نقطہ نظر

دیکھنے ہم بھی گئے تھے پر تماشہ نہ ہوا

حفیظ نعمانی

گجرات میں تشہیری جنگ کے آخری دن یعنی 12 دسمبر کے بارے میں اندازہ یہ تھا کہ مودی جی اور راہل جی شام چار بجے تک دل کی وہ ساری بھڑاس نکال دیں گے جو باقی رہ گئی تھی لیکن ایک بجے دوپہر کو جب ٹی وی کھولا تو معلوم ہوا کہ وزیراعظم تو ’’سی پلین‘‘ میں بیٹھ کر سابرمتی ندی اور فضا میں اُڑکر انباری مندر میں پوجا کرنے جارہے ہیں اور راہل جی جگناتھ مندر میں پوجا کررہے ہیں۔ بعد میں ٹی وی پر بتایا گیا کہ راہل گاندھی پریس کانفرنس کررہے ہیں آیئے ان کی پریس کانفرنس سنیں اور آدھے گھنٹے سے زیادہ ہونے والی پریس کانفرنس پوری سنوادی۔

ہمیں خیال نہیں رہا تھا کہ مودی جی نے تو 10 دسمبر اور 11 دسمبر کے دو دن اپنے گلے اور آواز کو داؤ پر لگا دیا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ ان کی آواز شام ہوتے ہوتے ’’خائیں خائیں‘‘ نکل رہی تھی وہ صرف پاکستان ہائی کمشنر، قصوری، منی شنکر ایئر اور احمد پٹیل کے نام لے رہے تھے۔ حیرت تھی کہ احمد پٹیل بابر کی اولاد یا محمود غزنوی کی نسل کی کون سی پیڑھی کی نمائندگی کررہے ہیں جن کے نام سے گجرات کے ہندو سب کانگریس چھوڑکر آجائیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بہت سخت بات یہ کہہ دی کہ مودی جی ہار کی بوکھلاہٹ میں ایسی باتیں کررہے ہیں۔ حقیقت جو بھی ہو یہ واقعہ ہے کہ اب تک کے جتنے الیکشن بھی مودی جی نے لڑائے اتنے بے قابو وہ کہیں نہیں ہوئے۔ اور یہ کتنی ذلت کی بات ہے کہ جس میٹنگ کو مودی جی بنیاد بناکر دن بھر بات کرتے رہے اس میں شریک اپنے ملک کی فوج کے سربراہ (ریٹائرڈ) نے کہا کہ میں خود شریک تھا اور اس میں گجرات کے الیکشن کا ذکر بھی نہیں آیا۔

گجرات ایک چھوٹا صوبہ ہے اس کے اسمبلی کے الیکشن کی دنیا تو کیا پورے ملک کیلئے بھی کوئی اہمیت نہیں ہے اس سے پہلے جتنے بھی الیکشن ہوئے ان کے بارے میں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وزیراعظم یا حزب مخالف کے لیڈروں نے جان کی بازی لگائی ہو۔ اس الیکشن نے تو اس لئے اہمیت اختیار کرلی کہ راہل گاندھی کو ہاردِک پٹیل اور دوسرے طبقوں کے نوجوان لیڈروں کی پوری حمایت مل گئی اور کانگریس یہ سمجھنے لگی کہ وہ اگر محنت کرے تو جیت بھی سکتی ہے۔ اور مودی جی جو 22 سال کے لمبے وقفہ میں ہارجیت سے بے نیاز تھے انہیں ان باغی لڑکوں کے جوش جنون اور جی ایس ٹی کی مار سے زخمی کاروباری طبقہ کی ناراضگی کا علم ہوا تو انہوں نے جلدی جلدی کچھ کیا تو لیکن جو کیا اس کا نتیجہ آتے آتے دیر لگی اور مودی جی کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکتی چلی گئی اور وہ بھول گئے کہ وکاس کیا ہے انہیں صرف احمد پٹیل یاد رہے اور وہ اپنے مقام سے نیچے اترتے چلے گئے۔
اور یہ زخم بھی 12 دسمبر کو ہی لگا کہ سپریم کورٹ میں انہوں نے داغی ممبران پارلیمنٹ و اسمبلی کے مقدمات کی سماعت کے لئے 12 خصوصی عدالتیں بنانے کا حلف نامہ دیا ہے اسے سپریم کورٹ نے منظور کرلیا ہے خبر میں بار بار کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے سخت رویہ پر یا سخت ہدایت پر یا سپریم کورٹ کی برہمی پر حکومت 12 خصوصی عدالتیں قائم کررہی ہے جو ایک سال میں سب کا فیصلہ کردیں گی۔ اب ذرا اس تقریر کو یاد کیجئے جو شری نریندر مودی نے وزیر اعظم کا حلف لینے کے بعد پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں پہلی تقریر کی تھی جس میں کہا تھا کہ ایک سال کے اندر جتنے بھی داغی ممبر ہیں وہ سب جیل میں ہوں گے اور جتنے پاک صاف ہیں وہ رونق بڑھا رہے ہوں گے۔ اور مودی جی اپنے ان جملوں کی داد و تحسین وصول کرکے بھول گئے کہ انہوں نے کیا کہا تھا اور جب ساڑھے تین سال گذر گئے اور سپریم کورٹ نے پھٹکار لگائی تو نیند سے جاگے اور پھر ایک سال کا وقت لے لیا جس کے بارے میں عدالتوں کے معاملات سے واقف ہر آدمی بتا دے گا کہ نہ کبھی ہوا ہے اور نہ ہوگا اور یہی داغی ممبر موٹی موٹی رقمیں دے کر پھر ٹکٹ لیں گے اور پھر الیکشن لڑیں گے۔

ہم نے بڑے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ جب تقریر کرتے ہیں تو یا تو تقریر لکھی ہوئی ہوتی ہے یا ایک کاغذ پر اشارے لکھ لئے جاتے ہیں جن سے مقرر کو یہ معلوم رہتا ہے کہ کس کس مسئلہ پر بات کرچکا ہے اور کون سا مسئلہ باقی ہے۔ مودی جی جب تقریر کرتے ہیں تو بولنا شروع کرتے ہیں اور بولتے ہی چلے جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں یاد بھی نہیں رہتا کہ وہ کس مسئلہ پر کیا کہہ چکے ہیں۔ ایک سال میں داغی ممبروں کے جیل بھیجنے والا مسئلہ بھی ان میں سے ایک ہے جسے وہ روانی میں کہہ گئے اور بعد میں معلوم ہوا کہ یہی تو پارٹی کی طاقت ہیں اور انہوں نے اتنا وقت گذار دیا کہ اب 12 عدالتوں کا ڈرامہ ہوگا اور داغی ممبروں کے شاطر وکیل اپنا ہنر دکھائیں گے اور ہر مقدمہ جہاں سے شروع ہوگا آنے والے الیکشن تک وہیں رُکا رہے گا اس کی تفصیل ہم سے سنئے۔

ندائے ملت جو حکومت کے کانوں میں زہر گھولتی تھی اسے بند کرنے کیلئے اس وقت کی حکومت نے ہمارے خلاف آٹھ مقدمے کھڑے کردیئے۔ ہمارے وکیل جو عزیز دوست تھے انہوں نے بتایا کہ سی جے ایم جن کی عدالت میں تمہارے مقدمے ہیں ان کی شہرت بہت خراب ہے وہ متعصب ہیں اگر کچھ بھی نہ کریں گے تو تابرخاستِ عدالت کی سزا دے دیں گے یا ایک روپیہ جرمانہ کردیں گے تمہارے اوپر سزا یافتہ کا داغ لگا دیں گے۔ اور ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔ اور انہوں نے پونے دو سال کسی مقدمہ کی ایک پیشی بھی نہیں ہونے دی ہر پیشی پر کوئی اعتراض داخل کردیا اور جب ان کا تبادلہ ہوگیا تب دوسرے جج کے سامنے سب مقدمے لڑے اور ہر مقدمہ خارج ہوا۔ جب ہم جیسے غریب پونے دو سال آٹھ مقدموں میں سے ایک بھی نہ چلنے دے تو وہ جو پارلیمنٹ کے ممبر بھی ہیں اور کروڑوں ان کے لئے کھیل ہیں تو ان کے خلاف کون ہے جو انہیں جیل بھیج سکے؟ جو مودی جی کی تقریر کے بعد سے اب تک ہوا ہے وہی 2019 ء کے الیکشن تک ہوگا اور سپریم کورٹ بھی صرف تماشہ دیکھا کرے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close