نقطہ نظر

دین کی قیادت علماء کے ہاتھ اور علماء کی باگ ڈور جاہلوں کے ہاتھ؟

نور محمد خان

(ممبئی )

وطن عزیز میں وقف بورڈ کی چار لاکھ سے زائد ملیکت اور ہزاروں کی تعداد میں مساجد اور مدارس موجود ہیں جن کا شمار وقف بورڈ میں نہیں ہے ایک طرف وقف بورڈ کی ملکیت پر سرکار ومتولی حضرات کا قبضہ ہے تو دوسری طرف مساجدوں مقابر درگاہوں اور خانقاہوں پربھی ایسے افراد کا قبضہ ہے جس کو سن کر ذی شعور انسان سوچنے پر مجبور ہوجاۓ گا ! دنیا کے حالات پرغور کریں تو معلوم یہ ہوگا کہ بدعنوانی اور بدنظمی عروج پرہے اور ایمانداری دیانتداری اخلاقیات زوال کی جانب گامزن ہے ایک طرف جہاں دینی درس گاہوں اور علماء کرام کی بہتات ہے وہیں مساجد اور درس گاہوں کے ٹرسٹیان میں کثیر تعداد جاہلوں کی ہے اور ان جاہلوں کے ہاتھ میں دینی درس دینے والے  وامامت کرنے والے علماء کرام کی باگ ڈور ہے۔

جاہل اور عالم میں زمین و آسمان کا فرق ہے علماء دین کی بدولت مدارس اسلامیہ اور اسلام کی ترقی وترویج ہوتی ہے اور ان کے ذريعے بدکردار انسان باصلاحيت بن جاتاہے جس سے اس کی دنیا وآخرت دونوں سنور جاتی ہے لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ علماء مساجد ومدارس کی پالیسی مرتب کرنے والے جاہل ٹرسٹیان کی پالیسی میں قید ہوجاتے ہیں جہاں پرجی حضوری کرنے کے لئے مجبور کردیا جاتاہے اور ایسا نہ کرنے پر باہر کا راستہ دکھا دیتے ہیں وہیں ایسے علماء بھی ہیں جو حق پرستی کا راستہ اختیار کرتے ہوۓ اس جگہ کو خیرباد کہہ دیتے ہیں۔

ایک مسجد میں امام صاحب نہیں تھے مجبوراً مسجد کے بانگی حافظ صاحب کو نماز فرض پڑھانا پڑا بعد نماز منتظمین نے حافظ صاحب سے سوال کیا کہ امام صاحب کہاں ہیں اور کیوں نہیں آۓ اور نہ آنے کی پیشگی اطلاع تھی تو ہمیں کیوں نہیں بتایا گیا۔ منتظمین نے ایک جملہ استمعال کرتے ہوۓ کہا کہ تم آج کے بعد فرض نماز نہیں پڑھاؤ گے ؟ یہ سب کچھ میری سماعت کی برداشت سے باہر تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ منتظمین کو ایک عالم سے بات کرنے کی تمیز نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں تو علما کی باگ ڈور جاہلوں کے ہاتھوں میں ہے۔ اس طرح کا معاملہ ایک مسجد کا نہیں ہے بلکہ کم وبیش 80 فی صد سے زائد معاملے منظر عام پر آتے ہیں جہاں جہلا ٹرسٹیان ہیں اس طرح کئی معاملے میرے سامنے گذرے ہیں قابل غور بات یہ بھی ہے کہ علما کی کم تنخواہیں اور جی حضوری کو دیکھئے اور دوسری طرف بدعنوانی اہم مسلہ ہے جس کا اندازا ٹرسٹیوں کی قبل وبعد کی جائداد سے لگاسکتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے جاہل ٹرسٹیان وبدعنوانی سے نجات کیسے ملے گی اور علماء کرام کا وقار کیسے محفوظ ہوگا ؟ چنانچہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے تاریخ کے سنہرے اوراق کو پلٹ کر دیکھنا ہوگا۔

