نقطہ نظر

زبان کی کھجلی

رمیض احمد تقی

انسان پرجب اس کے باطل افکاروخیالات حاوی ہوجاتے ہیں اور اس کی زبان اس کے انہی باطل افکار وخیالات کی ترجمانی کرتی ہے،تواسے عرف عام میں ‘زبان کی کھجلی’ سے تعبیرکرتے ہیں اور جب وہ باطل افکاروخیالات زبان سے تجاوز کرکے کسی خطرناک حادثے کے وقوع کا سبب بنتے ہیں ،تواسی کودہنی بواسیر اور منھ کی بواسیرکانام دیتے ہیں.

تشریح ابدان کی اصطلاح میں بواسیراس بیماری کا نام ہے،جس میں مریض کے مقعد پر ورید کے پھول جانے سے چھالے پڑجاتے ہیں اور اجابت کرتے وقت مریض کو تکلیف ہوتی ہے،مگرمنھ کی بواسیرمیں دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے.حقیقی بواسیر مریض کے لیے سماجی وملی مقامات پر شرمندگی کا باعث بن سکتی ہے،تاہم منھ کی بواسیر سے وہ پورا معاشرہ پوری دنیامیں شرمسارہوتاہے اورلوگ اس کی بزدلی، نااہلی اور بے حمیتی کے طعنے دیتے ہیں ،بلکہ وہ ایک کو دوسرے کی نگاہوں میں مشکوک بنا دیتی ہے.ماہرین تشریح ابدان کا یہ ماننا ہے کہ یہ بیماری عام طور پرایسے مردوخواتین حضرات کو لاحق ہوتی ہے،جوسستی وکسل مندی کے شکارہوتے ہیں ،پانی کی مقدار میں کمی کردیتے ہیں ،نیز کھانے میں بداحتیاطی وغیرہ سے انتڑیوں کی کارکردگی میں خرابی کے باوصف غلاظت والی آنت پھول جاتی ہے اور وہاں پھنسیاں نکل آتی ہیں ،جن سے گاہے بگاہے خون رستا ہے.

تاہم منھ کی بواسیر کی عام وجہ فطرت مخالف اور غیر معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لینا اور اس کی موافقت میں زبان کھولنا وغیرہ بتائی جاتی ہے،البتہ ان دونوں بواسیروں میں وجہ امتیاز یہ ہے کہ ورید کی بواسیر میں مقعد سے خون رستاہے،مگرمنھ کی بواسیرمیں زبان سے خون نہیں ٹپکتا،بلکہ زبان جب حرکت کرتی ہے،تو ہرجگہ خون ہی خون ٹپکتاہے.جس کو بھی یہ بیماری لاحق ہوتی ہے،وہ یاتو خون ہی ٹپکاتا ہے،یا پھرخون دیکھ کر خاموش رہتاہے.

یہ بیماری سیاسی رہنماؤں میں کثرت سے پائی جاتی ہے اور اب بڑی تیزی سے فلمی ستاروں میں بھی جڑپکڑنے لگی ہے. دراصل بعض دفعہ انہیں سیاست کے طلسماتی منچ پر جلوہ رونمائی کے لیے کچھ ایسے عناصر کے ساتھ اٹھنےاوربیٹھنے کا اتفاق ہوجاتاہے،جوپہلے ہی سے اس بیماری سے جوجھ رہے ہوتے ہیں . اطبا نے اس مرض کو متعدی بتلایا ہے اورفلمی ستاروں کو جلوہ رونمائی کی عادت ہوتی ہے؛ اس لیے وہ بن بلائے بھی وہاں پہنچ جاتے ہیں . انجام کار وہ بھی اس مہلک مرض کے شکار ہوجاتے ہیں ،البتہ ان کا یہ مرض پوشیدہ رہتا ہے،مگراس مرض کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ اس کا حامل شخص اپنے پراگندہ ذہنیت کو زیادہ دن تک نہیں چھپاسکتا،لہذا 2014 میں جب بی جے پی نے مودی جی کی اگوائی میں مکمل اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی،تو کچھ ایسے لوگ،جن کا یہ مرض کبھی ظاہرنہیں ہواتھا،اچانک دھرا دھر پردۂ سیمیں پر ظاہرہونے لگا. تب جاکرپتہ چلا کہ ارے……..صاحب!.. لو……یہ بھی بواسیر والے نکلے!

