جان رواں دواں ہے۔ابھی ۱۴ اپریل کو جبکہ ملک کے کونے کونے میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی جینتی منائی جارہی تھی وہیں راجستھا ن میں دو دلت بہنیں  آبرو ریزی کے بعد خودکشی پر مجبور ہوجاتی ہیں۔  ایک طرف مرکزی حکومت عدالت عظمیٰ میں ایس سی ایس ٹی بل میں مداخلت کے خلاف درخواست کررہی ہے اور دوسری جانب بی جے پی کی تین  صوبائی حکومتیں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڈھ اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے احکامات جاری کررہی ہیں۔  مہابھارت کے ایک لویہ کا انگوٹھا کاٹ کر اس سے گرو دکشنا وصول کی جارہی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close