دور رسالت ﷺ کے بعد خلافت کا زمانہ آیا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفہ بنایا گیا  آپؓ نے خلافت کی پہلی تقریر میں فرمایا:

’’مسلمانو میں تمہارا سردار بنایا گیا ہوں حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں اگر میں نیک کام کروں تو تمہارا فرض ہے میری مدد کرو اور اگر میں کوئی غلط راہ اختیار کروں تو تمہارا فرض ہے مجھے سیدھے راستے پرعمل کرنے کے لئے مجبور کرو تم لوگ جہاد کو ترک نہ کرنا جب کوئی قوم جہاد کو ترک کردیتی ہے تو وہ ذليل وخوار ہوجاتی ہے جب تک میں اللہ ورسول کی اطاعت کروں تم میری اطاعت کرنا اور اگر میں نافرمانی کروں تو میرا ساتھ چھوڑ دینا اللہ سب کی مدد کرنے والا ہے”۔ ابو بکر صدیقؓ کی اس تقریر سے واضح ہوتاہے کہ اطیعواللہ واطیعو الرسول یعنی کے تقوی پرہیز گاری ضروری ہے ظاہر سی بات ہے اگر تقوی ہے تو نہ بدنظمی ہوگی اور نہ ہی بدعنوانی ہوگی بلکہ ایسے ہی لوگ علماء کرام کا تقدس بحال رکھتے ہیں علاوه اس کے جہاں مدارس ومساجد میں بدعنوانی کا معاملہ آتا ہے تو اس میں تعلیم یافتہ مسلمان و علماء کے علاوه سرکاری افسران کا بھی عمل دخل ہے۔

ریاست مہاراشٹرا کے مسلم اکثریتی علاقوں میں جہاں دینی مدارس کے نام پر کروڑوں روپیوں کا چونا لگایا گیا حق معلومات قانون کے تحت مقامی سوشل ورکر نے ریاستی مدرسہ بورڈ اسکیم میں 600 سے زائد فرضی مدارس کا انکشاف کیا تھا جو 2013 سے لیکر 2016 تک کے معاملے تھے یہ معاملے صرف مہاراشٹرا کے اورنگ آباد شہر کے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ممبئی ومہاراشٹرا نہیں بلکہ ملک کے تمام اضلاع جہاں مسلم اکثریت والے علاقے ہیں اسی طرح کے کتنے فرضی دینی مدارس موجود ہونگے؟ یہاں تو’’ بڑے میاں تو بڑے میاں ہیں لیکن چھوٹے میاں بھی سبحان اللہ‘‘۔

راقم الحروف کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مسجد ومدرسوں میں تعلیم یافتہ منتظمین بمشکل 20 فی صد ہیں اور 20 فی صد والے حضرات بھی پڑھے لکھے جاہل لوگ ہیں کیوں کہ یہ عصری علوم سے وابستہ ہیں لیکن دینی علوم سے کوسوں دور ہیں اور اگر ہوگا بھی تو اپنے سے جاہل لوگوں کو دین بتاتے ہیں تاکہ چندہ زیادہ سے زیادہ مل سکے اس ضمن میں ایک معاملہ یہ بھی سامنے آیا کہ ممبئی کے ایک سیٹھ نے گاؤں میں مدرسہ قائم کیا اور آدھے درجن سے زائد علما کی تقرری کی مکتب پڑھانے والے عالم پر یہ ذمہ داری سونپی کہ مدرسے سے فارغ ہونے کے بعد سیٹھ کے گھر کی گاۓ بھینس چرائیں۔ معلم صاحب فرمان پر عمل پیرا ہوگۓ اسی طرح ایک حافظ صاحب نے بتایا کہ مجھے سعودی عرب میں مسجد کے خادم کی ملازمت ملی وہاں جانے پر عرب نے مجھے چرواہا بنادیا نوبت یہاں تک آگئی کہ مارپیٹ کے بعد ایک ماہ جیل میں گزارے بعد  میں رہائی ملی اور وطن واپس آنا پڑا وہیں پر ایک حافظ بکریاں چرانے سعودی عرب گۓ صحرا میں بکریاں چررہی تھیں کفیل کی نظریں دیکھ رہی تھیں کہ چرواہا درخت کے سائے میں بیٹھا جھوم رہا ہے چنانچہ کفیل جب چرواہے کے قریب پہنچا تو قران کی آیات کریمہ سن کر اس نے پوچھا تم حافظ ہو اس نے ہاں میں جواب دیا اور اس عرب نے حافظ صاحب سے معافی مانگی مآبعد عرب نے حافظ صاحب  کو مقامی مسجد کے امام صاحب کے سامنے پیش کیا جہاں سعودی حکومت کی ایماء پر امامت کی نوکری مل گئی۔ ایک بات اور سامنے آئی کہ ایک جاہل نے اپنے ہی مسلک کےایک عالم دین  کے خلاف امام صاحب کو تقریر کرنے کا فرمان جاری کرتے ہوۓ کہا کہ اگر ایسا نہ کیا تو ’’اپنا بوریا بستر باندھ لینا‘‘  تمام تحقیق کے بعد جو باتیں سامنے آئیں وہ یہ ہے کہ ایک طرف علما کی روزی کا مسلہ دوسری طرف ٹرسٹیوں کی جہالت کا قہر۔ اس نقطے پر غور وخوض کرنے کے لئے علما کو ایک مسوده تیار کرنا ہوگا تاکہ علما کا تقدس برقرار رہے۔

