نقطہ نظر

دہشت گردی: ایک طمانچہ اور

                                                                                                                                                                                                                       دہلی کے ایڈیشنل سیشن جج محترم رتیش سنگھ نے رفیق شاہ اورمحمد حسین فاضلی نامی دو کشمیری افراد کو 2005 میں دہلی میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں کے الزامات سے بری کردیا کہ ’اس کیس میں پولس الزامات ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہی ‘ ۔ دہلی میں 29،اکتوبر 2005 کو یکے بعد دیگرے تین مختلف مقامات بم دھماکے ہوئے تھے جن میں 70 کے قریب افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہوئے تھے اس کیس میں پولس نے تین کشمیری افراد کو گرفتار کر کے ملزم بنایا تھا جن میں سے رفیق شاہ کشمیر یونیورسٹی میں ایم اے سال اول کا طالب علم تھادوسرا ملزم محمد حسین فاضلی اور ان کے ساتھ ایک تیسرے شخص محمد طارق ڈار کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جسے اس کیس کا اہم ملزم بنا یا گیا تھا اب تقریباً بارہ سال کے لمبے عرصہ بعد دہلی کی عدالت نے ان تینوں میں سے اول الذکر دو کو تمام الزامات سے باعزت بری کردیا جبکہ تیسرے ملزم طارق ڈار کو بھی بم دھماکوں کے الزامات سے بری کیا لیکن اسے دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھنے کا مجرم گردانتے ہوئے دس سال قید کی سنائی جو وہ دوران مقدمہ ہی بھگت چکا ۔

کورٹ کے فیصلے کی جو رپورٹس میڈیا میں آئیں ان سے لگتا ہے کہ یہ کیس پوری طرح منگھڑت ہے خاص طور سے اول الذکر دو افراد رفیق شاہ اور حسین فاضلی کے معاملہ میں تو ایسا لگتا ہے کہ پولس نے انہیں جان بوجھ کر زبردستی پھنسا یا ۔ان میں سے رفیق شاہ تو بلاسٹ کے وقت کالج میں موجود تھا اس دن اس نے تمام کلاسیس بھی اٹینڈ کی تھیں ۔پولس نے یونیورسٹی سے اس کی حاضری کا ریکارڈ مانگا تھا ،اس وقت کہا گیا تھا کہ یونیورسٹی کو سردیوں کی چھٹیاں تھیں ( یعنی یونیورسٹی کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا تھا ) لیکن اب اس کیس کی فائل سے معلوم ہوتا ہے کہ یونیورسٹی نے پولس کے سوال کا جواب دیا تھا اور وہ بھی ایک نہیں دو مرتبہ۔لیکن پولس نے اس جواب کو دبا دیا تھا ( ہندوستان ٹائمز آن لائن 22،فروری 2017)۔کیوں ؟ یعنی پولس کو معلوم تھا کہ ملزم کے خلاف ثبوت نہیں اور یونیورسٹی کا ریکارڈ اس کے حق میں جاتا ہے اگر اسے کورٹ میں پیش کیا گیا تو اس کے خلاف کیس بھی نہیں بن سکے گا ۔

اس کیس کے فیصلہ سے ایک بار پھر معلوم ہو گیا کہ کمزور اور غلط شواہد کی بنیاد پر یا ملزم کے بے قصور ہونے کا ادراک ہو تے ہوئے بھی پولس مسلم نوجوانوں کو پھنسا تی ہے شاید اس طرح کی کارروائیوں کا اصل مقصد مسلم نوجوانوں کو زندہ درجیل کر کے ان کی زندگی کے اہم ایام، شہرت ،کردار و کاروبار کو برباد کر کے ان کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا نا اور مجموعی طور پر پوری مسلم اقلیت کودہشت گرد یا دہشت گردوں کی قوم یا دہشت گردوں کی حمایتی قرار دے ملک دشمن مشہور کرنا تھا اور شاید اسی لئے دہشت گردی کے یہ کھوکھلے مقدمات کو بھی صرف اسی لئے طول دیا جاتا ہے کہ ملزمین زیادہ سے زیادہ عرصہ سلاخوں پیچھے رکھے جا سکیں ۔

اس طرح کے معاملات میں یہ معلوم کیا جانا ضروری ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں کس مقصد کے تحت کی جاتی رہی ہیں یہ بھی معلوم کیا جانا چاہئے کہ اس معاملہ میں صرف اکیلے پولس ہی ملوث ہے یا پھر  سرکار کا بھی اس میں ہاتھ ہے یا پولس نے کسی سیاسی سماجی یا مذہبی تنظیم کے زیر اثریہ غیر قانونی کام کیا ہے ؟ویسے اس طرح کے معاملات کے متواتر سامنے آنے کے بعد بھی سرکاروں کی طرف سے پولس کے محاسبہ کا کوئی چابکدست نظام نہ بنایا جانا بلکہ الٹ دہشت گردی سے نمٹنے کے نام سخت ترین قوانین بنا کر پولس فورس کو غیر معمولی اختیارات دے کر ان کو محاسبہ سے بھی اوپر کردینا اور ساتھ ہی ساتھ ملزمین کے لئے مزید سختیاں و پیچیدگیاں پیدا کرنا اس اندیشہ کو قوی کرتا ہے کہ پولس کی یہ ساری کارروائیاں سرکاروں کی مرضی کے مطابق ہی ہوتی رہی ہیں .

 د ہشت گردی مخالف پولس کارروائیوں میں یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے جس میں پولس اور استغاثہ کے منھ پر عدلیہ کا طمانچہ پڑا ہو اور تمام ملز مین باعزت بری کردئے گئے ہوں اس سے پہلے کئی بار اس طرح کے طمانچے پڑ چکے ہیں ، خاص طور سے مبینہ دہشت گرد اور کالعدم تنظیمو ں کے ممبر ہونے اور غیر قانونی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر نے کے الزام میں تو جتنے بھی مسلم نوجوانوں کو پولس نے گرفتار کیا تھا ان میں سے تقریباً سبھی عدلیہ سے بری ہو چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ دہشت گردانہ کارروائیوں اور بم دھماکوں کے زیادہ تر معاملات میں گرفتار کئے گئے مسلم نوجوان بھی عدم یا ناکافی شواہد کی بنیادعدلیہ کے ذریعہ رہا ہو چکے ہیں ۔ان معاملات میں پولس نے جو کچھ گر ما گرم کہانیاں سنائی تھیں اور میڈیا نے چوبیسوں گھنٹے جنہیں خوب نمک مرچ لگا کر ہائی لائٹ کیا تھا وہ جب عدالتوں میں پہنچیں تو اوندھے منھ گرگئیں ۔ اب تک دہشت گردی کے فیصل ہوئے مقدمات کی یہی کہانی ہے۔

لیکن ان کی معصومیت کے ثبوت اور رہائی کے لئے بہت لمبا عرصہ لگا اور نفسیاتی اور جسمانی ٹارچر کے ناقابل فراموش زخم اور دہلادینے والی اذیتیں تو ان کے لئے ناقابل فراموش اور ناقابل علاج بھی ہوگئی ہوں گی۔ان معاملات میں گرفتار مسلم نوجوانوں کی با عزت رہائی ہی کافی نہیں ہے بلکہ اب ضروری ہے کہ ان کے تباہ شدہ کریئر کو دوبارہ استوار کر نے کے لئے انہیں معاشی مدد دی جائے، اسی طرح دہشت گردی کے معاملات کو جلد سے جلد فیصل کروانے کے لئے زیادہ عدالتو ں کا قیام بھی ضروری ہے تاکہ ہماری بہادر پولس کے ذریعہ کم از کم جھوٹے مقدمات میں گرفتار کئے گئے افراد کو اپنی زندگی کازیادہ وقت جیل میں نہ گزارناپڑے، ایک اہم بات اور کہ صرف معاوضہ و حرجانہ ہی ا ن بے قصوروں کو دی گئی تکالیف کا بدل نہیں ہو سکتا بلکہ انہیں بغیر کسی واضح ثبوت یامن گھڑت شواہد کی بنیاد پر گرفتار کرنے و ا لو ں ،نفسیاتی و جسمانی ٹارچر کرنے ، ہراساں کر نے اور سالوں تک جیلوں میں قید رکھنے والوں کا محاسبہ اوران کے خلاف سخت ترین کا ر ر و ا ئی ہی ان کی تکالیف کا اصل بدلہ ہے۔

