نقطہ نظر

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

مدثر احمد 

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

علامہ اقبال نہ یہ شعر بہت پہلے اس قو م کے حالات و جذبات کو دیکھتے ہوئے شاید اسی لئے کہا تھا کہ اس قوم میں جذبات و احساسات اور شجاعت کی کمی نہیں ہے بلکہ اس قوم کو بس بیدار کرنے اور اسکے منصب کو یاد دلانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات ہر کسی کی نظر کے سامنے ہیں ، اخبارات کیا کررہے ہیں ، ٹی وی میڈیا کیا کررہاہے ، کس طرح سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہاہے اور کو نسی تنظیم اور ادارہ مسلمانوں کے حق میں ہیں اور کو نسی تنظیم و ادارہ مسلمانوں کی مخالفت کرنے پر میڈیا بڑھا چڑھا کر پیش کررہاہے یہ سب جانتے ہیں لیکن کسی کے بس میں کچھ نہیں ہے کہ مسلمانوں پر اٹھنے والے اعتراضات کا جو جواب دیا جاتاہے اسے کہیں بھی کسی بھی اخبار میں جگہ نہیں ملتی سوائے اردو اخبارات کے ۔ان حالات میں مسلمان خود بھی چاہتے ہیں کہ انکے انگریز ی و علاقائی زبانوں کے اخبارات ہوں ، علاقائی و ہندی زبان میں قومی نیوز چینلس ہوں لیکن سب بس ایک ہی جگہ پر آکر اٹک جاتاہے کہ آخر کون کریگا یہ کام ؟۔ ہماری نظر میں اس کام کو انجام دینے کے لئے ابابیل کی فوج تو نہیں آئیگی اور نہ ہی اللہ تعالیٰ اس کا م کے لئے الگ قوم پیدا کریگا بلکہ اس کام کو خود ہمیں ہی کرنا ہے اور یہ کام ممکن ہے ناممکن نہیں ہے ۔ آج جب ملک میں دلتوں ، برہمنوں ، عیسائی ، لنگایت اور ریڈیوں کے اپنے ٹی وی چینلس موجود ہیں تو مسلمانوں کے نیوز چینلس کیوں نہیں ہے ۔ اس کا جواب بھی یہ ہے کہ ہم مسلمانوں نے میڈیا کو غیر ضروری سمجھ رکھا ہے اور اسکے استعمال کے تعلق سے حرام و حلال کو سامنے رکھا ہے ۔ جہاں تک ہم جانتے ہیں کہ ہم جس دور سے گزر رہے ہیں وہ 50-50 کا دور ہے ، جہاں 50 فی صد معاملات میں حلال کام انجام دئےے جارہے ہیں وہیں 50 فیصد معاملات یا تو حرام ہیں یا مکروہ ہیں ۔ مثال کے طور پر ٹی وی دیکھنے کو حرام کہا جاتاہے وہیں شادی بیاہ میں ہم ویڈیو نکلوانے کے عادی ہیں ۔ اخبارات پڑھنے کو دنیا داری کہتے ہیں تو مال و دولت کو تجوریوں میں جمع کرنے کو جائز سمجھتے ہیں ، ایسی ہمارے نزدیک کئی مثالیں ہیں جو 50-50 کے طرز پر انجام دئےے جارہے ہیں ۔ لیکن ایک بات ہم یہ بتانا چاہیں گے کہ آج اگر امت مسلمہ کو زوال ہونے سے بچانا ہے تو اسکے لئے دو ہی راستے ہیں وہ یہ کہ ایک ہماری نسلوں کو تعلیم سے آراستہ کیا جائے دوسرا مسلمانوں کواپنا میڈیا ہاﺅز قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔ملک میں اس وقت مسلمانوں کی اوسط آبادی 17 کروڑ ہے اور یہ سرکاری اعداد و شمارات ہیں ، سرکاری اعداد و شمارات کے مطا بق مسلمانوں کے لئے 23 لاکھ مساجد ہیں اور 27 ہزار مدرسے ہیں جہاں پر مسلم بچے دینی علوم سے وابسطہ ہیں لیکن ہندوستان میں میڈیا کے تعلق سے اعداد و شمارات تلاش کئے جاتے ہیں تو ایک بھی الیکٹرانک میڈیامسلمانوں کے ماتحت نہیں ہے ۔ ہما ری سمجھ میں ایک بات یہ بھی نہیں آتی کہ ہم مسلمانوں کے پاس قابل تنظیموں کا بھی فقدان نہیں ہے ، جمیعت العلماءہند ، جماعت اسلامی ہند جیسی قدیم ، مشہور و طاقتور تنظیمیں موجود ہیں اگر یہ تنظیمیں چاہیں تو یقینا مسلم میڈیا ہاﺅز خصوصََا الیکٹرانک میڈیا کے قیام کے لئے پہل کرسکتے ہیں ۔ جمیعت العلماءہند ایک ایسی قومی جماعت ہے جس کی ایک آواز پر لاکھوں مسلمان لبیک کہتے ہیں ، انکی خدمات کا دائرہ ایسا وسیع ہے کہ جس شعبے میں وہ جائیں وہاں پر انکی حمایت و تائید کے لئے ہجوم جمع ہوجاتاہے ۔ ایک دعوت پر کروڑوں روپئے کا چندہ دینے کے لئے لوگ آتے ہیں ایسے میں جمیعت اپنے اغراض و مقاصد میں میڈیا ہاﺅز کے قیام کو بھی شامل کرتی ہے اس مقصد کو کمزور کرنے کسی کی بساط نہیں ہے ۔ اسی طرح سے جماعت اسلامی ہند کے اراکین و متفقین میں 95 فی صد افراد اعلیٰ تعلیم یافتہ ، مالدار اونچے درجے کے تاجر ہیں وہ بھی کبھی اس سلسلے میں غور کرنے کے لئے متحد نہیں ہوئے ہیں حالانکہ ان کے پاس مستقبل کے کئی منصوبے ہیں جس میں میڈیا کا قیام بھی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آخر کب تک جماعت اسلامی محض مستقبل کے منصوبوں کی تشکیل میں لگی ہوئی ہے مگر قومی میڈیا کے قیام کے لئے اب بھی کوئی ٹھو س قدم نہیں اٹھا سکی ہے ۔ آخر کب تک ہم حکمت کا لفظ استعمال کرتے ہوئے وقت کی ضرورت سے اجتناب کرینگے ؟۔ اب ہمیں مزید حکمت اور صبر کے الفاظ کو بہانہ بنانے کے بجائے عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے ۔ یہ بات بھی الگ ہے کہ مسجدوں اور مدرسوں کو میڈیا سے تشبیہہ نہیں دی جاسکتی ، ان کا مقام الگ ہے اور انکی اہمیت الگ ہے مگر میڈیا کا وجود موجود ہ وقت کا اہم ہتھیار ہے اس ہتھیار کو عام کرنے کی ضرورت ہے ۔ دادری سے لے کر مظفر نگر ، اسد الدین اویسی سے لے کر ذاکر نائک تک سب میڈیا کا شکار ہیں اور انکا باقاعدہ میڈیا ٹرائل ہورہاہے یہ سب صرف اس وجہ سے کہ آج میڈیا ٹرائل کی مزمت کرنے کے لئے مسلمانوں کے پاس میڈیا نہیں ہے اگر مسلمانوں کے پاس مضبوط میڈیا ہوتاتو یقینا مسلمان اس قدر بے بس نہ ہوتے ۔ مسلمانوں پر جو ظلم ہورہے ہیں اسے منظر عام پر لانے کے لئے مسلمان بے سہارا نہ سمجھتے ۔ ہر مسئلے کی بنیاد کی جب تلاش کی جائے تو ہمیں ایک ہی بات ملے گی کہ مسلمانوں کے پاس اپنا میڈیا نہیں ہے ۔ دوسری جانب مسلم صحافت میں ایک اور پیش رفت بھی ہوئی ہے کہ لوگ تابڑ توڑ ویب پورٹلس کا آغاز کررہے ہیں لیکن سب جانتے ہیں کہ جو ویب پورٹلس وجود میں لائے جارہے ہیں وہ اب بھی عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہیں اور ہر کوئی ویب سائٹس کا استعمال نہیں کرتااسکے علاوہ اگر اردو یب پورٹلس قائم ہورہے ہیں تو غیر مسلم تک مسلمانوں کی آواز نہیں پہنچ رہی ہے بس لکھنے والوں اور صحافت کے تاجدار کہلانے والوں کے لئے یہ ویب پورٹلس کا فی ہیں ۔ ایک سروے کے مطابق آج بھی نیوز پیپرس اپنی گرفت میڈیا میں بنائے ہوئے ہیں اور انکا مستقبل کبھی خطرے میں نہیں ہے ۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی نیوز پیپر اتنی ہی مقدار میں شائع ہورہے ہیں جتنا کہ بیس پچیس سال پہلے شائع ہوتے رہے ہیں اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ آج کے دور میں کو ن اخبار پڑھتاہے تو وہ اصل میں اندھیرے میں ہیں اور وہ خود اخبار خرید کر پڑھنے والوں میں سے نہیں ہیں ،اسی طرح سے ٹی وی نیوز چینلس بھی کبھی اپنی اہمیت نہیں کھو سکتے کیو نکہ ٹی وی ایک ایسا ذریعہ ہے جس کا استعمال آج عام ہے اگر ٹی وی نیوز چینل اپنی اہمیت کھو چکے ہوتے توصرف ہندوستان میں 109 نیوز چینل خدمات انجام نہیں دیتے ، آنے والے دنوں میں اسکی تعداد مز ید بڑھنے والی ہے ۔ ہم کنویں کے مینڈک بن گئے ہیں اور ہماری سوچ کا دائرہ کم ہے ، ہمیں اپنے سوچ کو وسعت دینے کی ضرورت ہے اور اس سمت میں پہل کر نا بے حد ضروری ہے ۔ ایک آدمی یا ایک گروہ سے مسلم میڈیا کا قیام ممکن نہیں ہے بلکہ اسکے لئے ہر خاص و عام کو فکر کرنے کی ضرورت ہے ۔ مسلم میڈیا ہاﺅز کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ہم اس چینل کو دین کی تبلیغ کے لئے مختص کردیں بلکہ یہ ایسا میڈیا ہاﺅز ہونا چاہئے جو اسلام اور مسلمانوں کا ہتھیار ہو۔ ہر غلط خبر کا جواب ہو، ہر سازش کاپر دہ فاش کرنے والا ہواور صحافت کو رحمت کے طورپر پیش کرسکے نہ کہ زحمت بن جائے ۔ جب ہم نے اس کام کو اب تک انجام نہ دیا ہوتو ایک دفعہ کرکے دیکھ ہی لیں کیونکہ نتیجہ تو کام کرنے کے بعد ہی ملتا ہے صرف سوچنے سے زندگی ڈھل جاتی ہے ۔ جیساکہ مضمون کے ابتداءمیں علامہ اقبال کا شعر پیش کیا گیا ہے جس میں علامہ اقبال نے کہا ہے کہ ”ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی “ ویسے ہی آج امت نرم مٹی کی طرح ہے اگر اس پر ذرا سی محنت کی جائے تو یہ زرخیز ہوگی اور اس سے بہتر فصل کی امید کی جاسکتی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مدثر احمد

ایڈیٹر، روزنامہ آج کا انقلاب

متعلقہ

Close