عام فھیم نتائج پر پہنچنے سے قبل ایک بات کا ذکر کرتے چلیں کہ تعمیر مسجد سے لیکر مدارس تک ترقی کا ضامن چندہ ہے۔ اگر چندہ نہ کیا جاۓ تو عالیشان مسجدیں اور مدارس کی تعمیر ممکن نہیں ہے لیکن ایک عام مسلمان کے پاس حلال وحرام کا علم ہو یا نہ ہو لیکن ایک  ادنیٰ عالم بھی حرام وحلال کے بارے میں علم رکھتا ہے۔ ہمارے علماء کرام اس نقطہ پر سختی سے پیش آتے تو علما کی باگ ڈور جاہلوں کے ہاتھ میں نہیں رہتی کیونکہ چندہ لیتے وقت علما نے یہ نہیں کہا کہ مساجد ومدارس میں حرام کا 100 روپیے سے حلال کا 10 روپیہ بہتر ہے، اگر ایسا کرتے تو ٹرسٹیان میں کثیر تعداد تقوی والوں کی ہوتی علما میں ایسے گروہ بھی ہیں جو فاتحہ خوانی سے لیکر نکاح تقاریر جلسہ جیسے دینی تقاریب میں بغیر ’’لفافہ و نذرانہ‘‘ کے شرکت نہیں کرتے۔ اطیعو اللہ واطیعول الرسول کا درس جب بغیر لفافے کے ممکن نہیں تو ظاہر سی بات ہے مقتدیوں میں ایمان کی روحانی طاقت کیسے پیدا ہوسکتی ہے؟

ملک کےمسلم اکثریتی علاقوں میں مدارس ومساجد کی بہتات ہے اگر ہماری درس گاہوں میں اعليٰ سے اعليٰ عصری علوم کا نظام ہوتا توآج علما کو جاہلوں کی جی حضوری کرنے کی نوبت نہیں آتی بلکہ یہ علماء ڈاکٹر انجینئر جیسے اعليٰ درجے پر فائز ہوتے۔ لیکن ایسا نہیں ہونے کے سبب جن علما کو نائب رسول کہا جاتا ہے انہی علما کو جہلا اپنی انگلیوں پر نچاتے ہیں۔ آخری بات یہ ہے کہ جب تک ہمارے علماء کرام جاہلوں سے نجات پانے کے لئے متحرک نہیں ہونگے تب تک علما کا تقدس بحال نہیں ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ دین کی قیادت تو علما کے ہاتھوں میں ہے لیکن علما کی باگ ڈور جاہلوں کے ہاتھوں میں کب تک رہے گی؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close