نقطہ نظر

رام ناتھ کووند کی فتح: اندیشے اور امکانات

راحت علی صدیقی قاسمی

ہندوستان آزادی کے بعد عرصئہ دراز تک ہندو مسلم اتحاد کی مثال تھا، پھر حالات تبدیل ہوتے چلے گئے اور ملک کی فضا زہرآلود ہوتی چلی گئی، نفرت و عدوات کا بول بالا ہو گیا، اتحاد و اتفاق کا جنازہ اٹھ گیا اور پورا ملک فرقہ وارانہ خیالات کا شکار ہوگیا۔ اکثر افراد کے قلوب میں ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کا خواب پلنے لگا اور ملک کی اکثریت اس نظریہ پر متحد ہوتی نظر آئی، تمام سیاسی جماعتیں زیر ہوگئیں، سیاست کے ماہرین کو گمنامی کی چادر میں ملبوس کردیا گیا، عقل مند اور منصوبہ بند طریقے سیاسی دھارے کو بدلنے والے چہرے اور عرصۂ دراز سے ہندوستان پر حکومت کرنے والے افراد بیوقوف گردانے گئے، ان کی سیاسی دکانوں پر تالے پڑ گئے اور ملک کا اکثریتی طبقہ اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں اپنی بساط بھر لگ گیا، اس نعرے کے ساتھ جس شخص کو بھی سیاست کے میدان میں اتارا گیا وہی میدان مار لے گیا، بڑے بڑے ماہر لیڈروں کے مقابلہ نو آموز واضح فرق سے کامیاب ہوئے، اسمبلی انتخاب اور یوپی انتخاب کے نتائج اس دعوے کی شہادت کے لئے کافی ہیں.

وکاس، ترقی لاء اینڈ آرڈر کی بحالی، قانون کی بالادستی، میک ان انڈیا، ان سب مکھوٹوں کے ساتھ بی جے پی اپنی حکمت عملی کو بڑی ہی خوبی کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کوشاں رہی اور لوگوں کے ذہنوں کو ’’پریورتن‘‘ نامی جھانسہ میں الجھائے رکھنے میں بھی کامیاب رہی، ورنہ ہر ہندوستانی جانتا ہے بی جے پی کیوں کامیاب ہورہی ہے ؟اس کی ترقی کا سفر روز بروز تیز تر کیسے ہو رہا ہے، حالانکہ وزیراعظم نریند مودی کے دور اقتدار میں کیا وکاس ہوا؟  اور ایسا کون سا عظیم کارنامہ انجام دیا گیا، جو ملک کا اکثریتی طبقہ ان کی تعریف کرتے نہیں تھکتا اور ان کے ہر فیصلہ پر گردن خم کردیتا ہے، اگر اس صورت حال پر غور و فکر کیا جائے تو ذہن میں ابھرتی تصویر بے غبار ہو جائے گی اور سمجھ میں آجائے گا، ملک میں قانونی بالادستی کی جگہ گئورکشکوں کی غنڈہ گردی نے لے لی، انسانوں کی لاشیں اٹھیں، پورا ہندوستان شرمسار ہوا، کمزوروں پر ظلم وستم کی داستانیں رقم کی گئیں، دلتوں کو اذیتیں دی گئیں، انہیں ستایا گیا، اس کے باوجود بی جے پی دلتوں کو یہ احساس کرانے میں کامیاب رہی کہ وہ ہندو ہیں اور ہندؤوں کے ووٹ پر بی جے کا حق ہے، کوئی دلیل اس حق کو ختم کرنے والی نہیں ہے، حالانکہ سہارن پور واقعہ کے بعد ایسا لگ رہاتھا کہ دلتوں کے رویہ میں بدلاو آجائے گا، لیکن یہ خام خیالی تھی اور اس خام خیالی کو بی جے پی نے صدر جمہوریہ کے انتخاب میں ثابت کردیا اور پھر دلت چہرے کا استعمال کیا اور دلتوں کی نفرت کو محبت میں بدلنے کی کوشش کی ہے اور سیاست کے گلیاروں میں ایک گمنام چہرے کو شہرت کے بام عروج پر پہنچا دیا، جسے بہار کا گورنر ہوتے ہوئے بھی شہرت حاصل نہیں ہوئی تھی، اسے وزیراعظم نریندر مودی کے فیصلہ نے مشہور ہی نہیں ہندوستان کے چودھویں صدر ہونے کا شرف بخشا.