پردۂ سیمیں پران کا وجود کتنا صاف وشفاف دکھتا تھا.لوگ انہیں سیکولرمائنڈیڈیعنی بے عیب سمجھتے تھے،مگر اللہ توبہ…..! ان کی زبان بھی بدبو دار نکلی! کیسی آفت آن پڑی ہے،ہرکوئی منھ چھپائے پھررہاہے……ہاں ….یہ کلیوگ ہے نا…..کچھ بھی ناممکن نہیں !مودی جی کی چھو سے بھی سرجیکل اسٹرائک ہوجاتاہے. یہ تو بھگوائی وائرس ہے….

یہ لیجیے آگئے پریش راول جی منھ لٹکائے ہوئے…..فلمی دنیا میں ان کی کتنی شہرت ہے.مانو تو پوری انڈسٹری میں ان کی ایکٹنگ کی طوطی بولتی ہے.سیکڑوں فلموں میں انہوں نے اپنے کمال کی ایکٹنگ کے ذریعہ اپنے لاکھوں چاہنوں والوں کے لیے سامان دل لگی فراہم کیاہے، جب سے ان کے مداحوں کو یہ پتہ چلا ہے کہ وہ بھی منھ کی بواسیر کے شکار ہیں ،بیچارے سردھن رہے ہیں اور ان کی سلامتی کے لیے دعاگوہیں ،مگران کی مسلسل خونی بواسیرسے ایسا نہیں لگتاکہ وہ اس مہلک بیماری سے خلاصی پاسکیں گے؛اس لیے کہ ماہرین نے جن دؤاں کی تجویز پیش کی تھی اور جن سے پرہیز بتایا تھا،وہ مسلسل بدپرہیزی ہی برت رہے ہیں اوران کی حالیہ خونی بواسیر کا دورہ تو انتہائی شدید تھا.گذشتہ ہی دنوں کی بات ہے کہ پورے ملک کے لوگ ‘موب لنچنگ’ کے خلاف مظاہرے کررہے تھے اورصاحب کے دماغ پر دہنی بواسیر کا ایسا شدید غلبہ تھا کہ وہ اس کو ایک ‘ڈھونگ’ بتانے لگے.اطبا نے اس کو نازک حالت بتاتے ہوئے لاعلاج گھوست کردیا ہے. ان کے مداح مسلسل دعا میں مصروف ہیں .دیکھیےکیا چمتکارہوتاہے.

ذرائع ابلاغ سے یہ خبر بھی موصول ہوئی ہے کہ اس ہلاکت خیز وبائی مرض نے انوپم کھیر ، سونو نگم اور منوج تیواری سمیت کئی اور فلمی ستاروں کو بھی متاثر کیاہے.انوپم کھیر صاحب کی خبر سن کر دل کو بڑا صدمہ پہنچاکہ اتنے عظیم کردار کا انسان اور اوم پوری صاحب جیسے صاف ستھری زبان رکھنے والے لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والا شخص بھلا کیسے اس وبا کا شکار ہوسکتاہے؟ مگر’ہونی’ کو کون ٹال سکتا ہے؟انجام کاروہی ہوا جس کی لوگ کبھی امید نہیں کرسکتے تھے،چنانچہ مسئلۂ کشمیر،آزادی اظہارِ رائے اور مذہبی عدم برداشت جیسے کئی موقعوں پر ان کی اس بیماری کا اثردیکھنے کو ملا،البتہ خوشی کی بات ہے کہ گذشتہ کچھ مہینوں سے ان پردہنی بواسیر کا دورہ نہیں پڑا اور ان کے ٹیوٹر اکاؤنٹ پر خاموشی چھائی ہوئی ہے. اڈوانی جی کو بھی کبھی ایسی ہی خونی بواسیر کے دورے پڑتے رہتے تھے. انجام کار زبان گونگی اور بے اثر ہوگئی،تو وزارت برائے مکھی مار  اور جھک ماری ہی پہ اکتفا کرنا پڑی اور امید یہی جتائی جارہی ہے کہ بس یہ میعاد پوری کر لے جائیں .

خفیہ ذرائع ابلاغ سے یہ خبرملی ہے کہ ہمارے وزیرآعظم جناب مودی جی اوریوپی کے وزیراعلیٰ یوگی جی بھی اس مرض کے شکارہوچکے ہیں ،بلکہ ان دونوں کا مرض کافی پرانا ہے اور کئی مرتبہ اس کا شدید دورہ بھی پڑ چکا ہے.دراصل ابتداہی سے ان دونوں کو زبان کی کھجلی کی شکایت تھی،ہردم،ہرمجلس اور ہرمیٹنگ میں زہرہی اگلتے رہتےتھے؛ نتیجتاً اب اس کھجلی نے انتہائی خطرناک صورت اختیار کرلی ہے اور ان کی زبان میں قبض رہنے لگا ہے.

