ملی مسائلنقطہ نظر

دولت مشترکہ

 یہ ایک حقیقت ہے کہ رسی جل بھی جانے تو بھی اس کا بل نہیں جاتا۔دوسری جنگ عظیم نے برطانوی سامراج کو اس حد تک کمزور کر دیا کہ وہ دنیاسے اپنی افواج سمیٹ کر ایک مختصر سے جزیرے میں محدود ہو کر رہ گیااور معاشی طور پر برطانیہ کی یہ حالت ہوگئی کہ لندن جیسے شہرکی کوئی عمارت جرمنی کے بمبارجہازوں سے محفوظ نہ رہی تھی جبکہ جغرافیائی طور پر جس تاج برطانیہ کا سورج غروب نہ ہوتا تھا اب اسکے ہاں مہینوں سورج کی شکل بھی نظر نہیں آتی لیکن اس سب کے باوجود دنیاپر حکمرانی خواہش نے برطانیہ کے استعماری ذہن کو مجبور کیا کہ وہ ایسا پلیٹ فارم تشکیل دے جس میں اسکے سابقہ غلام ہاتھ باندھے بیٹھے ہوں اور حکومت نہ سہی کسی اور بہانے کے باعث ہی تاج برطانیہ ان سب کا وڈ وڈیرااور جگا بن کر دنیاکے سامنے اپنے گزشتہ وجود کی باقیات کو تازہ کرتا رہے۔گویا عالم نزع میں بھی ساغرومیناسامنے موجود رہنے چاہییں ۔یہودیوں نے انیسویں صدی کے آخر میں دنیاپر اپنی بادشاہت اور حکمرانی کا خواب دیکھاتھا،دوبڑی بڑی جنگوں کے بعد انہیں یہ تو اندازہ ہو گیاکہ وہ براہ راست تخت دنیا پر جلوہ افروز نہیں ہو سکتے تاہم جہاں جہاں وہ سرمایادارانہ نظام قائم کر سکے انہوں نے کیااور جہاں یہ نظام قائم نہ کرسکے وہاں اشتراکیت اور ٹوٹی پھوٹی جمہوریت کے ذریعے انہیں غداران قوم ملتے گئے اور باقی ماندہ دنیاپر انہوں نے چھوٹے چھوٹے علاقوں کے خاندانی حکمران تعینات کر کے تو عالمی تنظیموں کے ذریعے پوری دنیاپر اپنی حکمرانی کے خواب کی تعبیر کر دکھائی۔دولت مشترکہ کم و بیش انہیں مقاصد کی حامل بین الاقوامی تنظیم ہے۔

 دولت مشترکہ کی اصطلاح سب سے پہلے سترہویں صدی کے مصنفین نے استعمال کی جس میں انہوں نے سیاسی وحدت کا ایک تصور پیش کیا۔گزشتہ صدی میں یہ اصطلاح اپنے نئے اور عملی اقدامات کے ساتھ وجود میں آئی اور سب سے پہلے 1900ء میں آسٹریلیا کی نوآبادیات نے آسٹریلوی دولت مشترکہ کے تحت اپنے آپ کو جمع کیا۔اسکے بعد برطانوی زیر تسلط علاقوں نے بھی جیسے جیسے آزادی حاصل کی انہیں بھی برطانوی دولت مشترکہ کی چھتری تلے برابری کی بنیاد پر جمع کر لیاگیا۔931سے 1949تک اس کا نام ’’برطانوی اقوام دولت مشترکہ ‘‘تھا لیکن بعد کے دنوں میں صرف ’’دولت مشترکہ‘‘کا نام ہی اسکی پہچان رہ گیا۔برطانوی نوآبادیات نے اس نام کی تحت اکٹھے رہنے کا فیصلہ کیا جس میں دوستی اور تعاون کے متعدد راستے کھلنے کا امکان صاف نظر آرہاتھا۔برطانوی بادشاہت کو اس دولت مشترکہ کا متفقہ اظہارقیادت مان کر 1965ء میں لندن میں اس تنظیم کا مرکزی دفترقائم کر دیاگیا تاکہ جملہ سرگرمیوں اور باہمی روابط کاباقائدہ آغاز کیاجاسکے۔

 بنیادی طور پر دولت مشترکہ برطانوی سامراج کی باقیات ہی ہے۔درحقیقت برطانیہ نے اپنی نوآبادیات میں سرکاری اور نجی سطح پربے پناہ سرمایا کاری کی ہوئی تھی ،اب مجبوری میں اسے محکوم ملکوں کی سرزمین خالی کرکے وہاں سے نکلناتو پڑا لیکن برطانیہ کا سرمادارانہ ذہن چاہتاتھا کہ اس سرمایاکاری کافائدہ کسی دوسری قوم کو نہ پہنچے ،بہت سے دیگر مقاصد میں سے اس تنظیم کے قیام کا ایک مقصد یہ بھی تھا۔ انیسویں صدی کے آخرسے ہی برطانیہ نے اپنے زیرتسلط علاقوں میں جمہوری آزادیاں اور انتخاباتی اداروں کے ذریعے نیم خود مختار حکومتیں قام کرنا شروع کر دی تھیں ۔بیسویں صدی کے نصف اول میں آزادی رائے کے باعث جیسے جیسے شعور پختہ ہوتاگیا تو غلام علاقے کے لوگ آزادی حاصل کرتے چلے گئے ۔آزادی حاصل کرنے والے پہلے تو برطانیہ کے غلام تھے لیکن دولت مشترکہ کی تنظیم انہیں برابری کی سطح پر نشست ملنے لگی اور یوں یہ تنظیم اپنے ارکان ممالک میں اضافہ کرتی رہی ۔1947میں برصغیرسے برطانوی استعمار رخصت ہوا تو پاکستان اور ہندوستان دونوں نوآزاد ممالک دولت مشترکہ کے رکن بن گئے اور یہ دونوں غیریورپی رکن تھے۔1948میں برما آزاد ہوا لیکن اس نے دولت مشترکہ میں شمولیت اختیار نہیں کی۔

1949میں ہندوستان اپنی داخلی سیاسی مجبوریوں کے باعث دولت مشترکہ کی رکنیت قائم رکھنے سے معذور ہونے لگا تو اس تنظیم کے سربراہان نے اپنے ایک فیصلے میں دولت مشترکہ کے ان قوانین کو تبدیل کردیاجو بھارت کی رکنیت میں رکاوٹ تھے اور ہندوستان کی قیادت سے کہاگیا کہ وہ ہر قیمت پر اپنی رکنیت کو بحال رکھے۔اس فیصلے کے بعد تنظیم کا نام  ’’برطانوی اقوام دولت مشترکہ‘‘کی بجائے’’اقوام دولت مشترکہ‘‘یاصرف’’دولت مشترکہ‘‘رہ گیا۔اس فیصلے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام دشمن طاقتیں کسی صورت اپنے اتحاد کو ٹوٹنے نہیں دیتیں ،انگریزبہت پہلے سے یہ دیکھ رہا تھا کہ یورپی تہذیب و معیشیت اور ہندو ذہنیت مل کر ہی مسلمانوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں جس کی تصدیق بعد کے آنے والے حالات نے بھی کر دی۔ایک حدیث مبارکہ میں آپ ﷺ نے فرمادیاتھا کہ ’’الکفر ملت واحدہ‘‘کہ کل کفار ایک ہی قوم ہیں ۔

 تنظیم کے قیام کے بعد اس کی راہ متعددرکاوٹیں بھی آئیں ۔خاص طور پر جب اس کے ملکوں کی تعداد بڑھنے کی بجائے کم ہونے لگی اور آئیرلینڈ اور جنوبی افریقہ اس تنظیم کی رکنیت سے دستکش ہو گئے۔1972میں وطن عزیز پاکستان نے بھی دولت مشترکہ کی رکنیت چھوڑ دی تھی لیکن 1989میں پاکستان کو دوبارہ اس تنظیم میں شامل کر لیاگیا اور اسکے بعد جنوبی افریقہ بھی لوٹ آیا۔گزشتہ صدی کے آخر میں اس تنظیم کے رکن ممالک میں کافی اضافہ بھی ہوا اور ’’موزمبیق‘‘ بھی 1995دولت مشترکہ کا رکن بن گیاحالانکہ یہ ملک کبھی بھی برطانیہ کی کالونی نہیں رہا تھا۔دولت مشترکہ اس لحاظ سے دنیا کی ایک جداگانہ تنظیم ہے کہ اس کا کوئی دستور نہیں اور نہ ہی کوئی باقائدہ سے قوانین ہیں ۔اس کے رکن ممالک کسی طرح کے باہمی معاہدے کے پابند نہیں ہیں ،یہ ممالک اپنے تجربات ،اداروں اور باہمی مفادات میں شراکت کے لیے ایک دوسرے سے اس پلیٹ فارم کی بدولت ایک گہرا تعلق رکھتے ہیں ۔

دولت مشترکہ اپنے رکن ممالک کے درمیان رابطے کاکام کرتا ہے اور وقتاََ فوقتاََانہیں ایک جگہ جمع بھی کر دیتاہے،اس مقصد کے لیے ہر رکن ملک دوسرے رکن ممالک کے دارالحکومت میں اپنا ایک ہائی کمشنر بھی تعینات کرتاہے۔روایت کے مطابق دولت مشترکہ کے رکن ممالک کے سربراہان کا اجلاس ہر دوسالوں میں ایک دفعہ ضرور منعقد ہوتاہے۔1971میں سنگاپور کے شہر کے اندر ہونے والے سربراہ اجلاس میں ایک قراردادمنظور کی گئی تھی جس میں اس تنظیم کے دائرہ کار میں اضافہ کردیاگیااور عالمی امن،نسلی تفاخر کی بیخ کنی،علاقائی برتری کے خلاف جدوجہداور غربت کے خاتمے کو بھی اس تنظیم کے مقاصدمیں شامل کر دیاگیا۔1991میں زمباوے کے اندر ہونے والے سربراہ اجلاس میں ان مقاصد کا اعادہ کیاگیااورجمہوریت کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کے اضافے بھی اس میں شامل کردیے گئے۔سرمایادارانہ نظام کس خوبصورتی سے محکوم کو اپنے دام میں سمیٹتاہے کہ اسے اس بات کا شعور ہی نہیں ہوپاتا کہ وہ نادانستگی میں کس جال میں بری طرح پھنس چکاہے۔دنیاکوناک تک اپنی غلامی میں جکڑنے والے کس طرح سے آزادی حقوق اور انسانیت کادرس دے کر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں ۔مغرب سے برآمد کیے گئے ہر نعرے کابظاہر سراپا بہت خوبصورت ہے لیکن اندرون خانہ ان کی حقیقت اور ان کے پس پردہ مقاصد چنگیز سے بھی تاریک ترہیں ۔

1973ء میں جب طانیہ یورپی اکنامک کمیونٹی کارکن بناجسے بعد میں یورپی کمیونٹی اور اب یورپی یونین کانام دے دیاگیاہے تو برطانیہ کی اس رکنیت کے باعث دولت مشترکہ کے رکن ممالک کی معاشی مفادات مندے کا شکار ہونے لگے ۔برطانیہ نے دونوں طرف کے فوائد سمیٹنے کے لیے ،کیونکہ سرمایادارکا پیٹ کبھی نہیں بھرتا،یورپی یونین کا دولت مشترکہ سے معاہدہ کروایا جس کے نتیجے میں اب دولت مشترکہ کے ممالک یورپی ملکوں سے بھی اپنی تجارتی روابط بڑھا سکتے ہیں اور اس طرح پہلے غریب ملکوں کی دولت جو صرف برطانیہ میں جایاکرتی تھی اب دیگر یورپی ممالک بھی اپنی حریص نگاہیں ان وسائل پر جمانے لگے ہیں ۔

1996ء میں دولت مشترکہ کے ممالک نے ’’افریقہ انوسٹمنٹ فنڈ‘‘قائم کیا،جس کا بظاہر مقصد یہ بتایاگیاکہ اس مذکورہ براعظم میں بھی بین الاقوامی تجارت کی راہیں کشادہ ہوں لیکن پس پردہ مقاصد میں یہودیوں کی پروردہ منصوبہ بندی کسی دوررس سیاسی و تہذیبی اور علاقائی مفاد کا حصول کا ذریعہ ہو سکتی ہے۔دولت مشترکہ کے ممالک میں تعلیمی معاہدہ بھی ہے جس کے بعد سے برطانیہ سے تربیت یافتہ اساتذہ رکن ممالک میں جاتے ہیں اور وہاں کا زرمبادلہ برطانیہ بھیجتے ہیں اور اسی طرح رکن ممالک کے طلبہ کے لیے برطانیہ اپنے ملک کے تعلیمی اداروں کے دروازے کھول دیتا ہے اور یوں بھی دنیا بھر کے ذہنی و مالی وسائل تاج برطانیہ کے زیر سایہ ہی سمٹ آتے ہیں یعنی چٹ بھی اپنی اور پٹ بھی اپنی۔

ہر چارسالوں کے بعد رکن ممالک کے درمیان کھیلوں کے مقابلے بھی منعقد کیے جاتے ہیں اور اس طرح سیکولر مغربی تہذیب کے شعائر میٹھی زہر کی طرح دوسرے ملکوں کے عوام کی زندگی میں گھول دیے جاتے ہیں ۔آزاد ملکوں کی طرح وہ علاقے جو اب تک یورپی استعمار کے زیر تسلط ہیں اور انہیں جزوی آزادی میسر ہے ،گزشتہ کچھ عرصے سے وہ بھی اس تنظیم کے رکن بن گئے ہیں ۔ایسے علاقوں کے لیے دولت مشترکہ کا رکن بننے کی خاطر کئی جمہوری مرحلوں سے گزرنا پڑتاہے اور پھر وہ برطانیہ کو درخواست دینے کے اہل سمجھے جاتے ہیں جس پر برطانیہ کی حکومت ان کے بارے میں منفی یا مثبت فیصلہ کرتی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ڈاکٹر ساجد خاکوانی پاکستان کے نامور کالم نگارہیں۔

متعلقہ

Close