رام کووند 1994 سے 2006 تک راجیہ سبھا کے ممبر رہے، یہی ان کی سیاسی حیثیت اور مقام ہے، ان کا اصل پیشہ وکالت تھا، مرکزی حکومت کے ملازم رہے اور وکالت میں بلند خدمات انجام دیں اور ان کے مقابل صدر جمہوریہ کی امیدوار میرا کماری کا سیاسی قد انتہائی بلند اور انہوں نے سیاست میں بہت اونچا مقام حاصل کیا ہے، سیاسی گھرانے میں آنکھیں کھولیں، والد نائب وزیر اعلیٰ تھے اور خود بھی سیاست میں قدم رکھا تو اپنا مقام بنایا اور ہندوستان میں پہلی مرتبہ اسپیکر بننے والی عورت ہونے کا شرف حاصل کیا، طویل عرصہ سے اسمبلی ممبر ہیں اور سیاست میں اعلی خدمات انجام دے رہی ہیں، لیکن جب رام ناتھ کووند کے مقابل میدان میں اتریں تو کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا، انہیں اتنی بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا، محض 34فی صد ووٹ ان کے حصہ میں آئے اور رام ناتھ کووند کو واضح اکثریت حاصل ہوئی،17سیاسی جماعتیں ان کے ساتھ تھیں، سیکولر ازم کی حفاظت کے دعوے ہورہے تھے، گنگا جمنی تہذیب کا راگ الاپا جارہا تھا، ملک کی حفاظت کے دعوے کئے جارہے تھے، سب کچھ دھرا رہ گیا، سارے دعوے ہوا ہوگئے اور این ڈی اے اپنے مضبوط ارادے اور خاص منصوبہ بندی کے سبب کامیاب رہا، ایک مرتبہ پھر تمام مخالف دھڑے اور جماعتیں منھ تکتی رہ گئیں اور بی جے پی نے صدر جمہوریہ کا عہدہ اپنے نام کر لیا۔

یہ صورت واضح کررہی ہے کہ اپوزیشن کا خاتمہ ہو چکا ہے، مدمقابل تمام سیاسی جماعتیں بکھر چکی ہیں، ان کی طاقت کمزور ہوگئی ہے، وہ بی جے پی کے خلاف لاچار و بے بس ہیں، ان کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے بلکہ اپوزیشن کے بعض لیڈروں کا عالم یہ ہے کہ صبح راہل کے ساتھ ہوتے ہیں، شام میں وزیر اعظم کے مہمان بنتے ہیں، اس صورت حال سے یقینی طور پر جمہوریت کو چوٹ پہنچے گی، چونکہ جمہورت کی طاقت اور اس کی بقا سیاسی جماعتوں کی طاقت پر منحصر ہے، اگر ملک کی اکثریت ایک ہی ڈھرے پر چلنے لگے اور ہر شخص ایک ہی نظریہ کا پیرو ہو جائے اور وہ نظریہ فرقہ پرستی کا علم بردار ہو، تو بہت سے افراد کے حقوق سلب ہوجاتے ہیں اور گدی پر بیٹھے ہوئے افراد کے حوصلوں میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ اپنے آپ کو طبقۂ خاص کا خادم سمجھنے لگتے ہیں، ہمارا ملک کچھ اسی طرح کی کیفیت کا شکار ہے ۔پہلو خان، اخلاق، جنید یہ سب اس صورت حال کو واضح کرتے ہیں ۔

اگر چہ وزیراعظم جذباتی انداز میں کئی مرتبہ اس صورت حال کو ملک کے خلاف قرار دے چکے، مگر زمینی سطح پر کیا ہو رہا ہے، سب جانتے ہیں اور یہ صورت حال بی جے پی کی طاقت میں اضافہ کررہی ہے، ملک کی فضا کو مسموم کررہی ہے،انسان کو بھیڑیا بنارہی ہے، ان کے سینے میں دھڑکتے ہوئے خون کے لوتھڑے کو پتھر کی شکل دے رہی ہے، جذبات و احساسات کو سرد کررہی ہے اور ملک کے مستقبل پر سیاہ چادر تان رہی ہے، خوف و ہراس کا ماحول بن رہا ہے، گھروں سے نکلتے ہوئے لوگوں کا ذہن سینکڑوں سوالوں کو جنم دیتا ہے اور حافظ جنید کا چہرا بطور دلیل پیش کرتا ہے ۔اس صورت حال میں اپوزیشن کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے اور غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے، ان کی پوری محنت و مشقت اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ سب کچھ ناکام رہا اور صورت حال نے نگاہوں کو خیرہ کردیا، اب ان افراد کو اتحاد و اتفاق کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔مایاوتی جس صورت حال کا شکار ہوئی، یہ نتائج اعلان کررہے ہیں.

مستقبل میں بہت سے لیڈران کو اس صورت حال کا مقابلہ کرنا پڑسکتا ہے، اجیت چودھری کا قلعہ قمع ہو چکا ہے، تمام سیاسی جماعتیں اپنی حکمت عملی پر غور و فکر کریں اور اس ہار کو سبق گردانیں، اسمبلی میں پورے ملک کے حقوق کے لئے آواز بلند کریں، بہتے خون کا حساب مانگیں، مسلمانوں اور دلتوں کے مسائل حل کریں، جو تحقیقات ان طبقات کی پسماندگی کو عیاں کر چکیں، ان پر عمل کا مطالبہ کیا جائے، وزیر اعظم سے سوال کیا جائے، بھیڑ میں پیدا ہوئی نفرت کو کیسے کم کیا جائے گا، جہالت کیسے ختم کی جائے گی، نظام معیشت کو بد عنوانیوں سے کیسے پاک کیا جائے گا ؟اگر یہ سوالات بلند نہ ہوئے تو ملک بہت مشکل حالات کا شکار ہوگا اور اس سے کہیں زیادہ تمام سیاسی جماعتیں مشکل تر دور سے گذریں گی اور اپنی حکومت خیال کرنے والی متشدد بھیڑ ہندوستان کی آبرو کو اپنے قدموں تلے روندتی رہے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close