ملک کی حالیہ سیاسی صورت حال کے پس منظرمیں ان دونوں سیاسی قائدین کی چپی بھی یہی بتاتی ہے کہ ان پردہنی بواسیر کا شدید دورہ پڑا ہواہے.سیاسی دسترس کے باوجود کچھ نہیں بول پانااوراگر کچھ بولتے بھی ہیں تواس کا اثرنہ ہونا،یہ پیغام دیتا ہے کہ ان کی دہنی بواسیر کا دورہ کتنا شدید ہے؛28 جون کی بات ہے کہ مودی جی نے گئوبھتی پرگاندھیائی اہنسا کا سبق سنایا،مگران کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوا اور اس کے بعد گئوبھگتی کے دوانتہائی افسوس ناک حادثے رونما ہوئے، جس نے پورے ملک کو ہلاکررکھ دیا.
ان کے علاوہ کئی اورسیاسی قائدین اور فلمی ستارے ہیں ،جواس مرض کے شکارہیں ،تاہم ان کا مرض ابھی تک ‘پوشیدۂ راز’ بنا ہوا ہے.

کمبخت یہ بیماری ہی ایسی ہے کہ نہ نگلتے بنتی ہے اور نہ اگلتے ہی بنتی ہے.یہ بھگوائیوں اور بجرنگیوں کی نوازش ہی کہیے کہ ان کے مرض کی شناخت ہوگئی ہے،ورنہ تو ہزاروں لوگ اسی بھرم میں مرجاتے کہ بھلا اس بیماری کا منھ سے کیا تعلق؟

لیکن ایسے میں جب ہرروز کچھ لوگ انسانی خون سے ہولی کھیل رہے ہوں ،ماتاکے نام پر ماؤں کی ارتیااتاری جارہی ہوں ،ان کے عقیدہ کہ بقول کہ بچے بھگوان کا روپ دھارکرجنم لیتے ہیں ،مگرجب وہ معصوم بھگوان ہی پوجے جانے کے بجائے تیروتلوار اور بھالاکی انیوں پر اچھالے جاتے ہوں ،توایسے میں سیاسی قائدین کی خاموش قیادت چہ معنی دارد؟ آپ کو نہیں لگتا کہ آخر مودی جی کیوں ملکوں ملکوں ماراماراپھرتے ہیں ؟ اپنے تین سالہ دورحکومت میں ان ملکوں میں جاکر انہوں نے ایسا کون سا ڈیل فائنل کیا ہے،جس میں ملک وملت کا بہت زیادہ فائدہ ہوا ہو؟

اگر ذرائع ابلاغ کی مانیں ،تو مودی جی نے جب سے ستہ کی کرسی سنبھالی ہے،تبھی سے ان کی تکلیف میں اضافہ ہوا ہے اور وہ اپنی دہنی بواسیر کے علاج کے لیے ملکوں ملکوں کی خاک چھان ماررہے ہیں ،چونکہ وزیرآعظم بننے سے قبل کئی ملکوں میں ان کی آمد ورفت پر پابندی تھی،مگر وزارت عظمیٰ کے عہدہ پر فائز ہوتے ہی وہ ساری پابندیاں ہٹالی گئیں ،سو وہ اب ملکوں ملکوں اچھے ڈاکٹروں کی تلاش میں مارا مارا پھر رہے ہیں ،کہ شاید کوئی تریاق مل جائے،مگر افسوس کہ اب تک کوئی کامیابی نہیں ملی اور اب وہ اسرائیلی دورے پر ہیں .دراصل کچھ لوگوں نے ان کو یہ مشورہ دیا تھا کہ یہودی پیشواؤں کے پاس دہنی بواسیر کا ایسا تریاق ہے کہ بس ایک خوراک میں زبان کی کالی پھنسیاں پگھل جا ئیں گی.ہم اپنے وزیرآعظم کی صحت کو لے کر بہت فکر مند ہیں . دیکھتے ہیں یہودی پیشوا کیا گل کھلاتے ہیں .

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رمیض احمد تقی

رمیض احمد تقی معروف نوجوان کالم نگار ہیں۔ rameeztaquee@mazameen.com

متعلقہ

Close