راہل گاندھی کو غیر ہندو بنانے کی کوشش

عبدالعزیز

 اتر پردیش میں نریندر مودی اور ان کی پارٹی نے قبرستان اور سمسان گھاٹ کا شوشہ چھوڑا تھا جس کا مطلب تھا کہ سارے ہندو بی جے پی کے ساتھ ہوجائیں اور ہندو کے نام پر بی جے پی کو ووٹ مل جائے۔ فرقہ پرستوں کا یہ منصوبہ پوری طرح سے کامیاب ہوا۔ کامیابی کی خوشی میں اتر پردیش کی سب سے بڑی فرقہ پرستانہ ذہنیت والے شخص یوگی ادتیہ ناتھ کو یوپی جیسی سب سے بڑی ریاست (جس کی آبادی 22کروڑ ہے) کے وزیر اعلیٰ کی گدی پر بیٹھا دیا۔ یہ آر ایس ایس کی دوسری بڑی کامیابی تھی۔ پہلی کامیابی آر ایس ایس کو اس وقت ملی تھی جب مودی جی جیسی پست ذہنیت رکھنے والے شخص کو ملک کی سب سے اونچی کرسی پر بیٹھادیا۔

 اب اس وقت مودی جی کی ریاست میں انتخابی جنگ جاری ہے۔ گجرات میں بی جے پی 22سال سے حکومت کر رہی ہے۔ گجرات کے عوام و خواص میں بی جے پی کے کاموں اور کارگزاریوں خلاف سخت غصہ اور ناراضگی کی لہر ہے۔ نریندر مودی اور امیت شاہ کی جوڑی اس لہر کو دبانے میں کامیاب نہیں ہورہی ہے۔ اب راہل گاندھی ہی نہیں بلکہ پورے نہرو خاندان کو سوشل میڈیا میں ثابت کیا جا رہا ہے کہ یہ خاندان ہندوؤں کا نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کا خاندان ہے۔ فیروز گاندھی جو پارسی تھے، اندرا گاندھی کے شوہر تھے، ان کو بتایا جارہا ہے کہ فیروز گاندھی مسلمان تھے۔ راجیو گاندھی اور سنجے گاندھی فیروز گاندھی کے بیٹے تھے۔ راہل گاندھی راجیو گاندھی کے بیٹے ہیں، اس لئے یہ بھی ہندو نہیں ہیں، غیر ہندو ہیں۔ راہل گاندھی سومناتھ مندر گئے تھے کہا جارہا ہے کہ وہاں انھوںنے اس رجسٹر میں دستخط کیاجو غیر ہندوؤں کا رجسٹر ہے جبکہ سومناتھ مندر کے زائرین کیلئے صرف ایک ہی رجسٹر ہے۔ بی جے پی اپنی حکومت میں دو رجسٹر کرکے یہ بتا رہی ہے کہ غیر ہندو کا رجسٹر اس لئے ہے کہ دہشت گردوں کے حملے یا فتنہ و فساد سے مندر محفوظ رہے۔ یہ ثابت کرنے کی کوشش ہورہی ہے کہ سارے لوگ دہشت گرد ہوتے ہیں سوائے ہندو کے۔

 کانگریس کو اس کا منہ توڑ جواب دینا چاہئے تھا کہ ملک میں الیکشن ہندو، مسلمان یا کسی مذہب کے نام پر نہیں لڑا جارہا ہے۔ گزشتہ جنوری میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ میں کہا گیا تھا کہ اس امیدوار کا الیکشن باطل قرار دیا جائے گاجو مذہب، نسل، ذات پات، فرقہ اور زبان کی بنیاد پر لڑے گا، مگر کانگریس ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مدافعت (Defensive) ہوگئی۔ کانگریس کے راہل گاندھی کی ایک تصویر جنیو پہنے ہوئے ریلیز کی ہے جس کا مطلب ہے کہ راہل گاندھی ’’جنیو دھاری ہندو‘‘ ہیں۔ نرم ہندوتو (Soft Hindutva) کی پالیسی راجیو گاندھی نے بھی اپنائی تھی۔بابری مسجد کے قریب شیلا نیاس سے اپنے الیکشن پرچار کی ابتدا کی تھی۔ نرم ہندوتو کی پالیسی راجیو گاندھی کو ناکامی سے نہیں بچا سکی۔ یہی پالیسی کانگریسیوں کے مشورے کی وجہ سے راہل گاندھی بھی اپنائے ہوئے ہیں۔