ہمیں دہشت گردوں سے ذرہ برابر بھی ہمدردی نہیں ہونی چاہئے چاہے وہ کوئی ہوں کیونکہ وہ انسانیت کے قاتل ہیں ۔ دہشت گردی کی مکمل غیر جانبدارانہ اور ایماندارانہ تفتیش ہونی چاہئے اور اس میں ملوث افرادکو چاہے وہ مسلمان ہوں یا ہندو قانونی طریقے سے اتنی سخت اور کڑی سزائیں دی جانی چاہئے کہ پھر کسی کو دہشت گردی کی طرف قدم بڑھانے کی ہمت نہ ہو۔لیکنابھی تک اس ضمن میں جو کچھ ہوا وہ الٹا ہوا ،دراصل دہشت گردی کو قوی کرنے اور اسے آسانی فراہم کرنے والا ہوا ،اس طرح کی کارروائیاں مسلمانوں کے لئے تو انتہائی تشویشناک ہیں لیکن یہ ملک کے لئے اور ملکی سلامتی کے لئے بھی کم تشویشناک نہیں ۔دراصل اس طرح کی کارروائیوں یعنی غیر متعلق بے قصور افراد کو دہشت گردی کے معاملات میں پھنسانے کی وجہ سے دہشت گردی کے اصل کار پردازنہ صرف قانون کے شکنجے سے بچے رہتے ہیں بلکہ بہت بے خوف ہوکر بڑے آرام سے اچھی طرح منصوبہ بندی کے ساتھ اپنی تخریب کاری کرنے کے لئے بھی آزادرہتے ہیں اور شاید یہی وجہ رہی کہ ہماری سرکاروں کے  ’اچوک اور سخت ترین انتظامات‘، ’سخت ترین قوانین ‘اور ہماری پولس کی ’جانباز کارروائیوں ‘ اور ’انتھک محنت ‘کے باوجود ایک لمبے عرصہ تک دہشت گردی نہ صرف یہ کہ ختم نہیں کی جاسکی بلکہ اس میں اضافہ ہی ہوتا گیا ۔

لیکن اس کی طرف کسی کا دھیان نہیں ۔بلکہ ملک کے حالات تو یہ ہیں کہ عوام کی ذہنیت یہ بنا کر رکھ دی گئی ہے کہ مسلمان دیش کے اور اکثریت کے دشمن ہیں اور پولس دیش اور اکثریت کی رکشک ،لہٰذا دشمنوں کے خلاف پولس کسی بھی حد تک چلی جائے تو مسئلہ نہیں اس کے محاسبہ کی کوئی ضرورت نہیں اور اس طرح کے معاملات میں عدلیہ کے ذریعہ بری ہو کر عرصہ بعد جیلوں سے رہا ہونے والوں کی باز آبادکاری،ان کو معاوضہ اور جیل کی نذر ہوکر برباد ہوئے ان کی زندگی کے سنہرے سالوں کی بھرپائی کی بھی کوئی ضرورت نہیں ۔بلکہ ان معامالت کی رپورٹس پر قاری جو کمینٹس کرتے ہیں ان میں پولس کو اس کے مظالم پر لعن طعن نہیں کیا جاتا بلکہ اس طرح کے کیسس میں اچھی طرح تفتیش نہ کرنے اور پختہ ثبوت نہ جٹا پانے کے لئے مورد الزام ٹھہرایا جاتا اور لعن طعن کیا جاتا ہے ،بہت بار توبری کر نے والی عدلیہ پر بھی سوال اٹھائے جاتے ہیں ۔حالانکہ پولس کی ا س من مانی کے خلاف کام کر نے والوں میں اکثریتی فرقہ کے بھی کچھ بہت سے انصاف پسند اور غیر جانبدار لوگ شامل ہیں لیکن جس ملک کا وزیر اعظم خود قبرستان ،شمسان اور عید و دیوالی کے نام سیاست کرتا ہو اس میں اس طرح کی کوششوں کے بارآور ہونے اور سرکار کے ذریعہ بارآور ہونے دینے کی امید کم ہی رکھی جانی چاہئے۔

اس ماحول میں ایک ہی بات ہمارے لئے خوش کن اور امید افزاہے کہ وطن عزیز میں سرکاریں اور قانون نا فذ کرنے والے ادارے کتنے ہی آمرانہ کیوں نہ ہوگئے ہوں ابھی عدالتیں قانون اور انصاف کی اساس پر قائم ہیں اور اب تک ہمیں جو کچھ انصاف ملا ہے وہ ان عدالتوں ہی سے ملا ہے ۔ سو ہمیں سرکاروں اور سیاسی پارٹیوں کے در کے چکر لگانے کی بجائے انصاف پسند غیر مسلم افراد کو ساتھ لے کر من حیث القوم اجتماعی طور پر قانونی چارہ جوئی کی سمت ہی محنت کر نی چاہئے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Close