ہندو فرقہ پرستوں کی ٹولی الیکشن جیتنے کیلئے سب کچھ کرسکتی ہے۔ اگر کوئی پارٹی اسی راستہ پر جانے کی کوشش کرتی ہے تو یہ ہندوتو کی بڑی کامیابی ہے۔ وہ تو چاہتی ہے کہ سب لوگ ہندوتو کی پالیسی کو گلے لگالیں اور سب گرو گولوالکر کے چیلے ہوجائیں۔

اتر پردیش میں مسلمان اور ہندو کو الگ الگ کرکے ہندو ہندو کہہ کر بی جے پی نے ووٹ حاصل کئے اور جو کمی تھی ای وی ایم (الیکٹرونک ووٹنگ مشین) نے پوری کردی۔ اب گجرات میں ہندو اور غیر ہندو کی بحث شروع کرکے راہل اور ان کے پورے خاندان کو غیر ہندو قرار دیا جارہا ہے۔ بی جے پی کے ایک انتہائی منہ پھت اور بے شرم ترجمان سَمبیت پاترا ہیں، وہ سوال کر رہے ہیں کہ راہل گاندھی بتائیںکہ وہ کیا ہیں؟ ان سے پوچھے کوئی کہ آپ کیا مذہب کے ٹھیکیدار ہیں کہ آپ کو سب آکر بتائے کہ وہ کس مذہب اور عقیدہ سے تعلق رکھتا ہے۔ امیت شاہ کا کہنا کہ راہل گاندھی دہلی کے مندروں میں کیوں نہیں جاتے۔ اسمرتی ایرانی فرما رہی ہیں کہ راہل گاندھی ووٹ لینے کیلئے ہندو بن رہے ہیں یعنی وہ ہندو نہیں ہیں۔ اسمرتی ایرانی ہندو ہیں اس لئے کہ وہ اپنے ماتھے پر آر ایس ایس کو خوش کرنے کیلئے ٹیکا لگائے رہتی ہیں۔ اسمرتی ایرانی کے بارے میں جو ویڈیو سوشل میڈیا میں وائرل گشت کر دیا جارہا ہے وہ اس قدر عجیب غریب ہے کہ اسے لکھنا اور بیان کرنا بھی مشکل ہے۔

 آج کل الیکشن کے میدان میں اس قدر گراوٹ آگئی ہے کہ ہر شریف آدمی اس میں قدم رکھنے سے پہلے سو بار سوچے گا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اپنی جگہ مگر بی جے پی وہ ساراکام انجام دے رہی ہے جس کا صرف دھرم، عقیدہ اور نسل پرستی سے تعلق ہے۔ قانون دانوںکی ٹیم کو نوٹس لینا چاہئے ۔ بی جے پی اور ان کے لیڈران مودی اور شاہ جو کچھ ملک بھر میں کر رہے ہیں کیا وہ غیر قانونی اقدام نہیں ہے؟



⋆ عبد العزیز

عبد العزیز

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

جھوٹوں کے بادشاہ مودی گجرات میں اخلاقی شکست سے دوچار

جھوٹ کی فنکاری اور کلاکاری نریندر مودی کیلئے اس قدر اب مہنگی ثابت ہورہی ہے کہ بی جے پی کے لوگ بھی کہنے لگے ہیں ’’پستی کا کوئی حد سے گزر نا دیکھے ‘‘ مودی اتنا بڑے کلاکار ہوں گے کوئی نہیں جانتا تھا اپنی عزت کا سودا خود کریں گے کسی کو معلوم نہیں تھا۔ اس سے تو صاف پتہ چل رہا ہے کہ راہل گاندھی گجرات میں جیت درج کرانے میں کامیاب ہو گئے اور مودی جی اپنی ہار خود تسلیم کررہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے